بتول مارچ ۲۰۲۵

عجیب مانوس اجنبی تھا! ۔ اسما حبیب

کئی سال پہلے کی بات ہے ۔ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب تھا ۔ مسجدوں میں رش بڑھ رہا تھا ۔ لوگ روزوں اور افطاریوںمیں مزید اہتمام کرنے لگے تھے ۔ بازاروں میں عید کی سیلیں جاری تھیں لوگ باگ کسی ایک طاق رات کو مسجد میں وقت گزارتے اور دوسرے دن بازاروں کے چکر کاٹتے۔
یہ بھی کسی طاق رات کا ذکر ہے کہ جب ہم عبادت کرنے کے لیے مسجد ابو ہریرہ کریم بلاک گئے ۔ مرد حضرات مسجد کے اوپری حصے میں معتکف تھے جبکہ خواتین کا انتظام تہہ خانے میں تھا۔
خواتین اپنے اپنےبچوں کے ہمراہ کھانے پینے کی ٹوکریاں اٹھائے مخصوص حصے کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ اوپر سیڑھیوں کے اختتام پر وہ کھڑی تھی ۔ ایک خیر مقدمی مسکراہٹ سجائے ۔ اُس کے گہرے آبنوسی رنگ میں کوئی خاص بات نہ تھی لیکن اس کے سفید ہموار موتیوں جیسے دانت اور نیچے سفید رنگ کے کپڑوں میں کوئی تعلق ضرور تھا کہ اسے ایک بار نہیں ، کئی بار مڑ کے دیکھنے کو جی چاہتا تھا ۔ سیاہ فام ہونے کے باوجود اُس کا چہرہ بہت پر کشش تھا ۔ اُس کی نظر میری باسکٹ پر پڑی تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا…

مزید پڑھیں

اعتبار ۔ عشرت زاہد

ان دنوں وہ اتنا ہی پریشان تھا، جتنا ایک بےروزگار شخص کو کئی ماہ سے ملازمت ڈھونڈتے ہوئے ہونا چاہیے تھا۔ ملک کے نامساعد حالات کی وجہ سے بڑے بڑے اداروں، کارخانوں اور فیکٹریوں کو تالے لگ چکے تھے۔ کچھ میں ملازمین کی چھانٹی کی گئی۔ عاشر بھی انہی میں سے ایک تھا جن کو فارغ کر دیا گیا تھا۔
اب گھر کے تمام اخراجات کے لیے صرف فرح کی تنخواہ ناکافی ہو رہی تھی۔ اس لیے جو تھوڑی بہت بچت تھی وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھی۔
اس وقت وہ دوست کی کتابوں کی دکان میں جزوقتی کام کر رہا تھا۔ دوست نے کہا تھا شام کے وقت رش ہو جاتا ہے، اس وقت مجھے مدد کر دینا اور ساتھ ہی دوسری ملازمت بھی تلاش کرتے رہنا۔
وہ دن بھر دفتروں کے چکر کاٹتا، اور شام میں دکان پر آ جاتا۔ جو تھوڑے بہت پیسے ملتے اس سے ضرورت کا کچھ سامان لیتے ہوئے گھر پہنچتا۔ اچھا خاصاخوش مزاج ہؤا کرتا تھا لیکن حالات کی وجہ سے کچھ چڑچڑا سا ہو گیا تھا۔
کبھی دونوں بچوں کو ڈانٹ دیتا۔ کبھی اماں سے شکوہ کرتا۔ فرح سے خواہ مخواہ الجھتا۔ وہ بےچاری اس کی نفسیات سمجھتی تھی۔ پلٹ کر جواب نہ دیتی۔…

