عجیب مانوس اجنبی تھا! ۔ اسما حبیب
کئی سال پہلے کی بات ہے ۔ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب تھا ۔ مسجدوں میں رش بڑھ رہا تھا ۔ لوگ روزوں اور افطاریوںمیں مزید اہتمام کرنے لگے تھے ۔ بازاروں میں عید کی سیلیں جاری تھیں لوگ باگ کسی ایک طاق رات کو مسجد میں وقت گزارتے اور دوسرے دن بازاروں کے چکر کاٹتے۔
یہ بھی کسی طاق رات کا ذکر ہے کہ جب ہم عبادت کرنے کے لیے مسجد ابو ہریرہ کریم بلاک گئے ۔ مرد حضرات مسجد کے اوپری حصے میں معتکف تھے جبکہ خواتین کا انتظام تہہ خانے میں تھا۔
خواتین اپنے اپنےبچوں کے ہمراہ کھانے پینے کی ٹوکریاں اٹھائے مخصوص حصے کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ اوپر سیڑھیوں کے اختتام پر وہ کھڑی تھی ۔ ایک خیر مقدمی مسکراہٹ سجائے ۔ اُس کے گہرے آبنوسی رنگ میں کوئی خاص بات نہ تھی لیکن اس کے سفید ہموار موتیوں جیسے دانت اور نیچے سفید رنگ کے کپڑوں میں کوئی تعلق ضرور تھا کہ اسے ایک بار نہیں ، کئی بار مڑ کے دیکھنے کو جی چاہتا تھا ۔ سیاہ فام ہونے کے باوجود اُس کا چہرہ بہت پر کشش تھا ۔ اُس کی نظر میری باسکٹ پر پڑی تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا…

