بتول اپریل ۲۰۲۵

اچھی نیند ضروری ہے رات کو بہتر نیند کے لیے یہ چند باتیں آزمائیے ۔ بی بی سی اردو

ماہرین کے مطابق کئی ایسے کام ہیں جو ہم انجانے میں کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ ہماری نیند کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔نیند پوری نہ ہونے یا ہمارے جسم کے اندر کی گھڑی یعنی باڈی کلاک متاثر ہونے سے ہم ڈیپریشن اور بائی پولر ڈس آرڈر جیسے امراض کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے اچھی نیند کی ضرورت کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
نیند اور ذہنی صحت
برطانیہ کی نیند سے متعلق سلیپ کونسل کے مطابق ملک میں شہری رات میں اوسطً ساڑھے چھ گھنٹے سوتے ہیں جو کہ زیادہ تر لوگوں کے لیے ناکافی ہے۔بی بی سی کے ڈاکٹر مائیکل موزلے کے مطابق متعدد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جان بوجھ کر یا دیگر وجوہات کی بنا پر اگر نیند کم کرتے ہیں تو اس کے جسم پر سنگین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
چند راتوں کی خراب نیند کے نتیجے میں خون میں شوگر کی مقدار بگڑ جاتی ہے جس کے نتیجے میں ضرورت سے زیادہ خوراک کھانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور یہاں تک اس سے ہماری ڈی این اے پر بھی برے اثرات پڑتے ہیں۔
سرے یونیورسٹی میں نیند کی کمی کے بارے میں کیے جانے والےتجربے…

مزید پڑھیں

ابتدا تیرے نام سے ۔ صائمہ اسما

قارئین کرام !سلام مسنون
وطنِ عزیز ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملہ اس ماہ کا سب سے اہم واقعہ تھاجس میں فوجی اہلکاروں سمیت کئی بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا اور کئی لوگ یرغمال بنائے گئے۔ابھی تک یرغمالیوں کی مکمل تعداد بازیاب نہیں ہوسکی۔علیحدگی پسندوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی جن کی پشت پناہی ملک سے باہر کے عناصر کررہے ہیں۔بدقسمتی سے ان عناصرکا اثرورسوخ وقت کے ساتھ بڑھتا چلا گیا ہے اور انہوں نے مقامی آبادی میں اپنے حمایتی پیدا کرلیے ہیں۔اصل میں توبلوچستان ہی کے مقدمے کوعلیحدگی پسند قوتوں نے یرغمال بنا رکھا ہے مگر ان قوتوں کوبڑھاوا دینے والے عوامل میں ہماری اپنی کوتاہیاں پوری طرح شامل ہیں۔اخلاص پر مبنی کوششیں کی جاتیں، عدل وانصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے، مقامی آبادی کو حقوق دیے جاتے تو کسی کو یہ موقع نہ ملتا کہ انہیں ورغلائے۔معدنی وسائل،سوئی گیس یہاں تک کہ سوناتک اگلتی اس سرزمین کے باسیوں کو ان کی زمین کے خزانوں پر اختیار نہیں۔ یہی حق تلفیاں مشرقی پاکستان میں محرومیاں بنیں،اوراحساسِ محرومی ہمیشہ ملک دشمن عناصرکے لیے زرخیززمین ہوتی ہے کہ وہ فتنہ فساد اور علیحدگی پسندی کا بیج بو دیں۔ پھر اس…

مزید پڑھیں

ادھوری کہانی محبت کی ۔ شاہین کمال۔کیلگری

یہ کہانی کراچی یعنی میرے شہر دلبراں کے ایک گنجان محلے کی ہے جہاں نہ صرف گھر سے گھر ملے ہوئے تھے بلکہ دلوں میں بھی دوریاں نہ تھیں۔ سکون کا زمانہ تھا، رات کے آخری پہر بھی اگر گھر کا دروازہ کھلا رہ جائے تو کسی کو تشویش نہیں ستاتی تھی۔ گھروں میں پچھلی گلیوں کا رواج تھا اور پچھلی گلیاں زنان خانہ تصور کی جاتی تھیں ۔ گلی سے خاکروب اور مختلف پھیری والے رنگیلی تانوں میں صدا لگا کر گزرا کرتے۔ پچھواڑے کا دروازہ تو شاید ہی کوئی بند کرتا تھا، بس دروازے بھڑے رہتے تھے اور ہلکی سی دستک پر عاشق کے دل کی طرح وا ہو جایا کرتے تھے ۔ پیاز یا ایک کپ شکر مانگنا عار تھا نہ ادھار۔ اس زمانے میں نہ دیوبندی تھے، نہ بریلوی اور نہ ہی شیعہ سنی کا ٹنٹا۔ سب گھروں میں صبح ریڈیو پر تلاوت گونجا کرتی پھر دن چڑھتے ہی گھر گھر سے رنگ رنگ کے ریڈیو اسٹیشن گونجا کرتے۔ کہیں ریڈیو سیلون تو کہیں کراچی اسٹیشن سے ارشاد حسین کاظمی کی گھمبیر آواز اور ناہید اختر کی سریلی تانیں،
’’دل توڑ کے مت جئیو برسات کا موسم ہے‘‘
یا مہدی حسن کی ہوش گم کرتی آواز؎
زندگی میں تو…