مزید پڑھیں

بدلتی رت ۔ فرحت طاہر

نومبر 1970 ء ،حیدرآباد، سندھ
’’ چچی جان ! شاہینہ کو چھوڑ جائیں…..ابھی تو الیکشن کی وجہ سے اسکول بند ہوں گے ‘‘ روحی نے اپنی چچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
شاہینہ اور اس کے بہن بھائی اپنی والدہ کے ہمراہ عید منانے تایا جان کے گھر کراچی سےآئے ہوئے تھے ۔ ملک کے حالات اورچھوٹے بچوں کے ساتھ سفر آسان نہیں تھا لیکن چونکہ دادی جان بھی یہاں تھیں اور ان کے ابا ملک سے باہر تھے تو یہ ہی مناسب فیصلہ تھا۔
’’ نہیں بالکل نہیں ! امی ووٹ ڈالنے جائیں گی تو پپو کو کون سنبھالے گا ؟ ‘‘ ماجد بھائی نے شاہینہ کا بازو پکڑتے ہوئے کہا تو سب ہنس پڑے ۔ امی جان نے پیار سے اپنے بارہ سالہ بیٹے کو دیکھا جو اپنےوالد کی غیر موجودگی میں بہت ذمہ دار بن گیا تھا اور بول پڑیں ۔
’’ ہاں بھئی میرا ماجد اخبار پڑھتا ہے ،ریڈیو پر خبریں سنتا ہے اور اپنے نانا کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتا ہے ۔ اس کے سیاسی شعور کو ہرگز ہلکا نہ لیں ‘‘۔
اس محفل کے ساتھ ہی الوداعی لمحات آگئے اور وہ سب کراچی واپس ہولیے۔
گھر پہنچتے ہی امی جان تو گھر کے کاموں میں لگ گئیں اور بچے…

مزید پڑھیں

بتول میگزین ۔ اقصیٰ خان

بیرون ملک روانگی
اقصیٰ خان۔ملتان
ائیر پورٹ پر مختلف جذباتی مناظر نظر آتے ہیں۔
کہیں والدین اپنے نوجوان بیٹے کو رخصت کررہے ہیں اور کوشش کے باوجود جذبات پر قابو نہیں رکھ پارہے تو بیٹا بھی جاتے جاتے انکا سراپا اپنی بھیگی آنکھوں میں سموتا جارہا ہے ۔
تو کہیں بہنیں آنکھوں میں آنسو لیے اپنے بھائیوں کی بلائیں لیتی ان پر حفاظت کی دعائیں دم کرتی نظر آتی ہیں۔
کہیں بیوی اپنے محبوب، سر کے سائیں سے ان آخری لمحات میں وعدے وعید کرتی نظر آتی ہے تو کہیں چھوٹے بچے اپنے والد سے لپٹے کھڑے ہیں ۔
اپنے نوجوان بچوں ، بھائیوں اور سر کے سائیوں کو رخصت کرتے ہوئے یہ آنسو خوشی کے ہیں یا غم کے……. ؟
کبھی ہم اچھے مستقبل کی آس میں اپنے بھائیوں کو باہر بھیجتے ہیں ، کبھی شوہروں کو اور پھر کبھی بیٹوں کو ، تو کبھی دامادوں کے ساتھ بیٹیاں بہنیں بھی باہر سدھارتی ہیں تو کبھی بھابیاں ،بہویں۔ لیکن فیملی کے ساتھ جانے کی شرح بہت کم ہے ، ورنہ عام طور پر تو اکیلے مرد ہی کمائیوں کے لیے یہ تنہائیاں اور مشقتیں کاٹتے ہیں اور ان کے گھر والے ان کی جدائیاں …….یہ سلسلہ وقت کے ساتھ تیزی سے رواں دواں ہے ،کیا یہ…

مزید پڑھیں

نفسِ امارہ کوگر مارا ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

بے مثال قربانیوں کے سامنے بے شک ہم تہی دامن ہیں۔ دامن تار تار ہیں، لیکن دل کے تار کسی ان دیکھی ڈور سے بندھے ہیں

اللہ تعالیٰ کا حلم ہمارے قلب وذہن کے ہر پیمانے سے ماوراء ہے۔ اور خالقِ کائنات نے اپنے پیارے چنیدہ بندوں کے امتحان کا نصاب ان کےایمانی پیمانے کے مطابق رکھا ہے۔پوری انسانی تاریخ کا لب لباب یہی ہے کہ اب تک دنیا نےظلم وجور کے جو بھی طریقے آزمائے ہیں خالقِ کائنات کا حلم، بندوں کےنفسِ امارہ کی شرانگیزیوں پہ حاوی رہا۔ کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پہ چھائی ہوئی ہے۔
سیدنا نوح علیہ السلام سے لے کر آخری نبی کریم محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک ہر نبی اور رسول کی قوم نے پیغام سنتے ہی پہلا ردعمل جھٹلا کر دکھایا پھر جو ایمان لے آیا اس کی زندگی اجیرن کی۔ رب العالمین نے ہر دور میں ایمان والوں کی استقامت کا ایسا کڑا امتحان لیا کہ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب امتحان کی مدت ختم ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا کوڑا ایسا برسایا کہ نافرمانوں کو نیست نابود کردیا۔
اس ذات باری تعالیٰ نے خبر دے رکھی ہے کہ:
’’میرے بندوں کو خبر دے دو…

