’’علی کوریڈور سے گزر رہا تھا اور اْس کے ہاتھ میں مزیدار چاکلیٹ کا کاغذ تھا۔ سچ بتاؤں تو میرے منہ میں پانی بھر آیا۔ سوچا کہ وہ ابھی آئے گا اور میرا منہ کھول کر ریپر اندر ڈال دے گا مگر یہ کیا اْس نے وہ کاغذ ہوا میں اچھال دیا اور یہ جا […]