راہِ حق کے مسافر کا سفرِ آخرت
ظہورِ صبحِ صادق کی گھڑی تھی
قضا ان کے سرہانے آ کھڑی تھی
مہک میں مشک و عنبر کی بسائے
فرشتے ریشمی ملبوس لائے
پکارے چل اے نفسِ مطمئنہ!
پلٹ کر چل تو سوئے ربِّ کعبہ
تجھے رب کی رضا ہے ملنے والی
تجھے کر دے گا خوش وہ ربِّ عالی
پھر ان کے لب پہ اک مسکان ابھری
چمک چہرے پہ ان کے آکے ٹھہری
سوئے رب چل دیا ، حق کا مسافر
رہائی ہر غم دنیا سے پاکر
تیاری کو نیا ملبوس لا کر
کیا تیار بیٹوں نے سجا کر
عجب غم تھا ،جدائی کی گھڑی تھی
لگی آنکھوں سے اشکوں کی جھڑی تھی
ہر اک دل رو رہا تھا گو تڑپ کر
مگر تھیں یہ دعائیں ، سب کے لب پر
قدم ثابت رہیں ، بالقولِ ثابت
اسے تھامے رہے بس تیری رحمت
مصفّا برف اولوں سے دھلا کر
لباس اپنی رضا کا تو عطا کر
نظر جس سمت اٹھے وسعتیں ہوں
نہ جو دیکھیں سنیں وہ راحتیں ہو
خوشی چہرے سے اس کے پھوٹتی ہو
سکوں پاکر کھلی دل کی کلی ہو
فرشتے خلد سے لائیں وہ بستر
ہو جس پہ حشر تک سونا مقدر
درِ جنت کھلے ، آئیں ہوائیں
ہوائیں خلد کی خوشبو لٹائیں
تیرا بندہ یہ سب انعام پا کر
سکوں سے سو رہے پھر مسکرا کر
ملیں پھر ان سے ہم سب جنتوں میں
ہمیشہ رہنے والی راحتوں میں
خوشی…

