بتول جولائی ۲۰۲۵

قرآن شاہ کلید اخلاق و معاملات قرآن کی نظر میں ۔ عالیہ شمیم

اخلاقیات فلسفہ کی وہ شاخ ہے جس میں اخلاق اور اخلاقی قدروں کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اچھائی یا برائی، درست یاغلط انصاف اور انسانی قدروں کو واضح کیا جاتا ہے۔اصطلاح میں خلق سے مراد انسان کی ایسی کیفیت اور پختہ عادت کا نام ہے جس کی وجہ سے بغیر کسی فکر و توجہ کے نفس سے اعمال سرزد ہوں۔
عربی زبان میں ’’خلق‘‘ کے معنی پیدا کرنے کے ہیں۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو جہاں وہ ایک ظاہری شکل و صورت لے کر آتا ہے، وہیں کچھ باطنی صفات بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہیں، ظاہری شکل و صورت بالکل واضح ہوتی ہے، اس کا رنگ روپ، ناک نقشہ، چہرہ مہرہ اور ہاتھ پائوں وغیرہ، جنہیں بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے اور اگر ان میں کوئی کمی محسوس کی جائے تو ڈاکٹروں کے ذریعے علاج بھی ہوتا ہے
اس کو ’’خَلق‘‘ یعنی جسمانی ہیت و شکل کہتے ہیں۔انسان جسم و روح کا مرکب ہے، لفظ خ کے اوپر زبر پڑھیں تو ظاہری شکل و صورت اور اگر خ کے اوپر پیش پڑھیں تو باطنی و نفسانی صفات کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ان کا مجموعہ اخلاق ہے۔ اگر کوئی شخص صورت و عادت دونوں ہی طرح…

مزید پڑھیں

ابتدا تیرے نام سے ۔ ڈاکٹر صائمہ اسما

قارئین کرام !سلام مسنون
قبل از وقت بارشیں ہیں مگر حبس اور گرمی انتہا پر ہے۔ ہم جنوبِ عالم کے لوگ، شمال کی ترقی کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ہمارے ملکوں کا درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنےبرف کے ذخائر تیزی سے ختم ہونے اورسیلابوں کی تباہی کا سامنا بھی کررہے ہیں۔ہر سال اوسط درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے ۔ زیر زمین پانی کی سطح اور نیچے چلی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہنگامی حالات کا الرٹ جاری ہونا چاہیے اورپانی کے استعمال کی احتیاطی تدابیر وسیع پیمانے پر ایک مہم کی شکل میں سکھائی جانی چاہئیں۔پانی کے غیر محتاط استعمال میں پڑھا لکھا اور ناخواندہ طبقہ ایک برابر ہے۔ گھروں میں نلکوں کا ٹپکتے رہنا،استعمال کرتے ہوئے شاور یا نلکا کھلا رہنا عام رویہ ہے جس پر کوئی غور ہی نہیں کرتا۔ ہم اپنے لان کو پینے والے صاف پانی سے سیراب کرتے ہیں، پوش علاقوں میں سوئمنگ پول مین ٹین کیے جاتے ہیں۔ وسیع و عریض گالف کورسز کو سرسبز رکھا جاتا ہے۔اگر پانی کی بچت کی کوئی قومی پالیسی وضع نہ کی گئی تو بہت جلد ہم پانی کے سنگین بحران کا سامنا کریں گے۔
دریائے سوات میں فیمیلیز کے ڈوبنے کا سانحہ انتہائی اندوہ ناک ہے۔…

مزید پڑھیں

ریا شرکِ خفی ہے ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

عمل ِ صالح کو برباد کرنے والی دو خصلتیں ’’نمود اور ریا‘‘ ہیں۔ یہ دونوں ہی شیطان کے وار اور اس کی چالبازی ہے جس سے وہ بندے کے اخلاص پر حملہ کرتا ہے، اور اس کا وہ عمل خالصۃً اللہ نہیں رہتا۔ریا سے مراد یہ ہے کہ بندہ دوسروں کو دکھانے اور ان سے توصیف پانے کے لیے کوئی نیک عمل کرے۔یا وہ اس عمل کے ذریعے ناموری چاہے۔
ریا اور سمعۃکے لغوی معنی
’’ریا‘‘ الرؤیۃ‘‘ سے مشتق ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت یا کوئی نیک عمل کرے تاکہ لوگ اسے اچھا سمجھیں اور اور اس کی تعریف کریں، جیسے نماز، صدقہ، دوسروں پر خرچ کرنا وغیرہ۔
’’سمعۃ ‘‘ سماع سے ہے۔ جیسے ایسی چیز جو دوسروں کے کانوں کو بھلی لگے، جیسے قرأ ت،اچھا وعظ، اور ذکر وغیرہ۔ ایک شخص لوگوں کے سامنے اچھی آواز میں تلاوت کرتا ہے، یا ذکر الٰہی کرتا ہے تاکہ لوگ سنیں اور اس کی تعریف کریں۔
ریاء کا تعلق نگاہ اور دیکھنے سے ہے اور سماع کا سننے سے۔(دیکھیے: احیاء علوم الدین، الغزالی، ۲۷۹۔۳)
ریا اور سمعہ (یعنی دکھاوے اور ناموری) کی خواہش دل کے امر اض میں سے ہے جو اخلاص کے منافی ہے۔ریا سے مراد ایسا نیک…