مزید پڑھیں

کشمیر کی اسرائیلائزیشن ۔ آصف محمود

اسرائیل اور بھارت کے طریقہ واردات میں گہری مماثلت ہے، جو کچھ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا وہی کچھ بھارت کشمیریوں کے ساتھ کر رہا ہے ۔ ماحول اور حالت کے مطابق طریق واردات کا جزوی فرق ضرور ہو سکتا ہے لیکن واردات یکساں ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہندو شائونزم کا ہندتوا ہو یا صہیونیت کا ’’ چنیدہ لوگوں ‘‘ کا تصور، یہ جڑواں طریقہ واردات ہے۔
صہیونی ریاست کے فکری خدوخال دو خود ساختہ تصورات پر استوار ہیں۔ پہلا یہ کہ یہودی اللہ کے چنے ہوئے لوگ ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ نے اپنے ان چنے ہوئے لوگوں کو نیل سے فرات تک کا سارا علاقہ ودیعت کر رکھا ہے۔ چنانچہ اسرائیل میں یہ بات عقیدے کی حد تک راسخ ہے کہ اگر آپ یہودی ہیں تو تورات میں جن جن زمینوں کا ذکر ہے ان زمینوں پر آپ کا اور صرف آپ کا حق ہے۔ فرانس کے سابق ڈپٹی سپیکر راجر گراڈی اپنی کتاب فائونڈنگ متھس آف اسرائیلی فارن پالیسی میں لکھتے ہیں کہ صرف مذہبی یہودیوں یا صہیونیوں کا یہ عقیدہ نہیں، اسرائیل کے اندر ملحد قسم کے یہودی بھی اس تصور پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اس کو biblical lands کا تصور کہا جاتا ہے۔اس…

مزید پڑھیں

کیا حقیقت کیا فسانہ ۔ آمنہ آفاق

” آخر کب تک “……وہ بالکونی میں کھڑے کب سے جوڑ توڑ میں مصروف تھی شدید مضطرب دونوں ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے وہ اپنے اضطراب پرقابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”ایسا میرے ساتھ ہی کیوں “ دو آنسو چھلک ہی پڑے تھے۔ اس نے بالکونی کی ریلنگ کو سختی سے پکڑ لیا اور ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگی ، سامنے والے گھر میں چلبلی الہڑ سی مناہل پر نظر پڑی اور وہ رشک سے اسے دیکھے گئی۔
” کتنی بے فکر زندگی ہے اس کی، میری ہی ہم عمر ہے مگر ذمہ داری سے دور ، اپنی پسند کی جاب کر رہی ہے ، کیریئر ، دوستیں ، گپ شپ سب کچھ ہے اس کی زندگی میں اور ایک میں اتنی جلدی شادی کر کے مجھے ذمہ داریوں میں جکڑ دیا ، اب یہاں کے کام ہی ختم نہیں ہوتے ، اوپر سے حمزہ بھی مجھے گھمانے لے کر نہیں جاتے زیادہ بولو تو ڈانٹ دیتے ہیں“ وہ پھر سے رونے والی ہو گئی تھی۔
اتنے میں مناہل کے برابر والے گھر سے زینب بھابھی نک سک سے تیار ہو کر کھٹ کھٹ زینہ اترتی نظر آئیں ، باہر ان کے شوہر ہارن پر ہارن دیے جا…

