ہم نے پکایا قیمہ ۔ فرحت زبیر سپر
برکت ہو گی
شہناز یونس۔ لاہور
ہمارے ملک کے جو بھی حالات ہیں ہمارے گھروں میں جو حالات ہیں ان میں آپ کو کہیں برکت نظر آتی ہے ؟ برکت اٹھ گئی ہے کیونکہ دل تنگ ہو گئے ہیں ۔ زبانیں اچھی الفاظ سے عاری ہوگئی ہیں ۔ ہر لفظ کے ساتھ جھوٹ ٹپکتا ہے ۔
بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب غالباً پہلی یا دوسری کلاس کی اردو کی کتاب میں سبق تھا ’’ برکت ہو گی‘‘ سبق شروع ہوتا تھا بھوکے کو کھانا کھلائو برکت ہو گی ۔ اندھےکی لاٹھی بنو برکت ہو گی ۔ لنگڑے کا سہارا بنو برکت ہو گی ‘‘۔ اب اخلاقیات کے وہ اسباق کتابوں میں نظر نہیں آتے ۔
مجھے گلی محلوں کا نہیں پتہ لیکن بڑی بڑی سوسائٹیوں میں یا یوں کہہ لیں آسودہ حال گھروں سے جو ٹرے پوش سے ڈھک کر کم آمدن والے گھروںمیں چیزوں کو بھیجا جاتا تھا وہ اب کہیں نظر نہیں آتا یا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے بچپن اور جوانی میں ماڈل ٹائون میں گرمیوں میں کھیر ، کڑھی ، آم ، جامن اور سردیوں میں گجریلا ، گاجروں کا حلوہ ایک دوسرے کے گھروں میں بھیجنے کا رواج تھا ۔…

