بتول جون ۲۰۲۵

ابتدا تیرے نام سے ۔ صائمہ اسما

قارئین کرام !سلام مسنون
مہینے کا آغاز ہی جنگ کے منڈلاتے بادلوں سے ہؤایہاں تک کہ دشمن نے کارروائی کر ڈالی۔پنجاب اور آزاد کشمیر میں معصوم شہری نشانہ بنے۔پاکستان نے تین دن ٹھہر کر سوچے سمجھے طریقے سے بنیانٌ مرصوص مہم کا آغاز کیا اور بھارت کے ایئر بیسز پر حملوں کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا۔ان کےاعلیٰ درجے کےفائٹر طیاروں کا ایسا نقصان کیا کہ بھارت کو دنیا کو منہ دکھانا مشکل ہوگیا۔دوسری طرف پاکستانی ایئر فورس کی مہارت اور دلیری کی دنیا بھر میں دھوم مچ گئی۔کام خراب ہوتے دیکھ کر مودی جی بھاگے بھاگے اپنے بڑے بھائی کو بلالائے جنہوں نے عین وقت پر بیچ بچاؤ کرادیا۔
نائن الیون سے امریکہ اور اس کے جنگی جنون میں مبتلا حواریوں نے دنیا بھر میں جھوٹ اور ظلم پر مبنی جو نیا چلن شروع کیا وہ اب باقاعدہ ایک کھیل میں ڈھل چکا ہے۔ اسی نام نہاددہشت گردی کے بیانیے کو استعمال کرکے اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی شروع کررکھی ہے ۔جھوٹا بیانیہ بنانا،میڈیا کی طاقت سے اس جھوٹ کو پھیلانا اور پھر وسائل کی لوٹ مار اور علاقوں پر قبضے کے لیے انسانی آبادیوں کو تہہ تیغ کرنا،گزشتہ پچیس برسوں سے دنیا اس شیطانی کھیل کو دیکھ رہی ہے۔بھارت…

مزید پڑھیں

قرآن سے تعلق ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

قرآنِ کریم خالقِ کائنات ربِّ ذی الجلال والاکرام کا کلام اور رسول اللہ ﷺکا معجزہء خالدہ ہے، ایک ایسی نعمت جو ہمیشہ باقی رہے گی، اس کے دلائل وبراہین ہمیشہ دلوں کو قائل کرتے رہیں گے۔ قرآن مجید نورِ مبین ہے، ایک ایسا چراغ جس کی روشنی میں کبھی کمی واقع نہ ہو گی، ایک ایسے روشن ستارے کی مانند جس کی روشنی ماند نہیں پڑتی۔وہ ایک سمندر کی مانند گہرا ہے جس کی گہرائی کی حد تک کوئی نہیں جان سکتا، وہ اللہ تعالیٰ کی کتابِ ہدایت ہے۔ اس میں ہم سے پہلے کی خبریں اور حالات بھی بیان کیے گئے ہیں اور ہمارے بعد کی پیش گوئیاں بھی موجود ہیں۔ جو غیب کی خبریں بھی بیان کرتا ہے اور حاضر کے حالات بھی۔اس کی بات فیصلہ کن ہے، وہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔
قرآن اور انسان کا تعلق بہت گہرا ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو روئے زمین کے تمام انسانوں کے لیے کتابِ ہدایت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے جبریلؑ کے ذریعے خاتم النبیین حضرت محمدؐ کے قلبِ اطہر پر نازل فرمایا، جو انسانوں کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی راہ دکھاتا ہے۔جو شخص قرآن سے ہٹ کرکسی چیز…

مزید پڑھیں

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ۔ شگفتہ عمر؎۱

محرم ہجری کیلنڈر کا وہ مہینہ ہے جس سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے ۔ سنہ ۱۷ ہجری میں حضرت ابو موسیٰ ؑاشعر یؓ کے توجہ دلانے پرحضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا اور حضرت علیؓ کے مشورہ سے رسول اللہ ؐ کے واقعہ ہجرت کو اسلامی سنہ کی ابتدا قرار دیا اور چونکہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا آغاز ماہ ذوالحجہ کے آخر میں ہؤ ا تھا اور اس کے بعد جو چاند نکلا وہ محر م کا تھا ، اس لیے حضرت عثمانؓ کے مشورے سے محرم کو اسلامی سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔(فتح الباری)
ماہ محرم کی فضیلت
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ۔ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ۔
ترجمہ: ’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے‘۔(التوبہ۳۶:۹)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ
ترجمہ: ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خد ا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو‘۔ (ا…