مزید پڑھیں

میری چھوٹی خالہ ۔ ام ریحان

زندگی فانی ہے اور صرف اللہ کی ذات حی القیوم ہے۔ عارضی حیات سے فنا اور پھر ہمیشہ کی زندگی ۔ان مراحل سے گزرنا ہر انسان کا مقدّر ہے۔
خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے تمام دنیاوی معاملات،سب کٹھن امتحان اور سارے مشکل پرچے کامیابی سے حل کر کے اپنے رب کے حضور پیش ہو جاتے ہیں۔جو اپنے نہ مٹنے والے نقش اہل دنیا کے دلوں پر کندہ کر جاتے ہیں۔جو ہمیشہ کے لیے اپنی کمی چھوڑ جاتے ہیں۔جن کی یادیں اور نیک اعمال روح میں اتر کر ذات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ایسے ہر تعلق اور ہر رشتے کی اپنی اہمیت اور مقام ہوتا ہے۔ دل میں ان کی اپنی ایک جگہ ہوتی ہے جو ان کے جانے کے بعد خالی ہی رہتی ہے اسے کوئی اور نہیں بھر سکتا۔
خالہ کو پنجابی زبان میں ماسی کہتےہیں یعنی ماں جیسی (ماں سی)۔ مجھے اپنی دونوں خالاوں سے یکساں محبت تھی لیکن اس محبت کی کیفیت جدا جدا تھی۔
بڑی خالہ کی متاثر کن شخصیت میں رعب اور وقار تھا تو چھوٹی خالہ سے تعلق میں بے تکلفی بھرا احساس تھا۔چھوٹی خالہ (عابدہ اشرف) خوش مزاج اور حاضر جواب تھیں بات کرتے کرتے اچانک کوئی چٹکلہ چھوڑ دیتیں ،موقع کی مناسبت سے کوئی…

مزید پڑھیں

تبصرہ کتب ۔ پروفیسر ڈاکٹر فارحہ جمشید

پروفیسر ڈاکٹر فارحہ جمشید
عائلی قانونی آگاہی پروگرام ( مینول ) کی اشاعت سوم 2024 ایک قابل تحسین قدم ہے ۔ ڈائریکٹر شعبہ تحقیق و تصنیف محترمہ شگفتہ عمر مبارکباد کی مستحق ہیں ، جن کی شب و روز کاوش سے ایک ایسا آگاہی پروگرام زیر مطالعہ رہا خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو لاعلمی کے باعث اپنی ازدواجی زندگی میں بگاڑ کا شکار رہتی ہیں ۔ 63 صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ( مینول ) قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے ۔
قرآن مجید فرقان حمید کا ابدی و سرمدی پیغام امت مسلمہ کی تشکیل ہے جس میں فرد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اس کی تربیت کے تمام پہلو اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔ افراد کی تربیت ہی ایک مثالی معاشرے کا قیام ہے اور اس کی کلیدی اکائی’’ خاندان‘‘ ہے جس کی بنیاد نکاح پر مبنی ہے ۔ اس مینول میں نکاح سے لے کر حق مہر ، طلاق ، خلع علیحدگی کی صورتیں، حق تفویض طلاق اور وراثت ان تمام پہلووں پر قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کی گئی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مسلم لا آرڈیننس 1961 کے حوالہ جات بھی تحریر ہیں جیسا کہ سیکشن…

مزید پڑھیں

مجھے زندگی چاہیے میں اس وطن پاکستان کا نظریہ، اس کی بنیاد ، ہوں ۔ مسرت جبیں

برسوں گزر گئے ایک درد بھری سسکی میری سماعت کو زخمی کر رہی ہے۔
میں نے اپنے خیر خواہوں کو ،اپنے دوستوں کو بہت پکارا میں اس سسکی کی داستان غم ان کو سنانا چاہتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں اس دکھ درد اور کرب کو محسوس کیا جائے ۔کیوں کہ یہ دبی دبی سسکی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کراہ میں اور اب بین میں ڈھلتی جا رہی ہے ۔ اب تو میں شب وروز ایک انجانے خوف میں ڈوبنے لگا ہوں کہ یہ کرب یہ دکھ میرے وجود کو تو زخمی کرتا ہی جا رہا ہے ۔ کہیں میری روح نہ گھائل ہو جائے۔ اور میری روح فنا کا سفر نہ شروع کر دے ۔ کیونکہ اگر روح فنا ہو گی تو کچھ باقی نہ بچے گا ۔ بقاء سے فنا کا سفر بڑا کڑا امتحان ہے ۔
اے میرے دوستو !
آؤ مجھے زندگی کی نوید دینے والو ! مت بھو ل جانا کہ میری بقاء ہی تمہاری بقاء ہے ۔
میری درد بھری پکار سے میرے سب ساتھی میری فریاد رسی کو بے قرار ہیں ۔ ہم حاضر ہیں ۔ہمارا تن من دھن تجھ پہ قربان….. ہم کب بھول پائے کہ ہمارے آباء نے دل خراش قربانیوں سے تجھے پایا…

