بتول فروری ۲۰۲۵

ابتدا تیرے نام سے ۔ صائمہ اسما

قارئین کرام سلام مسنون
نیا سال خوش آئند ہے کہ اس کے پہلے مہینے میں غزہ میں جنگ بندی کی خوش خبری ملی۔ پندرہ ماہ سے اہلِ غزہ پر ٹوٹنے والی قیامت کا سلسلہ رکا، لاکھوں بے خانماں شہری اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ مناظر جہاں آنکھوں کے لیے بہار ہیں، جو فلسطینیوں کی خوشی دیکھنے کوترسی ہوئی ہیں،وہاں ایک بستے ہوئے شہر کو ملبے کا ڈھیر بنے دیکھنا بے حد تکلیف دہ بھی ہے۔ گھر کے نام پر ملبے کی طرف پلٹنا، جہاں اپنے ہی پیاروں کے لاشے دبے ہوئے ہیں، کس قدر اذیت ناک لمحات ہوں گے۔ مگر یہ وہ قوم ہے جس نے جانتے بوجھتے، پورے عزم کے ساتھ اس قربانی کے لیے خود کو تیار کیا ہے۔ غزہ کے لوگ انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہیں، انسانیت کا اثاثہ اور فخر ہیں، زوالِ امت کے دور میں امت کا کفارہ دینے والے بے مثال لوگ،ایمان اور یقین کی بلندیوں پر فائز۔ مزاحمت، حوصلہ، شجاعت، صبرو استقلال، یک جہتی، جان و مال کی مصیبتوں پر صبر، مقصد سے عشق کا جیتا جاگتا نمونہ۔ انسانیت کی سطح سے انتہائی گرے ہوئے دشمن کے آگے بھی اپنے اصولوں پر استقامت سے جمے رہنے والے، انتہائی زیرک اور باریک…

مزید پڑھیں

اے کاش! ۔سعد حیدر

کبھی کبھار زندگی کے کسی موڑ پر یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک منظر ….صرف ایک منظر آپ کی زندگی کا رخ یکسر بدل دیتا ہے۔ آپ ایک لگی بندھی روٹین کے ساتھ ہنستے کھیلتے اپنی زندگی سے بھرپور لطف اٹھاتے وقت گزار رہے ہوتے ہیں کہ یکایک کوئی ایک منظر، کسی کا کہا کوئی ایک لفظ یا ایک جملہ آپ کا سارا سکون غارت کر جاتا ہے۔ آپ کی سوچوں کا دھارا تک بدل دیتا ہے۔
ابھی چند لمحوں قبل ۔بلکہ اگر میں گھڑی دیکھ کر آپ کو صحیح وقت کے لحاظ سے بتاؤں تو پورے پانچ منٹ قبل میں خود اس اچھوتے تجربے سے گزرا ہوں۔ میں اس وقت دنیا کی معیشت کے مرکز، نیو یارک کی وال اسٹریٹ میں ایک آسمان کو چھوتی عمارت کے پرتعیش دفتر کی آرام دہ کرسی پر بیٹھا ہوں۔ میرے سامنے فائلوں کا انبار لگا ہؤا ہے ۔باہر برآمدے میں موجود انتظار گاہ میں بڑی بڑی فرموں سے آئے نمائندے مجھ سے ملاقات کے لیے منتظر بیٹھے ہیں۔ اگر میں کھڑکی سے باہر نظر دو ڑاؤں تو سب کچھ ویسا ہی ہے۔ وہی بلند و بالا عمارتیں اور ان کے عقب سے جھانکتا سورج ….ہوا میں تیرتے طیّارے….سب کچھ ویسا ہی ہے جیسے…

