فلسفہ ابھرا ہے روح و جسم کی تقسیم کا پھر بپا ہے معرکہ نمرود و ابراہیم کا روح تن سے گر الگ ہو جائے کیا باقی رہے مسئلہ ہے یہ تو ذہن و عقل کی تفہیم کا جسم ہوتاہے توانا روح کی تحریک سے پھینک دو باہر اٹھا کر فلسفہ دونیم کا معرکہ ہے حق […]
غالبؔ نے برسوں پہلے اپنے ایک مصرع میں کہا تھا ؎ ’’ لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور‘‘ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ جو بات وہ مزاح میں کہہ رہے ہیں وہ ایک دن واقعی حقیقت کا روپ دھار لے گی ۔ آج بدلتے زمانے اور گزرتے وقت نے […]