مزید پڑھیں

مٹھی میں پھنسی ریت ۔ مریم روشن

نیلے شہر کی عمودی سیڑھیوں پر کھڑی میمونہ سنگ مرمر کے مجسمے کی مانند لگ رہی تھی ۔ قدموں تک پھیلی سفید فراک کا گھیر ہوا سے پھیل اور سکڑ رہا تھا ۔ چاند سی چمکتی کرن پھول سے سجے آسمانی دوپٹے کے ہالے میں سنہری چہرہ کچھ لمحوں ہی میں کمہلا گیا ، کجریلی آنکھیں آنسوؤں کی جھیل بن گئی تھیں۔ گلابی ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ مراکش گھومنے کی تمام آرزوئیں، خواب دل سے چھن کر کے اڑ گئے جیسے کھولتے توے پر سے پانی کی بوندیں بھاپ بن کر اڑ جائیں۔
نجانے کتنی دیر گزر گئی ۔ وہ تو بس ساکن کھڑی رہی۔ پھر بے جان ہوتی ٹانگوں سے سیڑھی کے کنارے بیٹھ گئی ۔ کسی گزرتے وی لاگر نے اپنے کیمرے سے میمونہ کی تصویر بغیر اجازت ہی لے لی ۔ رخسار پر ٹھیرا آنسو ، گلاب چہرہ ، غزال آنکھیں…پس منظر میں نیلی چونا پھری دیواریں اور ان پر نازک رسیوں سے لٹکتے سرخ گملے…
ایسا آرٹسٹک منظر کسی بھی فوٹو گرافر کا خواب ہوتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے دور میں لمحوں میں تصویر وائرل ہوتی اور اتنی ہی جلد ذہن سے محو ہو جاتی ہے۔
دھیمی چاپ پاس سنائی دی۔ کوئی اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
’’خفا…

مزید پڑھیں

مکالمہ ۔ ام ایمان

اتنی دورسے آواز آ رہی تھی لیکن بھلا ہو موبائل کا کہ بالکل صاف ایسی جیسے برابر میں بیٹھ کر بات کی جاتی ہے۔ لہجے کے سارے انداز سمجھ میں آ رہے تھے ۔ سعدیہ شیشے کی بڑی سی کھڑکی کے سامنے بیٹھی تھی اورسات سمندر پار اپنی خالہ زاد بہن ثمینہ سے بات کر رہی تھی ۔ وہ دونوں ہم عمر تھیں اور بچپن ہی سے بڑی دوستی تھی ۔
نام بھی ایک جیسا ہی لگتا تھا کوئی ایک کو آواز دیتا تودونوں دوڑی جاتیں۔ ساتھ ساتھ بڑی ہوئیں ۔گھر دور تھے لیکن اسکول ایک تھا جہاں وہ ایک ہی کلاس میں تھیں۔
ساری باتیں وہاںدل بھر کرکرتیں ۔ میٹرک کے بعد ایک ہی کالج میں داخلہ ہؤا۔ بی اے کیا اور بیاہ ہو گیا چند ماہ کے فرق سے لیکن پھر جودوری آئی توبڑھتی ہی چلی گئی۔
سعدیہ شادی ہوکر ملیر جابسیں اور ثمینہ کی سسرال لاہور تھی ۔پھر کوئی بات جوہوتی توفون پر ہوتی وہ بھی کبھی کبھی کہ اس زمانے میں فون پر ایک شہرسے دوسرے شہر بات کرنا فون کے بل کو پانچ گنا کرنا ہوتاتھا۔
خاندان میں شادیاں ہوتیں توملاقات ہو جاتی لیکن و ہ بھی کبھی کبھی کہ ایک شہر سے دوسرےشہر آنا آسان نہیں۔
پھرسعدیہ کے میاں…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسراسفر ۔ بشریٰ تسنیم

