بتول اگست ۲۰۲۵

ابتدا تیرے نام سے – صائمہ اسما

قارئین کرام !سلام مسنون
قیام پاکستان کی سالگرہ کا مہینہ ہے۔اللہ اس وطن کو تاقیامت شاد آباد رکھے، اس کو ترقی، امن، انصاف اور دین کی تمامتر خوبصورتیوں کا جیتا جاگتا مظہر بنائے آمین۔
کوئٹہ کے نواح میں ہونے والے دلخراش واقعے میں ایک مرد اور عورت کو غلط تعلقات پر قتل کردیا گیا اور واقعے کی ویڈیو بنائی گئی۔ اس ویڈیو کے پھیلنے پر شدید ردعمل سامنے آیا اور قانون حرکت میں آنے پر مجبور ہؤا۔ ابھی تک صرف کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں، مگر ایسے معاملات میں انصاف ملنے کی توقع نہیں ہوتی کیونکہ مجرمان بااثر ہوتے ہیں۔ غیرت کے نام پر یہ قتل رشتہ داروں اور برادری کے لوگوں نے اپنی ’’قبائلی روایات‘‘  کی بنیاد پر کیا۔یہ واضح نہیں کہ اس میں قبائلی جرگہ نظام اور سردار کا کوئی کردار تھا یا نہیں، لیکن اگر ہو بھی تو قبائل کی ایسی روایات جو آئین پاکستان سے ٹکراتی ہوں ان میں ریاست کو حرکت میں آنا چاہیے۔پاکستان میں قتلِ غیرت کے خلاف قانون سازی موجود ہے، 2016 میں اس ایکٹ میں مزید اصلاحات کی گئیں۔ مگر چونکہ ایسے کیسوں میں دوٹوک فیصلہ نہیں آتا اور انصاف نہیں ملتا، تو اس جرم کا تسلسل جاری ہے اور ہرسال اس کے اعدادوشمار بڑھے…

مزید پڑھیں

قرآن شاہ کلید انفاق و وسائل قرآن کی نظر میں – عالیہ شمیم

انفاق کے معنی خرچ کرنے کے ہیں۔مال خرچ کرنانفل یا اختیاری عمل ہے۔ چنانچہ ایسے نفل یا اختیاری خرچ کو جو ان ضرورت مندوں پر کیا جائے جن پر خرچ کرنا قانونی یا دینی فریضہ یا ذمہ داری نہ ہو، ’انفاق‘ یا صدقہ کہا جاتا ہے۔
انفاق فی سبیل اللہ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے انفاق صرف مال و دولت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر اس نعمت سے انفاق کیا جاسکتا ہے جس سے اللہ نے انسان کو نوازا ہے۔ انفاق کا مقصد معاشرے میں سماجی انصاف قائم کرنا اور ایمان و بھائی چارہ کو فروغ دینا ہے۔تزکیہ نفس ، روح کی نشوونما،مال و دولت میں مساوات برقرار کرنا اور آخرت میں اجر و ثواب انفاق کے اثرات میں سے ہیں۔
انفاق اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے اور اس کے فائدے بھی بہت ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اللہ انفاق کا اجر700گنا بلکہ اس سے بھی زیاد ہ بڑھا کر عطا کرتا ہے۔مزید یہ کہ انفاق فی المال سے اپنے سرمایہ دولت کو محتاجوں، ضرورت مندوں، اور ان کی معاشی تعطل کو پورا کرنا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔انفاق کی عملی تصویر مواخات مدینہ ہے اور احسان کی عملی صورت ہے۔
اسلام ایمان کے عملی…