مزید پڑھیں

دوستی کا امر باب فرزانہ چیمہ، ایک یادگار رفاقت ۔ آسیہ راشد

کچھ لوگ اپنی زندگی میں آسمان کے چمکتے ہوئے ستاروں کی مانند ہوتے ہیں جو نہ صرف روشنی دیتے ہیں بلکہ راستہ بھی دکھاتے ہیں فرزانہ چیمہ ایسی ہی ایک شخصیت تھیں جن کا وجود ہماری زندگیوں میں محبت خلوص اور علم کا روشن چراغ تھا۔ آج ان کی یادیں ہماری آنکھوں میں اشک، دل میں گہرائی، محبت اور لبوں پر دعائیں بن کر محفوظ ہیں۔ فرزانہ کا ذکر کرتے ہوئے دل میں ان کے ساتھ گزرا ہؤا ہر لمحہ ایک قیمتی خزانے کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ان کی یادیں خوشبوؤں کی مانند مجھے گھیرے ہوئے ہیں اور جگنوؤں کی طرح میرے ارد گرد منڈلا رہی ہیں۔ ان کا اور میرا ساتھ کم و بیش 40 سال پر محیط ہے وہ ایک سچی دوست ہستی مسکراتی روح اور بے مثال ادبی شخصیت تھیں جنہوں نے زندگی کے ہر ہر پہلو کو خوبصورتی سے جیا ۔جب میں اپنی زندگی کے پچھلے سالوں پر نگاہ دوڑاتی ہوں تو وہ مجھے ہر موڑ ،ہر راہ ،ہر یاد پر جا بجا کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔
نام تو ان کا کچھ اور تھا گھر میں پیار سےرانی کہلاتی تھیں آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں اسی لیے سبھی کی لاڈلی بھی تھیں جب…

مزید پڑھیں

غیبت ،مردہ بھائی کا گوشت کھانا ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مسلسل تربیت فرماتے ہیں، ایسی تربیت جس سے فرد کو غلطیوں کوتاہیوں اور گناہوں سے باز رکھنے کی تلقین ہو اور اسلامی سوسائٹی کی بھی تطہیر ہوتی رہے، اور وہ پاک ہو کر بلند مقام پر پہنچ جائے۔
اسلام لوگوں کی جان مال اور عزت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اور اس کے لیے راہ دکھاتا ہے۔لوگوں کے درمیان اچھے تعلقات اور خوشگوار رویوں کی تلقین کرتا ہے۔اور مسلمانوں کے حقوق سے متعلق آگہی پیدا کرتا ہے۔ جان اور مال کا تحفظ ہی انسان کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کی عزت وآبرو کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔دوسروں کی عزت کا خیال نہ رکھنے سے باہمی تعلقات میں کشیدگی اور کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے، اور ناگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے، اس لیے اسلام نے ایسے اخلاقِ مذمومہ کی مذمت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔ (الحجرات،۱۲)
غیبت کی تعریف
غیبت کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کسی…

مزید پڑھیں

کم خرچ بالانشین نیکی ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

اللہ رب العزت نے فرمایا:
’’ہرشخص کسی نہ کسی (عمل) کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ پس (تمہیں چاہیے کہ) نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کرو‘‘۔ (سورة البقرہ: 2)
عمومی طور پہ ہر ہوش مند مسلمان نیکیوں میں سبقت لے جانے والا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ مگر دنیا میں ہم ہر طرح کی نیکی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہر انسان کی قابلیت، صلاحیت اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔
مال دار، مال خرچ کر سکتا ہے مفلس نہیں کر سکتا۔ عالم علم پھیلا سکتا ہے جاہل سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ صحت مند دوسروں کے لیے جسمانی بھاگ دوڑ کر سکتا ہے مریض کے لیے یہ ممکن نہیں۔ گونگا زبان سے تقریر نہیں کر سکتا نابینا راستہ نہیں بتا سکتا اسی طرح بے شمار باتیں ہو سکتی ہیں جو ہر کسی کے دائرہ کار میں نہیں ہوں۔
اللہ الرحمان الرحیم نے اسی لیے انسانوں کو باور کروا دیا کہ:
’’اللہ کسی متنفّس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا‘‘۔ (سورة البقرہ: 286)
اور بازپرس اسی صلاحیت کی ہوگی جو عطا کی گئی ہوگی۔ مگر مومن تو نیکیوں کا حریص ہوتا ہے ہر قسم کی نیکی میں حصہ دار بننا چاہتا ہے۔
اس خواہش کو پورا کرنے کا…

