بتول ستمبر ۲۰۲۵

ابتدا تیرے نام سے – صائمہ اسما

قارئینِ کرام سلام مسنون
ربیع الاول کا مہینہ ہے جس میں سیرت پاک سے رہنمائی کے لیے مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔ اللہ کرے ہماری ذاتی اور قومی زندگیوں میں اس نمونے کی جھلک ہو جو نبی اکرم ﷺکی ذات کی صورت ہمیں ملا ہے۔اس امت کی خوش قسمتی کے کیا کہنے جس کو محمدﷺجیسا نبی اور رہنما ملا ہو؎
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
چار ستمبر دنیا بھر میں بطور یوم حجاب منایا جاتا ہے۔ موجودہ عالمی منظر نامے میں جبکہ غزہ کی عورت کاحوصلہ دنیا بھر کی عورتوں کے لیے ایک مثال بن چکا ہے، حجاب مسلمان عورت کی جدوجہد کی مضبوط علامت بن کر ابھرا ہے۔ حجاب عورت کو وقار عطا کرتا ہے۔بلکہ آج جبکہ مسلمان عورت کو اس کے حجاب کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے، فلسطین کی بہادر، ایمانی قوت سے لبریز، صابر فلسطینی عورت نے حجاب کو دنیا بھر میں ایک انوکھاوقار عطا کیا ہے۔فلسطینی عورت کی زندگی ایک مکمل اور مثالی پیکیج کی صورت دنیا کے سامنے آئی ہے جس میں وہ بطور ڈاکٹر، آرٹسٹ ،صحافی،ادیب،مدرس،سکالراپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتی ہے ، اس کے باوجوداپنی فطرت کے تقاضوں…

مزید پڑھیں

قرآن شاہ کلید تہذیب و تمدن قرآن کی نظر میں – عالیہ شمیم

تہذیب سے مراد وہ نظریات وتصورات ہیں، جن کے مطابق کوئی جماعت یا قوم زندگی گزارے اور اس کو اپنا مقصد بنائے۔ معاشر ے کی با مقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب کسی بھی قوم کی پہچان اور شناخت ہے۔ یہ معاشرے کے طرز زندگی اور طرز فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ زبان، آواز، آلات و اوزار،رہن سہن، رسوم و رواج، علم و ادب، اخلاق و عادات،تعلقات سب تہذیب میں شامل ہیں۔تہذیب میں خیالات، تصورات اور افکار وعقائد شامل ہوتے ہیں۔ ان تصورات وافکار کے تحت جو افعال واعمال ظاہر ہوتے ہیں اور جو سیرت وکردار تشکیل پاتے ہیں، انہیں ’’تمدن‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔تہذیب وتمدن لازم وملزوم ہیں۔تہذیب ایسا گہوارہ ہے جس میں انسانیت پروان چڑھتی ہے،انسان کا تشخص قائم ہوتا ہے،آپس میں باہمی خیالات،اقدار و روایات اور تعلقات تہذیب ہی سے نمو پاتے ہیں۔ خاندان،معاشرہ،تعلیم کی اساس تہذیب ہے جس کا تعلق سماجی و اجتماعی زندگی سے جڑا ہوتا ہے۔
بنیادی طور پرتہذیب کے ۴ عناصر ہوتے ہیں۔
اقتصادی ذرائع
سیاسی نظام
اخلاقی اقدار و روایات
علوم و فنون
ہر وہ تہذیب جس کا پیغام عالمگیر ہو،جس کا خمیر انسانیت نوازی پر اٹھا ہو، جس کی ہدایات و توجیہات اخلاقی اقدار کو سموئے ہوں اور…

مزید پڑھیں

رسول اللہؐ صحابہ ؓ کے درمیان – ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اللہ تعالیٰ نے سرورِ کونین خاتم النبیین حضرت محمد ؐ کو منصبِ رسا لت پر فائز کیا، اور اپنا پیغامبر بنا کر ساری دنیا کے انسانوں کی جانب بھیجا۔ آپؐ نے سب سے پہلے ان لوگوں کے سامنے اس دعوت کو پیش کیا جن سے آپؐ کا گہرا ربط وتعلق تھا یعنی گھر والے اور دوست! اور انہیں میں سے راہروانِ اسلام کا ایسا دستہ تیار ہؤاجسے رسول اللہ ؐ کی عظمت، جلالتِ نفس اور سچائی پر شبہ نہ تھا۔ آپؐ اس منصب سے پہلے بھی مکہ میں بڑے ہر دل عزیز، نرم خو، پسندیدہ اخلاق کے حامل با اخلاق اور دریا دل تھے۔ آپؐ کے پاس آپ کی مروت، دور اندیشی، تجارت اور حسنِ صحبت کی وجہ سے لوگوں کی آمد ورفت لگی رہتی تھی۔اپنے پاس آنے والوں میں سے جس جس کو آپؐ نے قابلِ اعتماد پایا اسے اسلام کی دعوت دینا شروع کی اور اسلام کا ہراول دستہ تیار ہو گیا۔
ابتدائی طور پر تبلیغ کا کام انفرادی اور چھپ چھپا کر کیا گیا اور تین برس میں صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت تیار ہو گئی تو قوم کو کھل کھلا کر دین کی دعوت دی گئی۔کفار نے اس دعوت کو رد کر دیا بلکہ اس راہ میں…