مزید پڑھیں

دھوکہ اور فریب – ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ہر مسلمان کو دوسرے سے خیرخواہی کرنی چاہیے، بلکہ وہ اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ ایسا رویہ ہی معاملات کی شفافیت کا ضامن بنتا ہے ، جبکہ دھوکہ اور فریب رزائلِ اخلاق میں سے ہیں۔ دھوکہ ہر حالت میں مذموم اور ناقابلِ قبول ہے، خواہ وہ اللہ کو دیا جائے یا بندوں کو۔اور اسے معمولی برائی نہیں جانا جاتا بلکہ یہ بہت بڑی برائی ہے۔قرآن و سنت میں دھوکا بازوں کو بدترین قرار دیا گیا ہے۔ د ھو کہ حقیقت پر پردہ ڈالنا اور وہ دکھانا ہے جو دراصل نہیں ہے۔
عربی زبان میں دھوکے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں :
خداع:
خداع کے لغوی معانی دھوکے کے ہیں۔جب کوئی شخص لوگوں کے درمیان مکر اور فریب سے معاملات کرتا ہے۔
اس کے لیے ’’مکر‘‘ ’’غشّ‘‘ ’’حیلہ‘‘ اور ’’خدیعہ‘‘ کے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں۔اسلام دھوکے کی سخت مذمت کرتا ہے۔لوگوں کو دھوکہ دینا قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ مسلمانوں کا شعار نہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا غلّے کے ایک ڈھیر سے گزر ہؤا، پس آپؐ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو اس میں تری محسوس کی (یعنی غلّہ اندر سے گیلا تھا)،…

مزید پڑھیں

آپﷺ کی گھریلو زندگی – افشاں نوید

رسول کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی کا مطالعہ کرنے سے بہت ہی قیمتی اور اعلیٰ اصولوں تک ہماری رسائی ہوتی ہے۔افسوس کہ مستشرقین نے سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی ہی کو نشانہ بنایا اس لیے ضرورت ہے کہ ہم آپ کی زندگی کے اس پہلو کا تفصیل سے مطالعہ کریں اور اپنے لیے رہنمائی حاصل کریں ۔
گھر سماج کا بنیادی ادارہ ہے۔ہر ادارے کا کوئی منتظم اعلیٰ ہوتا ہے۔ اسلامی شریعت منتظم مرد کو قرار دیتی ہے جو نان نفقے سمیت تمام امور کا نگران ہے۔عورت اس کی ملازمہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ گاڑی کے دوسرے پہیے کی حیثیت سے اس کی معاون اور مددگار ہے۔آپس میں رشتہ حاکم اور محکوم کا نہیں بلکہ محبت ومودت کا ہے۔
آپ ؐ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’مرد اپنے اہل خانہ کا نگران و ذمہ دار ہے اور ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا‘‘(صحیح بخاری)۔
ایک طرف آپؐ بہترین حکمران، بے مثال سپہ سالار و قا ضی، دیانت دار تاجر تھے تو دوسری طرف ایک کامل شوہر کا نمونہ بھی آپ کی ذات مبارکہ ہی ہے۔فرمایا گیا: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ۔ (الاحزاب۔ 21)
اسوہ مطہرہ گھر کے ادارے کے لیے بھی نمونہ…

مزید پڑھیں

علم وفکر میں ترجیحات – علامہ یوسف القرضاوی

علامہ کی معرکۃ الآرا تصنیف’’ فی الفقہ الاولویات ‘‘ سے ایک باب، جس کا ترجمہ ’’ دین میں ترجیحات‘‘ کے عنون سے گل زادہ شیر پائو نے کیا ہے ۔ یہ کتاب امت کو دین میں افراط و تفریط سے بچنے کے لیے رہنمائی پر مشتمل ہے

علم مقدم ہے عمل پر
شرعی طور پر اہم ترین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ علم عمل پر مقدم ہے۔ کیوں کہ علم پہلے ہوتاہے اورعمل بعد میں۔ علم عمل کا رہنمااورمرشد ہوتاہے۔ حضرت معاذؓ کی حدیث میں ہے کہ:
اَلْعِلْمُ إِمَامٌ وَّالْعَمَلُ تَابِعُہٗ۔
علم امام ہے اور عمل اس کا مقتدی ۔
یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب العلم میں ایک باب کا عنوان رکھاہے: بَابٌ اَلْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ(علم قول او رعمل پرمقدم ہے)۔
بخاری کے شارحین کہتے ہیں کہ اس سے امام بخاری کا مطلب یہ ہے کہ قول اور عمل کی صحت کے لیے علم شرط ہے۔ یہ دونوں اس کے بغیر معتبر نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ان پر مقدم ہے۔ یہاں تک کہ یہ اس نیت کی بھی تصحیح کرتاہے جوعمل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ شرّاح بخاری کہتے ہیں کہ امام بخاری نے اسی کی طرف لوگوں کو متوجہ کیاہے تاکہ جب یہ کہاجاتاہے…

مزید پڑھیں

نعت – احمد ندیمؔ قاسمی

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا

تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں
نور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا

کچھ نہیں سوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے
چھلک اٹھتا ہے میری روح میں مینا تیرا

پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا

دستگیری میری تنہائی کی تو نے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا

لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا

تو بشر بھی ہے مگر فخرِ بشر بھی تو ہے
مجھ کو تو یاد ہے بس اتنا سراپا تیرا

میں تجھے عالمِ اشیا میں بھی پا لیتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ ہے عالمِ بالا تیرا

میری آنکھوں سے جو ڈھونڈیں تجھے ہر سو دیکھیں
صرف خلوت میں جو کرتے ہیں نظارا تیرا

وہ اندھیروں سے بھی درّانہ گزر جاتے ہیں
جن کے ماتھے میں چمکتا ہے ستارا تیرا

ندیاں بن کے پہاڑوں میں تو سب گھومتے ہیں
ریگ زاروں میں بھی بہتا رہا دریا تیرا

شرق اور غرب میں نکھرے ہوئے گلزاروں کو
نکہتیں بانٹتا ہے آج بھی صحرا تیرا

اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ہے تجھ سے
رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا…

مزید پڑھیں

غزل – حبیب الرحمٰن

تمام شوخی و چہرے کا رنگ اتار گیا
ہمیں اصولوں پہ چلنے کا خبط مار گیا
جناب رکھتے ذرا تو لحاظِ کج نَظَری
وہ تیر کیا ہے جو سینے کے آر پار گیا
مجھے تو مرنا پڑا یوں، کہیں نہ لوگ کہیں
ترے بغیر کوئی زندگی گزار گیا
تمہارا ریشمی جوڑا خرید لایا، مری
گو تار تار قبا کا ہر ایک تار گیا
وہ جن پہ مان تھا تیرا کڑے سمے پہ گئے
بس ایک میں تھا کہ جو تجھ پہ جاں نثار گیا
ملو ہر ایک سے لیکن ذرا سنبھل کے ملو
میں بن کے تیری نگریا میں اک پکار گیا
ہیں پا پیادہ کڑے وقت تیرے ساتھ کھڑے
مگر جو دوشِ ہوا پر تھا ہر سوار، گیا
جُوں تیرے ہونٹوں سے سگریٹ گری بجھی ہوئی سی
توں میرے ہاتھ سے جلتا ہوا سگار گیا
زمانہ کاٹ بھی دے اب، تو یہ خوشی نہیں کم
کہ میرا ہاتھ تری زلف تو سنوار گیا
اے میری ماں تو مرا بچپنا ہی دے کہ مرا
لڑک پنا تو تری گود سے اتار گیا
نہیں تھا میں جو ترا کچھ حبیبؔ پھر یہ بتا
مچی ہے کیسی ہراک سو یہ ہاہاکار، گیا

مزید پڑھیں

خوں ہی خوں لکھا – رفعت عزيز صبا

’’غزہ‘‘ لکھا تو پھر نوکِ قلم نے خوں ہی خوں لکھا
ہیں سب شہدا شریکِ زمرہِ لا یحزنوں لکھا

جو چشمِ وقت نے دیکھا یہ قتل عام غزہ میں
سیہ قرطاس پر نوحہ برنگِ خاک و خوں لکھا

غم و آلام کی شدت میں جب پوچھا تو قرآں نے
علاج اس قلبِ مضطر کا فقط صبر و سکوں لکھا

جو راہِ حق میں اپنا مال و جاں ، اولاد وار آئے
انہیں دنیا پرستوں نے تو اصحابِ جنوں لکھا

عقابی روح لے کر لشکرِ باطل سے ٹکرانا
اسے اقبال نے عقل و خرد ، سوزِ دروں لکھا

سنو!قبضہ ہؤا جب نظم تعلیمی پہ الحادی
تو پھر فسق و فجور و جہل کو علم و فنوں لکھا

مجھے الفاظ کی جادوگری سے کچھ نہیں مطلب
میرے جذبات کو میرے قلم نے جوں کا توں لکھا

صباؔ نے آخرِ شب ہاتھ پھیلائے ، دعا مانگی
تو اشکوں نے ہتھیلی پر مسلمانوں کا خوں لکھا

