۲۰۲۵ بتول جنوری

ابتدا تیرے نام سے ۔ صائمہ اسما

قارئین کرام سلام مسنون
زندگی کا ایک اور برس اختتام کو پہنچااور ایک نئے برس نے پہلی سانس لی۔ اللہ نئے سال کو ہماری زندگیوں میں خیرو برکت،صحت وعافیت،رزق اور خوشیوں کا سال بنائے ،قومی زندگی میں بہتری کا وقت لائے،مسائل اور مایوسی کے بادل چھٹیں، عوام کی زندگی میں آسانی آئے، اورہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کا حقیقی مشاہدہ کریں،ملک ترقی کی طرف گامزن ہو،غربت اور پسماندگی سے نجات ملے،یک جہتی اور اتفاق کو فروغ ملے،جغرافیائی اور نظریاتی سرحدیں محفوظ رہیں،بلوچستان میں امن آئے،گلگت بلتستان اور سرحدی علاقے فسادات سے محفوظ رہیں،کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی رنگ لائے، آمین۔
گزرے برس میں اس دنیا نے کتنی ہی مزید تباہی بربادی، انسانیت کے دکھ، انسان کے انسان کےخلاف جرائم دیکھے، ظلم اور وحشت کے نئےمناظر، حرص و ہوس کے تازہ کارنامے، نشہِ قوت و اختیار کے نئے مظاہر دیکھے۔کتنے ہی بلند بانگ دعوے ہوئے، مگر انسانیت کے دکھوں میں کمی نہ آئی۔ اہلِ فلسطین کی نسل کشی کا تسلسل اس سال کا سب سے بھیانک چہرہ ہے۔ گزشتہ اکتوبر سے اب تک لگ بھگ پچاس ہزارمعصوم مرد عورتیں اور بچے صرف اس جرم میں بے دردی سے ختم کردیے گئے کہ وہ کہتے تھے ان کا رب اللہ ہے اور وہ اپنی…

مزید پڑھیں

الوداع اے رہبر فرزانہ! ۔ قانتہ رابعہ

جس طرح پندرہ سے پچانوے سال کے لوگ مجھے اپنے بچپن سے پڑھتے چلے آرہے ہیں اسی طرح میں فرزانہ چیمہ کے بارے میں بچپن سے ہی جانتی ہوں۔میرے کان شروع دور سے ہی ان کے نام سے مانوس ہیں۔سب سے پہلے ان کا تذکرہ میں نے ماموں عبدالوحید سلیمانی سے سنا۔بہت پہلے کی بات ہے اس لیے یہ یاد نہیں کہ کیوں ان کاتذکرہ ہؤا۔ ماموں پبلشر تھے اچھے ادیب تھے اور خطیب بھی تو ظاہر ہے ادب اور علم ہی وجہ ہوگی، لیکن ممانی سمیعہ( اللہ انہیں صحت سلامتی کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے) کا یہ فقرہ اب بھی یاد ہے۔
’’تیرے ماموں جی دی بہن بنی ہوئی اے‘‘
پھر ایک چلبلا سا فقرہ بھی سننے میں آیا:
’’ تیرے ماموں جی دی سہیلی اے‘‘
ماموں کے توسط سے فرزانہ سے میری ملاقات ہوئی اس ملاقات کی کوئی تفصیلات تو میرے ذہن میں نہیں لیکن فرزانہ کی علم و ادب دوستی اور دین داروں سے تعلق کا ماموں جی کی زبانی بارہا تذکرہ سنا۔اس کے بعد فرزانہ کا بنک کی ملازمت سےوابستہ رشتے کا تذکرہ محترمہ نیّر بانو سے سنا۔میں نیّر بانو صاحبہ کی قلمی کاموں میں مددگار اور ان کے بقول ان کی منشی تھی۔ انہی دنوں میں جبکہ میں…

مزید پڑھیں

بتول میگزین ۔ محترمہ فرزانہ چیمہ

محترمہ فرزانہ چیمہ مرحومہ
سیدہ ثمینہ گل ۔منصورہ
عابدہ عباس کی بیٹی آمنہ کی شادی تھی ۔ میں اورحفصہ بیٹھے تھے کہ فرزانہ باجی نے بلند آواز میں کہا، میں نے آمنہ بیٹی کی شادی پر ایک نظم کہی ہے، سب میرے قریب آجاؤ ۔ میں اور حفصہ اٹھے اور ان کے قریب جا کر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے بڑے خوبصورت لب و لہجہ میں نظم سنائی اور ہم سبِ نظم سن کر محفوظ ہوئے ۔فرزانہ باجی کی نظمیں اور کہانیاں نور اور بتول میں میں اپنے بچپن سے پڑھتی آرہی ہوں ۔ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتابیں میرے ہمیشہ مطالعہ میں رہی ہیں ۔
ایک گروپ میں میں نے کہا کہ میرے بیٹے نے راشن کا کام شروع کیا ہے اس لیے میرے بیٹے سے خریدیں ۔ فرزانہ باجی نے کہا ثمینہ چیزوں کی لسٹ بھیجو ۔ میں نےبھیج دی ۔ انہوں نے کہا اس میں قیمتیں نہیں لکھیں ۔ میں نے کہا میں بھیجتی ہوں ۔ استقبال رمضان کی مصروفیت تھی اس لیے بھول گئی ۔ کچھ دن بعدمیں نے کہا باجی آپ نے راشن منگوایا نہیں ۔ انہوں نے کہا تم نے کونسا قیمت لکھ کر بھیجی تھی ۔ میں نے کہا باجی آپ لسٹ بتائیں جو قیمت ہے…