مزید پڑھیں

سوشل میڈیا کے مفید استعمال کا چیلنج پاکستان کے تناظر میں ۔ ڈاکٹر صائمہ اسما

گزشتہ قسط میں ہم نے ان پہلوؤں پر بات کا آغاز کیا جن میں ریاست کی جانب سے عوام کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں پہلا نکتہ یہ کہ ریاست کوعوام کی سوشل میڈیا خواندگی کا بندوبست کرناچاہیے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے انہیں فیک نیوز کا شعور دیا جائے۔ اس کے بعد عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے جو نقصانات پہنچ سکتے ہیں اور جن خطرات سے صارفین دوچار ہو سکتے ہیں ،ان سے آگاہ کرے۔ یہاں ان کا ذکر کیا جارہا ہے۔
۲۔نقصانات اورغلط کاروں سے حفاظت
سوشل میڈیا کے ذریعے صارف ایسے افراد سےرابطے میں ہوتا ہے جن کی شناخت سے وہ قطعاً ناواقف ہوتا ہے،مگر بات چیت اس طرح ہوتی ہے جیسے بہت گہری دوستی ہو۔ اس دوران بہت ذاتی معلومات تک شیئر کردی جاتی ہیں، اپنی مصروفیات کاتذکرہ اور دیگر تفاصیل جو کئی مرتبہ قریبی افراد کو بھی معلوم نہیں ہوتیں،سوشل میڈیا کے ’’دوستوں‘‘ کو بتا دی جاتی ہیں۔زیادہ ترنوعمر لڑکے اور لڑکیاں صنفِ مخالف کی کشش میں دوستی کرتے ہیں اور اپنی معلومات شیئر کردیتے ہیں بلکہ کئی بار اپنی زندگی کے ایسے راز اور تلخ حقائق تک بتا دیتے ہیں جن میں انہوں نے اپنے گھروالوں کو بھی شامل نہیں کیا ہوتا۔لڑکیاں اپنی تصاویر…

مزید پڑھیں

اس کا شکر ۔ شمیم فاطمہ

جس نے تخلیق کیے تیرےؐ لیے دونوں جہاں
قلبِ اطہر پہ ترے جس نے اتارا قرآں

اپنے بندوں کی تجھے جس نے امامت بخشی
اور بدلے میں تجھے خُلد کی کنجی دے دی

جس نے افلاک پہ مہمان بنایا تجھ کو
جس نے دنیا میں ترے نام کو عزت بخشی

جس نے مشکل میں تجھے صبر کی قوت بخشی
جس نے ہر گام تجھے اپنی ہدایت بخشی

جس نے لہجے میں ترے خاص حلاوت رکھی
معاف کردینے کی جس نے تجھے عادت بخشی

اس کا احسان ہے ہم کو تیریؐ امت میں رکھا
شکر ہے اس نے ہمیں حلقۂ رحمت میں رکھا!

مزید پڑھیں

غزل ۔ نجمہ یاسمین یوسف

در تو در ، سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے
اپنا ہوتے ہوئے غیروں کا نگر لگتا ہے