مزید پڑھیں

زیتون کا سایہ ۔ عالیہ شمیم

رات کی سیاہی میں، جب غزہ کے آسمان پر دھماکوں کی روشنی قندیلوں کی جگہ لے چکی تھی، ایک ننھا بچہ، زید، اپنی ماں کے ساتھ زیر زمین پناہ گاہ میں بیٹھا آسمان کی طرف تکتا رہتا۔ اسے یاد تھا کہ دادا جان کہا کرتے تھے:’’جب زیتون کے درخت کی چھاؤں میں سکون سے بیٹھ سکو گے، سمجھو کہ امن واپس آ گیا‘‘۔
دن گزرتے گئے۔ جنگ کی گھن گرج کے بیچ زید بڑا ہوتا گیا۔ اب وہ نو برس کا ہو چکا تھا جب حملے تیز ہونے شروع ہوگئے تھے، اور گھروں کی چھتیں گرنے لگی تھیں۔ اس روز اس کو کھانسی و بخار تھا جب اس کی ماں لیلیٰ دوائی لینے اسپتال گئی۔لیکن اسپتال کی عمارت کو راکھ کے ڈھیر میں دیکھا تھا۔ وہاں زندگی دم توڑ چکی تھی، جہاں کبھی دروازے کے باہر تڑپتے مریض، دوڑتے مسیحا،اور گردش کرتی دعائیں ہر کونے میں کھڑے رشتہ داروں کی نم آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں سے پھیلی نظر آتی تھیں اب وہاں مکمل خاموشی تھی۔آکسیجن کے سلنڈر بکھرے پڑے تھے۔اور اطراف میں خون آلود بستر، کٹی پھٹی لاشوں کے ڈھیر کو دیکھ کروہ پلٹ آئی تھی۔ماں کے دھواں دار چہرے اور دوائی بنا خالی ہاتھ،ویران آنکھیں زید کو بہت کچھ سمجھا…

مزید پڑھیں

سورج مکھی اور محبت – نصرت یوسف

سیپیاں… چھوٹی چھوٹی، ٹوٹی پھوٹی، کچھ مکمل، کچھ بےترتیب۔ جنہیں سمندر نے فراخی سے ریت پر بچھا دیا تھا ۔ وہ ساحل پر گھٹنوں کے بل بیٹھی تصویریں لے رہی تھی، نہ جانے سیپیوں کی یا اُن لمحوں کی جو واپس نہیں آئیں گے۔
سورج آخری بار افق کو چوم کر رخصت ہو رہا تھا، لگتا تھا پانی کے کناروں پر نارنجی رنگ جیسے کسی آرٹسٹ نے پانی میں برش بھگو کر لگا دیا ہو۔
ایک لمحے کو وہ رُکی، اور موبائل نکال کر لکھا:
’’میرا دل چاہتا ہے کوئی مجھ سے ایسی محبت کرے جیسے سورج مکھی سورج سے کرتا ہے، جدھر جدھر سورج گھومے، اُدھر اُدھر مکھ‘‘۔
بس ایک جملہ… وہ اس کے دل سے نکلا اور اس نے بھیج دیا۔
اگلے لمحہ وائبریشن ہوئی۔ جواب آچکا تھا ،اس کے لب مسکرا اٹھے ۔
اسے امید تھی سلطان نے بھی کوئی اچھا جواب دیا ہوگا ،سیدھے کھڑے ہوتے اس نے موبائل تھاما۔
’’میڈم، ٹھنڈے پانیوں میں کھڑے ہو کر تپش اور اس کی برداشت کی بات کرنا ایڈونچر ہوتا ہے، جسے ادھورا بھی چھوڑا جا سکتا ہے‘‘۔
اُسے لگا جیسے کسی نے اینٹ مار دی ہو۔ پلکیں جھپکیں، ہونٹ سکوڑے، اور دل نے بےاختیار کہا:
اجڈ!
کیکٹس!
کریلہ!
وہ چاہتی تھی کوئی یہ نہ کہے کہ سورج کی تپش سے…

مزید پڑھیں

زاویہ ۔ عافیہ رحمت

الفاظ جادو ہوتے ہیں… سہارا ہوتے ہیں، سوچوں کا دھارا موڑ دیتے ہیں، طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی سکت بیدار کرتے ہیں!