مزید پڑھیں

خوابوں کی دنیا کا سفر ۔ منیبہ عثمان

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
خوابوں کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ ہم سب خواب دیکھتے ہیں اور خوابوں کی دنیا کا سفر تقریباً ہماری زندگیوں میں معمول کی بات ہے۔ اس لیے ہم بہت کم خوابوں کی گہرائی کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ کبھی ایسا ہو کہ کوئی ان ہونا خواب، ڈراؤنا خواب یا حد سے اچھا خواب دیکھ لیں تبھی ہماری توجہ خوابوں کی طرف جاتی ہے ورنہ صبح اٹھتے ہی، آنکھیں ملتے ملتے خواب فراموش کر دیے جاتے ہیں اور ہم اپنی زندگیوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔
خواب کی حقیقت کیا ہے؟ خواب کتنی اقسام کے ہوتے ہیں؟ ماہرین خوابوں کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اور احادیث میں خوابوں کا ذکر کن الفاظ میں موجود ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
خوابوں کی حقیقت
خواب وہ ذہنی تصورات، خیالات، احساسات، اور آوازیں ہیں جو انسان نیند کے دوران دیکھتا یا محسوس کرتا ہے۔ خواب کا تعلق نیند کے گہرے مراحل سے ہے جن کو اصطلاحی زبان میں REM (Rapid Eye Movement) کہا جاتا ہے۔
ماہرین کی رائے
آسٹریائی نیورولوجسٹ اور نفسیات کے بانی سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کے مطابق خواب انسان کے لاشعوری خیالات، جذبات اور خواہشات کے عکاس ہوتے ہیں۔ سگمنڈ کہتے…

مزید پڑھیں

منزل تخلیق کے لمحوں میں وہ صرف اپنے ضمیر کے آگے جواب دہ تھا۔ ایک نوجوان کی کہانی جسےاپنا راستہ خود بنانا تھا ۔ سلوت ملک

ناشتہ کرتے ہوئے ، وہ چولہے کے قریب پیڑھی پر بیٹھا، ایک ہاتھ میں چائے کی پیالی اور دوسرے ہاتھ میں اخبار تھامے، نوکریوں کے اشتہاروں کا صفحہ انہماک سے پڑھ رہا تھا۔ یہ روز ناشتے کی روٹین تھی۔ کچھ جگہیں نوٹ کر لیتا اور تلاش میں نکل کھڑا ہوتا۔ شام کو نامراد لوٹتا لیکن چہرے پر کوئی شکن، کوئی ملال نہ ہوتا۔ اگلے دن پھر اسی انہماک سے شروع ہو جاتا۔
اماں قریب پیڑھی پر بیٹھیں چائے میں روٹی ڈبو ڈبو کر کھا رہی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں پنکھا اٹھا کر اسے جھل دیتیں چاہے کوئی مکھی مچھر نہ بھی ہو۔ بس ان کی تسلی ہو جاتی۔
گھر میں بچوں کا شور و غل مچا تھا۔ تینوں بڑی بہنیں بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں۔
اخبار میں چند ایک اشتہاروں نے اسے متوجہ کیا۔ غور سے انہیں پڑھنے لگا۔ پھر پیالی ایک طرف رکھ کے پنسل اٹھائی اور نشان لگانے لگا۔
’’انہیں چیک کیا جا سکتا ہے‘‘وہ ذہن میں سوچ رہا تھا۔
ابا کچھ دور چارپائی پر بیٹھے، حقہ ہاتھ میں پکڑے، کن اکھیوں سے اسے گھور رہے تھے۔ کچھ دیر بعد بولے۔
’’کیوں میاں؟ کوئی خوش خبری ہے تمہارے لیے؟‘‘
وہ ان کے لہجے کا طنز محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا، لیکن مسکرا کر…