مزید پڑھیں

اپنا خیال رکھیں سیلف کیئر کیوں اور کیسے – فریدہ خالد

جسمانی صحت کے چند اصول:
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے بہا نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت اچھی صحت ہے۔اور جسمانی صحت اس کا لازمی حصہ ہے۔ ہمارا جسم اللہ کی طرف سے ہمارے پاس ایک امانت ہے۔ لہٰذاہمیں اس کی قدر اور حفاظت کرنی چاہیے۔ محمد یو سف اصلاحی صاحب کا ماننا ہے کہ:
’’ انسانی زندگی کا اصل جوہر عقل اور ایمان و شعور ہےاور عقل و اخلاق اور ایمان و شعور کی صحت کا دارومدار بھی بڑی حد تک جسمانی صحت پر ہے۔ عقل ودماغ کی نشوونما ، فضائلِ اخلاق کے تقاضےاوردینی فرائض کو ادا کرنے کے لیے جسمانی صحت بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے کم زور اور مریض جسم میں عقل و دماغ بھی کمزور ہوتے ہیں اور ان کی کارگزاری بھی نہایت ہی حوصلہ شکن اور جب زندگی امنگوں ، ولولوں اور حوصلوں سے محروم ہو اور ارادے کمزور ہوں ، جذبا ت سرد اور مضمحل ہوں تو ایسی بے رونق زندگی جسمِ ناتواں کے لیے وبال بن جاتی ہے‘‘۔ ــ (صفحہ: 12)۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ’’ مومن کو خلافت کی جس عظیم ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونا ہے ، ‘‘ اس کے لیے ضروری ہے کہ جسم میں جان ہو، عقل و…

مزید پڑھیں

مریم جمیلہ پاکستانی عورت کے لیے مشعل راہ – ڈاکٹر حمیر اطارق

یوم تاسیسِ جماعت اسلامی کے موقع پر خصوصی تحریر سولہویں صدی یعنی 1500 کے دوران یہودی گھرانے ، مسیحی معاشرے میں تیزی سے جذب ہونے کے عمل سے گزرنے لگے تو یہودی کار پردازوں نے تحریک اصلاح شروع کی۔ اس کا مقصد ان کے مسیحی معاشرے میں مدغم ہو جانے کے عمل کو روکنا اور ان کے تشخص کو برقرار رکھناتھا۔یہ تحریک بنیادی طور پر چرچ میں پھیلتے ہوئے بگاڑ کے خلاف تھی ،مگر اس کا ایک پہلو یہودیوں کو عیسائیت میں ضم ہونے سے بچانا بھی تھا۔لیکن یہ تحریک یہودیوں کے ثقافتی ادغام کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ اس عمل کو اور تیز کرنے کا سبب بنی ۔کیونکہ یہ تحریک کھوکھلی اور بے معنی باتوں کا مجموعہ تھی۔
امریکہ میں ایسے ہی تحریک اصلاح سے متاثر گھرانے میں 23 مئی 1934ء کو مریم جمیلہ پیدا ہوئی۔یہودی تارکین وطن ،خصوصاَ وہ جو مشرقی یورپ سے آئے تھے،گو وہ اپنے عقائد میں پختہ ،پرجوش اور مخلص تھےلیکن ان کے بچے مختلف تھے ۔انہوں نے پبلک اسکولوں میں تعلیم پائی تھی اور امریکی طرز زندگی کو اپنا لیا تھا۔اس ماحول میں یہودی قانون اور اور مراسم اجنبی بن گئے تھے۔بزرگوں نے جب انہیں بزور نافذ کرنے کی کوشش کی تو…