’’مجھ سے کچھ بھی نہیں ہوتا، بس میں یہ سمجھتی ہوں کہ میں سب کر سکتی ہوں، مگر ایسا ہے نہیں‘‘۔
مسفرہ افسوس سے کہہ رہی تھی۔ سارا ایک گھنٹے سے اس کو سمجھانے میں لگی ہوئی تھی، مگر بے سود۔ اس کی بس ایک ہی رَٹ تھی’’میں بالکل بیکار، بے مقصد انسان ہوں‘‘۔
اس طرح کے حالات انسان کے اندر سے خود بخود ایک بہت زبردست، باصلاحیت اور منظم سسٹم کو باہر نکالتے ہیں۔تم اس پر نظر کرو،‘‘ ۔
سارا ایک بار پھر اس کو روشنی کی طرف دھکیل رہی تھی۔
’’حالات کے اتار چڑھاؤ ہر فرد کی زندگی میں آتے ہیں۔ اصل ہنر یہ ہوتا ہے کہ ہم اس کو کس طرح ٹریٹ کرتے ہیں۔ خود سے لڑ جھگڑ کر، کوس کر، خود کو اور زیادہ خراب حالات میں لا کھڑا کرتے ہیں یا پھر نئے سِرے سے، نئے دروازوں کی طرف چل پڑتے ہیں‘‘۔
سارہ نے آخری تبصرہ کرتے ہوئے بات ختم کی۔
مسفرہ اور سارا دو بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ مسفرہ تھوڑی خاموش، محنتی اور ذہین لڑکی تھی۔ زیادہ تر پڑھائی میں سنجیدہ ہی رہتی۔ سارا اس کی اُلٹ تھی: بے…

مزید پڑھیں

رشتے نہیں بدلتے – روزینہ خورشید

’’احسن… احسن! دروازہ کھولو‘‘۔
طلحہ نے دروازہ پیٹتے ہوئے زور زور سے بہت سی آوازیں دیں۔ کوئی جواب نہ پا کر دروازہ توڑ دیا گیا ۔ وہ اور احسن کی امی جب اندر داخل ہوئے تو دیکھا احسن بستر پر اوندھا پڑا تھا۔ساتھ ہی بستر پر دوا کی خالی شیشی پڑی تھی۔
طلحہ نے دوا کا نام پڑھا اور زور سے چیخا ۔
’’اوہ خدا !اس نے نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھا لی ہیں ، آنٹی آپ دعا کریں….. احسن کوکچھ نہیں ہوگا ‘‘۔
وہ جلدی سے اسے کاندھے پر اٹھا کر دروازے کی طرف بھاگا ۔
٭
احسن اور طلحہ بچپن کے دوست تھے۔ایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے دونوں نے بچپن ،لڑکپن اور تعلیمی سفر ایک ساتھ طے کیا تھا اور اب بھی ایک ہی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔دونوں ہی اپنے گھروں کی اکلوتی نرینہ اولاد تھے۔طلحہ کی تو ایک چھوٹی بہن بھی تھی مگر احسن بہن کی نعمت سے محروم تھا۔
احسن کی والدہ نازیہ اپنے والدین کے گلشن کا آخری پھول تھی اور تین بھائیوں کے بعد دنیا میں آنے کی وجہ سے گھر بھر کی لاڈلی بھی۔ والدین اور بھائیوں کے بے جا لاڈ پیار نے اسے ضدی اور خودسر بنا ڈالا ۔ اسلم صاحب اپنی بیٹی…

مزید پڑھیں

وہ جو رابعہ تھی – آسیہ راشد

رات کے پچھلے پہر رابعہ اپنے سٹڈی روم میں ایک خالی رجسٹر اور قلم لیے بیٹھی کچھ لکھنے کا ارادہ کر رہی تھی۔ اس کے کمرے کی دیواروں پر فریم شدہ اعزازی سندیں اور کارننس پر سجے میڈلز آویزاں تھے۔ چاندنی کمرے میں جھانک رہی تھی۔ رابعہ نے سرگوشی کی جیسے وہ ماضی کی یادوں کو ان صفحات میں قلم بند کر رہی ہو اور پھر اس کا قلم رواں ہو گیا ۔
’’انسان اپنے گناہوں کی سزا سے نہیں اپنے سچ کی قیمت سے قید ہوتا ہے۔‘‘
٭
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا دروازہ بند ہو چکا تھا، دنیا پیچھے رہ گئی تھی، میرا گھر، میرے بچے ،شجی کی آنکھیں، سب ایک دھند بن چکے تھے۔
جیل کی ہوا میں ایک عجیب بو تھی، انسانوں کے ٹوٹنے کی ،خوابوں کے بکھرنےکی اور خاموش چیخوں کی ۔وہ جیل میںمیرا پہلا دن تھا۔
کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا تھا۔ کچھ قیدی عورتیں مجھے حقارت سے دیکھتی تھیں، کچھ ترس سے کچھ حیرت سے ۔میں ان کی نظروں سے اپنی تقدیر پڑھنے لگی تھی ۔
سفید چادر، خاموش آنکھیں اور بے نیازی کا ایک نور ان کے چہرے پر تھا ۔وہ بی بی عائشہ تھیں۔ وہ میرے سامنے آکر بیٹھ گئیںاور کہنے لگیں:
’’ سچ بولنے والوں…