مزید پڑھیں

محشر خیال ۔ پروفیسر امینہ سراج

پروفیسر امینہ سراج ۔ اسلام آباد
جنوری 2025کے’’چمنِ بتول‘‘ نے اہل قلم و قرطاس میں سے ایک اور اہم شخصیت کے’’خفتگانِ خاک‘‘ میں شامل ہونے کی خبر سنادی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لےساقی
محترمہ فرزانہ چیمہ جن کی تحریریں ہم عرصۂ دراز سے پڑھتے آ رہے تھے….خوش قسمت ہیں وہ لوگ جوخاک میں مل کر پنہاں نہیں ہو جاتے ۔ ان کے نقشِ پا عالم آب و خاک میں نہ صرف نظر آتے رہتے ہیں بلکہ لالہ و گل کی صورت بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔ قانتہ رابعہ نے اپنی تعزیتی تحریر کو کیا خوب عنوان دیا ہے’’اے رہبرِ فرزانہ!‘‘ اے مالکِ دو جہاں ! اے ربِّ کریم ! اس رہبرِ فرزانہ کے ساتھ جن لوگوں کی دعائیں شامل ہیں ان میں اس ناچیز کی دعائیں بھی شامل کر لینا۔ ان کی دینی و علمی وقلمی خدمات کو قبول فرمانا اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دینا۔ آمین
٭٭٭
پروفیسر خواجہ مسعود ۔ اسلام آباد

اُودے اودے رنگوں کے پیارے پھولوں سے مزین جنوری کا ٹائٹل بہت دیدہ زیب ہے ۔دیکھ کے پاکیزگی اور نفاست کا احساس ہو رہا ہے ۔
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ آپ…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

سالانہ لاکھوں لوگ ہالینڈ کی سیر صرف پھولوں کے کھیتوں کی وجہ سے کرنے آتے ہیں۔’’ ہارلیم‘‘نامی علاقے کو پھولوں کا مرکز کہا جاتا ہے لیکن پھولوں کی سالانہ پریڈ اور سینکڑوں اقسام کے پھولوں کے ’کیوکن ہاف پارک‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں آٹھ سو سے زیادہ قسموں کے ٹیولپ اگائے جاتے ہیں ۔
اصل میں ہالینڈ اور ٹیولپ کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ ٹیولپ اس ملک کا پھول نہیں ہے۔ اسے 15ویں صدی کے عثمانی دور میں قیمتی ترین پھول سمجھا جاتا تھا۔ اس خوبصورت گل کو پہلی مرتبہ 1555ء میں ویانا کے بادشاہ ’’فرڈینانڈ اول‘‘ کا ایک سفارت کار استنبول سے یورپ لایا تھا اور وہاں سے پھر یہ وسطی یورپ کے شہزادوں اور بادشاہوں کے باغوں تک پہنچا۔ بعدازاں سولھویں صدی میں انہیں ترکی سے باقاعدہ ہالینڈ درآمد کیا جانے لگا۔
بہار کے موسم میں یہ ملک رنگ برنگے پھولوں کی وجہ سے پورے جوبن پر ہوتا ہے- خاص طور پر اپریل اور مئی کے مہینوں میں یہاں قسم قسم کے پھولوں کی خوشبو عروج پر ہوتی ہے- ہالینڈ سے تقریباً ساٹھ فیصد سے بھی زاید پھول پوری دنیا کو مہیا کیے جاتے ہیں-
ایمسٹرڈیم کے گرد و نواح میں بہار کے موسم میں ٹیولپ کے کھیت…

مزید پڑھیں

غزل ۔ حبیب الرحمٰن

بدلہ جو وقت جینے کی صورت بدل گئی
پل بھر میں میری تیری ضرورت بدل گئی
بدلیں گی روح و جاں کی خزائیں بہار میں
واللہ محبتوں میں جو نفرت بدل گئی
بس اک تری نگاہ اٹھانے کی دیر تھی
اک پل میں چاہتوں میں کدورت بدل گئی
میں جب ہنسا تو پل میں نظر آسمان کی
یہ بات کب ہے باعثِ حیرت بدل گئی
اے دل، اگر تھا دل کا عوض دل تو کیوں بتا
بازارِ عشق میں تری اُجرت بدل گئی
دل میں مچل رہے تھے جو ارماں بدل گئے
عمروں کے ساتھ سطوت و حسرت بدل گئی
عادت، چلن، کسی کا بدلنا صحیح مگر
لیکن کبھی سنا ہے کہ فطرت بدل گئی
بن کر تری نگاہ میں اچھے سے ہم برے
بس یہ ہؤا کہ صورتِ شہرت بدل گئی
کیا کیجیے زمانے کا شکوہ حبیبؔ سے
رونا تو یہ ہے غیرتِ عترت بدل گئی