مزید پڑھیں

نعت – ڈاکٹر عزیزہ انجم

کھلے ہیں دریچے حضور آگئے ہیں
چھٹے ہیں اندھیرے حضور آگئے ہیں

صفا کی پہاڑی ہے پہلی گواہی
یہ دنیا بدلنے حضور آگئے ہیں

نبوت کا مہتاب چمکا زمیں پر
ہیں روشن اجالے حضور آگئے ہیں

خبر تھی کہ احمد کی آمد بھی ہوگی
ہیں سچے صحیفے حضور آگئے ہیں

مدینے کی گلیاں صدا دے رہی ہیں
نصیب اپنے جاگے حضور آگئے ہیں

محبت ہے سب سے محبت بھی ایسی
صحابہ ہیں صدقے حضور آگئے ہیں

حبیبِ خدا ہیں مکاں لامکاں ہے
ہیں جبریل آگے حضور آگئے ہیں

فرشتوں کی دنیا میں ہلچل مچی ہے
فلک سج گیا ہے حضور آگئے ہیں

قیامت کا دن ہے شفاعت کا دن ہے
سنیں گے وہ نالے حضور آگئے ہیں

مزید پڑھیں

غزل – حبیب الرحمٰن

جو پٹ سکے نہ کسی سے مت ایسی جھیل بنا
سو نفرتوں کی دلوں میں نہ تو فصیل بنا

عدالتوں سے جب انصاف کی امید نہیں
تو کیسی آس پر اپنا کوئی وکیل بنا

کہ انحصار میں مضمر ہے اضطرابی جاں
سو خود کو خود کی محبت میں خود کفیل بنا

تری عطا کی کوئی حد نہیں تو دل کے مرے
سخی کو صحتیں دے بخل کو علیل بنا

قلیل ہوکے بھی کہلائے وہ کثیر تو کیا
کثیر ہوکے بھی میں اس لیے قلیل بنا

بجھانے پیاس سبیلیں نہیں اے دوست مرے
وہ میرے پاس چلا آئے وہ سبیل بنا

کسی بھی لفظ کو خود بھی سمجھ نہ پائے کبھی
تو اپنی داستاں اس درجہ مت ثقیل بنا

افق پہ صبح مسرت کبھی نہ پھوٹ سکے
شبِ فراق کو اتنا بھی مت طویل بنا
رذیل بس ترا چلتا ہے ظاہرہ پہ مرے
دکھا مجھے مرا باطن کبھی ذلیل بنا

جو بھس بنا دے ہر اک ابرہوں کا ہاتھیوں کا
مجھے تو ایسا ابابیلوں کا سجیل بنا

کہ آسماں سے اتارے گئے سمے پہ ہمیں
زمیں پہ کیوں نہ کہیں بھی کوئی نخیل بنا

سبیلیں عام ہیں اٹھ اور ہر اک شہیدِ وفا
جہاں سے پیاس بجھائے وہ سلسبیل بنا

وہ ایک بار تو ماتھا چھوئے اس آس میں میں
نہ جانے کتنی دفعہ بے سبب علیل بنا

میں اپنے جھوٹ کی تردید خود بھی کر نہ…

مزید پڑھیں

درد (نثری نظم) – ڈاکٹر عزیزہ انجم

درد
نہاں خانہِ دل میں چٹکیاں لے رہا ہے
بالکنی سے جھانکتی
زرد اور سفید معصوم پھولوں کی قطار
ہرے چھوٹے بڑے پتے
اور ان کو چھیڑتی ہوا بھی
مسکراہٹ کے گلے پر رکھا ہاتھ
ہٹنے نہیں دیتی
آنسو نہ جانے کہاں
بہے چلے جارہے ہیں
گرے چلے جارہے ہیں
ایسا لگتا ہے
سارا آنگن گیلا ہو گیا ہے

میز پر جیم کی ڈھکن ہٹی بوتل
ٹوسٹر میں سکی ہوئی سفید ڈبل روٹی
انڈے کی کچی پکی زردی
دھواں اٹھتی عنابی چائے
سب کچھ یونہی رکھا ہے
بچے کہاں کھاتے ہیں
مائیں دیوانی بنی رہتی ہیں
ناشتہ کتنا ضروری ہے
بچے نہیں سمجھتے

بادل بہت زور سے گرجا ہے
مینہ برسا ہے
کچھ ٹوٹا ہے
ستارہ یا فلک

شہر زیتون میں
سیاہ اور نیلی آنکھیں
گھنگھیریالے بال
اوررنگین پھولوں والی فراکیں
ننگے پیروں
پیالہ تھامے کھڑی ہیں
روٹی کا لقمہ
پانی کا جرعہ
ان کے حصے میں کب آئے گا