مزید پڑھیں

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں… ۔ ڈاکٹر شگفتہ نقوی۔آسٹریلیا

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
انجام ہے جس کا حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
پیاری فرزانہ بہن….. نہ پوچھا نہ بتایا اوراتنے لمبے سفر پر ہمیں تنہا چھوڑ کر روانہ ہوگئیں۔کوئی ایسے بھی کرتا ہے ۔ اتنے سالوں کا ساتھ ، سنگم، دوستی، بہناپا۔
ہمیں چھوڑ کر چل دیے آپ یوں
جیسے ہم سے کبھی کوئی رشتہ نہ تھا
محترمہ آسیہ راشد صاحبہ نے لکھا کہ آپ کچھ لکھ کر ارسال کردیں۔ کہاں سے شروع کروں ۔ سالہا سال کاسفر ہے جو اکٹھے طے کیا ہے۔21 کتابوںکی مصنفہ ، قلم کی کاٹ ، شوخی ، حکمت اور اصلاح یہ ان کی تحریر کی خصوصیات تھیں ۔ اجتماعات کی روح رواں حریم ادب کی سرخیل ۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور اصلاح کرنے والی… حق بات ببانگ دہل کہہ دینا اسی کا حوصلہ تھا ۔لوگ ناراض بھی ہوئے لیکن صلح بھی ہو گئی ۔ کئی پرچوں اوراخبار وں میں ان کی تحریر یں شائع ہوتی رہیں ۔
کمال یہ ہے کہ آخری دم تک فعال رہیں زندگی کے ایک ایک لمحے کو استعمال کیا اور خوب کیا۔ لطف اٹھایا سر شار ہوئیں اوردوسروں کودل شاد کیا۔ہسپتال جانے سے تین دن پہلے ان کی آخری کتاب…

مزید پڑھیں

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش… ۔ شمیم لودھی

یہی کوئی سن تھاپچاسی۔ جی ہاں ! آپ سمجھ گئے ہوںگے 1985 جب میرا بیٹا عادل ایک سال کا میری گود میں تھا ۔ میری عطائے الٰہی اولاد میں سب سے چھوٹا۔ بڑے بچے سکول میں اور شوہر پاک فضائیہ میں اپنے منصب کی ذمہ داری پر ہوتے۔ اس فرصت کے محدود اوقات میں جھٹ سے منصوبہ بندی کر کے ملاقاتوں کے لیے نکل پڑتی۔ کئی گھر صرف پشتو سمجھ سکتے اس کے لیے مقامی اپنی ملازمہ سے مدد حاصل کرتی ۔ کچھ عربی دان عرب سے وہاں ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر تھے ۔ وہاںکچھ نہ کچھ انگریزی زبان سے کام چلا یا جاتا ۔ اپنے گھر میں درسِ قرآن و حدیث کے لیے دعوت دی سامنے ایک ریٹائرڈ o.cیعنی کمانڈنگ افسر پاک فضائیہ کا اپنا ذاتی گھر تھا ۔ ساتھ ہی تمباکو بورڈ کے ڈائریکٹر بہادر علی کا گھر تھا ۔ ان سب خواتین کو بلاتی اورمل بیٹھ کر ترجمہ سورہ عنبکوت کیا۔آپا جان رشیدہ کشور صاحبہ سے پشاور جاتے ہوئے ناظمہ جماعت اسلامی کے نمبر لیے تھے رب کریم ان ہستیوں کو اجر عظیم سے نوازتا رہے ۔
تاج صنوبر خیبر مارکیٹ پشاور شہر میں تھی جبکہ میں کینٹ میںتھی۔ رابطے سے رابطے نکلتے گئے ۔ میرے…