مزید پڑھیں

سوشل میڈیا کے مفید استعمال کا چیلنج پاکستان کے تناظر میں ۔ ڈاکٹر صائمہ اسما

آزادیِ اظہار کے حدودوقیود
اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادیِ اظہارِ رائے مطلق نہیں ہے بلکہ اس پر ہر معاشرے نے اپنی ضروریات کےمطابق کچھ حدود و قیود عائد کررکھی ہیں۔یہ حدودو قیودفر دکے دوسرے افراد کے ساتھ تعلق کے ضمن میں بھی ہیں، جن کا مقصد بنیادی انسانی حقوق اور تہذیب کے دائرے کو ملحوظ رکھنا ہے۔اور ذرائع ابلاغ یعنی ماس میڈیاپر اظہارِ رائے کو بھی مختلف معاشروں نے اپنی ترجیحات کے مطابق حدودو قیود کا پابند کیا ہے۔
اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ عہدِ رسالت اور بعد ازاں خلافتِ راشدہ میں عوام کے آزادیِ اظہار اور معلومات کےحقوق کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ ایسی فضا بنائی گئی کہ یہ حقوق شہریوں کوعملی طور پر میسر ہوں۔ساتھ ہی ان حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کچھ ایسے رہنما اصول طے کیے گئے جن کے ذریعے معاشرہ فتنہ وفساد سے بچا رہے اورانفرادی و اجتماعی اعتبار سے درست اور مطلوبہ سمت میں ترقی کرے۔ یعنی یہ اصول و ضوابط پابند کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس حق کے لایق بنانے (enabling) کے لیے دیے گئے۔
نبی کریم ﷺکے طرز عمل اور آپؐ کے لائے ہوئے قرآن کی تعلیم کے مطابق نظمِ اجتماعی کو برقرار رکھنے، معاشرت کو پاکیزہ بنانے اور…

مزید پڑھیں

راہِ حق کے مسافر کا سفرِ آخرت ۔ رفعت صباؔ

راہِ حق کے مسافر کا سفرِ آخرت

ظہورِ صبحِ صادق کی گھڑی تھی
قضا ان کے سرہانے آ کھڑی تھی

مہک میں مشک و عنبر کی بسائے
فرشتے ریشمی ملبوس لائے

پکارے چل اے نفسِ مطمئنہ!
پلٹ کر چل تو سوئے ربِّ کعبہ

تجھے رب کی رضا ہے ملنے والی
تجھے کر دے گا خوش وہ ربِّ عالی

پھر ان کے لب پہ اک مسکان ابھری
چمک چہرے پہ ان کے آکے ٹھہری

سوئے رب چل دیا ، حق کا مسافر
رہائی ہر غم دنیا سے پاکر

تیاری کو نیا ملبوس لا کر
کیا تیار بیٹوں نے سجا کر

عجب غم تھا ،جدائی کی گھڑی تھی
لگی آنکھوں سے اشکوں کی جھڑی تھی

ہر اک دل رو رہا تھا گو تڑپ کر
مگر تھیں یہ دعائیں ، سب کے لب پر

قدم ثابت رہیں ، بالقولِ ثابت
اسے تھامے رہے بس تیری رحمت

مصفّا برف اولوں سے دھلا کر
لباس اپنی رضا کا تو عطا کر
نظر جس سمت اٹھے وسعتیں ہوں
نہ جو دیکھیں سنیں وہ راحتیں ہو
خوشی چہرے سے اس کے پھوٹتی ہو
سکوں پاکر کھلی دل کی کلی ہو
فرشتے خلد سے لائیں وہ بستر
ہو جس پہ حشر تک سونا مقدر
درِ جنت کھلے ، آئیں ہوائیں
ہوائیں خلد کی خوشبو لٹائیں
تیرا بندہ یہ سب انعام پا کر
سکوں سے سو رہے پھر مسکرا کر
ملیں پھر ان سے ہم سب جنتوں میں
ہمیشہ رہنے والی راحتوں میں
خوشی…