 

 

 

 

مزید پڑھیں

قرآنی معاہدات اللہ اور انسانوں کے درمیان تعلق کے قانونی زاویے ۔ احمر بلال صوفی؎۱

اجتماعی زندگی کا معاہدہ
قرآن جہاں ہر شخص کے ساتھ اللہ کا براہ راست معاہدہ ہے وہاں یہ ہر نوعیت کے اجتماع کے نظم کا ایک آئین بھی ہے۔
یہ اجتماعی زندگی گزارنے کی ایک دستاویز ہے اور ایک ساتھ رہنے کے عمرانی معاہدے کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اس کا مقصد تمام گروہوں کے لیے ایک سٹینڈرڈ آئین ، ایک سماجی چارٹر ، ایک معاشرتی قانون یادین کے طور پر کام کرنا ہے ۔چاہے وہ گروہ چھوٹا ہو، ایک خاندان ہو یا قبیلہ ہو ، شہری علاقہ ہو ، یا کسی ملک یا بہت سے ممالک کے رہائشی ہوں ۔ قرآن پڑھتے ہوئے ، ہر شخص محسوس کر سکتا ہے کہ یہ بیک وقت افراد اور گروہوںسے مخاطب ہوتا ہے ۔ قرآن بنیادی طور پر لوگوں کو ’گروہوں‘ کی شکل میں بھی نصیحت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، اس کی ہدایات، اگرچہ فرد واحد کے لیے نظر آتی ہیں ، مگر قرآن اجتماعی انسانی زندگی کے لیے ایک لائحہ عمل رکھتا ہے ، چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔
اسی تناظر میں قرآن نے ذاتی معاملات،(الحجرات ،12، البقرہ ،60 ،النسا،36)باہمی احترام،(لقمان ،18) دوسروں کا استحصال نہ کرنے اور ان کے احترام کو برقرار رکھنے ، (الحجرات، 11) منصفانہ…

مزید پڑھیں

سدا مسکراتے رہیے ۔ فریدہ خالد

آج سے کوئی ڈھائی تین سال پہلے اپنےاندر ہونے والی بیماری کے اثرات کو میں نے معمولی اور عام خیال کیا اور کوئی خاص توجہ نہ دی۔ بہرحال اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اور بیماری بھی باعثِ اجر بن جاتی ہے اگر انسان صبر کرے ۔دو سال پہلے علاج شروع کیا اور وہ کہتے ہیں نہ کہ مرض بڑھتا رہا جوں جوں دوا کی ۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہؤا ۔ شاید یہ اس لیے ہؤا کہ میں نے یہ قبول ہی نہ کیا تھا کہ میں بیمار ہوں۔ رفتہ رفتہ جب یقین آگیا تو بیماری کے ساتھ سمجھوتہ کرتی چلی گئی۔ مجھے اپنی بیماری کے فائدے نظر آنے لگے ۔ ظاہر ہے سب سے بڑا فائدہ تو یہی تھا کہ علاج کے ساتھ ساتھ صبر سے تکلیف کو برداشت کرتی رہوں اور ہر حال میں شکر ادا کروں۔ اور دوسرا بڑا فائدہ یہ ہؤا کہ بیماری میں اللہ کی دی ہوئی ان بہت سی نعمتوں کا احساس ہونے لگا جو اس سے پہلے کبھی نظر ہی نہ آئی تھیں۔ صحت کی قدر تو ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کی فکر بھی لاحق ہوئی کہ اب زندگی سے غیر ضروری کام نکالتے چلے…