مزید پڑھیں

غزل – رفعت عزیز صباؔ

صبر قرینہ سیکھ رہی ہوں
تم بن جینا سیکھ رہی ہوں

ہونٹوں پر مسکان سجا کر
آنسو پینا سیکھ رہی ہوں

دکھ سے دل ہے ٹکڑے ٹکڑے
جوڑ کے سینا سیکھ رہی ہوں

آنکھ میں ٹھہرا اشک سمندر
دل سے پینا سیکھ رہی ہوں

یادوں کے دھاگوں کو پرو کر
اوڑھنی سینا سیکھ رہی ہوں

اوڑھ کے یادوں میں کھو جائو ں
ایسے جینا سیکھ رہی ہوں

ساتھ صباؔ کے رب کی رضا میں
مرنا ، جینا سیکھ رہی ہوں

مزید پڑھیں

غزل – اسما صدیقہ

ایک بڑا سمندر ہے
سچائی جو اندر ہے

زرخیزی میں بنجر ہے
تنہائی وہ گھر گھر ہے

فرصت کی نایابی سے
بے دردی کا منظر ہے

ہریالی کی چاہت سب کو
جذبہ لیکن بنجر ہے

کچے رنگ بکھیریں تو
بے رنگی کا منظر ہے

مزید پڑھیں

فنکار – نصرت یوسف

مشقت سے اکتایا ہؤاوہ نجانے کیا بناتا تھا….مگرزندگی کے طویل انتظار سے تھکے ہوئے لوگ اس کی تخلیق سے معنی خذ کر لیتے تھے

اپنے بنائے ہوئے شہکار کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک اطمینان بھری سانس لی۔ آنکھوں کے سامنے کرنسی نوٹوں کی گڈی جیسے کسی پرانے خواب کی طرح ابھری، اور ہونٹوں پر ایک بےساختہ ہنسی آ گئی۔ مگر جیسے ہی یہ ہنسی رات کے سناٹے میں گونجی، وہ چونک کر چپ ہوگیا۔ سناٹے میں ہر آواز نمایاں ہوتی ہے، یہ راز بھی کھول سکتی ہے۔
شہکار… وہ کہہ رہا تھا، مگر دل کے کسی خاموش کمرے میں جانتا تھا کہ یہ گڑیا خوبصورتی کی ضد ہے۔ لکڑی کے چہرے پر رنگ یوں جمے تھے جیسے جلد پر پرانے داغ۔ آنکھوں کی جگہ دو بےجان نقطے، اور ہونٹوں پر ایک ٹیڑھا سا کٹ، جسے وہ’’فن‘‘ کا نام دیتا تھا۔ مگر اصل جیت یہ تھی کہ اس نے اسے بیچ دیا، اور بیچتے وقت خریدار کو یہ یقین دلایا کہ اس گڑیا کے اندر خاموشی کا ایک چشمہ ہے، جس سے اس کی روح سیراب ہو سکتی ہے۔
دو ہفتے پہلے تک یہ گڑیا ان لکڑی کے ٹکڑوں میں شامل تھی جو اس کے ٹھیلے پر مچھلی تلنے کے لیے ایندھن تھے۔…

مزید پڑھیں

واردات – لبنیٰ مزمل انصاری

اللہ اللہ کر کے سوٹ پسند آ یا۔شائستہ پیمنٹ کرنے لگیں۔
اسی دوران مرحا کو کچھ بے چینی کا احساس ہو&ٔا۔اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو دیکھا ۔سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔دکاندار کپڑے دکھاتے ہوئے تعریفوں کے پل باندھنے پر کمر بستہ تو خواتین کپڑے پسند آ نے کی صورت میں قیمت کم سے کم کروانے پر بضد۔پاپڑ والا شاپر والا کوئی بھی تو اس کی جانب متوجہ نہ تھا ۔تو مرحا کی چھٹی حس کیوں سگنل دے رہی تھی ۔جواب ندارد۔ ادائیگی کے بعد سوٹ کا شاپر ہاتھ میں لیے مرحا اور شائستہ دیگر خریداری کے لیے آ گے بڑھ گئیں۔
امی دیکھیں یہ کرسٹل کا گلاس سیٹ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے نا….ڈیزائن کتنا خوبصورت ہے ۔
شائستہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔
لے لیں مما ۔مرحا نے شائستہ سے کہا ۔
پھر کبھی لے لیں گے بیٹا ابھی ضرورت بھی نہیں ۔
مما ڈیزائن بہت خوب صورت ہے نہ جانے پھر ملے نہ ملے۔
اچھا اچھا لے لیتی ہوں ۔
شائستہ بھاؤ تاؤ میں لگ گئیں جبکہ مرحا برابر کی دکان میں بیگ دیکھنے لگی۔اچانک پھر چھٹی حس نے الارم دیا ۔مر حا نے چاروں جانب دیکھا ۔ سامنے کی دکان میں ایک صاحبہ اسے اپنی جانب متوجہ نظر آئیں۔نظریں ملنے…

