قدر دان اس کی کہانی جس کا منصوبہ مکمل تھا مگر بازی الٹ گئی تھی – سلوت ملک
براہ کرم اس مواد کو دیکھنے کے لئے لاگ ان کریں۔
براہ کرم اس مواد کو دیکھنے کے لئے لاگ ان کریں۔
ناشتہ کرتے ہوئے ، وہ چولہے کے قریب پیڑھی پر بیٹھا، ایک ہاتھ میں چائے کی پیالی اور دوسرے ہاتھ میں اخبار تھامے، نوکریوں کے اشتہاروں کا صفحہ انہماک سے پڑھ رہا تھا۔ یہ روز ناشتے کی روٹین تھی۔ کچھ جگہیں نوٹ کر لیتا اور تلاش میں نکل کھڑا ہوتا۔ شام کو نامراد لوٹتا لیکن چہرے پر کوئی شکن، کوئی ملال نہ ہوتا۔ اگلے دن پھر اسی انہماک سے شروع ہو جاتا۔
اماں قریب پیڑھی پر بیٹھیں چائے میں روٹی ڈبو ڈبو کر کھا رہی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں پنکھا اٹھا کر اسے جھل دیتیں چاہے کوئی مکھی مچھر نہ بھی ہو۔ بس ان کی تسلی ہو جاتی۔
گھر میں بچوں کا شور و غل مچا تھا۔ تینوں بڑی بہنیں بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔
اخبار میں چند ایک اشتہاروں نے اسے متوجہ کیا۔ غور سے انہیں پڑھنے لگا۔ پھر پیالی ایک طرف رکھ کے پنسل اٹھائی اور نشان لگانے لگا۔
’’انہیں چیک کیا جا سکتا ہے‘‘وہ ذہن میں سوچ رہا تھا۔
ابا کچھ دور چارپائی پر بیٹھے، حقہ ہاتھ میں پکڑے، کن اکھیوں سے اسے گھور رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بولے۔
’’کیوں میاں؟ کوئی خوش خبری ہے تمہارے لیے؟‘‘
وہ ان کے لہجے کا طنز محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا، لیکن مسکرا کر…

