زندگی اک سفر ۔ رخسانہ اقبال راؤ
شرجیل لائبہ کی شادی کو 2 ماہ ہو چکے ہیں ۔کچھ دعوتیں ہو چکیں کچھ ہونی ہیں۔ کراچی میں لائبہ کے ماموں مامی نے شازیہ کو لاہورفون کر کے ہم سب کو مدعو کیا۔ہم 1983میں کراچی کو خیرباد کہہ چکے تھے،یعنی43 سال پہلے FSc-کے بعد سے لاہور میں ڈیرے ڈال لیے پھر 89 میں شادی کے بعدجب بڑا بیٹا صرف چار ماہ کا تھاتو ایک چھوٹا سا ٹرپ بنا۔اس کے بعد سے اکثروہاں کی سکول کالج کی خوشگواریادیں ذہن کےپردے پر چلتی رہتیں ۔اب جو کان میں بھنک پڑی کہ دولہا دلہن کے ساتھ دعوت کے لیے ہمیں بھی کہا گیا ہے چاہے رسمی ہی……تو جھٹ سے ایگریڈ کا سگنل دے دیا۔ بچوں کی سخت پڑھائی کے ساتھ ماؤں کی کھپت اور زندگی کےجھمیلوں کی ٹینشن سے تھکے پڑے تھے۔ تین بچوں کو ڈاکٹر بنانے اور ایک کوانجینئربنا کر سب کی شادیاں کردینےکی توفیق اللہ نے دی اس کا بڑا کرم ہے،اس کے بعداب فراغت محسوس ہورہی تھی اور اپنا آپ ہلکا پھلکا لگ رہا تھا۔ چنانچہ موقع غنیمت جانا اور جانے کا پروگرام فائنل ہو گیا۔
جانے اورآنے کے دن ملا کر پورا ایک ہفتہ بن رہا تھا-ٹرین کا سفر بہت عرصہ سے نہیں کیا تھا لہٰذا متفقہ فیصلہ کے…