مزید پڑھیں

دعا مستجاب ہوئی ۔ روزینہ خورشید

رات دھیرے دھیرے بیت رہی تھی ۔ہر طرف سناٹے کا راج تھا ایسا لگ رہا تھا اس کے اندر کےسناٹے نے باہر آ کر سیاہ ناگ کی صورت میں ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ وہ کھڑکی کا پٹ کھولے تاروں بھرے آسمان کو تک رہی تھی۔ آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے اور ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے ۔جب سے اس نے ماں بیٹے کی گفتگو سنی تھی کسی پل چین نہیں آ رہا تھا۔ نیند تو جیسے روٹھ کر خلاؤں میں کہیں گم ہو گئی تھی …..وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی۔ دل کہہ رہا تھا امی کی بات مان لے اور دماغ…..وہ تو ماؤف ہو چکا تھا۔
دعا اور فرید کی شادی کو بارہ سال ہو چکے تھے لیکن اب تک وہ لوگ اولاد کی نعمت سے محروم تھے ۔شہر کے بہترین ڈاکٹروں اور حکیموں سے ہر طرح کے علاج کروانے کے باوجود وہ ہنوز بقول اس کی ساس صالحہ بیگم کے رحمت خداوندی سے دور تھی۔دعا کی والدہ بھی بہت فکرمند رہتی تھیں کہ کسی طرح ان کی بیٹی کی گود بھر جائےاس سلسلے میں وہ آئے دن کوئی نہ کوئی ٹوٹکا، کوئی گھریلو نسخہ یا کبھی کسی پیر…

مزید پڑھیں

مالٹے، مسمی اورچکوترہ ۔ شائستہ علی

فوائد:
مالٹا دنیا کے بیشتر لوگوں کا پسندیدہ پھل ہے اس میں وٹامنز کی بھرمارہے۔ خاص طور پر وٹا من سی اس میں کثرت سے پایا جاتا ہے جو کھوئی طاقت کوبحال کرتاہے۔ یہ خون پیدا کرتا ہےاورجسم کو آکسیجن کی فراہمی میں مدد گار ہوتاہے۔
روایت ہے کہ شراب کے عادی لوگوں کو اگرمالٹے کا جوس باقاعدگی سے پلایا جائے توان کی یہ بری عادت چھوٹ جاتی ہے ۔
اوپردیے گئے عندیہ پر بہت زیادہ تحقیق تو نہیں ہوئی مگرمالٹے میں اتنی خصوصیات ہیں کہ یہ بات سچ ہوبھی سکتی ہے ۔
مالٹے اور اس کی تمام اقسام سانس اورپھیپھڑوں کی بیماریوں سےبچاتی ہیں۔
ایسٹن(Aston)یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایرک لیٹمن کے مطابق سانس کی بیماری میں بھی مالٹے شفا دیتے ہیں ۔ مالٹےپتے اورگردوں میں پتھری نہیں بننے دیتے ۔ اس کے علاوہ یہ کولیسٹرول کم کرتے ہیں اورفشارِ خون کواعتدال میں رکھتے ہیں ۔
ہیلتھ میگزین کے مطابق یہ دانتوں اورجسم کی دوسری ہڈیوں کو مضبوطی دیتے ہیں ، آرتھر ائیٹس بچاتے ہیں۔
مالٹے جسم میں ہونے والی سوجن کو ختم کرتے ہیں چاہے وہ کسی حصے میں بھی ہو اورقدرتی طورپر دردکوکم کرتے ہیں ۔ وزن کو اعتدال پررکھنے کے لیے اورجسم میں چربی کےانہضام کوآسان بنانے کے لیے مالٹے بہت کارآمد ہیں۔
مالٹے جلد کے…

مزید پڑھیں

خاتون اول ۔ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

انسان کی فطرت میں مسابقت کا جذبہ رکھا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی منزل کی جستجو میں لگا رہے۔ معاشرے میں ہر دو صنف اس دوڑ میں شامل ہیں کہ اپنے ارد گرد کے ماحول میں نمایاں مقام حاصل کرسکیں، ’’سب سے پہلے میں‘‘ کے پیشِ نظر ہر فرد اپنی استعداد سے بڑھ کے دوسرے سے بہتر پوزیشن پہ آنا چاہتا ہے۔ خاندان برادری کے’’بڑے‘‘ کہلانا اور محلے، کالونی کا سرکردہ بننے کی یہ خواہش ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے تک جا پہنچتی ہے۔ پہلے نمبر پہ آنا اور اس پہ قائم رہنا ہر کسی کی آرزو ہوتی ہے۔ خواتین میں یہ جذبہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے لیکن اس کا دائرہ حسن و جمال زیور کپڑے سے شروع ہوتا ہے اور اپنے شوہر کے ’’دائرہ اختیار‘‘ کے احساسِ تفاخر پہ جا پہنچتا ہے۔ ہر عورت اپنے شوہر کے حوالے سے اپنی سوسائٹی میں معتبر گردانی جاتی ہے۔ شوہر کے مقام و مرتبہ میں بیوی کچھ زیادہ ہی حصہ پاتی ہے فی زمانہ ملک کا سربراہ تو’’مرد اول‘‘ نہیں کہلاتا مگر بیوی’’خاتون اول‘‘ ضرور بن جاتی ہے اگرچہ وہ کسی بهی شمار قطار میں آنے کے قابل نہ ہو۔ اسلامی معاشرے میں دنیاوی جاہ و حشمت اور…

