سعد حیدر

اے کاش! ۔سعد حیدر

کبھی کبھار زندگی کے کسی موڑ پر یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک منظر ….صرف ایک منظر آپ کی زندگی کا رخ یکسر بدل دیتا ہے۔ آپ ایک لگی بندھی روٹین کے ساتھ ہنستے کھیلتے اپنی زندگی سے بھرپور لطف اٹھاتے وقت گزار رہے ہوتے ہیں کہ یکایک کوئی ایک منظر، کسی کا کہا کوئی ایک لفظ یا ایک جملہ آپ کا سارا سکون غارت کر جاتا ہے۔ آپ کی سوچوں کا دھارا تک بدل دیتا ہے۔
ابھی چند لمحوں قبل ۔بلکہ اگر میں گھڑی دیکھ کر آپ کو صحیح وقت کے لحاظ سے بتاؤں تو پورے پانچ منٹ قبل میں خود اس اچھوتے تجربے سے گزرا ہوں۔ میں اس وقت دنیا کی معیشت کے مرکز، نیو یارک کی وال اسٹریٹ میں ایک آسمان کو چھوتی عمارت کے پرتعیش دفتر کی آرام دہ کرسی پر بیٹھا ہوں۔ میرے سامنے فائلوں کا انبار لگا ہؤا ہے ۔باہر برآمدے میں موجود انتظار گاہ میں بڑی بڑی فرموں سے آئے نمائندے مجھ سے ملاقات کے لیے منتظر بیٹھے ہیں۔ اگر میں کھڑکی سے باہر نظر دو ڑاؤں تو سب کچھ ویسا ہی ہے۔ وہی بلند و بالا عمارتیں اور ان کے عقب سے جھانکتا سورج ….ہوا میں تیرتے طیّارے….سب کچھ ویسا ہی ہے جیسے…

مزید پڑھیں

دولہا کی بارات ۔ سعد حیدر

آج بھی اس کی مسکراہٹ کسی دیکھنے والے کے خزاں رسیدہ دل کو پل بھر میں مسکرانے پر مجبور کر دینے والی تھی۔ وہی چمکتا دمکتا زندگی سے بھرپور چہرہ، گفتگو میں پہاڑوں سے امڈتے تازہ چشموں سا بہاؤ اور بے ساختہ پن….. نہ جانے یہ دبلی پتلی من موہنی صورت لڑکی کس مٹی کی بنی ہے کہ اس کے چہرے مہرے پر قیامت خیز طوفان کے گزرنے کے ذرہ برابر اثرات نہیں۔
میں آج اسے تین ماہ کے وقفے کے بعد اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دیکھ رہی تھی۔ اور یہ تین ماہ میں نے بڑی بے چینی اور ہزاروں اندیشوں اور واہموں کی شورش کا سامنا کرتے گزارے تھے۔ تاہم اسکرین کے اُس پار وہی سکون …..زندگی کی ہماہمی…..عزم …..امیدوں سے پُرآنکھیں اور مسکراہٹوں بھرا پر رونق چہرہ تھا۔
” السلام علیکم ورحمۃ اللہ اخت عندلیب! کیسی ہو؟“
مسکراتے ہوئے فاطمہ گویا ہوئی ۔میری کھوجتی آنکھیں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں اور غم اور حزن کی کسی لکیر کو تلاشنے میں مصروف تھیں۔ میرا دل غم سے بھرا ہؤا تھا۔
” وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ! میں تو ٹھیک ہوں الحمدللہ۔ تم سب ٹھیک ہو ناں؟“ میں نے جلدی جلدی پوچھا کہ میرا دل اندیشوں کی آماجگاہ بنا ہؤا تھا۔
” الحمدللہ…

مزید پڑھیں