رفعت عزیز صباؔ

غزل – رفعت عزیز صباؔ

صبر قرینہ سیکھ رہی ہوں
تم بن جینا سیکھ رہی ہوں

ہونٹوں پر مسکان سجا کر
آنسو پینا سیکھ رہی ہوں

دکھ سے دل ہے ٹکڑے ٹکڑے
جوڑ کے سینا سیکھ رہی ہوں

آنکھ میں ٹھہرا اشک سمندر
دل سے پینا سیکھ رہی ہوں

یادوں کے دھاگوں کو پرو کر
اوڑھنی سینا سیکھ رہی ہوں

اوڑھ کے یادوں میں کھو جائو ں
ایسے جینا سیکھ رہی ہوں

ساتھ صباؔ کے رب کی رضا میں
مرنا ، جینا سیکھ رہی ہوں

مزید پڑھیں

نعت – رفعت عزیز صباؔ

اڑ کرمدینہ پہنچی جو کل میں ہَوا کے ساتھ
یوں ہمکلام دل ہؤا ربّ العلی کے ساتھ
حبِّ نبیؐ کے نور سے دے جگمگا مجھے
اٹھے ہیں میرے ہاتھ اسی اک دعا کے ساتھ
نیند ایسی دے کہ جس میں ہو دیدار ِمصطفٰیؐ
جاگے نصیب پھر مرا انؐ کی دعا کے ساتھ
پستی میں ڈوبتی ہوئی امت یہ جان لے
وابستہ ہے عروج نبی ؐسے وفا کے ساتھ
اگلے جہاں میں پائے گا وہ اجر بے حساب
جو یہ جہاں گزار لے صبر و رضا کے ساتھ
دنیا و آخرت میں ہے وہ نفس مطمئن
دل اپنا باندھ لے جو رضائے خدا کے ساتھ
رشکِ ملائکہ ہو صباؔ پھر یہ زندگی
عمر ِعزیز گزرے جو حمد و ثنا کے ساتھ

مزید پڑھیں