مزید پڑھیں

لہریں – مریم روشن

تیرنا سکھانا ہو تو مچھلی کو سمندر میں ڈالنا پڑتا ہے۔ حوض میں رہنے والی مچھلی کی دنیا اتنی محدود ہو گی
کہ وقت پڑنے پہ سمندر کا سامنا اسے مار ڈالے گا! اس کی کہانی جس کی ناقدری کی گئی تھی

سہیلہ بیگم کے کان میں ابھی تک باسطہ کی آواز گونج رہی تھی ۔ انہوں نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنے چہرے پہ ہلکی سی تھپکی دی ۔ کیا یہ ایک بھیانک خواب تھا؟
ایسا خواب کہ آنکھ کھل جائے مگر خواب کی ہیبت انسان کے پورے وجود پر طاری رہے ۔ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے انہوں نے تھوڑی دیر پہلے کے واقعے پہ غور کیا۔
وہ ناشتے کے بعد صحن میں تخت پر بیٹھ کے سرما کی دھوپ ہڈیوں کو لگا رہی تھیں ۔ ڈھلتی عمر کے ساتھ ہڈیوں کا حال یہ تھا کہ ذرا سے ہلنے پہ کسی بوسیدہ چارپائی کی مانند چٹخنے کی آواز آتی تھی ، عمر اتنی نہ تھی لیکن برصغیر کی خواتین کا مخصوص مزاج زندگی بھر رہا کہ صبح سے شام کاموں میں کھپتے ، گھر والوں کی خدمت کرتے اپنے آپ کو ایسا بھلایا کہ چالیس کے پیٹے سے پہلے ہی ہڈیاں چرچرانے لگیں، کمر درد سے بے کل اور آنکھیں نیند سے…

مزید پڑھیں

پانیوں پر دوسرا سفر – ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے میرا دل آرام کرنے کو چاہ رہا تھا۔
’’مگر اتنی رقم خرچ کر کے آرام تھوڑی کرنا ہوتا ہے‘‘۔
میاں کی بات یاد کرکے میں دل ہی دل میں ہنسی۔
گھر سے چار منٹ پیدل چلنے پہ شٹل چلتی تھی۔ شکر ہے وہ فوراً ہی مل گئی اور ہم برفانی غار کی زیارت کرنے پہنچ گئے۔
ایک لفٹ کے ذریعے ہم پہلے سٹاپ تک پہنچے پھر ٹیلی فیری کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی کی طرف جانا ایک خوب صورت تجربہ تھا، چاروں طرف برف چمک رہی تھی اگرچہ سورج نظر نہیں آرہا تھا۔ ایک نورانی سا احساس آسمان سے اترتا محسوس ہو رہا تھا۔
ٹیلی فیری سے اتر کر ہم برفانی سرنگ میں داخل ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ اس کے اندربرف پانچ ہزار سال سے منجمد ہے۔
اندر جانے سے پہلے خود کو اس طرح کی صورت بنانی چاہیے گویا آپ چاند پہ جارہے ہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی اپنے ملک کی کھیوڑہ والی نمکین غار یاد آگئی۔
یہاں چونکہ ہوا کی شدت نہیں تھی تو فوری ٹھنڈک کا احساس نہیں ہؤا تھا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ٹانگیں برفانی غار میں موجودگی پہ احتجاج کرنے لگیں۔ اضافی گرم کپڑے بھی ناکافی محسوس ہونے لگے۔
لمبی لمبی راہ داریاں، مختلف کمرے، برف کے…