مزید پڑھیں

غزل ۔ ذکیہ فرحت

قوتِ کار گئی، قوتِ رفتار گئی
اک فقط جان تھی، وہ بھی مرے سرکار گئی

حال کہیے دل آرزدہ کا پر کیا کہی
شوخیِ طبع گئی گرمیِ گفتار گئی

کس کوفرصت ہے یہاں قصہِ دل کون سنے
قصہ اس ایک نظر کا جو مجھے مار گئی

شورشِ زیست کے طوفان میں ہنگام سحر
نبضِ دل ڈوب گئی تابشِ جاں ہار گئی

پھر کسی مصحفِ ہستی کا ورق چاک ہؤا
پھر کوئی سادہ دل اک بازیِ دل ہار گئی

ایک سرمایہ فقط تھی جو مری روحِ حیات
سرحدِ زیست کے وہ بھی ہے اب اس پار گئی

ایک سناٹے پہ موقوف ہے دل کی دنیا
اس بیاباں کی خموشی ہی مجھے مار گئی

بند برداشت کا فرؔحت ترا گر ٹوٹ گیا
پھر تری آہِ سحر گاہی بھی بیکار گئی

مزید پڑھیں

غزل ۔ حبیب الرحمٰن

جہاں میں ایسے ہمیں کم ہی درد مند ملے
نہ جن کے گھر کے کبھی در کسی پہ بند ملے

حضورِ ظلِ الٰہی جو ڈٹ کے بول سکیں
ملے جہاں میں مگر ایسے لوگ چند ملے

کرے گا کیا کوئی لے کر یہ حسن و جاہ و حشم
جو زندگی کا مسافر نہ دل پسند ملے

خدا کے بعد بھروسہ ہے بازئووں پہ مرا
مرے عدو تجھے تیغ و تبر سمند ملے

اُنھیں نے چاند ستاروں کی منزلوں کو چھوا
وہ جن کے عزم پہاڑوں سے بھی بلند ملے

اک ہم کہ پیاس کی خواہش اٹھے تو چیخ پڑیں
وہ کیسے لب تھے جو پیاسے تھے پھر بھی خند ملے

جو میرے حال پہ ہنستے ہو یہ دعا ہے مری
کبھی تمہیں بھی محبت بھری گزند ملے

ایاغِ پند و نصیحت کا نشہ چاہیے ہے
بلا سے تلخ کہیں سے ملے یا قند ملے

حبیبؔ ہم کو سہاروں کی احتیاج نہیں
کریں گے سر یہ ستارے بنا کمند ملے

مزید پڑھیں

بنیان مرصوص ۔ اسماء صدیقہ

اندھیروں میں بزدل نے ڈھائی قیامت
جوشب خون مارا دکھائی شقاوت

وہ سوتے میں لوگوں کی جانوں سے کھیلا
تو جاں دیتے پھولوں نے کیا کیا نہ جھیلا

نشانے پہ رکھے تھے مسجد کے منبر
جو دنیا میں امن و اماں کا ہے محور

ستم حد سے گزرا تھا ایسا سراسر
کہ خاموش رہنا ہؤا بد سے بدتر

چلا پھر مقابل میں طوفانی لشکر
جو بپھرا ہؤا تھا مثالِ سمندر

اجالے میں گونجا تھا اللہ اکبر
کلام الٰہی سے لے کے صداقت

نبیِ مکرم کی سنت کے رستے
بصیرت ملی پھر اطاعت کے رستے

بھروسے پہ رب کے دکھائی مہارت
تو دنیا نے دیکھا فسوں کو حقیقت

وہ خالد کے جوہر وہ بازوئے حیدر
کہ فتحِ مبین ہوگئی تھی مقدر

جوانوں کی جرأت! جہاں محو ِحیرت
کرم ہے خدا کا اسی کی عنایت
یہ شاہیں صفت صف بہ صف با وفا ہیں
ہنر میں ہیں یکتا جری حوصلہ ہیں

فلک پہ درخشاں یہ جھِل مل ستارے
زمیں کے اندھیروں میں راہ ِمنور

کہیں یہ محافظ سمندر کے اندر
عدو کے لیے یہ سراپا سزا ہیں

غضب ہیں خدا کا قہر ہیں بلا ہیں
یہ غازی ہمارے انعام خدا ہیں

جو دشمن پہ ٹوٹے ہیں بن کے قیامت
ہراک سر تشکر سے جھکنے لگا ہے

جو فتح و ظفر کا یہ پرچم کھلا ہے
یہ عزم و یقیں کا فقط معجزہ ہے

یہ شوقِ شہادت کا اک سلسلہ ہے
یہ ربطِ خدا کا ہی…

مزید پڑھیں

زرد محبت ۔ عینی عرفان

’’میں ایک عورت ہوں اور عورت کے پاس بیچنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے‘‘۔
سنگلاخ سلاخوں کے پیچھے کھڑے نواز کے اعصاب پر مہر گل کا زہر بھرا جملہ ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ وہ پچھلے کئی دن سے اس جملے کی بازگشت میں قید تھا۔
نواز ایک مشاق ٹرک ڈرائیور تھا۔ مہینے میں متعدد بار وہ صنعتکاروں کا مال ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا مگر اس بار گھر سے نکلنے سے پہلے مہر گل کے ساتھ ہوئی لڑائی نے اس کے حواس چھین لیے تھے۔ کتنی ہی بار ٹرک اس کے ہاتھ سے ڈگمگایا۔ وہ ذہنی ابتری میں ہی گوجرانوالہ پہنچا۔ دو دن بعد وہاں سے گاڑیوں کا خام مال لے کر واپسی کی راہ لی۔ جوں جوں گھر قریب آرہا تھا اس کا غصہ مہر گل پر بڑھتا جا رہا تھا۔
پندرہ گھنٹوں کی طویل مسافت کے بعد وہ کراچی میں داخل ہؤا تو تھکن سے نڈھال ہوچکا تھا۔ دماغ تو کھول ہی رہا تھا قسمت بھی گرم ہوگئی۔ ہائی وے پر اس کے ٹرک کی زد میں ایک پرانی سی مہران آگئی جس میں دو افراد سوار تھے۔ اس نے گھبرا کر بھاگنے کی کوشش کی مگر ٹریفک کے اژدھام میں پھنس گیا۔ لوگ اسے ٹرک…

