الفاظ جادو ہوتے ہیں… سہارا ہوتے ہیں، سوچوں کا دھارا موڑ دیتے ہیں، طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت بیدار کرتے ہیں!
’’مجھ سے کچھ بھی نہیں ہوتا، بس میں یہ سمجھتی ہوں کہ میں سب کر سکتی ہوں، مگر ایسا ہے نہیں‘‘۔
مسفرہ افسوس سے کہہ رہی تھی۔ سارا ایک گھنٹے سے اس کو سمجھانے میں لگی ہوئی تھی، مگر بے سود۔ اس کی بس ایک ہی رَٹ تھی’’میں بالکل بیکار، بے مقصد انسان ہوں‘‘۔
اس طرح کے حالات انسان کے اندر سے خود بخود ایک بہت زبردست، باصلاحیت اور منظم سسٹم کو باہر نکالتے ہیں۔تم اس پر نظر کرو،‘‘ ۔
سارا ایک بار پھر اس کو روشنی کی طرف دھکیل رہی تھی۔
’’حالات کے اتار چڑھاؤ ہر فرد کی زندگی میں آتے ہیں۔ اصل ہنر یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کو کس طرح ٹریٹ کرتے ہیں۔ خود سے لڑ جھگڑ کر، کوس کر، خود کو اور زیادہ خراب حالات میں لا کھڑا کرتے ہیں یا پھر نئے سِرے سے، نئے دروازوں کی طرف چل پڑتے ہیں‘‘۔
سارہ نے آخری تبصرہ کرتے ہوئے بات ختم کی۔
مسفرہ اور سارا دو بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ مسفرہ تھوڑی خاموش، محنتی اور ذہین لڑکی تھی۔ زیادہ تر پڑھائی میں سنجیدہ ہی رہتی۔ سارا اس کی اُلٹ تھی: بے…