سات ستمبرکوہم کھلےسمندرمیں کھڑےسفید ’’Costa Pacifica‘‘ میں’’بسم اللہ مجرھا و مرساھا ‘‘پڑھتے داخل ہوئے۔ہمیں پہلےسے ہی معلوم تھا کہ اندرداخل ہونےکاکیاشاندارپروٹوکول ہے اوراس کروز کی شان وشوکت کیا ہے۔ہم چند ماہ پہلے جس کروز میں داخل ہورہےتھے وہ بھی بالکل ایسا ہی سفید محل تھا بس نام کا ہی توفرق تھا۔ سارا ماحول وہی تھا اور سب کارروائی کا ہمیں علم تھا ۔ ایک خوشگوار تجربے کی تکرار بھی دل میں انبساط وشکرکا ارتعاش پیدا کررہی تھی۔
رسمی کارروائیوں کے بعد اپنے کمرہ نمبر 1395 میں پہنچے ۔ یہ کمرہ گزشتہ کمرے سے زیادہ کشادہ تھا اوراس میں بالکنی کی بجائےبڑے سائزکی بندکھڑکی تھی جس کےباہرسمندرکی موجوں کا نظارہ دل کو شاد کرتا تھا۔ایک انڈونیشی لڑکا ہماری خدمت پہ مامور تھااس نے ہمارا پرتپاک خیرمقدم کیا۔کمرےمیں موجود ٹی وی کی سکرین پہ ہم دونوں کے نام کے ساتھ خیرمقدمی پیغام جگمگا رہا تھا۔
شام پانچ بجے کوسٹا پسیفیکا نے کیل ( keil)کے ساحل سے روانگی کا بگل بجایا ۔ اور ایمرجنسی صورتحال میں ڈرل کے لیے عملے کا کارکن اطلاع دینےآیا تومجھے زرا سا بھی دل میں کھٹکا نہ پیدا ہواکیونکہ مجھےعلم الیقین تھا کہ کیا ہوگا ۔ڈنر کے لیے ہماری دوسری شفٹ اورکھانے کی میز 251 تھی ۔رات کو کھانے کے…

مزید پڑھیں

غزل ۔ حبیب الرحمٰن

اپنے سر پر کوئی الزام بھی لیتا کیا تھا
ہاتھ پکڑا تھا اگر تھام بھی لیتا کیا تھا
جامِ جم اس کا مقدر ہے مقدر اس کا
گر سفالی کا مرا جام بھی لیتا کیا تھا
تپتے صحرا میں وہ مجھ پیڑ تلے سائے میں
دو گھڑی کے لیے آرام بھی لیتا کیا تھا
خود سے پاؤں میں چبھے خار نکالے، ہم سے
اس بہانے وہ کوئی کام بھی لیتا کیا تھا
رشک سے سر سے بلائیں تری، گھر پر تیرے
چاند اتر کر جو لبِ بام بھی لیتا کیا تھا
خود بنا لیتا جلا کر مجھے سونا چاندی
غیر سے تو جو مجھے خام بھی لیتا کیا تھا
نامہ بر دیکھ تو لینا تھا تاثر، اس کا
خط اسے دے کے مرا نام بھی لیتا کیا تھا
ساری دنیا کے جو میں اس کی خوشی کی خاطر
درد و غم رنجش و آلام بھی لیتا کیا تھا
میں جو ساقی تری تلچھٹ کے نشے کے آگے
میکدے بھر کے بھرے جام بھی لیتا کیا تھا
پُرسکوں گاؤں کے ان کچے مکانوں کے عوض
بادشاہوں کے در و بام بھی لیتا کیا تھا
میں تو پہلے ہی زمانے میں ہوں بدنام حبیبؔ
تو مرا نام سرِ عام بھی لیتا کیا تھا

 