دن نکلتے ہی امڈ آتے ہیں کالے سائے
کسی آسیب کا اس گھر پہ اثر لگتا ہے

خون آلودہ سبھی ہاتھ ہیں دستانوں میں
اب کے اندیشہ بہ اندازِدگر لگتا ہے

اوڑھنے روز نکلتی ہے رِدا زخموں کی
زندگی تیرا تو پتھر کا جگر لگتا ہے

کب سے امید کا کشکول لیے بیٹھے ہیں
آسرا کوئی اِدھر ہے نہ اُدھر لگتا ہے

جانے کب بحرِالم کس کو کہاں لے ڈوبے
اب تو ہنستے ہوئے یہ سوچ کے ڈر لگتا ہے

کھیلوں پہنائیِ صحرا سے بگولے کی طرح
وسعتِ دشت میں کھو جائوں تو گھر لگتا ہے

مزید پڑھیں

غزل ۔ حبیب الرحمٰن

دل میں ان کو کھوکر بے شک ہم پچھتاتے ہیں
لیکن وہ کیوں دیواروں سے سر ٹکراتے ہیں

دھوکے دنیا بھر سے کھا کھا کر یہ عالم ہے
اپنے ساٰئے سے بھی اکثر ہم ڈر جاتے ہیں

جب کچھ بھی نہ مجھ سے ان کو لینا دینا ہے
پھر وہ مجھ سے ملنے سے کیونکر کتراتے ہیں

بن کے انجانے سے بیٹھے ہم محفل میں کیوں
یوں ہی کب اہلِ مجلس شک میں پڑ جاتے ہیں

جب تو مجھ سے دوری کرکے خوش تھا تو بتلا
پھر کیوں تیرے نین پیالے بھر بھر آتے ہیں

تیرے رستے میں مرنے سے کب ڈرتے تھے ہم
جب سے دنیا داری میں آئے گھبراتے ہیں

یہ تو جینے کا حصہ ہیں سارے غم خوشیاں
سو ہم تو ہر اک حالت میں ہنستے گاتے ہیں

غزّا کے بچوں کی چیخیں آہیں بہتا خوں
پتھر دل والوں کے سینے کب دھڑکاتے ہیں

جن جن باتوں کاموں سے روکا رب نے، ہم بھی
وہ کرتے رہنے کی جیسے قسمیں کھاتے ہیں

مزید پڑھیں

کشکول ۔ عطیہ جمال

پانچ بجے میں گھر میں داخل ہؤا تو ملازم نے بتایا ’’صاحب لینڈ لائن پر آپ کے لیے صبح سے دو دفعہ فون آ چکا ہے‘‘۔
میں نے اچھا کہا اور واش روم کی طرف چل دیا۔ جاتے جاتے اسکرین پر دیکھا، کسی اولڈ ایج ہاؤس کا نمبر تھا۔
کمرے میں داخل ہو کر ملازم خالد نے سوال کیا’’ چائے لاؤں صاحب؟‘‘
’’ نہیں‘‘۔ میں نے جواب دیا’’دوبارہ ضروری کام سے جانا ہے‘‘۔
رات 10 بجے میں گھر آیا تو ملازم میرا حلیہ دیکھ کر چونک گیا۔ میری لال آنکھیں اور بکھرا بکھرا حلیہ تھا۔ کسی سے بات کیے بغیر کمرہ بند کرکے سونے کا کہہ کر اندر چلا گیا۔
میں آپ کو کچھ تفصیل بتا دوں۔ میں بختیار احمد اس سرزمین کا باسی جب بنا جب 1971میں بنگلہ دیش بنا یعنی مغربی پاکستان کا ایک بازو کٹ گیا۔ بھائی سے بھائی جدا ہو گیا۔ وہ ساری ایک المیہ کہانی ہے۔ میں اور میرے خاندان کے ساتھ کیا کیا اور کیسے مظالم ہوئے بیان سے باہر ہے۔ اماں ابا اور دو بہنیں نیزوں پر اچھالے گئے۔ میں اس وقت 15 سال کا تھا۔ چھپ کر اور جان بچا کر رشتے کے ایک چچا کے گھر پناہ لی۔ وہ بڑا مشکل کا وقت تھا۔ میں اور…

مزید پڑھیں

پچاسی روپے ۔ عینی عرفان

چار سالہ نگو کی گھٹی گھٹی سسکیاں مراد کی آنکھیں لہو رنگ کر رہی تھیں ۔ ایسا نہیں تھا کہ تیرا سالہ مراد نے اپنی بہن کو آج پہلی بار روتے دیکھا تھا ۔ وہ تو غربت کی اس نچلی سطح سے تعلق رکھتا تھا جہاں بچہ کی پیدائش کی پہلی چیخ اس کی پوری زندگی کا احاطہ کرتی ہے ۔ بچہ پہلی بار روتا ہے تو چپ ہونے کی نوبت کم ہی آتی ہے ۔ کبھی روٹی کے لیے روتا ہے ۔ کبھی دوا کے لیے سسکتا ہے ۔ تن ڈھانپنے کو پورا کپڑا مل جانا عیاشی میں شمار ہوتا ہے۔
تو اس کرلاتی زندگی میں نگو کا رونا مراد کو کیوں بے چین کر رہا تھا ۔ کیا نیا تھا اس رونے میں جو مراد کی برداشت سے باہر ہو گیا تھا ۔ شاید کچھ نیا تھا ۔ ہاں واقعی نیا تو تھا ۔ آج تک وہ سارے بہن بھائی ، سارے کتنے بارہ یا تیرہ نہیں شاید چودہ صحیح گنتی تو مراد کو بھی یاد نہیں تھی۔ بچپن میں یاد تھی۔ یاد رکھنی پڑتی تھی۔جب ماں بیگم صاحبہ کے گھر سے واپسی پر چھ روٹی لاتی تھی ۔ ایک ابا کی رکھ کر باقی روٹیاں ٹکڑے کر کے…