مزید پڑھیں

وہ جو رابعہ تھی – آسیہ راشد

شجی حواس باختہ بیٹھا تھا۔
’’رابعہ! تم یہ سزا کیسے برداشت کرو گی؟ تم کیسے جی پاؤ گی؟‘‘
مگر رابعہ پرسکون تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک نیا عزم جھلک رہا تھا۔
’’شجی! یہ قربانی میں تمہارے اور بچوں کے لیے دے رہی ہوں۔ تم مجھ سے ایک وعدہ کرو کہ بچوں کو اپنی محبت سے سنبھالو گے۔ انہیں میری کمی محسوس نہ ہونے دینا۔ یہ بہت مشکل فیصلہ تھا، مگر کسی کو تو قربانی دینی ہی تھی‘‘۔
شجی نے رابعہ کا ہاتھ چوم لیا اور اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔’’میں وعدہ کرتا ہوں رابعہ! میں بچوں کا اپنے آپ سے بڑھ کر خیال رکھوں گا‘‘۔
اتنی دیر میں سپاہی اور لیڈی کانسٹیبل آگے بڑھے۔ رابعہ کو ہتھکڑیاں پہنا دی گئیں۔ رابعہ تھکے تھکے قدموں کے ساتھ، دل میں بے شمار اندیشے اور وسوسے لیے پولیس کی گاڑی میں جا بیٹھی۔ اس نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، کہ کہیں اس کے فیصلے کی مضبوطی میں لغزش نہ آ جائے۔ادھر شجی مختلف وکیلوں سے ملنے لگا۔ وہ حادثے کی نوعیت کے مطابق سزا میں کمی کی اپیلیں کرتا رہا۔ مگر ملک وقار خان، اپنے پیارے بیٹے کی موت کے صدمے میں، کسی اپیل کو سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ انہوں نے…

مزید پڑھیں

قدر دان اس کی کہانی جس کا منصوبہ مکمل تھا مگر بازی الٹ گئی تھی – سلوت ملک

کچن میں ناشتے کے برتنوں کا انبار لگا تھا۔ رات کے برتن بھی ابھی اسی طرح پڑے تھے ۔ دو دن سے کام والی بھی نہیں آئی تھی۔ اماں پانی لینے کچن میں آئیں تو سر گھوم گیا ۔ پانی لیے بغیر ہی مڑ گئیں۔
’’ کیا بنے گا اس گھر کا ؟‘‘
وہ غصے میں بڑ بڑاتی ہوئی جا رہی تھیں۔لائونج میں سے گزریں تو شمسہ سکون سے اشراق کی نماز پڑھ رہی تھی۔
’’ بس نمازیں ہی پڑھتی رہنا ۔ کوئی اور کام نہیں ‘‘۔
شمسہ نے سلام پھیر کر آواز دے کر پوچھا ۔
’’اماں کچھ چاہیے تھا ؟مجھے بلا لیا ہوتا ‘‘۔
’’ کچھ نہیں چاہیے‘‘۔ اماں نے غصے میں تقریباً غرانے کے انداز میں کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
شمسہ نے ان کے طنز کو مکمل انداز کرتے ہوئے سوچا۔
’’ ضرور اماں کو پانی چاہیے ہوگا۔ دوائی جو لینی ہوتی ہے ‘‘۔
اسی وقت اٹھ کر کچن سے پانی کا گلاس لیا اور اماں کے کمرے میں گئی۔
’’ اماں پانی تو نہیں چاہیے؟ آپ نے دوائی لینی ہے؟‘‘
اماں نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
’’ کیسے پڑھ لیتی ہے یہ میرا ذہن ؟‘‘ ایک لمحے کو ذہن نے اعتراف کیا اس کی خوبی کا ، اس کی تابعداری اور محبت کا ،…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر – ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