مزید پڑھیں

بے صدا فاصلے ۔ نصرت یوسف

شاید اصل مسافت تو ان راستوں میں ہوتی ہے جو آدمی اپنے اندر طے کرتا ہے!بدلتے دنوں کی کہانی

گاڑیوں کا سیل رواں تھا جو اس نیم اندھیری سڑک پر رینگتے گزر رہا تھا۔ شفن نے بے آرامی محسوس کرتے پہلو بدلنا چاہا مگر ساتھ چپکا چار سالہ بیٹا بھی کسمسانے لگا۔ہاتھ میں پہنی اکلوتی طلائی انگوٹھی کے باعث وہ کچھ خوفزدہ بھی تھی، دائیں بائیں سے کوئی بھی موٹر سائیکل گزرتی تو وہ کھڑکی سے دور ہوجاتی۔
برابر بیٹھا زاہد گاڑی چلاتے رش کی بنا پر بیزار سا لگتا تھا۔ مزاج کی کلفت کچھ شفن کے ہلنے جلنے پر تھی اور کچھ اس افراتفری والی ٹریفک پر. یہ تو شکر تھا کہ زاہد کے رشتہ داروں میں شادی تھی ورنہ شفن کو اس بیزاری میں دس نہیں تو دو تین باتیں تو ضرورسنادی جاتیں، مثلاً ’’ تمہیں بہت شوق ہے اپنے ہر رشتہ دار کی شادی میں شرکت کا…. چاہے پل صراط سے گزرنا ہو‘‘، اور پھر’’ بھئی میرے لیے تو مشکل ہے،خود چلی جاؤ‘‘۔
شہر کے دگرگوں حالات میں رات نو بجے بنی سنوری عورت کیسے اکیلی جائے اور رات ساڑھے گیارہ، بارہ بجے واپس آئے، اب کون زاہد سے ایسے میں سوال کرے!
تیسرا جملہ بالعموم یہ ہوتا کہ’’اتنے بڑے سسرال…

مزید پڑھیں

مقبول حج ۔ بشریٰ ودود

یا ربّا تیرے کام نرالے…. مارے خوشی سے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے …. رکھتی کہیں تھی اور پڑتے کہیں تھے۔
ہائے ….!
پاؤں کے نیچے ایک نوکیلے پتھر نے جگہ ایسی بنائی کہ ایڑی میں گھستا ہی چلا گیا …. ہائے مالک یہ کیا ہے…. ارے پتھر تو مجھے کیوں تنگ کر رہا ہے، میں تو اللہ کے گھر کی مسافر ہوں۔ ماسی صغریٰ خود ہی سے باتیں کر رہی تھی۔ خوشی جیسے اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ مگر ایک لمحے کو وہ رک گئی۔
ہائے کہیں مجھ سے گناہ تو نہیں ہو گیا….؟
ایک تھپڑ اس نے اپنے گال پر مارا …. اللہ میری توبہ…. میں نے کون سا ان کو کہا تھا کہ آپ نکل لو ….اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور ہاتھ جوڑ دیے۔ اللہ معافی دینا، میرا کوئی قصور نہیں مالکا…. تیز تیز قدم اٹھاتی وہ اپنے کوارٹر کی طرف بھاگی جا رہی تھی۔
ماسی صغریٰ محلے بھر میں مقبول تھی۔ ہر ایک سے نرمی سے بات کرنا، طے شدہ کام سے بڑھ کر کام کرنا، کبھی کسی سے گلہ نہ کرنا اور سب سے بڑھ کر بچوں کو اور بوڑھوں کو بڑا پیار دینا۔ اس سے کوئی روتا بچہ برداشت…

مزید پڑھیں

مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی ۔ روزینہ خورشید

آگ…. آگ ….بچاؤ کوئی بچاؤ ….
رات کے تین بجے سناٹوں کو چیرتی ہوئی آواز جیسے ہی لوگوں کے کانوں تک پہنچی دھڑا دھڑ لوگ بستروں کو چھوڑ کر گلی میں نکل آئے۔
باہر شمیم بھائی چیخ رہے تھے شاہدہ نے خودکشی کر لی….اس نے اپنے آپ کو آگ لگا لی….
لوگوں نے فوراً اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن جب تک اس پر قابو پانے کی کوشش کی گئی شاہدہ کا جسم %90 جل چکا تھا ۔ ایمبولنس کے ذریعے اسے ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔
⁰ یہ تقریباً 25 سال پرانی بات ہے جب لوگوں کے دکھ سکھ سانجھے ہؤا کرتے تھے۔ہم اس محلے میں نئے نئے شفٹ ہوئے تھے مگر دوسرے دن ہی تمام گلی والوں سے جان پہچان ہو گئی تھی۔ ہمارے سامنے والے گھر میں ایک بیوہ خاتون رہتی تھیں جن کے دو بچے تھے ۔بڑا بیٹا شکیل اور اس سے چھوٹی بیٹی شاہدہ جو تقریبا 16ً ،17 سال کی تھی۔ ایک دن وہ ہمارے گھر کھیر دینے آئی تو میں نے نوٹ کیا کہ وہ نارمل نہیں ہے ۔ چونکہ اس زمانے میں دروازے ایک دوسرے کے لیے کھلے رہا کرتے تھے بس ایک پردہ ڈال…

