(1)
یہ ایک سچی کہانی ہے جو میرے شام کے کلینک کے قریب پیش آئی۔ وہاں ایک سکول استاد سلطان اپنی بیوی ثانیہ اور دو بچوں شایان (3 سال) اور نواب (2 ماہ) کے ساتھ رہتے تھے۔
ایک شام جب سورج غروب ہو چکا تھا اور اندھیرا چھا چکا تھا، سلطان جو ایک سادہ دل اور نیک شخص تھا، اپنے گھر میں آرام کر رہا تھا۔ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔ سلطان فوراً دروازے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک بزرگ عورت دروازے پر کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر پریشانی، تھکن اور مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔
’’بیٹا،‘‘ اس نے کمزور آواز میں کہا، ’’میری بیٹی قریبی گاؤں میں رہتی ہے۔ میں اس سے ملنے آئی تھی، لیکن اب واپسی کا وقت نہیں رہا۔ اندھیرا ہو چکا ہے اور میرے پاس ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اگر تم مجھے آج رات کے لیے پناہ دے دو تو بہت مہربانی ہوگی‘‘۔
سلطان نے ہمدردی محسوس کی۔ اس نے سوچا، ایک بزرگ عورت کیا نقصان دے سکتی ہے! اس نے اپنی بیوی ثانیہ کو بلایا، صورتحال سمجھائی، اور دونوں نے مل کر اس عورت کو جس نے اپنا نام شاناوے بیگم بتایا تھا اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔
ثانیہ نے اس کا پرتپاک استقبال کیا،…