گلیشئر ایکسپریس دنیا کی سب سے بہترین ریل سروس مانی جاتی ہے۔ ہم 24 ستمبر کو گلیشئر ایکسپریس پینوراما ٹرین کے ذریعے سینٹ مارٹز تک آٹھ گھنٹے میں پہنچے۔ یہ سفر ایک ایسا یاد گار سفر ہے جس کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ہم اپنی سیٹ پر بیٹھے منظر بدلتے دیکھ رہے تھے اور ہر منظر پہلے سے زیادہ خوب صورت تھا۔ آٹھ گھنٹے پینوراما ٹرین میں بیٹھ کر مجھے جنت کی یاد اس قدر آتی رہی کہ میں خود بھی حیران تھی۔ قرآن پاک اور احادیث میں جنت کی آبشاروں، گہرے سبز رنگ کے باغات، نہریں اور کھانے پینے کا تذکرہ کسی لمحہ بھی نہیں بھولتا تھا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کے حصول کی دعا نہ کی جائے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے سوچا جب میں اپنی ذاتی بلا شرکت غیرے جنتی سلطنت کی سیر کو نکلوں گی تو میں ایک پیاری سی رنگ برنگی چڑیا بن کر ہر منظر کو اڑتی ہوئی دیکھوں گی۔ اس وقت خوشی کا کیا عالم ہوگا جہاں رب کی رحمت کے سبب سب کچھ میرا اپنا ہوگا اور میرے رب کی معافی اور قدردانی کا شاندار مظہر ہوگا، ان شاءاللہ۔ ان آٹھ گھنٹوں میں ہم نے جب بھی نماز…

مزید پڑھیں

پیارے ابّا جان – محمد عبد اللہ؎۱

اباجی27جولائی25ءبروز ہفتہ صبح3بجےہم سے جدا ہو گئے۔’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ ابا جی کومیں نے ان کی بھرپورجوانی سے لے کر بڑھاپے تک قریب سے دیکھا وہ ایک شفیق الطبع اور حیا دار انسان تھے۔میں نے کبھی انہیں امی جان سے تلخ لہجے میں بات کرتےنہیں سنا۔جب سے ہوش سنبھالا ہے مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے مجھے کبھی ڈانٹا ہو اور پیٹا ہو۔
ابا جان نے دادا ابو اور باقی بہن بھائیوں کے ساتھ چودہ برس کی عمر میں ریاست کپور تھلہ کی تحصیل سلطان پور لودھی سے اٹھارہ کلومیٹر دور ایک گائوںصفدر پور سے پاکستان ہجرت کی۔
اس ہجرت کی داستان عجیب اور انتہائی کربناک ہے جس کو بیان کرتے ہوئے فرماتے کہ تم کیا جانو کہ پاکستان کیسے بنا اور کس طرح لوگوں نے اپنے جگر گوشوں اور ساتھیوں کوشہیدہوتے دیکھا ۔ ہمارا گھرانہ ایک مذہبی گھرانہ تھا اس لیے ہم ہندوئوں کی ہٹ لسٹ میں شامل تھے۔
سلطان پور لودھی کی ایک حویلی میں ہم قیام پذیر تھے کہ اطلاع ملی کہ سکھ جتھہ نے حملہ کر دیا ہے اور مسلمانوں کو تلواروں اور نیزوں سے قتل کر رہے ہیں، میرے بڑے بھائی جو کہ اس وقت شاید انیس برس کے تھے اپنی تلوار لے کر باہر نکلنے کا…

مزید پڑھیں

کہکشاں یادوں کی – تبسم یاسمین

وقت کے ساتھ ساتھ نقطے جڑتے جاتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے خدو خال واضح ہوتے جاتے ہیں۔ صفوریٰ نعیم مرحومہ کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کی قیمتی یادیں صفوریٰ باجی سے میری پہلی ملاقات غالباً 1975 یا 76 کی گرمیوں میں ان کی امی کے گھر واقع حسین ڈی سلوا میں ہوئی تھی جب وہ امریکہ سے اپنےگھرملنے آئی ہوئی تھیں۔ان کی چھوٹی بہن سائرہ فیض میری دوست اور سرسید کالج کی جمعیت کی ناظمہ تھیں،اسی حوالے سے میرا وقتاً فوقتاً ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔
گھرانہ بہت دین دار تھا ،البتہ امریکہ سے آئی ہوئی بیٹی کے طور طریقے خالہ جان کو خاصا پریشان کرتے تھے ۔ صفوریٰ باجی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں ، ماں کا دل ان کے لیے زیادہ فکرمند رہتا تھا ، پھر وہ دُور بھی تھیں اور اس زمانے میں کمیونیکیشن کے ذرائع بھی بہت محدود تھے۔
میں اس وقت کی صفوریٰ باجی کو یاد کرتی ہوں تو ایک مغربی حلیے والی اسمارٹ سی(خیر اسمارٹ تو وہ ہمیشہ ہی رہیں) خاتون یاد آتی ہیں جن کے بہت گھنے کٹے ہوئے بال کانوں تک تھے۔
ان کے واپس چلے جانے کے بعد سائرہ نے ان کا دیا ہؤا پرفیوم یہ کہہ…