مزید پڑھیں

دھوپ چھائوں ۔ نصرت یوسف

پندرہ منٹ کے بس سفر کے بعد بس کی اسکرین پر اس کا اسٹاپ اطلاعی پٹی تلے روشن ہؤا تو اس نے اسٹرالر کو ایک طرف سرکا کر گہری سانس لی۔ سیپ سو چکی تھی۔’’آئس کریم کی دکان کے آگے سے گزرنے کا خراج آج نہیں دینا ہوگا‘‘ — یہ خوش ہونے والی بات تھی، لیکن تیز دھوپ نے خوشی کو جیب سے نکال کر زمین پر پھینک دیا۔
اگر دندان ساز سے اس کا وقت مہینہ پہلے طے نہ ہوتا، تو وہ یقیناً اس گرم دن گھر کے اندرونی کاموں میں مصروف ہوتی ،آج کل سورج زیادہ تیز تھا ،جرابیں دیکھنے کو بھی دل نہ کرتا،کچھ دنوں کی بات تھی پھر خنکی نے لوٹ آنا تھا،اس نے بس رکنے پر اسٹرالر کو باہر دھکیلتے سوچا ۔
اپنی عمارت کے سامنے پہنچی تو انٹرکوم دبایا۔ عاصم کو سامان اور سیپ لینے کو کہا، اور خود زینے کی طرف بڑھی۔ سیڑھی پر جو آئس کریم کا دھبہ کل سیپ سے گرا تھا، وہ غائب تھا۔ ایملی کام کر چکی تھی۔ زینہ صاف تھا، چمکتا ہؤا — جیسے زندگی تھوڑی تھوڑی کر کے ترتیب پا رہی ہو۔
اوپر سے نیتو آتی دکھائی دی۔ ہمیشہ کی طرح بےنیاز، ہلکے میک اپ اور مکمل اعتماد کے ساتھ۔
’’ہائے…

مزید پڑھیں

اعتماد کے رستے سے ۔ پروفیسر عبدالغنی وسیم

(1)
یہ ایک سچی کہانی ہے جو میرے شام کے کلینک کے قریب پیش آئی۔ وہاں ایک سکول استاد سلطان اپنی بیوی ثانیہ اور دو بچوں شایان (3 سال) اور نواب (2 ماہ) کے ساتھ رہتے تھے۔
ایک شام جب سورج غروب ہو چکا تھا اور اندھیرا چھا چکا تھا، سلطان جو ایک سادہ دل اور نیک شخص تھا، اپنے گھر میں آرام کر رہا تھا۔ اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔ سلطان فوراً دروازے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک بزرگ عورت دروازے پر کھڑی ہے۔ اس کے چہرے پر پریشانی، تھکن اور مایوسی کے آثار نمایاں تھے۔
’’بیٹا،‘‘ اس نے کمزور آواز میں کہا، ’’میری بیٹی قریبی گاؤں میں رہتی ہے۔ میں اس سے ملنے آئی تھی، لیکن اب واپسی کا وقت نہیں رہا۔ اندھیرا ہو چکا ہے اور میرے پاس ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اگر تم مجھے آج رات کے لیے پناہ دے دو تو بہت مہربانی ہوگی‘‘۔
سلطان نے ہمدردی محسوس کی۔ اس نے سوچا، ایک بزرگ عورت کیا نقصان دے سکتی ہے! اس نے اپنی بیوی ثانیہ کو بلایا، صورتحال سمجھائی، اور دونوں نے مل کر اس عورت کو جس نے اپنا نام شاناوے بیگم بتایا تھا اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔
ثانیہ نے اس کا پرتپاک استقبال کیا،…