مزید پڑھیں

تبصرہ کتب ۔ ثمن عباس

نام کتاب:نقش گر(افسانے)
مصنف:محمد حامد سراج
پبلشرز : بک کارنر جہلم
صفحات : 208
قیمت: 600 روپے
سر اٹھاتی ہے وہ تجدید کی خواہش مجھ میں
نقش گر سوچنے لگتا ہے دوبارہ مجھ کو
ہر تحریر کے پس منظر میں ایک اور کہانی ضرور چھپی ہوتی ہے۔یہ مصنف پرمنحصر ہے کہ وہ اپنی لکھاوٹ کی بنت میں سچائی کی گہرائی اور گیرائی کو شامل کرتا ہے یا مبالغہ آرائی کا سہارا لیتے ہوئے خود کو بازی گر دکھانے کی کوشش میں منہمک نظر آتا ہے ۔ ایک افسانہ نگار کی شخصیت اور سوانح سے واقفیت حاصل کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر اس کی تخلیقات اور عہد تک مکمل رسائی ناممکن امر ہے ۔
محمد حامد سراج کا تعلق میانوالی کے معروف قصبہ کندیاں کے قریب بستی خانقاہ سراجیہ سےتھا۔مصنف کا حسب نسب صوفیا اور اولیاء کے خاندان سے تھا ان کے پڑدادا ابوالسعد احمد خان خانقاہ سراجیہ کے بانی تھے ۔ ان کے والد محمد عارف عالم دین تھے اور والدہ رضیہ بی بی متقی خاتون تھیں ۔علامہ محمد اقبال نے اپنی والدہ کی وفات پر دکھ کے اظہار کے لیے والدہ مرحومہ کے عنوان سے نظم موزوں کی اور محمد حامد سراج نے اپنی والدہ سے انسیت ظاہر کرنے کے لیے اردو ادب…

مزید پڑھیں

تلاش جاری ہے ۔ نصرت یوسف

مئی کی چلچلاتی دھوپ اور بائیک کا سفر، زندگی کو گھنٹہ بھر میں ہی شکووں سے بھر دیتا ہے، بڑبڑاہٹ، غصہ، ناگواری کے ساتھ بلڈنگ کے گیٹ پر جھٹکے سے سواری روکتے اس نے پیچھے بیٹھی بیوی کو ترشی سے کہا ۔
’’اب اتر بھی جاؤ، بائیک اوپر نہیں جائے گی‘‘۔
حفصہ نے اپنے بیگ کو سنبھالتے حیرت سے اسے دیکھا جو پچھلے ماہ تک تو بہت ہی مہذب تھا لیکن اب ناگواری جیسے ناک پر دھری رہنے لگی تھی۔
’’مجھے پتہ ہے کہ تمہارے پاس بائیک ہے جہاز نہیں‘‘ بظاہر تو یہ بات اس نے ہنستے کہی تھی لیکن انس کی بھنویں تن گئیں،وہ تیز قدم بڑھاتا لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔ وہ یونیورسٹی بیگ سنبھالے اس کےپیچھے لپکی لیکن لفٹ پانچویں منزل کی جانب روانہ ہو چکی تھی۔
گھر تو وہ پہنچ گئی لیکن انس کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا دل نہ تھا۔
بدتمیز، جاہل، گنوار!! دل میں اس کو القابات دیتی وہ دہی پھینٹنے لگی۔ دوپہر کھانے کے لیے اس نے دہی پھلکیاں گزشتہ رات بنا کر فرج میں رکھ دی تھیں، کچھ سالن بھی تھا، اچھا بھلا کھانا اس گرم دوپہر کو میسر تھا لیکن انس کے رویے نے حفصہ کو بد دل کر دیا۔
وہ خود بیس برس کی نئ…

مزید پڑھیں

زیب النساء ۔ ڈاکٹر شگفتہ نقوی

یہ کہانیاں زندگی کے سچے واقعات پر مبنی ہیں جن میں ہم اپنے معاشرے کا اصل چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور بہت ساری خرابیوں کا علاج کر سکتے ہیں۔کلینک کا ٹائم دو بجے تک ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر زوبیہ کو اکثرچار بلکہ پانچ ہی بج جاتے ۔ ایک تو جس علاقے میں ان کا کلینک تھا وہاں دور دور تک کسی لیڈی ڈاکٹر کا ملنا محال تھا دوسرا گائنی کے سارے کیس دور دراز علاقوں سے ان کے پاس آتے تھے اس طرح دوپہر کے کھانے پر ان کے بچے اور شوہر انتظار کرتے رہتے لیکن اس کا کوئی حل نہیں تھا ۔چنانچہ انہوں نے یہ طے کر لیا کہ رات کا کھانا سب اکٹھے کھایا کریں گے ۔
ان کے شوہر ڈاکٹر زرغم کی تجویز تھی کہ وہ دن کو گھر رہیں اور شام کو کلینک میںبیٹھیں لیکن نزدیکی قصبوںاور دیہاتوں سے جو لوگ آتے ان کے لیے شام کو آنا مشکل تھا ۔ دونوں میاں بیوی کی اپنی اپنی مصروفیات اندازے حوصلے اور فیصلے تھے ۔
یہ 4 اکتوبر بدھ کا دن تھا جب نرس نے آکر بتایا کہ ایک اماں جی آئی ہیںکہتی ہیںتم سو روپے کی بجائے دو سو روپے فیس لے لو لیکن مجھے ڈبل ٹائم چاہیے…