مزید پڑھیں

محشر خیال ۔ پروفیسر خواجہ مسعود

پروفیسر خواجہ مسعود
’’چمن بتول‘‘ شمارہ دسمبر2024 سامنے ہے۔ ہلکے ہلکےسوبر رنگوں کے دیدہ زیب پھولوں سےسجاٹائٹل بہت پیارا لگ رہا ہے۔ بس ہمارے محبوب جریدے ’’ چمن بتول‘‘ کا ٹائٹل ایسےہی سجایا کریں ۔
’’ابتدا تیرے نام سے ‘‘ آغاز میں آپ نے پارا چنار کے مخدوش حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہےاورزور دیا ہےکہ حکومت کواس مسئلے کا کوئی پائیدار حل سوچناچاہیے ۔آپ کے یہ جملے ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں ’’ ہماری مذہبی قیادت کی بھی نا کامی ہےکہ ایک خدا اورایک نبیؐ کے نام لیوا ہو کر بھی ہم نے فرقوں کواتنی اہمیت دے دی ہے کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسےہو جاتے ہیں ہر فرقے کے لٹریچر میں دوسرےفرقوں کے خلاف زہراگلا گیا ہے‘‘۔ اس کے بعد آپ نے ڈی چوک اسلام آباد میں ہونے والے واقعات پرتبصرہ کرتے ہوئےفرمایا ہے کہ ان سارے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے ۔ آخرمیں آپ نے غزہ میں جو مسلمانوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جا رہی ہے اُس پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ہے۔اسرائیل امریکہ کی پشت پناہی سے یہ ظلم ڈھا رہا ہے۔
’’ حیاتِ دنیا کی حقیقت‘‘(ڈاکٹر میمونہ حمزہ) آپ نے سمجھایا ہے کہ…

مزید پڑھیں

ملے تھے بس دو دن ۔ نصرت یوسف

نہ میں زاہد نہ میں عابد، نہ ولی اور نہ قوی ۔لیکن ایک عمر بعد رب نے اتنا نوازا کہ لوگ کہنے لگے کہ عبدالغنی قسمت کا دھنی ہے، ہُن تو اس پر ایسے برستا ہے جیسے اوپر والے نے چھنی اسی کے سر پر تان رکھی ہو جس سے ہر وقت دولت چھن چھن نیچے گرتی ہو۔ صولت عمر بیوی کا نام تھا جو تھی تو وکیل کی بیٹی لیکن لگتا تھا وکیل صاحب نے ساری عمر کمائی پر طیب کا تڑکا لگایا تھا ورنہ صولت عمر ان خصوصیات کی مالک نہ ہوتی جو اس میں تھیں۔
یہ اعتراف بھی میں نے آسانی سے نہ کیا ۔اللہ بخشے میرے والدساری زندگی حلال حرام کے ترازو ہی کے ساتھ مصروف رہے، لیکن صولت عمر کو بیاہتے ہمیں حیرت تھی کہ ابو جی کا یہ ترازو وکیل کی جانب جھکا کیسے؟کیونکہ یہ شعرابو جی سے ہی سنتے ازبر ہؤا؎
پیدا ہؤا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے
لیکن اس شعر اور حیرت کی بہتات کےباوجود زیادہ تردد کیے بنا امی جی اور میری دو عدد بڑی بہنیں صولت کو بہو بنا لائیں۔ گوصولت کو سادہ لباس اور بنا میک اپ دیکھ کر گرہن لگے چاندکا خیال آتا ،ساتھ پڑوس…

مزید پڑھیں

محمود غزنوی ، عافیہ صدیقی اور ہم ۔ آصف محمود

رانا ثناء اللہ صاحب نے ایک بیان دیا اور دفتر خارجہ نے اس کی تردید کر دی۔ سوال یہ ہے کہ رانا صاحب کی اس مشقت کا ملک کو ، عافیہ صدیقی کو یا ن لیگ کی سیاست کو کتنا فائدہ ہو&ٔا؟اسی طرح خواجہ آصف صاحب نے دریافت کیا کہ محمود غزنوی کا اصل مقام ہیرو کا نہیں ولن کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس موقع پر وہ وزیر دفاع جیسے اہم منصب پر فائز ہیں اس دریافت کا معاشرے کو اور ملک کو کتنا فائدہ ہو گا؟ خواجہ آصف صاحب کی رائے نئی نہیں ہے۔ اجنبی بھی نہیں ہے۔ خواجہ آصف مگر وزیر دفاع ہیں ، اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کچھ باتیں بعض مناصب پر بیٹھ کر نہ کرنا زیادہ بہترہوتا ہے۔ آج ہمارے افغانستان سے تعلقات کشیدہ ہیں ، کل کو اللہ کرے یہ بہتر ہو جائیں تو کیا ہم محمود غزنوی کو ایک بار پھر سے دریافت کرنے بیٹھ جائیں گے۔ نیز یہ کہ محمود غزنوی اگر ہیرو نہیں تھا تو احمد شاہ ابدالی اور شہاب الدین غوری کیسے ہیرو ہو گئے؟ مزید یہ کہ کیا اب ہر اس کردار کی نفی کی جائے گی جو کسی بھی درجے میں غیر مقامی تھا؟…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

