قرآن شاہ کلید اخلاق و معاملات قرآن کی نظر میں ۔ عالیہ شمیم
اخلاقیات فلسفہ کی وہ شاخ ہے جس میں اخلاق اور اخلاقی قدروں کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اچھائی یا برائی، درست یاغلط انصاف اور انسانی قدروں کو واضح کیا جاتا ہے۔اصطلاح میں خلق سے مراد انسان کی ایسی کیفیت اور پختہ عادت کا نام ہے جس کی وجہ سے بغیر کسی فکر و توجہ کے نفس سے اعمال سرزد ہوں۔
عربی زبان میں ’’خلق‘‘ کے معنی پیدا کرنے کے ہیں۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو جہاں وہ ایک ظاہری شکل و صورت لے کر آتا ہے، وہیں کچھ باطنی صفات بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہیں، ظاہری شکل و صورت بالکل واضح ہوتی ہے، اس کا رنگ روپ، ناک نقشہ، چہرہ مہرہ اور ہاتھ پائوں وغیرہ، جنہیں بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے اور اگر ان میں کوئی کمی محسوس کی جائے تو ڈاکٹروں کے ذریعے علاج بھی ہوتا ہے
اس کو ’’خَلق‘‘ یعنی جسمانی ہیت و شکل کہتے ہیں۔انسان جسم و روح کا مرکب ہے، لفظ خ کے اوپر زبر پڑھیں تو ظاہری شکل و صورت اور اگر خ کے اوپر پیش پڑھیں تو باطنی و نفسانی صفات کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ان کا مجموعہ اخلاق ہے۔ اگر کوئی شخص صورت و عادت دونوں ہی طرح…