مزید پڑھیں

زیب النساء ۔ ڈاکٹر شگفتہ نقوی

یہ کہانیاں زندگی کے سچے واقعات پر مبنی ہیں جن میں ہم اپنے معاشرے کا اصل چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور بہت ساری خرابیوں کا علاج کر سکتے ہیں۔کلینک کا ٹائم دو بجے تک ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر زوبیہ کو اکثرچار بلکہ پانچ ہی بج جاتے ۔ ایک تو جس علاقے میں ان کا کلینک تھا وہاں دور دور تک کسی لیڈی ڈاکٹر کا ملنا محال تھا دوسرا گائنی کے سارے کیس دور دراز علاقوں سے ان کے پاس آتے تھے اس طرح دوپہر کے کھانے پر ان کے بچے اور شوہر انتظار کرتے رہتے لیکن اس کا کوئی حل نہیں تھا ۔چنانچہ انہوں نے یہ طے کر لیا کہ رات کا کھانا سب اکٹھے کھایا کریں گے ۔
ان کے شوہر ڈاکٹر زرغم کی تجویز تھی کہ وہ دن کو گھر رہیں اور شام کو کلینک میںبیٹھیں لیکن نزدیکی قصبوںاور دیہاتوں سے جو لوگ آتے ان کے لیے شام کو آنا مشکل تھا ۔ دونوں میاں بیوی کی اپنی اپنی مصروفیات اندازے حوصلے اور فیصلے تھے ۔
یہ 4 اکتوبر بدھ کا دن تھا جب نرس نے آکر بتایا کہ ایک اماں جی آئی ہیںکہتی ہیںتم سو روپے کی بجائے دو سو روپے فیس لے لو لیکن مجھے ڈبل ٹائم چاہیے…

مزید پڑھیں

ذکر اور تلاوت قرآن کی فضیلت ۔ امام نوویؒ

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا : جس آدمی نے کسی مومن کی دنیا کی تکلیف میں سے ایک تکلیف کو دور کردیا اللہ تعالیٰ اُس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کو دور کردے گا اور جس آدمی نے کسی مصیبت میں گرفتار آدمی کے ساتھ آسانی کا معاملہ کیا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمائیں گے اور جس آدمی نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ۔ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔ جب تک کوئی آدمی بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ بھی اس کا مدد گار رہتا ہے اور جو آدمی حصول علم کے لیے سفر اختیارکرتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور جب بھی کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کے درس و تدریس کا اہتمام کرتے ہیں ، تو لازماً ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ…

مزید پڑھیں

زبیر کی کہانی ۔ نادیہ سیف

بھوکا پیاسا ، پسینے سے شرابور ،وہ بس چلتا چلا جا رہا تھا ۔ حالانکہ اس کی جیب میں لوہے کی چادروں کی رقم واپس کرنے کے بعد دو سو روپے بقایا موجود تھے۔لیکن فی الحال ان کو خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا۔ دل کی بے زاری عروج پر تھی۔ دنیا سے نفرت کی ہزار ہا وجوہات تھیں۔ معاشرتی نظام کی سو خرابیاں اس کے سامنے عیاں ہو چکی تھیں ۔ اپنی عمر کے مخلص دوستوں کو وہ کہیں پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ دوستوں کی آنکھوں میں اپنے حالات کے لیے ترحم نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔ وہ جب ان کے ساتھ تھاتو اپنی کلاس میں فرسٹ پوزیشن لیتا۔ کبھی ٹیسٹ ہوتے تو ان کی پڑھائی میں مدد کرتا ، اور آج….. وہ ان کو یاد کرنے کے باوجود ان سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔اس کی دوستی اپنے سے دگنی تگنی عمر کے لوگوں سے فورا ًہو جاتی ۔ ہم عمر لڑکے اسے اپنی ذہنی سطح سے کہیں کم نظر آتے ۔اسے یاد تھا کہ محلے کے اسکول میں پڑھنے والے لڑکے کبھی کنچے یا گلی ڈنڈا کھیلتے ہوئے اسے بھی کھیلنے کی دعوت دیتے ، تو وہ حقارت سے منہ موڑ لیتا ، وہ نارمل زندگی…

