ابتدا تیرے نام سے – صائمہ اسما
قارئین کرام !سلام مسنون
قیام پاکستان کی سالگرہ کا مہینہ ہے۔اللہ اس وطن کو تاقیامت شاد آباد رکھے، اس کو ترقی، امن، انصاف اور دین کی تمامتر خوبصورتیوں کا جیتا جاگتا مظہر بنائے آمین۔
کوئٹہ کے نواح میں ہونے والے دلخراش واقعے میں ایک مرد اور عورت کو غلط تعلقات پر قتل کردیا گیا اور واقعے کی ویڈیو بنائی گئی۔ اس ویڈیو کے پھیلنے پر شدید ردعمل سامنے آیا اور قانون حرکت میں آنے پر مجبور ہؤا۔ ابھی تک صرف کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں، مگر ایسے معاملات میں انصاف ملنے کی توقع نہیں ہوتی کیونکہ مجرمان بااثر ہوتے ہیں۔ غیرت کے نام پر یہ قتل رشتہ داروں اور برادری کے لوگوں نے اپنی ’’قبائلی روایات‘‘ کی بنیاد پر کیا۔یہ واضح نہیں کہ اس میں قبائلی جرگہ نظام اور سردار کا کوئی کردار تھا یا نہیں، لیکن اگر ہو بھی تو قبائل کی ایسی روایات جو آئین پاکستان سے ٹکراتی ہوں ان میں ریاست کو حرکت میں آنا چاہیے۔پاکستان میں قتلِ غیرت کے خلاف قانون سازی موجود ہے، 2016 میں اس ایکٹ میں مزید اصلاحات کی گئیں۔ مگر چونکہ ایسے کیسوں میں دوٹوک فیصلہ نہیں آتا اور انصاف نہیں ملتا، تو اس جرم کا تسلسل جاری ہے اور ہرسال اس کے اعدادوشمار بڑھے…

