ستارہ لکھوں یا کہکشاں….
روشنی اتنی تابناک کہ ایک دنیا منور ۔علم کی ،شعور کی ،آگہی کی….مردوں کی دنیا میں صاحبِ علم و دانش پروفیسر خورشید اسلامی تحریک کا روشن چراغ تھے ۔وہ چراغ جو اپنی کارگزاری مکمل کر چکا ۔ایک دنیا جن کی معترف ہے ۔اسلامی جمیعت طلبہ کی نظامت اعلیٰ ،اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر،ادارہ ترجمان القرآن…. ان کی تحریریں ان کی دانشورانہ خطابت ….ہر حوالے سے اسلامی تحریک کے لیے علم و دانش کا سرمایہ…. وہ چراغ جو مٹی کے نیچے بطور امانت رکھ دیا گیا ۔
صاحبانِ علم و عمل کی ایک قطار ہے جو اپنے حصے کا فرض ادا کرکے زمین اوڑھ کر جا سوئی کہ قدردان رب کے حضور پیش ہونے اور اپنا اجر پانے کا انتظار ہے ۔
کتنے ہی ستارہ صفت تھے جو کہکشاں بن گئے ….اور اس دنیا میں روشنی بڑھا گئے ۔
مئی کے انہی گرم دنوں میں ایک اور چاند چہرہ امریکہ کے شہرمیں آخری سفر پر روانہ ہو گیا ۔پاکستان،دمام اور امریکہ ….جہاں جہاں ان کے نیک قدم گئے روشنی سی روشنی ہو گئی۔ان کے گرد ان کے عقیدت مندوں،ان سے علم و دانائی سمیٹنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔
وہ ایک نام جس کے بہت سے معتبرحوالے….ERI،عثمان پبلک اسکول سسٹم،انسپریشن اسکول…