مزید پڑھیں

ظلم کا مفہوم ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

عدل اور ظلم باہم متضاد الفاظ ہیں؛ عدل دل اور روح کو روشن کرتا ہے اور سینے میں اطمینان بھر دیتا ہے، اور زندگی کے سیدھے راستے پر چلاتا ہے جبکہ ظلم تاریکی ہے،جو لوگوں سے حق کی جانب دیکھنے اور درست چیزتک پہنچنے کی طاقت چھین لیتی ہے۔ یہی تو اسلام کا راستہ ہے جسے ظلم نگاہوں سے اوجھل بنا دیتا ہے۔ ظلم کو اختیار کرنے اور اس کی راہوں پر چلنے کی شکلیں اور طریقے بہت سے ہیں۔اسلام کی بنیاد توحید ہے جو دلوں میں عدل اور اصحابِ عدل کی محبت پیدا کرتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔مومن کا دل ہمیشہ اس کا محاسبہ کرتا ہے کہ وہ اصحابِ عدل کا مدد گار ہے یا اصحابِ ظلم کا، وہ کس کا ساتھ دے رہا ہے اور کس کی نصرت کا متمنی ہے۔
ظلم عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ’’ظ ل م‘‘ ہے، جس کے معانی کسی شے کو اس کی جگہ سے ہٹ کر رکھنا۔اسی طرح کسی حد سے تجاوز کرنا بھی ظلم کہلاتا ہے۔وضو کی حدیث میں بھی آیا ہے: ’’جس نے اس میں اضافہ کیا یا کمی کی تو اس نے برا اور ظلم کیا‘‘۔ (رواہ ابوداؤد،۱۳۵)
عربی الفاظ ظلم، ظلام اور ظلمۃ…

مزید پڑھیں

مثبت طرز فکر ۔ ڈاکٹر فلزہ آفاق

آج کی دنیا میں مثبت سوچ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔اس کی وجہ غالباََ زندگی کی تیز رفتاری اور دوڑ میں سکون کی کمی ہے۔ چنانچہ مختلف پلیٹ فارمز سےمثبت سوچ کے حصول کے لیے پروگرام تشکیل دیے جارہے ہیں۔
ہمارے دین کی تو بنیاد ہی یقین اورامیدکو، تعمیری اور مثبت سوچ کو پروان چڑھاتی ہے۔ پھر ہم کیوں منفی طرز ِفکر، منفی گفتگو،منفی طرز عمل میں الجھ جاتے ہیں؟اس سوال کا جواب اس لیے اہم ہے کہ ہم منفی سوچوں کی بنیاد کو سمجھ کر انہیں مثبت سوچ سے بدل سکیں۔
برصغیر میں ہمارے طرزِ عمل پر بہت سے اثرات دوسری قوموں کے ساتھ ہونے سے بھی آئے، جن کے عقائد ،زندگی کے متعلق طرز فکر و عمل یکسر مختلف تھا۔ہمیں ضرور اپنی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرنا چاہیے ۔ایسی سوچوں اور عمل کو چن چن کر خیر باد کہنا ہے جن کا ہماری اقدار اور تہذیب سے کو ئی تعلق نہیں ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ ہمیں انبیاؑ کرام کے جو واقعات بتاتے ہیں ان میں ہر قدم پرتوکل،امید، یقین کا سبق ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو شرمندہ نہیں کیا۔
کبھی کھانے میں نقص نہیں نکالا۔
کسی کی دل آزاری نہیں کی۔
ان کا چہرہ باوجود…

مزید پڑھیں