مزید پڑھیں

اہمیت اور مقاصدِ لباس ۔ شگفتہ عمر ٳ؎۱

لباس ایک ایسی بنیادی انسانی ضرورت ہے جس سے کوئی ذی شعور غافل نہیں رہ سکتا۔ انسانی جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانپنے کے ساتھ لباس انسان کی معاشی اور سماجی حیثیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مزید براں کسی بھی انسان کا طرزِ لباس اس کے رویّوں اور طرز زندگی کا بھی غماز ہوتا ہے۔ لباسِ انسانی کی اسی اہمیت کے پیش نظر دینِ فطرت یعنی اسلام میں بھی اس حوالے سے واضح ہدایت و رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
مقاصد لباس:
قرآن کریم نے سورہ اعراف میں لباس کو اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قرار دیتے ہوئے لباس کے مقاصد واضح طورپر بیان کیے ہیں اور ایسے لباس کو پسندیدہ لباس قرار دیا جو اللہ کی خوشنودی کو مد نظر رکھتے ہوئے زیب تن کیا جائے۔
ترجمہ:’اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ شاید کے لوگ اس سے سبق لیں‘ (الاعراف7: 26) ۔
مندرجہ بالا آیت قرآنی کی رو سے لباس کے درج ذیل تین مقاصد واضح ہوتے ہیں۔
۱۔…

مزید پڑھیں

ہم نے پکایا قیمہ ۔ فرحت زبیر سپر

برکت ہو گی
شہناز یونس۔ لاہور
ہمارے ملک کے جو بھی حالات ہیں ہمارے گھروں میں جو حالات ہیں ان میں آپ کو کہیں برکت نظر آتی ہے ؟ برکت اٹھ گئی ہے کیونکہ دل تنگ ہو گئے ہیں ۔ زبانیں اچھی الفاظ سے عاری ہوگئی ہیں ۔ ہر لفظ کے ساتھ جھوٹ ٹپکتا ہے ۔
بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب غالباً پہلی یا دوسری کلاس کی اردو کی کتاب میں سبق تھا ’’ برکت ہو گی‘‘ سبق شروع ہوتا تھا بھوکے کو کھانا کھلائو برکت ہو گی ۔ اندھےکی لاٹھی بنو برکت ہو گی ۔ لنگڑے کا سہارا بنو برکت ہو گی ‘‘۔ اب اخلاقیات کے وہ اسباق کتابوں میں نظر نہیں آتے ۔
مجھے گلی محلوں کا نہیں پتہ لیکن بڑی بڑی سوسائٹیوں میں یا یوں کہہ لیں آسودہ حال گھروں سے جو ٹرے پوش سے ڈھک کر کم آمدن والے گھروںمیں چیزوں کو بھیجا جاتا تھا وہ اب کہیں نظر نہیں آتا یا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے بچپن اور جوانی میں ماڈل ٹائون میں گرمیوں میں کھیر ، کڑھی ، آم ، جامن اور سردیوں میں گجریلا ، گاجروں کا حلوہ ایک دوسرے کے گھروں میں بھیجنے کا رواج تھا ۔…

مزید پڑھیں

دل وہیں رہ گیا ۔ قانتہ رابعہ

وہ مسلمان ہی نہیں جو صاحب استطاعت ہو لیکن اس کے دل میں اللہ کے گھر جانے کی چاہت نہ ہو ۔قرآن مجید میں رب العزت نے اس شخص سےبے نیازی بلکہ بے رخی ظاہر کی ہے اور حدیث مبارکہ میں تو استطاعت کے، چاہت کے باوجود ٹال مٹول سے کام لینے والے کے لیے اپنے ایمان کا جائزہ لینے کے تنبیہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔
ہم نے 2011ء میں حج کی سعادت حاصل کی تھی ،11 اکتوبر کو فیصل آباد سے شاہین ائیر لائن کے ذریعے جدہ روانہ ہوئے تھے۔ حج نومبر کی گیارہ سے چودہ تک تھا اور بائیس نومبر کے دن واپسی تھی۔ تب بہت دنوں تک اپنی گلیوں اور سڑکوں سے اجنبیت رہی، جہاں چالیس دن قیام کیا وہ زندگی کے چالیس سالوں پر حاوی ہوگئے۔ حج کا سفرنامہ ’’زہے مقدر‘‘ انہی کیفیات میں ڈوب کر لکھا جو قسط وار ماہنامہ بتول میں شائع ہؤا اورکتابی شکل میں ادبیات نے شائع کیا ۔
یہ وہ سفر نامہ ہے کہ بہت معروف ہستیوں نے پڑھا تو اپنے جذبات مجھ سےشیئر کیے۔ میں اب بھی وہ سفرنامہ ہاتھ میں لوں تو آنسو دھند کی چادر بن جاتے ہیں۔کے پی کے سے میرا سفر نامہ حج پی ایچ ڈی…