مزید پڑھیں

ضمیر کے قیدی ۔ آسیہ راشد

اُس روز ہم اپنا میڈیکل کیمپ لگا کر واپسی کے لیے جیل کے مین گیٹ کی طرف رواں دواں تھے کہ اچانک ہماری نظر چار عورتوں پر پڑی، جو جیل میں داخل ہو رہی تھیں۔ اُن کا حلیہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ کسی اچھے، کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔
ان چار خواتین میں ایک بڑی عمر کی عورت تھی، اور اس کے ساتھ تین نوجوان لڑکیاں۔ ہم سب نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ میں نے فوراً اپنی سوشل ویلفیئر آفیسر سے دریافت کیا:’’یہ کس جرم میں لائی گئی ہیں؟‘‘
آفیسر نے گہری سانس لیتے ہوئے بتایا: ’’یہ بھکاریوں کا ایک گروہ ہے جو پکڑا گیا ہے۔ یہ لوگ بھیس بدل کر شہر کے مختلف علاقوں میں جا کر بھیک مانگتے تھے۔ بھیک کی کمائی سے انہوں نے شہر کے پوش علاقوں میں مہنگے گھر خرید رکھے ہیں، قیمتی گاڑیاں چلتی ہیں، بینک بیلنس بھرا ہوا ہے، اور سونے چاندی کے ڈھیر جمع کیے ہیں‘‘۔
انہوں نے مزید بتایا: ’’یہ سب پچھلے بیس سالوں سے اسی طریقے سے کمائی کر رہے تھے۔ آخر کار آج قانون نے انہیں پکڑ لیا ہے‘‘۔
میں نے آفیسر…

مزید پڑھیں

اِک پھول کامضموں ہو توسو رنگ سے باندھوں ۔ شاہدہ کرام

حویلی کے سامنے آہنی دروازہ کے پارکھلی سڑک پر کھیل کی دیوانی اپنی باری کی حریص شاہ زادی کی نظریں سٹاپو سے ہٹ کر کہیں اور ہی ٹک گئی تھیں ۔ہمجولیاں سکتہ کے عالم میں اُسی سمت تکنے لگ گئیں ۔اُڑتی دھول کے سوا انہیں تو کچھ نظر نہ آرہا تھا ۔ یکدم شہزادی نے گیند کودُور اُچھالا اور سر پٹ سامنے سیدھی سڑک پر دوڑ لگا دی ۔سکھیاں آواز یں دیتی رہ گئیں اور وہ ہرنی کی سی قلابیں بھرتی نظروںسے اوجھل ہو گئی اور رُکی تو اماں کی بغل میں جا کر ۔ جو ابا کی خدمت گزاری سے فراغت و اجازت پاکر دنوں بعد اپنے بھائی کے گھر خیر خیریت کاپتہ کرنے گئی تھیں۔
شاہ زادی نے اماں کا بازو پکڑ زور زور سے کھینچنا جو شروع کیاتو وہ بھی پریشانی میں بول اُٹھیں۔
’’ کچھ بتائو تو سہی کیا ہؤا ؟‘‘
نظر جواٹھائی تو شازو شدت جذبات سے سرخ چہرہ لیے اماں کو اور زور سے کھینچنے لگی۔
’’ گھرچلیں جلدی کریں ‘‘ سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا ، اور چہرہ تو ویسے ہی قندھاری انار کی طرح سرخ رہتا تھا ۔ آج تو دو چندہو رہا تھا۔
’’ اللہ خیر کرے ، یہ لڑکی تو اپنی کھیل اور باری…

مزید پڑھیں

روایات یا کچھ اور ۔ حبیب الرحمٰن

روایات کی پاسداری اصل حکم شریعہ سے بڑھ جائے یا یہ خیال غالب آنے لگے کہ لوگ کیا کہیں یا سوچیں گے، تو ہم حقیقتاً عبادت کی اصل روح سے باہر آجاتے ہیں روایت کے معنی کچھ اس طرح ہیں۔ کسی دوسرے کی بات کو نقل کرنا، اصطلاحِ محدثین میں آنحضرت ﷺ کے کسی قول یا فعل کو یا اُن کے زمانے کے کسی واقعے کو بیان کرنا خواہ وہ راوی نے خود سنا یا دیکھا ہو یا کسی دوسرے راوی سے نقل کیا ہو، راوی کا قول، سرگزشت، حکایت، قصہ، کہانی، ذکر، اذکار اور بیان وغیرہ۔
برِ صغیر پاک و ہند کے نوے فیصد مسلمانوں کے متعلق میری ناقص رائے یہی ہے کہ روایات کے سلسلے میں یہ اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ اکثر معاملاتِ شریعہ میں وہ روایات پر عمل کرنا اصل دینی تقاضوں سے کہیں بڑھ کر مانتے اور اس سے ذرا بھی ہٹ کر چلنے کو گناہِ کبیرا میں شمار کرتے ہیں۔
جان کی امان پاتے ہوئے چند باتیں میں صاحبانِ علم و بصیرت کے سامنے رکھنا چاہوں گا اور خواہش رکھوں گا اگر میں کہیں غلطی پر ہوں تو میری رہنمائی اور اصلاح کی جائے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ نمازیں جس…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

