حضرت تمیمؓ الداری کی زمین ۔ سیدہ ثمینہ گل
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معجزاتی زندگی کو پڑھ کر ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ کہیں سراقہ بن جعثم کو بے سروسامانی کی حالت میں کسریٰ کے کنگن پہنانے کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ عرب وعجم کی فتوحات کی اس وقت خوشخبری دی جاتی جب مسلمان مکہ میں بے وقعت سمجھے جاتے تھے ۔ جب میں نے ڈاکٹر تصور اسلم صاحب کی کتاب ’اہل وفا کی بستی‘سے یہ ایمان افروز واقعہ پڑھا تو ایمان اور تازہ ہوگیا ۔ کیا بات میرے نبی ؐمہربان کی ۔ آپ بھی پڑھیں ، لاکھوں درود اور لاکھوں سلام میرے نبیؐ مہربان پر۔
واقعہ یوں ہے کہ 631ء میں ایک دن جب سب صحابہؓ کرام رسول اکرم ؐ کی مجلس میں شریک تھے تو حضرت تمیم الداریؓ نے اٹھ کر گزارش کی کہ انہیں فلسطین کے اس حصے کی عملداری دے دی جائے جہاں ان کا قبیلہ آباد تھا۔ حالانکہ اس وقت سارا فلسطین رومیوں کے قبضے میں تھا اور رومی اس وقت دنیا کی سب بڑی طاقت تھے۔عرب کے اس دور دراز علاقے میں صحرا نشین بدؤں کی اس محفل میں کوئی دیوانہ ہی ایسی خواہش کر سکتا تھااور نہ ہی کوئی فرزانہ یہ تصور کر سکتا تھا کہ رومیوں کی…