مزید پڑھیں

بتول میگزین – عظمیٰ نسیم احمد

صبح کا ستارہ
عظمیٰ نسیم احمد۔کراچی
حلق میں بار بار آنسوؤں کا گولہ سا اٹک جاتا ہے اور اسے زبردستی حلق میں پیچھے کی جانب دھکیلنا پڑتا ہے، آنکھوں کے کنارے نہ جانے کب تک صاف کرنے پڑیں گے اور دھندلائی نگاہیں پچھلے کتنے مناظر سے کتنی دفعہ منہ چراتی رہیں گی،آج دیر رات سے یہ ہی سوال بار بار دل پہ ایک بھاری بھرکم بوجھ ڈالے اٹھ رہا ہے ‘ دم گھٹنے لگتا ہے سوچ کر کہ جن آنکھوں کو آج ایک جسد خاکی کے چہرے پر سجا دیکھا ہے پچھلے دو سال سے انہی آنکھوں کے ذریعے غزہ کا چہرہ دیکھ رہی تھی خوفزدہ تھی کہ اب کیا ہوگا اب میرے جیسے نابیناوں کو کون بیت المقدس، غزہ ،رفح اور خان یونس کی تڑپتی سسکتی مرے ہوئے سے بدتر زندگیاں دکھائے گا لیکن وہ آنکھیں بے شک انس الشـ.ـریف کے مردہ جسم کے چہرے پر تھیں لیکن ان آنکھوں کی زندگی بہت سے زندہ وجود سے زیادہ جاگتی ہوئی ‘ چوکنا ، ہر ایک کے زخم پر نگاہیں گاڑے ہوئے ہر خالی برتن کو بھر دینے کی چاہ میں ، ایک آزاد فلسطین میں سحر خیزی کرنے کی امید میں ہم مسلمانوں سے زیادہ زندگی رکھتی تھیں زندہ آنکھوں کا…

مزید پڑھیں

وراثت کے قوانین – شگفتہ عمر

ۜوراثت کی تعریف اور اہمیت
وراثت کے لغوی معنی کسی چیز کا ایک شخص سے دوسرے شخص یا ایک قوم سے کسی دوسری قوم کی طرف منتقل ہونا ہے۔ قانونی اصطلا ح میں وراثت سے مراد ’’میت کی ملکیت کا زندہ ورثا کی طرف منتقل ہونا ہے ‘‘۔
متوفی کے مال واسباب جن اہل خانہ میں تقسیم کیے جاتے ہیں ، ان کے بارے شرعیت میں تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں، جنہیں وراثت کے قوانین کہا جاتا ہے ۔
وراثت کے ارکان
(۱) مورث: و ہ شخص جو ترکہ چھوڑ کر وفات پا گیا ہے
(۲) وارث: وہ افراد جو شرعیت کے مطابق مرنے والے کے ترکہ میں حق دار ہیں۔
(۳)ترکہ: وہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد جو کسی شخص کی وفات کے وقت اس کی ملکیت ہو۔ مکان ، دکان، زمین ، فیکٹری ، کار ، موٹر سائیکل ، بینک اکائونٹ، پرووڈنٹ فنڈ ، انشورنس کی رقم ، کتابوں کی رائلٹی ، سیونگ سرٹیفکیٹ، گریجیوٹی وغیرہ۔
ترکہ کی تقسیم سے پہلے انجام دیے جانے والے اہم امور
سب سے پہلے ترکہ میت کی تجہیز و تکفین پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو مال بچ جائے گا وہ میت کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی میں استعمال ہو گا ۔ اگر میت نے…