21 ستمبر کو ہم وینس (اٹلی) سے میلان اور وہاں سے ٹرین تبدیل کر کے لوگانو (سوئٹزرلینڈ) میں داخل ہوئے۔ میلان (اٹلی) سے لوگانو روزانہ 37 ٹرینیں چلتی ہیں۔
سوئٹرز لینڈ وسطی یورپ کے جنوبی طرف خوبصورت پہاڑوں سے گھرا ملک ہے اور یہ دنیا میں سیاحت کے لیے سب سے زیادہ قابل دید خطہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مشرق میں آسٹریا، مغرب میں فرانس، شمال میں جرمنی اور جنوب میں اٹلی موجود ہے۔ ملک کا زیادہ تر حصہ ایلپس Alps کے پہاڑوں سے گھرا ہو&ٔا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ملک ننانوے نمبر پہ آتا ہے۔ سوئٹرز لینڈ کی زمین پہ آج تک کسی نے قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی اس نے کسی اور ملک پہ چڑھائی کی ہے اور گزشتہ ڈیڑھ صدی سے کسی جنگ میں ملوث نہیں ہؤا اور کسی کی حمایت میں سہولت کار نہیں رہا۔ 2002میں اس نے اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کی۔ یہاں کی چار سرکاری زبانیں رومانین، فرنچ، اٹالین اور جرمن ہیں۔
ہم لوگانو شہر کے ریلوے اسٹیشن پہ اترے جو سویٹزر لینڈ کے جنوب میں واقع ہے۔ یہاں سے چھ نمبر بس کا تھوڑی دیر انتظار کیا اور پھر ہم اپنے میزبانDemitry Anisimov کے فلیٹ نمبر چار میں موجود تھے…

مزید پڑھیں

ایک عہد کو الوداع محمد احسن صاحب کی یاد میں ۔ آسیہ راشد

محترمہ شاہدہ کرام صاحبہ سے محمد احسن صاحب کے انتقال کے حوالے سے بات ہوئی تو اُنہوں نے کہا میں ملتان میں ہوں، اس موقع پر خود آ نہیں سکی، مگر براہِ کرم آپ وہاں کا آنکھوں دیکھا حال لکھ دیں تاکہ مجھے یوں محسوس ہو کہ میں بھی آپ کے ساتھ وہاں موجود تھی۔
یہی خواہش اس تحریر کی بنیاد بنی۔ میں لکھتے ہوئے بار بار رُکی، سوچتی رہی، اور یہ محسوس کرتی رہی کہ یہ رخصتی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک عہد کی رخصتی ہے۔ احسن صاحب صرف پانچ بیٹیوں کے والد نہیں تھے، وہ علم، ادب، شفقت، رفاقت،اخلاقیات اورعظمتِ کردار کا ایک ایسا پیکر تھے، جو برسوں دلوں میں روشنی بانٹتا رہا۔
25 مئی 2025ء کی دوپہر، بیتِ احسن کا منظربہت سوگوار تھا۔دوپہر کا وقت تھا، جب ہم وہاں پہنچے۔ دروازےکے اندر قدم رکھا تو ایک عجیب سی کیفیت نے دل کو گھیر لیا۔ گھر کے باہر مرد حضرات کے لیے نشست کا باوقار انتظام تھا۔ چہرے اداس، آنکھیں نم… فضا میں گہرے دکھ کی نمی پھیلی ہوئی تھی۔اندر پہنچے تو وہی لاؤنج، جہاں پچھلے چالیس برس سے’’حریمِ ادب‘‘ اور ہفتہ وار درس قرآن کی محفلیں منعقد ہوتی تھیں، خاموش اور سوگوار تھا۔ وہی جگہ جو فکری…