کروز کے ذریعے یہ ہمارا دوسرا سفر یورپ تھا ۔ کروز کے ذریعےپانیوں پہ ہماراپہلاسفر مارچ 2016ء میں تھا جس کی روداد (پانیوں پہ سفر) قارئینِ بتول کی نذر کی جا چکی ہے۔ اسی سال ستمبر میں اس سفرکی تیاری کی، جس میں ہر سفر کی طرح کچھ نئے تحیر افشا ہونے کو بےقرارتھے۔واقعی انسان اسرار و رموز کی تلاش کاجذبہ لےکرسفر پہ نکلتا ہے توجان جاتا ہے کہ؎
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی
اس مرتبہ ہم نے ارادہ کیا کہ سفر میں ہوٹلوں کی بجائے گھروں میں ٹھہرا جائے تاکہ ہر ملک اور شہر کے رہن سہن اور معاشرت اور باہم رویوں کا بھی کچھ تجربہ ہو سکے ۔
سفر کی تیاری کا یہ والا مرحلہ بہت اہم تھا گھر کا محل وقوع ایسی جگہ پہ تلاش کرنا کارے دارد تھا جہاں سے ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر ہو اور شہر کے قابل دید مقامات تک رسائی آسان ہو ۔ ماحول صاف ستھرا ہو ،مکین مہمان نواز ہوں ۔’’ ائربی این بی ‘‘ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ذریعے مسافروں کو ’’پے انگ گیسٹ ‘‘ کے طور پہ گھر مہیا کیے جاتے ہیں ۔ان کی طرف سے ان گھروں کی لسٹ مہیا کردی جاتی ہے جو مسافروں کے قیام کے…

مزید پڑھیں

نعت شریف ۔ نجمہ یاسمین یوسف

نعت شریف

نام خیرالوریٰؐ ہر درد کا درماں ٹھہرا
شاہؐ کا نقشِ کفِ پا مرا ایماں ٹھہرا

زلف واللیل جبیں مہر درخشاں ٹھہری
مصحفِ نور نبیؐ صبح کا عنوان ٹھہرا

آپؐ کو رحمت و نعمت کیا انسانوں پر
عالم زیست پہ اللہ کا یہ احساں ٹھہرا

جس نے احکام خداوند سے کی سر تابی
عرش پہ ہو کے فرشتہ بھی وہ شیطاں ٹھہرا

جن مقامات پر جبریل کے پر جلتے ہیں
ان مقامات پہ جو پہنچا وہ انساں ٹھہرا

ذکرِ احمدؐ کا ہے یہ فیض کہ ہر گلشن میں
یاسمیںؔ تیرا ہر اک غنچہ گلستاں ٹھہرا

 

مزید پڑھیں

قرآنی معاہدات اللہ اور انسانوں کے درمیان تعلق کے قانونی زاویے ۔ احمر بلال صوفی؎۱

یہ مطالعہ، قرآن کے قانونی اور معاہدے پر مبنی امور کی نشاندہی کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے ساتھ ایک ذاتی اوربراہِ راست معاہدہ کرتے ہیں، جو کسی قسم کی مداخلت سے پاک ہے ۔ اللہ نے خود اس کا اعلان کیا ، اس کو تخلیق کیا اور اس کی جزئیات طے کیں ۔ یہ باہمی معاہدہ فطری طور پر غیر متوازن محسوس ہوتا ہے ، کیونکہ یہ انتہائی غیر مساوی ہے ۔ ایک طرف خالق ہے ، اور دوسری طرف اس کی مخلوق، ایک انتہائی طاقتور اور غالب اور دوسرا انتہائی کمزور۔ایک دائمی اور لازوال ، اور دوسرا فانی ۔ لہٰذا ہم میں ہر انسان صرف اللہ کا کلام اور اس کی طرف سے دی گئی یقین دہانیوں پربھروسہ کرتا ہے ، اس یقین سے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں ؎۱’’الروم: الانفال:۱۱۱‘‘
’عہد ‘ کی وسیع تر تعریف پر غور کرتے ہوئے ہم قرآن میں متعدد معاہدوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں ۔ کچھ تو اللہ کی طرف سے قرآن کے نزول سے پہلے کے ہیں ، جیسا کہ الست کا عہد جو پوری نسل انسانی کی روحوں کے ساتھ ہے، علاوہ ازیں ، ایک خاص دن تک کائنات کو چلانے کے یکطرفہ عہد۔ اسی…