مزید پڑھیں

جنت کے ہم سفر – پروفیسر مسعود خواجہ

محترمہ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم صاحبہ کی نئی تصنیف’’ جنت کے ہم سفر‘‘ پڑھنے کا موقع ملا ۔ یہ ایک بہترین اصلاحی کتاب ہے جو ایک سنجیدہ قاری /قاریہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ میں نے اس کا مطالعہ شروع کیا تو پھر چھوڑنے کو دل نہیں چاہا اور دو دن میں میں نے شروع سے آخر تک ساری کتاب کا عمیق مطالعہ کرلیا۔
یہ کتاب نوجوانوں ، بڑوں، مرد و خواتین اور خاص طور پر نو بیاہتا جوڑوں کے لیے بہترین مشعل راہ ہے ۔ یہ ڈاکٹر صاحبہ کے مختلف اوقات میں لکھے گئے کالموں کا مجموعہ ہے اور یہ سارے کالم خاندانی زندگی اور معاشرت کے بارے میں ہیں ، اس میں اگر نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے ہدایات ہیں تو بزرگوں خاص طور پہ یہ والدین کے لیے رہنما اصول بیان کیے گئے ہیں۔
نو بیاہتا جوڑوں کو آج کے دور میں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کہیں ساس بہو کے جھگڑے کہیں نندوں بھابیوں کے مسائل ، کہیں میاں بیوی کے آپس کے اختلافات۔ ان سب کی وجہ سے خاندانوں کے اندر حالات دگر گوں ہو جاتے ہیں۔اس کتاب میں ایسے گو نا گوں مسائل کےحل کے لیے رہنمائی موجود ہے ۔ حتیٰ کہ…

مزید پڑھیں

مکڑی کا گھر – محمد اکبر

مکڑی کا فیملی سسٹم عجیب طرح کی پیچیدگیوں اور الجھنوں سے بھرا ہوتا ہے۔ ایک تو اس کا گھر سب سے کمزور ہوتا ہے جو دھوپ، بارش، ہوا اور سردی و گرمی میں ان کی حفاظت نہیں کر سکتا، دوسرا اس گھر میں رہنے والے سب ہی ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں۔ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ کائنات کے اس کمزور ترین گھر میں مادہ کو ایک Boss کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ عموما مادہ مکڑی نر مکڑے کو جنسی ملاپ سے پہلے ہی یا بعد میں کھا جاتی ہے جس کو sexual cannibalism کہا جاتا ہے۔
مادہ مکڑی نر کو کیوں کھاتی ہے ؟ اس حوالے سے بعض تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ انڈے دینے کےلیے مادہ مکڑی کو صحت اور توانائی چاہیے ہوتی ہے جس کے لیے وہ اپنے ہی نر کو کھا جاتی ہے اور جب نر کو احساس ہوتا ہے کہ مجھے مادہ کھانے لگی ہے تو وہ اپنا اسپرم جلدی منتقل کرتا ہے تاکہ اگر مادہ بعد میں کھا بھی لے تو بچے پیدا ہونے کا امکان باقی رہے۔ دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ اپنے دو مخصوص جنسی عضو (palps) میں سے وہ والا عضو استعمال کرنے لگ جاتا ہے جس میں زیادہ…

مزید پڑھیں

سپیڈ بریکر – ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

ٹریفک کے قوانین کے تحت بہت سے انتباہی پیغامات سڑکوں کے کنارے نظر آتے ہیں جن کا مقصد اپنا اور دوسروں کا دفاع ہوتا ہے۔ ان میں سپیڈ بریکر وہ انتباہ ہے جس پہ ہر ڈرائیور کو عمل کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ عموماً ہسپتال، تعلیمی اداروں، شاہراہ پہ قریبی بستیوں کے سامنے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات رہائشی علاقوں میں ان کی بھر مار ہوتی ہے جن سے ڈرائیور جزبز ہوتے ہیں۔ اور عموماً ان کو کار بریکر کہہ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرتے ہیں۔
سپیڈ بریکر کا غیر متوقع سامنا ہو جائے تو اپنی دھن میں مگن رواں دواں ہونے والے ڈرائیور کو بغیر جھنجھلائے خیالات اور سواری کی رفتار پہ قابو رکھنا ہی باعث عافیت ہوتا ہے۔
انسانی زندگی کی شاہراہ کے ہر موڑ پہ قدرت نے بھی انتباہی بورڈ آویزاں کر رکھے ہیں اور انسانی نفسیات کو اس کا فطرتاً ادراک ہوتا ہے۔ اور یہ ادراک ہر اس ذمہ دار کو ہوتا ہے جو اخلاق میں بلند مقام رکھتا ہے۔
سب سے پہلی ذمہ داری والدین کو سونپی گئی۔ بچے کی دنیا میں آمد کے ساتھ ہی زچہ و بچہ کی صحت کے پیشِ نظر بزرگ مائوں کی طرف سے انتباہی ہدایات جاری ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
ماں کی خصوصی…

مزید پڑھیں