مزید پڑھیں

خاموشی کی عمر – ڈاکٹر فرحین راؤ

ۜہر عورت کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جو شور نہیں کرتا، لیکن سب کچھ بدل دیتا ہے۔ نہ کوئی گھنٹی بجتی ہے، نہ کوئی واویلا ہوتا ہے، مگر اندر ایک دنیا خاموشی سے اُلٹ جاتی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب عورت مینوپاز (Menopause) کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے ۔ ایک ایسا دور جو صرف حیاتیاتی تبدیلی نہیں، بلکہ جذباتی، ذہنی اور سماجی سطح پر ایک خاموش زلزلہ ہے۔ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس زلزلے کی لرزشوں کو نہ دیکھتا ہے، نہ محسوس کرتا ہے، نہ تسلیم۔
عورت، جو خود کو کھونے لگتی ہے
مینوپاز عورت کی فطری ماہواری کے اختتام کا نام ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک دورِ تبدیلی ہے۔
اس دور میں وہ خود کو کبھی الجھا ہؤا، کبھی خالی، اور کبھی شدید جذباتی محسوس کرتی ہے۔ نیند کی کمی، موڈ کی تبدیلی، گرمی کے اچانک دورے (hot flashes)، بے چینی، اور ذہنی دھند — یہ سب اس کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سب چیزیں ’’برداشت کرو‘‘ کہہ کر نظرانداز کر دی جاتی ہیں۔
معاشرتی رویے: نہ سمجھے جانے کا دکھ
یہ سب صرف جسمانی آزمائش نہیں۔ اصل دکھ تب ہوتا ہے جب عورت کو اپنے ہی قریبی…

مزید پڑھیں

اپنا خیال رکھیں سیلف کیئرکےاصول جو ہر ایک کے لیے اہم ہیں – فریدہ خالد

’اپنا خیال رکھیں‘، یہ جملہ آپ نے کئی بار سنا اور کہا ہوگا۔
یہ بہت ہی اہم جملہ ہے اور ایک یاددہانی ہے ہمارے پیاروں کی طرف سے کہ ہم اپنا خیال رکھیں ۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا واقعی ہم اسے سنتے ہی اپنا خیال رکھنے کی طرف راغب ہوتے ہیں یا اسے ایک رسمی طور پر کہا جانے والا جملہ سمجھتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ اکثریت اسے ایک رسمی جملے ہی کی طرح لیتی ہے۔ پہلے میں نے بھی کبھی اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی لیکن اب بیماری سے صحت مندی کی طرف سفر کرتے ہوئے میری سوچ اور اپروچ دونوں ہی بدل گئیں ہیں ۔ اب جب بھی کوئی مجھے کہتا ہے’ اپنا خیال رکھیں یا ٹیک کیئر‘ تو میں فوراً سوچتی ہوں کہ اپنے اس خیرخواہ کی نصیحت پر اس وقت میں کیسے عمل کرسکتی ہوں اور حالات کے مطابق کچھ ایکشن ضرور لیتی ہوں چاہے وہ مسکرا دینا ہی کیوں نہ ہو کیونکہ مجھے معلوم ہے مسکرانا بھی دراصل اپنا بہت سا خیال رکھنا ہی ہے۔ اسی طرح جب میں کسی کو یہ جملہ کہتی ہوں تو پوری خیرخواہی کے ساتھ ، دل کی گہرائی سے کہتی ہوں ۔ اورساتھ ہی…

مزید پڑھیں

دی کنیکٹ سوشل میڈیا میٹ اپ – شہلا خضر

موجودہ دور ڈیجیٹل دنیا کا دور ہے جہاں خیالات، بیانیے اور نظریات صرف چند لمحوں میں کروڑوں ذہنوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک فکری میدانِ کارزار ہے، جہاں حق و باطل کے بیانیے برسرِ پیکار ہیں۔نوجوانوں کو اس نئے محاذ پر مؤثر انداز میں سرگرم ہونے کی تربیت دینا اہم ہے۔انہیں اپنے نظریات، اقدار، اور دین کی ترجمانی کے لیے جدید ترین ذرائع سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا کنیکٹ پروگرام اسی لیے ترتیب دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوان خواتین کو دعوت دی گئی تاکہ وہ جدید میڈیا ٹرینڈز اور ٹیکنیک سے آگاہ ہوں،مؤثر اور با مقصد مواد تخلیق کرنے کی مہارت حاصل کریں، اپنے فکری اور قومی بیانیے کو بہتر انداز میں فروغ دےسکیں،اور سوشل میڈیا کو محض تفریح نہیں، دعوت، شعور اور اصلاح کا ذریعہ بنا سکیں۔نوجوان ڈیجیٹل میدان میں نہ صرف موجود رہیں، بلکہ راہ دکھانے والے بن سکیں۔اس پلیٹ فارم پر نوجوان نسل کو نہ صرف اظہارِ رائے کا موقع ملتا ہے اور یہ شعور بھی کہ وہ کس طرح ایک باشعور، مہذب اور بامقصد ڈیجیٹل کارکن بن سکتے ہیں۔ یہ نوجوان خواتین جو مستقبل کی معمار بھی ہیں، جب وہ اپنے قلم،…