مزید پڑھیں

رسول پاکؐ کے آدابِ خورو نوش ۔ عینی عرفان

ہمارے پیارےرسول پاک ؐنے ہمیں زندگی گزارنے کے سب سلیقے سکھائےسمجھائے اورخود ان پرعمل پیرا ہوکے بھی دکھایا ۔ آپؐ کی زندگی ہمارے لیےبہترین مشعل راہ ہے۔ آئیے آج پیارے رسولؐ کے آدابِ خورو نوش پرایک نظر ڈالیں ۔
آپؐ جب کھانا کھانے بیٹھتے تواس طرح نہ بیٹھتے کہ رعونت اورغرورکا اظہار ہو بلکہ اس طرح کہ عجزوتواضع نظرآئے ۔
تکیہ پر ٹیک لگا کرنہ کھاتے تھے لیکن کبھی کبھار کوئی چیز اس حالت میں کھابھی لیتے تھے جیسے ایک آدھ کھجور وغیرہ کھانا بسم اللہ پڑھ کےشروع فرماتے اورساتھ یہ بھی فرماتے یا وَاسِعَ المغفرہ (اے وسیع اورکشادہ مغفرت کے مالک )۔
آپؐ نے مل کرکھانے کی ترغیب فرمائی ،میرے نزدیک پسندید ہ کھانا وہ ہےجس کے دسترخوان پربہت زیادہ ہاتھ ہوں ۔ (حضرت جابرؓ سےمروی)
آپؐ نے فرمایا ’’ پہلےاطراف سے کھانا کھائو اس کے درمیان چوٹی یونہی رہنے دو اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی ۔
آپؐ گرم کھاناپسند نہ فرماتے تھے بلکہ ذرا ٹھنڈا کرکے کھاتے تھے ۔ کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے بھی منع فرمایا۔
حضورؐ تین انگلیوں سے کھانا کھاتے ،کبھی کبھی چارسے بھی اور کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے۔( آج ہمیں ماہرین بتاتے ہیں کہ انگلیوں کی پوروں سے ایسا…

مزید پڑھیں

صلہ ۔ عینی عرفان

امتیاز کے بکھرتے لہجے اور لڑکھڑاتی زبان سے نکلنے والے تین الفاظ صالحہ پہ چند ساعتوں کے لیے سکتہ طاری کرگئے تھے۔ عجیب سی اذیت رگ و پے میں سرائیت کر رہی تھی جیسے کسی نے جلتے توے پہ ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہو۔ ایک عمر کی ریاضتوں کا صلہ اس کے کانوں میں انڈیل دیا گیا تھا۔ امتیاز کے چہرے پہ جمی اس کی بے یقین نگاہوں سے جھرنا جاری ہؤا۔ضبط کی طنابیں یکلخت ٹوٹی تھیں اور وہ پھوٹ پھوٹ کے رودی۔ ذہن عمر بھر کے سود و زیاں کے حساب کتاب میں الجھتا چلا گیا۔
٭٭٭
وہ بنجر نہیں تھی مگر اس کی سرسبز کھیتی امتیاز کو شاداب نہیں لگتی تھی ۔ اس کے آنگن میں کھلی دو کلیاں پڑوس میں بسنے والی سَوت کے اکلوتے بیٹے کے سامنے ہلکی پڑ جاتیں۔ اس کی سوتن اپنا چار سال کا بیٹا جہیز میں لائی تھی۔ جس دن پڑوس سے پہلی دفعہ بچا ہؤا باسی سالن اس کی بیٹیوں کے لیے آیا تھا اسی دن اس نےجہیز کی سلائی مشین نکال کے جھاڑ پونچھ لی تھی۔ اگر ان کا باپ تازہ روٹی کی تقسیم میں منصف نہیں تھا تو وہ بھی باسی روٹی پہ صابر نہیں ہوسکتی تھی۔ رات دن کی مشقت…

مزید پڑھیں

تبصرہ کتب ۔ ڈاکٹرصائمہ اسما

نام کتاب: جنت کے ہم سفر
مصنفہ: بشریٰ تسنیم
شائع کردہ: ادارہ بتول ٹرسٹ لاہور
صفحات: ۲۰۰
قیمت: ۸۰۰
ملنے کا پتہ: ادارہ بتول فیروز پور روڈ لاہور فون ۳۷۴۲۴۴۰۹
خواتین اور بچوں کے لیے پاکیزہ اورمعیاری کتب اور رسالے شائع کرنے والا ادارہ بتول ٹرسٹ گزشتہ پینسٹھ برس سے بلا تعطل سرگرم عمل ہے۔ اس کی بنیاد حمیدہ بیگم اور رخشندہ کوکب نے رکھی جبکہ نیّربانو، بنت مجتبیٰ مینا اور زبیدہ بلوچ جیسی قدآورعلمی وادبی ہستیاں اس کے ابتدائی ٹرسٹیز میں شامل رہیں۔بیگم محمودہ ابوالاعلیٰ مودودی اعزازی رکن کے طور پہ اس کے ساتھ وابستہ رہیں۔
جنت کے ہم سفر ادارہ بتول کی نئی کتاب ہے۔اس کے مندرجات ادارہ بتول کے قیام کے مقاصد کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔ مصنفہ بشریٰ تسنیم ایک جانی پہچانی قلم کاراور ماہنامہ بتول کی مستقل قلمی معاون ہیں۔ کہانی، مضمون اورکالم لکھنے پر یکساں قدرت رکھتی ہیں۔اس کتاب کے ساتھ بچوں اور بڑوں کی ملا کرکل ایک درجن چھوٹی بڑی کتب اور کتابچے ان کے کریڈٹ پر ہیں جن میں سے ادارہ بتول کے تحت چھپنے والی یہ تیسری کتا ب ہے۔
تازہ کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے،نوجوانوں کو متوازن زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی پر مشتمل ہے خاص کران کی خانگی زندگی میں،لہٰذاشادی شدہ جوڑوں کے لیے اس…