مزید پڑھیں

محشرِ خیال ۔ پروفیسر خواجہ مسعود

پروفیسر خواجہ مسعود۔ راولپنڈی
’’ چمن بتول‘‘ شمارہ جون 2025ء اب کے موسم کی مناسبت سے ٹائٹل مبرّف سرخ مشروب سے سجا ہؤا ہے بےاختیار پینے کو دل چا رہا ہے ۔
اداریہ میں آپ نے بھارت کی حالیہ جارحیت کا اچھی طرح پوسٹ مارٹم کیا ہے ۔ اور اسرائیل اور بھارت (نتین یاہو اور نریندر مودی) کے مذموم گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا ہے ۔ آپ نے واضح کیا ہے کہ ادھر اسرائیل نے غزہ میں مظلوم مسلمانوں کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے اور ادھر مقبوضہ کشمیر میں یہی مذموم کھیل مظلوم کشمیری مسلمانوں کے ساتھ رچا رکھا ہے لیکن اس چار روزہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں ۔
’’ قرآن سے تعلق‘‘( ڈاکٹر میمونہ حمزہ صاحبہ آپ نے واضح کیا ہے کہ قرآن ایک عالمگیر اور الہامی کتاب ہے ۔ اس میں تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی موجود ہے لیکن لازمی ہے کہ قرآنی ہدایات و تعلیمات پر صدقِ دل سے عمل کیا جائے۔ ان پر غور و فکر کیا جائے کہ قرآنی تعلیمات ہمیں روشنی کی طرف لے جاتی ہیں ۔
’’ محرم الحرام (شگفتہ عمر صاحبہ)محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور مقدس مہینہ ہے ۔ یوم عاشورہ کو…

مزید پڑھیں

الوداع ۔ سنیہ عمران

بعض دفعہ زندگی بہت عجیب سا تجربہ دیتی ہے۔زندگی نام ہی تجربات کا ہے۔کچھ حقیقتوں کو الفاظ کا پیراہن پہنانا ممکن نہیں ہوتا بس ذرا کوشش ہوتی ہے بیاں کی ۔
زندگی میں الوداع کا لفظ جب بھی آتا ہے کچھ دیر کے لیے ہم ساکن ہوا کی طرح ٹھہر سے جاتے ہیں ۔جدائی ہمیشہ ابدی نہیں ہوتی ا س کی کئی شکلیں ہیں۔ کبھی ذمہ داریوں کی تبدیلی کی صورت کبھی جگہ کی تبدیلی کی صورت کبھی شہر کی تبدیلی کی صورت غرض یہ جس شکل میں بھی ہو اس فرد کو الوداع کہنا آسان نہیں ہوتا۔جانے والا بھی ظاہر ہے اس جگہ اپنا وقت ، طاقت ،صلاحیت لگا چکا ہوتا ہے اسے بھی فطری بات ہے محسوس تو ہوتا ہے اپنی اپنی شخصیت کی بات ہے ۔
کچھ الوداع بھی یوں کرتے ہیں یاد رہتا ہے کہ کسی نے الوداع کہا تھا ۔
ہماری زندگی کی تبدیلیاں ہماری شخصیت پہ اثر چھوڑتی ہیں ہم خود کو روبوٹ ثابت کرنے کی بجائے انسان سمجھیں تو آسانی رہے گی تا کہ جو خود کو انسان سمجھ کر ردعمل دے رہا ہے، ابنارمل نہ لگے ۔ایک بلی مقررہ وقت پہ ہمارے گھر روز آتی ہے فطری بات ہے ہم اس کے عادی ہو جاتے…

مزید پڑھیں

مکان‘ فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں! ۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

چھے دہائیوں پر مشتمل اپنی اس مختصر سی زندگی کہ جس کا بیشتر حصہ صرف چار مکانوں میں گزر گیا، پہ غور کرتا ہوں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ دو کمرے، ایک رسوئی والے کچے مکان سے شروع ہوئی تھی اور ایک دن کسی دو گز کے بغیر رسوئی اور رسائی والے کچے مکان پہ اچانک ختم ہو جائے گی۔ مذکورہ گھر کا مناسب سا ایک ایسا صحن تھا، جس سے متعلق سبطِ علی صبا جیسے حسّاس شاعر کو بجا طور پر یہ کہنے کی تحریک ہو سکتی کہ: لوگوں نے مِرے صحن میں رستے بنا لیے صحن کو ایک دوشاخی اور شوخی نِم (نیم) نے اپنی ہریالی اور خوشحالی سے سجا رکھا تھا۔ ہمیںنمولیوں اور جھولے کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ، اس نِم کا سایہ پورے گاؤں کی خواتین کے لیے ایک تفریحی و تشریحی پلیٹ فارم بھی تھا۔ گرمی کی دوپہروں میں راحت اور استراحت کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کام، ہر طرح کے مشورے، ٹوٹکے، عیادت، عبادت، حکمت، لین دین، رشتے ناطوں کی تفاصیل، شکوے شکایتوں کی زنبیل، پوٹا سوَیّاں، ٹوٹا چغلیاں، ُاَج کیہہ پکائیے‘ والے منصوبے، اسی کی چھتر چھاؤں میں پروان چڑھتے تھے۔ صحن کے آخر میں ایک ہتھ نلکے یعنی ہینڈ…