مزید پڑھیں

پانی ضائع نہ کریں ۔ شہناز یونس

سورئہ رحمٰن میں ۳۱ بار اس آیت کو دہرایا گیا ہے کہ ’’تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائو گے‘‘ ہماری نعوذ باللہ ایسی جرأت کہاں کہ اس مالک کی کسی نعمت کا انکار کریں یا اُس کو جھٹلا ئیں۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو لاکھوں کروڑوں نعمتوں سے نوازا ہے لیکن ہوا کے بعد پانی ایسی نعمت ہے کہ جس کے بغیر کچھ گھنٹے تو گزارے جا سکتے ہیں لیکن چند روز نہیں اور ہوا کے بغیر تو چند منٹ بھی نہیں جو ہمیں ہر وقت اور ہر جگہ بالکل مفت دستیاب ہوتی ہے اور اسے ہم کسی نعمت میں شمار ہی نہیں کرتے۔
بات ہو رہی تھی پانی کی اور جتنی اس نعمت کی ناقدری اور ضیاع ہمارے ملک خداداد میں ہوتا ہے شاید دنیا کے کسی اور خطے میں نہ ہو۔ ہم اپنے تین دریائوں سے ویسے ہی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ راوی اب بہتا نہیں بلکہ ایک گندے مگرمچھ کی طرح لیٹا رہتا ہے۔اس ’’گندے نالے‘‘ میں ہندوستان کی صنعتوں کا اور ہماری اپنی فیکٹریوں کا کیمیکل اخراج وافر مقدار میں ڈالا جاتا ہے۔ صرف برسات کے موسم میں اس میں پانی نظر آتا ہے جب ہمارے دشمن کو اس پانی…

مزید پڑھیں

دل وہیں رہ گیا ۔ قانتہ رابعہ

مدینہ شہر بے مثال
مدینہ اور مکہ کی زندگی میں بہت فرق ہے ۔مکہ میں زندگی دوڑتی بھاگتی ہے اک ہنگامے پہ ہے موقوف والی بات ذہن میں رہتی ہے۔ وہاں حرکت اور برکت ہے ۔
نماز تلاوت ذکر اذکار ہر جگہ ہوسکتا ہے، طواف…..صرف مکہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے حدیث مبارکہ میں خانہ کعبہ کو دیکھنے کا بھی بے پناہ ثواب ثابت ہے ،اس کی طرف نظر ڈالنے والے پر ستائیس رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ۔دوسرا یہ کہ کوئی طواف کر رہا ہے تو کوئی مقام ابراہیم پر نوافل ادا کررہا ہے کوئی معتمر صفا مروہ پر سعی کی سعادت حاصل کر رہا ہے تو کوئی زمزم پی رہا ہے، سب لوگوں کی متفرق مصروفیات ہوتی ہیں اس لیے یکسوئی کم اور گہما گہمی کا عالم زیادہ ہوتا ہے۔
حرم میں داخل ہو کر طواف کیے بغیر جانے کا حوصلہ شاید ہی کسی میں ہوتا ہو اور طواف میں ظاہر ہے چلنا ہوتا ہے۔ سات چکر مکمل کر کے واپس رہائش گاہ تک پہنچنے میں ٹانگوں کا استعمال ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے۔ ایک نماز سے فارغ ہو کر دوسری سرگرمی کا سوچتے ہیں تو اگلی نماز تیار ملتی ہے۔ آپ چار دن رہیں یا چالیس دن مکہ میں زندگی بھاگم…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

پانی پہ تیرتے مارکو پولو کے شہر وینس کا بنیادی نقشہ اور ماحول آج بھی ویسا ہی ہے جیسا صدیوں پہلے تھا۔
شاندار مکانات، سنگ مرمر کے محلات ،عالی شان گرجے، اورسینٹ مارکو کا شہرہ آفاق سکوئر

