غزل ہنس کے طوفاں کو ٹالتے رہیے رنگ ہر سو اُچھالتے رہیے اپنے دل کے حسین جذبوں کو لفظ و معنی میں ڈھالتے رہیے زیست کے بیکراں سمندر سے سچ کے موتی نکالتے رہیے پھیل جائے نہ تیرگی ہر سو زخمِ دل کو اُجالتے رہیے درد و غم کے اُمڈتے طوفان کو دل کے دریا […]