مزید پڑھیں

پہچان ۔ بشریٰ تسنیم

اللہ رب العزت نے ہر شے کو پیدا کیا اور اس کو مخصوص شناخت،یا پہچان عطا کر دی۔ ہر چیز اپنی شناخت اور پہچان ہی کے دم سے قائم ہے۔ ہر شے کا وجود اسی وقت تک قابلِ ذکر ہے جب تک اس کی شناخت زندہ ہے۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنا وجود، اپنی پہچان اور اپنے تشخص کا داعی ہے۔ آسمان کا وجود ان گنت اسرار و رموز سے وابستہ ہے۔ کچھ نظر آنے والے اور بہت کچھ نظر نہ آنے والے شہود ہی اس کی شناخت ہیں۔ دیکھنے والے کی نظر کے محدود یا لامحدود ہو جانے کے ساتھ ساتھ آسمان و کائنات کی شناخت بدلتی جاتی ہے۔ یہ نظر کے زاویے ہی ہیں جو دل کے سمندر میں اٹھنے والے طوفان کو افلاک سے جا ملاتے ہیں۔
آفتاب اپنی حرارت اور روشنی سے ممیز ہے۔ ماہتاب، ٹھنڈی روشنی،نور، خوبصورتی کے اسرار سے موسوم ہے۔ ستارے اپنی معصومیت، جگمگاہٹ، راستہ کی نشان دہی کرنے کی شناخت پر نازاں ہیں۔ پھول،پھل، پودے، شجر، حجر، صحرا، موسم، دریا، پہاڑ، پانی، ہوا، سب اپنی شناخت رکھتے اور اس کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ کائناتِ رنگ و بو میں ہر شے اپنی حقیقت کو جانتی ہے اور اسی کے مطابق اپنی راہ پہ…

مزید پڑھیں

لا مقام لکم فی ارضنا ۔ میر بابر مشتاق

الحمدللہ!
جنہوں نے لا الٰہ کہا
وہ آج بھی زندہ ہیں
جنہوں نے سجدے صرف خدا کو کیے
ان کی مٹی آج بھی بے قیمت نہیں…!

اے غاصبو!
سن لو…
لا مقام لکم فی ارضنا
یہ سرزمین کسی فرعون،
کسی نمرود،
کسی امریکہ یا صہیون کا ٹھکانہ نہیں
یہ ابراہیمؑ کی سرزمین ہے
جہاں آگ میں کودنا عزت ہے،
جہاں تنہا کھڑے رہنا
فتح کا پہلا زینہ ہے۔
یہ زمین ہماری ہے!
ہم نے اسے خون سے سینچا ہے،
ہماری ماؤں نے یہاں لوریاں نہیں،
دعائیں دی ہیں
’’اے اللہ! بیٹا تیرا ہو،
اور مرے شہادت میں‘‘۔

اے طاغوت کے کارندو!
تم نے سمجھا تھا؟
ہم بھاگ جائیں گے؟
تم ڈالر پھینکو گے
اور ہم کلمہ بھول جائیں گے؟

نہیں!

ہم زندہ ہیں…
اور جب تک ایک بھی بندہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہتا ہے —
تمہارے لیے
لا مقام لکم فی ارضنا!
یہ مسجد اقصیٰ ہو،
یا کشمیر کی وادی،
یہ غزہ کی مٹی ہو،
یا کابل کی گلی،
یہ ہر پتھر گواہ ہے کہ:
ہم نہ جھکے ہیں
نہ جھکیں گے!
ہماری رگوں میں خون ہے،
ایمان ہے،
دعاؤں کی حرارت ہے،
اور شہادت کا شوق ہے۔

تو جس دن تم نے قدم بڑھائے،
ہم تمہیں تاریخ میں دفن کر دیں گے…
اور ہماری اذانیں
تمہارے برباد کھنڈرات پر گونجیں گی۔
اے غاصبو!
یہ آخری وارننگ ہے:

’’لا مقام لکم فی ارضنا!‘‘
ہماری سرزمین میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں!

نہیں!

مزید پڑھیں