مزید پڑھیں

بتول میگزین – طلعت نفیس

امانتیں
طلعت نفیس
رات کی چادر سیاہی میں لپٹی ہوئی تھی، لیکن غزہ کی زمین پر روشنی تھی ۔ وہ روشنی جس کی کرنیں شہداء کے خون سے پھوٹ کر سای دنیا کو روشن کر رہی تھی۔ ان کے خون آلود لاشے جو خاموش تھے ۔ مگر ان ساکت اجسام نے ساری دنیا کو پیغام دیاتھا کہ یہ ظالموں کی دنیا ہے مظلوموں کی نہیں۔ جنہیں وقت سے پہلے ان جابروں نے مٹی کے حوالے کر دیا تھا، وہ ننھے جسم جو زندگی کے حرف بھی ٹھیک سے نہ پڑھ پائے تھے۔
ابو حمزہ ایک کمزور اور غم زدہ باپ تین چھوٹے سفید کفنوں کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ نہ چیخا، نہ رویا۔ بس یوں دیکھ رہا تھا جیسے آنکھوں کے راستے دل کی آواز بہہ رہی ہو۔ جیسے اس کی خاموشی ہی احتجاج تھی صبر تھااور دعا بھی۔ لوگوں کی بھیڑ تھی، لیکن وہ سب ایک طرف اور ابو حمزہ کا سایا ایک طرف۔
تینوں جناڑے ایک ترتیب میں رکھے تھے۔ سب سے چھوٹا معوذ کا ابھی تو چھ ماہ کا ہؤا ہے نا۔
اس کی بیوی لیلیٰ کی سرگوشی کانوں میں گونجی۔
ابو حمزہ نے لیلیٰ کی جانب زخم خورد نگایوں سے دیکھا۔ پھرجھکا اور چھوٹے کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے۔ اس کی…

مزید پڑھیں

محشر خیال – پروفیسر خواجہ مسعود

’’چمن بتول‘‘ شمارہ جولائی 2025ء سامنے ہے۔ٹائٹل مون سون کی موسلا دھاربارشوں کا منظر پیش کر رہا ہے۔اللہ ان بارشوں کو اہل ِ وطن کے لیے رحمت بنا دے۔
’’ابتدا تیرے نام سے‘‘ آپ نے ابتدا میں بجا طور پر پانی کے محتاط استعمال کی تلقین کی ہے کیونکہ پانی سے ہی زندگی ہے۔پھر آپ نے سانحہ دریائے سوات پر گہرے دکھ اور د رد کا اظہار کیا ہے۔
آپ نے غزہ میں اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ آپ کے یہ جملے دعوتِ فکر دیتے ہیں’’جب بھارت اور اسرائیل کو شکست کا سامنا ہو تو ٹرمپ امن کا پیغام لے کر آجاتا ہے اور جہاں مظلوم نہتے مسلمان غزہ میں مارے جا رہے ہوں تو وہاں امریکہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کر دیتا ہے‘‘۔
آپ نے ایران کی جرأت اور اسرائیل کے خلاف کامیابیوں کو بھی سراہا ہے، آپ کے یہ جملے چونکا دیتے ہیں’’امریکہ اور روس کے حواریوں کے منہ کو انسانیت کا خون لگ چکا ہے امریکہ اور اسرائیل ایک ہی شیطان کے دو سر ہیں جن کی وجہ سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں‘‘۔
’’اخلاق و معاملات قرآن کی نظر میں‘‘(عالیہ شمیم صاحبہ کا مضمون) آپ نے صحیح تحریر…

مزید پڑھیں