مزید پڑھیں

رمضان المبارک، قرآن مجید اور تقویٰ ۔ فریدہ خالد

ایک مرتبہ پھر اللہ کے فضل و کرم سے رمضان کا مہینہ ہم پر سایہ فگن ہو گا اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کا کیا کہنا۔ نبی ﷺ نے خود اسے عظمتوں اور برکتوں والا مہینہ کہا ہے۔ اس ماہ کی ایک رات اس قدر عظیم ہے کہ اس میں ہزار مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت کے خزانے لٹائے گئے اس رات میں اللہ نے ہم پر اپنی سب سے بڑی رحمت نازل فرمائی، قرآن مجید جو اللہ کا کلام ہے اور انسانوں کی ہدایت کےلیے اتارا گیا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے‘‘(البقرہ: 185)۔ مزیدفرمایا،’’بے شک ہم نے اسے ایک مبارک رات میں اتارا کیونکہ ہم ہی خبردار کرنے والے تھے‘‘ (الدخان: 3 ) ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ماہ کا ہر روز، روزِ سعید اور ہر رات مبارک ہے کیونکہ یہ سال کا وہ واحد مہینہ ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے رب کی اطاعت اور رضا جوئی کی خاطر اپنے جسم کی جائز خواہشات کو ترک کر کے یہ اقرار کرتے ہیں کہ صرف اللہ ہی…

مزید پڑھیں

قرآن شاہ کلید ۔ عالیہ شمیم

قرآن کا موضوع انسان ہے ۔اور قرآن کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ظاہر بینی یا قیاس آرائی یا خواہش کی غلامی سے انسان نے نظام کائنات اور اپنی دنیوی زندگی کے متعلق جو نظریات قائم کیے ہیں اوران نظریات کی بناپر جو رویے اختیار کر لیے ہیں وہ غلط اور نتیجے کے لحاظ سے تباہ کن ہیں ۔حقیقت وہ ہے جو انسان کو خلیفہ بناتے وقت اللہ نے خود بتادی تھی۔ اور اس حقیقت کے لحاظ سے وہی رویہ درست اور خوش انجام ہے جو قرآن میں انسانی ہدایت کے لیے اتار دیا گیا ۔
قرآن کا مدعا انسان کو اس صحیح رویے کی طرف دعوت دینا اوراللہ کی اس ہدایت کو واضح طور پر پیش کرنا ہے جسے انسان اپنی غفلت سے گم اور اپنی شرارت سے مسخ کرتا رہا ہے۔
مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی اپنی پستی اور ذلت کو اگر ترقی اور عزت میں بدلنا ہے تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب قرآن کے آئینے میں خود کو پرکھا جائے اور ہر حکم اور ہر آیت پر غور وخوض کرکے اپنا محاسبہ کیا جائے، اور ماہ صیام اس کا بہترین موقع عطا کرتا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن ہمیں زندگی کے بنیادی معاملات میں کن پہلوؤوں سے رہنمائی…

مزید پڑھیں

یوم الفرقان ،غزوہ بدر ۔ ڈاکٹرسلیس سلطانہ چغتائی

غزوہ بدر تاریخ اسلام کی وہ فیصلہ کن جنگ ہے جس میں امت اسلامیہ کی تقدیراوردعوت حق کے مستقبل کافیصلہ ہؤا جس پرپوری نسل انسانی کی قسمت کاانحصار تھا ۔ غزوہ بدرکے بعد سے آج تک مسلمانوں کی جتنی فتوحات اورکامیابیاں حاصل ہوئیں اوران کی جتنی حکومتیں اورسلطنتیں قائم ہوئیں وہ سب اسی فتح مبین کی رہین منت ہیں ۔جوبدرکے میدان میں مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کوحاصل ہوئی ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ انفال کی آیت ۴۱ میں اس جنگ کو ’’ یوم الفرقان‘‘کہا ارشاد باری تعالیٰ ہےاگر تم خدا پر اوراس کی نصرت پرایمان رکھتے ہو جوحق و باطل میں فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں ) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہو گئی اپنے بندے (محمد ﷺ) پرنازل فرمائی‘‘(سورہ انفال۴۱)
غزوہ بدر کاپس منظریہ ہے کہ رسول اکرمؐ کوجب یہ اطلاع ملی کہ ابو سفیان شام سے قریش کے ایک بڑے تجارتی کارواں لے کرمکہ جا رہا ہے جس میں بڑا مال و اسباب ہے یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں اورمشرکوں میں معرکہ آرائی کا سلسلہ جاری تھا اور قریش نے اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت کوہر طرح روکنے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے اپنے سارے مالی وسائل، سامانِ جنگ اورجنگی دستے…

