فرحت زبیر سپرا

ہم نے پکایا قیمہ ۔ فرحت زبیر سپر

برکت ہو گی
شہناز یونس۔ لاہور
ہمارے ملک کے جو بھی حالات ہیں ہمارے گھروں میں جو حالات ہیں ان میں آپ کو کہیں برکت نظر آتی ہے ؟ برکت اٹھ گئی ہے کیونکہ دل تنگ ہو گئے ہیں ۔ زبانیں اچھی الفاظ سے عاری ہوگئی ہیں ۔ ہر لفظ کے ساتھ جھوٹ ٹپکتا ہے ۔
بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب غالباً پہلی یا دوسری کلاس کی اردو کی کتاب میں سبق تھا ’’ برکت ہو گی‘‘ سبق شروع ہوتا تھا بھوکے کو کھانا کھلائو برکت ہو گی ۔ اندھےکی لاٹھی بنو برکت ہو گی ۔ لنگڑے کا سہارا بنو برکت ہو گی ‘‘۔ اب اخلاقیات کے وہ اسباق کتابوں میں نظر نہیں آتے ۔
مجھے گلی محلوں کا نہیں پتہ لیکن بڑی بڑی سوسائٹیوں میں یا یوں کہہ لیں آسودہ حال گھروں سے جو ٹرے پوش سے ڈھک کر کم آمدن والے گھروںمیں چیزوں کو بھیجا جاتا تھا وہ اب کہیں نظر نہیں آتا یا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے بچپن اور جوانی میں ماڈل ٹائون میں گرمیوں میں کھیر ، کڑھی ، آم ، جامن اور سردیوں میں گجریلا ، گاجروں کا حلوہ ایک دوسرے کے گھروں میں بھیجنے کا رواج تھا ۔…

مزید پڑھیں

وہ چند دن – فرحت زبیر سپرا

آج رات کو طیبہ لاہور آئی ہے ۔ اگر ہو سکے تو واپسی پر میں اس کے ساتھ ایبٹ آباد چلی جائوں ۔ میں نے بھائی سے پوچھا۔
کتنے دن کے لیے آئی ہے ؟
ہفتے کے لیے ۔
بھائی نے چائے کا گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے پوچھا، اور تم کتنے دنوں کے لیے جانا چاہتی ہو ؟
میں نے کہا کم سے کم ایک مہینہ تو رکوں گی ۔
اتنا کیوں ؟ بھائی نے کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا ۔
وہ اس لیے کہ ایبٹ آباد ایک ہفتہ رہوں گی ۔ پھر ایک ہفتہ حویلیاں اور پھر پندرہ دن پکسیری ۔
اتنی جگہوں پر رُک کر کیا کرنا ہے ؟ بھائی نے آخری گھونٹ پیتے ہوئے کہا۔
بس اتنی دیر بعد جا رہی ہو ں۔ وہاں گھوموں پھروں گی ۔ ادھر گرمی میں کیا کروں گی ۔
اچھا ! عمیر بھائی نے گہری سانس لی اور کہا ۔ چلو ٹھیک ہے ۔ جیسے تمہاری مرضی ۔ بھائی کے ساتھ ساتھ والد صاحب نے بھی حامی بھر لی۔
بھائی کی شادی کے بعد یہ میرا پہلا چکر تھا ۔ ایبٹ آباد کا ۔ہفتہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ مشکل سے ہفتہ ختم ہؤا۔ میں ابھی طیبہ کو فون کرنے ہی لگی تھی کہ طیبہ…

مزید پڑھیں