مزید پڑھیں

تین دن کا بچہ ۔ شاہدہ وسیم

باہر میدان میں سارے محلے کے بچے مل جل کر کھیل رہے تھے۔ ان میں رمونا بھی شامل تھی۔ بچے کبھی اس کے ساتھ گھل مل جاتے اور اسے اپنا پارٹنر بنا لیتے، کبھی جھڑک کر دھکا دے دیتے۔ان کا یہ کھیل،چیخ پکار اوربیچ میں رمونا کا واویلا جاری تھا کہ فٹ بال تیزی سے آ کر بلڈنگ کی دیوار سے ٹکرایا۔ ساتھ ہی رمونا کے رونے اور دوسرے بچوں کی ملی جلی ہنسی کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ روتی ہوئی اپنے گھر میں داخل ہو رہی تھی کہ باہر سے کسی بچے کی آواز آئی ’’دوغلی‘‘ اس پر دوسرے بچوں کا زوردار قہقہہ فضا میں گونج اٹھا۔
رمونا حسب دستور اپنی ماں کی گود میں منہ چھپا کر رو رہی تھی، سسک رہی تھی اورماں اس کی پیٹھ آہستہ آہستہ سہلاتی ہوئی اسے دلاسہ دے رہی تھی۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا اور باتیں سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی، وہ ساتھیوں کے مذاق اور شرارتوں کا نشانہ بنتی آ رہی تھی۔ کبھی کوئی پرخلوص ہم جولی ملتا تو وہ محبت کا عنصر پا کر ایک دم اس کی طرف لپکتی اور اسے گھل مل کر کھیلنے کی کوشش کرتی، لیکن پھر اسے جلدہی احساس ہونے لگتا کہ…

مزید پڑھیں

توبہ و استغفار پریشانیوں کا حل،مغفرت کا ذریعہ ۔ فریدہ خالد

توبہ کی تعریف
توبہ کامعنی رجوع کرنا ہے یعنی کسی بندے کااپنے گناہ وخطا کو چھوڑنا، اپنے کیے ہوئے پر نادم وپشیماں ہوکر اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ امام ابنِ جوزی ؒ لکھتے ہیں کہ’’ توبہ نام ہے اس ندامت کا جو عزم اورقصد پیدا کرے اور یہ اس علم سے پیدا ہوتی ہے کہ گناہ انسان اور اس کے محبوب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اور ندامت دل کی اس تکلیف کا نام ہے جو محبوب کے فراق سے پیدا ہوتی ہے اور اس کی علامت ہے طویل غم اور رونا‘‘ (ص:385)۔
علامہ آلوسیؒ توبہ کی تعریف کے حوالے سے فرماتے ہیں،’’بندہ اپنے گناہوں سے باز آجائے اور اپنے کیے ہوئے پر نادم وپشیماں ہو اور گناہ سے یہ توبہ اس وجہ سے ہو کہ وہ گناہ ہے؛ اس لیے نہ ہو کہ اس میں کوئی جانی ومالی نقصان ہے اور یہ عزم وارادہ کرے کہ حتی المقدور دوبارہ یہ گناہ نہیں کرے گا‘‘ (روح المعانی:158) ۔
انسان سے گناہ ومعصیت کا ہونا فطری بات ہے۔ لیکن جب ایک مومن گناہ کا ارتکاب کربیٹھتا ہے تو اس کی تلافی کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وہ اس گناہ کو پہاڑ جیسا بوجھ سمجھتا ہے ۔ جبکہ ایک فاجر و فاسق شخص…

مزید پڑھیں

والدین کی قدر ۔ سیدہ فاطمہ طارق

والدین اللہ تعالی کی طرف سے بہت خوبصورت تحفہ اور ایک عظیم نعمت ہیں جن کے ہونے سے خاندان مکمل ہوتا ہے۔ قرآن مجید جو اللہ تعالی کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہوا صحیفہ ہدایت ہے اس میں ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اللہ تعالی کی توحید اور عبادت کے ساتھ ساتھ دیا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے اعمال میں اللہ تعالی کی عبادت کے بعد ماں باپ کی خدمت اور راحت رسانی کا بہت بڑا درجہ ہے۔ اس لیے سچا اور باشعور مسلمان دنیا میں ہر چیز سے زیادہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے۔
قرآن کریم نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا جو بلند اخلاقی اسلوب بتلایا ہے اسے ہر مسلمان کو والدین کے ساتھ معاملہ برتنے میں اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
ترجمہ: ’’اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ تو بھلائی کر اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ان میں سے ایک یا دونوں تو نہ کہہ ان کو اف اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی اور…

