ناعمہ ثمر

بھرتے ہیں وہ لمحے میری یادوں میں شرارے جب راہ میں ہر سمت اندھیروں کے ستوں تھے اک آگ کے دریا کا سفر تھا ہمیں در پیش ہم قافلہ درقافلہ اس آگ سے گزرے جلتے ہوئے شہروں کی فضائوں سے گزر کر ہم نورِ یقین دل میں بسائے ہوئے آئے اس آگ سے ہم نے […]