وینس اٹلی کے شمالی حصے کا ایک خوبصورت شہر جسے’’پانی کا شہر ‘ ‘ ، ’’پلوں کا شہر‘‘،’’نہروں کا شہر‘‘، اور’’تیرتا ہؤا شہر‘‘ کے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ وینس دنیائے سیاحت کے ماتھے کا جھومر ہے۔
18 ستمبر کو ریلوے اسٹیشن سے نکل کر ہم نے اپنے میزبان مسٹر’’شی جن پنگ‘‘ کو فون کیا۔ اس نے ہدایات دیں کہ فیری پہ بیٹھ کر Calle Gerimana پہنچیں۔
کشتی کی سیر بہت سی جگہوں پہ کی تھی ایمسٹرڈیم بھی بے حد خوبصورت شہر ہے اور نہروں کشتیوں کی بہتات ہے لیکن وینس جیسا دل موہ لینے والا مقام کوئی نہ پایا۔ سورج اپنی ڈیوٹی کے آخری مراحل میں وینس کے پانیوں پہ نور بکھیر رہا تھا۔ لوگوں کے چہروں پر طمانیت تھی اور لبوں پر مسکراہٹیں جیسے ہر کسی کو اپنی کوئی من پسند چیز مل گئی ہو۔ ایسی فارغ البالی تقریباً ہر سیاحتی مقام کی شان ہوتی ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت اپنی مصروف زندگی کو پیچھے چھوڑ کر کسی صحرائی باشندے کی مانند نئی جگہ کو…

مزید پڑھیں

شاہیں کا جہاں اور ۔ ثوبیہ عمار

کچھ دن قبل ہمارے ہاں کہیں سے ایک ڈبل کوٹ بِلّا آگیا۔
میری بیٹیاں بلیوں کی دیوانی ہیں اور یہ محبت انہیں جینز میں ملی ہے ۔ مجھے کچھ خاص محبت نہیں لیکن حضرت ابو ہریرہ ؒکی محبت میں کچھ زیادہ بری بھی نہیں لگتیں ۔
خیر چلتے ہیں اصل بات کی طرف!
بلے کا رنگ بہت خوبصورت اور انداز اور بھی پیارے تھے ۔ میری چھوٹی بیٹی جو بڑے بہن بھائیوں کی دوری کی وجہ سے اداس رہتی تھی اس کے آنے مصروف ہو گئی۔ میں نے بھی بِلے سے اس کی انسیت دیکھتے زیادہ حیل و حجت نہ کی اور بِلّا مستقل ہمارے ساتھ قیام پذیر ہو گیا۔اور ہم نے اس اپنے اشرف المخلوقات کا فائدہ اٹھاتے علم الاسماء کا استعمال کرتے ہوئے اس کا نام ٹام ٹھہرا دیا۔ بس اب سبھی اس کو ٹام ٹام کہنے لگے اور وہ بھی اپنے نام سے مانوس ہو گیا۔
انہی دنوں کچھ چوہوں نے بھی گھر پر حملہ کر دیا ۔ سمجھ نہیں آتی تھی ہیں کہاں لیکن کبھی کچن اور کبھی کمرے میں ان کی کارروائیاں نظر آتیں تو سر پیٹنے کو دل چاہتا۔
پھر ان کی بولڈنیس بڑھی اور سر عام بھاگتے دوڑتے دکھائی دیتے۔ ایک دن کچن میں کام کر رہی تھی…

مزید پڑھیں

ایک آنکھ کی کہانی ۔ کوثر خان

جب سے دائیں آنکھ کا آپریشن ہؤا ہے اور اس نے کام کرنا چھوڑا ہے، بائیں آنکھ پر کافی ذمہ داری اگئی ہے۔ اس کو تنہا ہی وہ سارے کام کرنے پڑ رہے ہیں جو دونوں انکھیں مل کر کرتی تھیں۔ دونوں میں نوک جھونک بھی چلتی رہتی ہے۔ دائیں آنکھ بائیں آنکھ سے شکوہ کرتی ہے، تم تو ساری دنیا کے نظارے کرتی ہو، تم تو دنیا کو دیکھ کر خوب لطف اندوز ہوتی ہو اور مصروف رہتی ہو، مجھے تو اب کوئی کام ہی نہیں۔
بائیں آنکھ اسے سمجھاتی ہے، بھئ! رب کائنات نے یہ دنیا انسانو ں ہی کے لیے تو بنائی ہے، یہ چرند پرند، یہ خوبصورت پھولوں سے بھری کیاریاں یہ ہرے بھرے درخت اور اونچے اونچے پہاڑ، چمکتا ہؤا سورج، حسین چاند، جھلملاتے ستارے …. میں جب یہ سب چیزیں دیکھتی ہوں تو بے اختیار زبان پر اللہ کی حمد و ثنا جاری ہو جاتی ہے اور دل ذکر و شکر سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اگر میں اتنی حسین دنیا کو نہ دیکھوں اور رب کا شکر ادا نہ کروں تو رب ناراض ہو جائے گا۔ اور تم کیوں فکر کرتی ہو تمہیں اللہ تعالیٰ جنت کی حسین نعمتوں سے نوازے گا جو یہاں…