مزید پڑھیں

وسعت قلبی کے وہ زمانے بھی گئے ۔ محمد انس

مولانا مودودی اور فیض احمد فیض:
( زیر نظر انتہائی دلچسپ انٹریو کا خلاصہ پیش خدمت ہے ، یہ انٹریو ایک آزاد خیال انقلابی شاعر فیض احمد سے لیا گیا تھا اور جس شخصیت کے بارے میں سوالات کیے گئے وہ عالم ربانی داعی اسلام مولانا مودودی صاحب ہیں ، دونوں ہی فکر و عقیدہ کے معاملے میںایک دوسرے سے بہت دور تھے ، لیکن بڑے لوگ بڑے دل سے نوازے جاتے ہیں ، دونوں ہی حضرات ایک دوسرے کی شخصی، علمی اور ادبی امتیازات و خدمات کے قائل و معترف نظر آتے ہیں۔ (محمد انس)

13دسمبر 1982ء کو فیض احمد فیض صاحب کے گھر پر جمیل احمد رانا اور سلیم منصور خالد نے فیض صاحب سے ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کی اہلیہ ایلس فیض اور ڈاکٹر حسن رضوی بھی اس مجلس میں شریک تھے۔
سوال: بیسویں صدی کے جدید اردو ادب میں بیداری کی تحریک اور انقلابی شعور کے حوالے سے ایک صاحب کا کہنا ہے کہ چار آدمیوں نے روایت سے کٹے بغیر اردو ادب کو سب سے زیادہ انقلابی جذبہ و قوت عطا کی ہے۔ نثر میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے، جب کہ شعرو سخن کے میدان میں علامہ اقبال اور فیض نے بظاہر…

مزید پڑھیں

زبیر کی کہانی ۔ نادیہ سیف

کچہری کے احاطے سے پیوستہ چھوٹی سی جگہ مسجد کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔فجر کی نماز کے بعد صبح دس بجے تک عموما یہ جگہ بند کر دی جاتی۔ نور جہاں کے مقبرے میں جو واقعہ پیش آیا اس کے بعد ، آج کل زبیر کا یہ نیا ٹھکانہ تھا۔ وہ منہ اندھیرے نکلتا اور گھر سے دور ہونے کی وجہ سے ،پیدل چل کر جب تک یہاں پہنچتا تو فجر کی جماعت ہونے میں کچھ ہی وقت باقی رہ جاتا۔دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح وہ بھی فجر کی نماز پڑھتا اور سب کے جانے کے بعد خاموشی سے ایک کونے میں سو جاتا کبھی کسی کو احساس ہی نہیں ہوا کہ مسجد سے بھاگنے والا یہ بچہ مسجد میں ہی پناہ لیتا ہے۔
٭
یہ بھی اس کا ذاتی فیصلہ ہی ہوتا تھا کہ کچھ عرصہ مدرسے کے بچوں کے ساتھ دن گزارنے کا دل چاہتا اور زندگی کے اس رنگ کا مزا آنے لگتا تو وہ بغیر تنگ کیے روٹین سے ایسے آنے لگتا کہ سب بچے اسے آتا دیکھ کر حیرت سے تکتے۔پچھلے ایک ہفتے سے وہ لگاتار بغیر بھاگے اور ناغے مسجد آ رہا تھا۔
استاد محترم ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے نیم دراز تھے۔بند آنکھوں…

مزید پڑھیں

ظلم کا مفہوم ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

عدل اور ظلم باہم متضاد الفاظ ہیں؛ عدل دل اور روح کو روشن کرتا ہے اور سینے میں اطمینان بھر دیتا ہے، اور زندگی کے سیدھے راستے پر چلاتا ہے جبکہ ظلم تاریکی ہے،جو لوگوں سے حق کی جانب دیکھنے اور درست چیزتک پہنچنے کی طاقت چھین لیتی ہے۔ یہی تو اسلام کا راستہ ہے جسے ظلم نگاہوں سے اوجھل بنا دیتا ہے۔ ظلم کو اختیار کرنے اور اس کی راہوں پر چلنے کی شکلیں اور طریقے بہت سے ہیں۔اسلام کی بنیاد توحید ہے جو دلوں میں عدل اور اصحابِ عدل کی محبت پیدا کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔مومن کا دل ہمیشہ اس کا محاسبہ کرتا ہے کہ وہ اصحابِ عدل کا مدد گار ہے یا اصحابِ ظلم کا، وہ کس کا ساتھ دے رہا ہے اور کس کی نصرت کا متمنی ہے۔
ظلم عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ’’ظ ل م‘‘ ہے، جس کے معانی کسی شے کو اس کی جگہ سے ہٹ کر رکھنا۔اسی طرح کسی حد سے تجاوز کرنا بھی ظلم کہلاتا ہے۔وضو کی حدیث میں بھی آیا ہے: ’’جس نے اس میں اضافہ کیا یا کمی کی تو اس نے برا اور ظلم کیا‘‘۔ (رواہ ابوداؤد،۱۳۵)
عربی الفاظ ظلم، ظلام اور ظلمۃ…

مزید پڑھیں