مزید پڑھیں

زبیر کی کہانی ۔ نادیہ سیف

ہر سبق ایک نئی منزل، ہر آیت ایک روشنی، ہر دن ایک قربت کی کہانی سناتا رہا۔
وقت اور عمر نے اسے وہ سمجھایا ،وہ دکھایا جو وہ گزرے وقت میں کہنا چاہتا تھا۔
کندھے سے کندھا چھل رہا تھا۔ موٹر سائیکل اسٹینڈ پر کھڑی کی ، تو دس روپے دینے پر چاچا دیر تک کلستا رہا۔ جس انداز میں چاچا زبیر کو یہاں لایا تھا تو اس کا سارا تجسس ہوا ہو گیا۔اسے یہاں آنے پر کوفت ہو رہی تھی۔ ہنستے ہوئے بولا ،ابھی تو چپل رکھنے کے بھی دس روپے دینے ہیں۔
 میں تجھے کیا مزار کی حاضری کے لیے لایا ہوں جو چپل اتارنی پڑے گی ؟چاچا قدرے غصے سے بولا۔
 پھر تیز تیز چلتے ہوئے وہ لوگ رش کی جگہ سے اچھا خاصا دور ہٹ گئے تو چاچا اسے دربار کے تقریباً سنسان اور ایسے حصے میں لے آیا جہاں وہ نہ صرف پہلے کبھی نہ آیا تھا بلکہ اس کی چھٹی حس الارم بجانے لگی ،کہ یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے قدم فوراً سست پڑ گئے۔
چاچا نے چاروں طرف متلاشی نظروں سے دیکھا ، اور ایک جگہ درخت کے نیچے اس کی نگاہ ٹھہر گئی۔گویا وہ جس کو ڈھونڈ رہا تھا ، وہ شاید وہی تھا۔چاچا فوراً…

مزید پڑھیں

رمضان کریم ،روحانی ڈی ٹاکس ۔ افشاں نوید

جسم اور روح کے مکمل فوائد کا ایسا پیکیج جو صرف انسان کا خالق ہی اس کو عطا کرسکتا تھا!

ایک ویڈیو میں کسی غذائی ماہر نے صحت کی بہتری کے لیے ڈی ٹاکس واٹر کے استعمال پر اصرارکیا۔میں نے اس کے فوائد جاننے کے لیے سرچ کیا تومیں حیران رہ گئی۔اللہ اکبر! دنیا آج ڈی ٹاکس کےفوائد پر بات کر رہی ہے، ہمارے عظیم دین نے چودہ سو برس پہلے روزہ &فرض کر کے ڈی ٹاکس کے بھی سارے فوائد سمیٹ کر ہماری جھولی میں ڈال دیے۔ڈی ٹاکس کے جو فوائد بیان کیے جاتے ہیں ان پر ایک نظر ڈالیں:
1۔ نظام ہضم کی درستی
2۔ توانائی بڑھانا
3۔ذہنی صحت
4۔ وزن کم کرنا
5۔ جلد کی شادابی
6۔قوت مدافعت کو بڑھانا
1۔ نظام ہضم کی درستی
دنیا میں ایسا کون سا ڈائٹ پلان ہے جو ایک فرد کو رضاکارانہ آمادہ کرے کہ وہ فجر سے مغرب تک بھوکا پیاسا رہے ! جتنے بھی ڈائٹ پلان ہیں ان پر انسان مجبوراً اور جبراً ہی عمل کرتا ہے اور اکثر وہ مدت پوری ہوتے ہی دوبارہ اس سے زیادہ بدپرہیزی شروع ہو جاتی ہے۔ روزے میں اگرچہ بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے لیکن یہ دل کی خوشی کا معاملہ ہے۔ یہاں کوئی جبرنہیں۔زبردستی نہیں۔محبت ہے، عشق ہے، بلکہ اس…

مزید پڑھیں