مزید پڑھیں

محترمہ صفورہ نعیم کی یاد میں پورا چاند ۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم

ستارہ لکھوں یا کہکشاں….
روشنی اتنی تابناک کہ ایک دنیا منور ۔علم کی ،شعور کی ،آگہی کی….مردوں کی دنیا میں صاحبِ علم و دانش پروفیسر خورشید اسلامی تحریک کا روشن چراغ تھے ۔وہ چراغ جو اپنی کارگزاری مکمل کر چکا ۔ایک دنیا جن کی معترف ہے ۔اسلامی جمیعت طلبہ کی نظامت اعلیٰ ،اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر،ادارہ ترجمان القرآن…. ان کی تحریریں ان کی دانشورانہ خطابت ….ہر حوالے سے اسلامی تحریک کے لیے علم و دانش کا سرمایہ…. وہ چراغ جو مٹی کے نیچے بطور امانت رکھ دیا گیا ۔
صاحبانِ علم و عمل کی ایک قطار ہے جو اپنے حصے کا فرض ادا کرکے زمین اوڑھ کر جا سوئی کہ قدردان رب کے حضور پیش ہونے اور اپنا اجر پانے کا انتظار ہے ۔
کتنے ہی ستارہ صفت تھے جو کہکشاں بن گئے ….اور اس دنیا میں روشنی بڑھا گئے ۔
مئی کے انہی گرم دنوں میں ایک اور چاند چہرہ امریکہ کے شہرمیں آخری سفر پر روانہ ہو گیا ۔پاکستان،دمام اور امریکہ ….جہاں جہاں ان کے نیک قدم گئے روشنی سی روشنی ہو گئی۔ان کے گرد ان کے عقیدت مندوں،ان سے علم و دانائی سمیٹنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔
وہ ایک نام جس کے بہت سے معتبرحوالے….ERI،عثمان پبلک اسکول سسٹم،انسپریشن اسکول…

مزید پڑھیں

بتول میگزین ۔ اقصیٰ خان

بیرون ملک روانگی

ائیر پورٹ پر مختلف جذباتی مناظر نظر آتے ہیں۔
کہیں والدین اپنے نوجوان بیٹے کو رخصت کررہے ہیں اور کوشش کے باوجود جذبات پر قابو نہیں رکھ پارہے تو بیٹا بھی جاتے جاتے ان کا سراپا اپنی بھیگی آنکھوں میں سموتا جارہا ہے ۔
تو کہیں بہنیں آنکھوں میں آنسو لیے اپنے بھائیوں کی بلائیں لیتی ان پر حفاظت کی دعائیں دم کرتی نظر آتی ہیں۔
کہیں بیوی اپنے محبوب، سر کے سائیں سے ان آخری لمحات میں وعدے وعید کرتی نظر آتی ہے تو کہیں چھوٹے بچے اپنے والد سے لپٹے کھڑے ہیں ۔
اپنے نوجوان بچوں ، بھائیوں اور سر کے سائیوں کو رخصت کرتے ہوئے یہ آنسو خوشی کے ہیں یا غم کے….. ؟
کبھی ہم اچھے مستقبل کی آس میں اپنے بھائیوں کو باہر بھیجتے ہیں ، کبھی شوہروں کو اور پھر کبھی بیٹوں کو ، تو کبھی دامادوں کے ساتھ بیٹیاں بہنیں بھی باہر سدھارتی ہیں تو کبھی بھابیاں ،بہویں۔ لیکن فیملی کے ساتھ جانے کی شرح بہت کم ہے ، ورنہ عام طور پر تو اکیلے مرد ہی کمائیوں کے لیے یہ تنہائیاں اور مشقتیں کاٹتے ہیں اور ان کے گھر والے ان کی جدائیاں ۔
یہ سلسلہ وقت کے ساتھ تیزی سے رواں دواں ہے ،کیا یہ…

