حج کا مہینہ اہمیت وفضیلت ۔ شگفتہ عمر ٳ؎۱
ماہ ذی الحجہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن الفرقان میں ہمیشہ سے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ- ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً- وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ۔
ترجمہ:’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار ماہ حرام ہیں، یہی ٹھیک ضابطہ ہے، لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو‘۔ (یہ چار ماہ ذوالقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ہیں)(التوبہ ۹: ۳۶)ابوبکرہ ثقفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے حجۃ الوداع میں 10 ذوالحجہ کو خطبہ دیا جس میں فرمایا، ’زمانہ گھوم پھر کر اپنی اس اصلی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر وہ زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت تھا۔ سال پورے بارہ مہینے ہی کا ہوتا ہے، اس میں سے چار مہینے خاص طور پر قابل احترام ہیں۔ (تین مہینے تو مسلسل ہیں ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور چوتھا رجب) (بخاری 4406، مسلم)
حضرت ابو سعید الخدریؓ سے…

