غزل – رفعت عزیز صباؔ
صبر قرینہ سیکھ رہی ہوں
تم بن جینا سیکھ رہی ہوں
ہونٹوں پر مسکان سجا کر
آنسو پینا سیکھ رہی ہوں
دکھ سے دل ہے ٹکڑے ٹکڑے
جوڑ کے سینا سیکھ رہی ہوں
آنکھ میں ٹھہرا اشک سمندر
دل سے پینا سیکھ رہی ہوں
یادوں کے دھاگوں کو پرو کر
اوڑھنی سینا سیکھ رہی ہوں
اوڑھ کے یادوں میں کھو جائو ں
ایسے جینا سیکھ رہی ہوں
ساتھ صباؔ کے رب کی رضا میں
مرنا ، جینا سیکھ رہی ہوں