مزید پڑھیں

یہ بھی پکائیں ۔ عاصمہ سید

ہنٹر بیف
عید قربان ہے، ہنٹر بیف کی بہت آسان ریسیپی شئیر کررہی ہوں بازار سے بھی زیادہ جوسی اور عمدہ ہنٹر بیف گھر میں بنائیں۔
اجزا:
2 کلو کا بیف کا پیس
3 ٹیبل اسپون گڑ
2/1 ٹیبل اسپون قلمی شورہ
4 لونگ
6 کالی مرچ
2 انچ دارچینی
1 ٹی اسپون زیرہ
2/1 کپ سفید سرکہ
2/1 کپ لیمن جوس
2 ٹیبل اسپون نمک۔
1۔گوشت کا پیس صاف کرلیں چھری سے، کوئی چھچڑا وغیرہ نہ لگا ہو۔
2۔قلمی شورہ اور گڑ الگ الگ پیس لیں اور ثابت مصالحے بھی باریک گرینڈر میں پیس لیں۔
3-اب گوشت کے پیس میں تمام اجزاء ملاکر کانٹے سے پرک کرکے فریج میں 5دن کے لیےرکھ دیں روز اس کی سائیڈ پلٹ کر کانٹے سے گود لیں یعنی پرک کرلیں۔
4-5 دن بعد اسے ایک موٹے دھاگے سے باندھ کر پانی کے ساتھ چولھے پر چڑھا دیں،پانی اتنا ہو کہ گوشت ڈوب جائے۔ دھیمی آنچ پر گلنے تک اور پانی سوکھنے تک پکالیں ۔ٹھنڈا ہوجائے تو دھاگہ کھول کر پھینک دیں اور سلائس کرکے مکھن میں سینک کر کھائیں یا ریشہ کرکے سینڈوچز بنا لیں۔
چکن مکھنی ہانڈی
آسان اور مزے دار چکن مکھنی ہانڈی ایک بہت روایتی سی ڈش ہے جو ہمارے دیہاتوں میں برسوں سے بنتی آرہی ہے مگر شہر کے ڈھا بوں میں کچھ سالوں سے بہت پاپولر…

مزید پڑھیں

بھارتی اور اسرائیلی مودیوں کا زوال ۔ سعود عثمانی

یہ دنیا ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کتنی تیزی سے بدلی ہے اور مسلسل بدل رہی ہے۔ زندگی کے کسی بھی شعبے کو دیکھ لیں۔ صرف پندرہ بیس سال پرانی چیزیں فرسودہ دکھائی دیتی ہیں۔ صرف ایک عشرہ پہلے کی عالمی صورتحال ماضی بعید کی بات لگنے لگی ہے۔ وہ تبدیلیاں جو دس سال پہلے ناممکن نظر آتی تھیں‘ دنیا کی آنکھیں اب ان کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔ ہر چیز بدل گئی ہے اور ہر روز خود کو نیا کر رہی ہے۔ صرف تاریخ کے سبق اسی طرح ناقابلِ تغیر اور وقت کی دسترس سے دور ہیں۔ تاریخ کا ایک سبق یہ ہے کہ جب کوئی ظلم پر مبنی تہذیب یا سلطنت اپنے عروج پر پہنچ جائے تو اس وقت ڈرنا چاہیے کہ یہیں سے اگلا سفر زوال کا شروع ہوتا ہے۔
بہت کچھ شواہد بتا رہے ہیں کہ ہم اور آپ ہندوتوا اور صہیونیت کے زوال کے آغاز پر کھڑے ہیں۔ نام میں کیا رکھا ہے۔ بات ذہنیت کی ہے اور ذہنیت کے لحاظ سے بھارت میں نیتن یاہو حکمران ہے اور اسرائیل میں نریندرا مودی۔ قالب الگ الگ ہیں لیکن روح ایک ہے۔ مسلم دشمنی‘ بے رحمی‘ مکاری اور جنگی جنون دونوں جسموں کی روحوں میں ایک جیسے ہیں۔…

مزید پڑھیں

عقلِ سلیم اور ترقی کی راہ ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

آج سے لگ بھگ 192 برس پہلے 1832 میں انگریزوں نے برصغیر میں ٹرین کی پٹریاں بچھانے کا آغاز کیا، مسلمانوں اور ہندوؤں کی جانب سے بہت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انکا موقف تھا گورے انگریز یہ زنجیریں ڈال کر ہمیں اور ہمارے ملک کو باندھ کر اپنے ساتھ انگلستان لے جایں گے۔
عقل سلیم کو بھی بالغ ہونے کے لیے بچے کی طرح نشوونما کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح جسم ارتقائی مراحل طے کر کے اپنی مکمل اٹھان کو پہنچتا ہے اسی طرح دیگر صلاحیتوں کو بھی وقت اور حالات کے ساتھ ارتقاء کی ضرورت ناگزیر ہے۔
جو افراد اور قومیں وقت کی رفتار کا ساتھ نہیں دیتیں اور طرز کہن پہ اڑ جاتی ہیں ان کی ذہنی سطح ان بلندیوں سے محروم رہتی ہے جہاں سے آسمان کی وسعتوں کو مسخر کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
رب کائنات نے بھی آدم کے خاکی پتلے کو بہت سے ارتقائی مراحل سے گزار کر مسجود ملائکہ بنایا۔ اسی طرح دنیا کے باسی غاروں اور جنگلوں کی بود وباش سے ہوتے ہوئے چاند پہ کمندیں ڈالنے کے قابل ہوئے۔ سفر کے مشکل ترین مراحل ارتقاء کی طرف ایسے رواں دواں رہے کہ اب مہینوں کا سفر گھنٹوں پہ محیط ہوگیا ہے۔…

مزید پڑھیں