مزید پڑھیں

روز مرہ کے عارضوں کا شہد اورپودینے سے علاج ۔ شائستہ علی

‘ پودینے کے متعلق چھان بین کرنے پر اس کے بہت سے فوائد کے بارے میں علم ہؤا موسم بدلتے ہی نزلہ زکام کی وبا سی پھیل جاتی ہے گھر میں پہلے ایک فرد بیمار ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر انا اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں پودینے کا قہوہ شہد کے ساتھ ملا کر پیا جائے تو بہت افاقہ ہوتا ہے۔
پودینہ کا قہوہ بند ناک اور جکڑے ہوئے سینے کو آرام پہنچاتا ہے شہد خراب گلے پر مرہم کا کام کرتا ہے اور دونوں مل کر نزلہ زکام اور کھانسی کو بھگا دیتے ہیں ۔
یہ دونوں بخار کی شدت کو بھی کم کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پیٹ کے مختلف عارضوں میں بھی پودینہ اور شہدبے مثال ہیں ۔ یہ انفیکشن کو ختم کرکے پیٹ کی صحت کو بحال کرتے ہیں ۔ پودینہ پیٹ میں زائد گیس کی صورت میں بھی مفید ہے ۔ ہمارے روز مرہ کے عارضوں میںمصروفیات اور ذہنی دبائو کی وجہ سے سرکادرد بھی ایک عام عارضہ بن گیا ہے اکثر بچے بھی اس کی شکایت کرتے ہیں ۔ پودینے کے پتے دھو کر لیپ بنا کر ماتھے اور کنپٹیوں پر لگانے سے سر درد میں افاقہ…

مزید پڑھیں

نئی دنیا کا دروازہ ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

دروازہ ہماری زندگی کا ایک اہم جز ہے۔ دروازہ کھلا ہو یا بند اس کے ساتھ ہماری بہت سی نفسیاتی جہتیں وابستہ ہیں۔
بند دروازے بھی نعمت ہیں۔ حفاظت اور رازداری اور ذاتی معاملات کی پردہ داری رکھتے ہیں۔ اگر دروازے بند نہ ہو سکتے کسی الماری کے گھر یا کمرے کے، تو کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔ اس موضوع پہ جتنا غور کریں تو بند کواڑ کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔
لیکن یہی بند دروازے جب کھل نہ سکیں یا کوئی ہمارے لیے کھولنا نہ چاہے تو کتنی کوفت ہوتی ہے۔ اور در کے نہ کھلنے یا نہ کھولنے کے ساتھ بھی کس قدر جذباتی اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، غرض ہر شے کے دو پہلو ہوتے ہیں اور دونوں اپنے مقام، موقع و محل کی نسبت سے اہم ہوتے ہیں۔
کسی زمانے میں شہروں کے بھی دروازے ہوتے تھے جو شہریوں کی حفاظت کے لیے بنائے جاتے تھے۔ اجنبی لوگوں کا داخلہ شہر میں آسان نہ ہوتا تھا۔ بڑے گھروں میں بیرونی اور داخلی دروازے ہوتے۔ مردان خانے اور زنان خانے کے درمیان بھی پردہ داری ہوتی تھی۔ ہر شہر، محل، حویلی اور گھر خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، یا جھونپڑی ہی ہو اندر داخل ہونے کا پہلا…

مزید پڑھیں

ہیںکواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ ۔ فرزانہ رشید

میں نے طالب علموں کے یہ ’’ علمی شہ پارے ‘‘ بڑی عرق ریزی سے ان کے پرچوں سے
اکٹھے کیے ہیں اوراس میں میرے بہت سے ساتھی اساتذہ کاتعاون بھی شامل رہا ہے

ابن آدم کی ملائکہ و جنات پر پہلی برتری علم کی بدولت ہوئی۔ انسان اپنے ارتقائی سفر سے آج تک مسلسل سیکھ رہا ہے اور سیکھنے کا باقاعدہ عمل مکتب سے شروع ہؤا اور یہ سفر سکول ، کالج ، یونیورسٹی اور تحقیق پر منتج ہؤا۔یقیناً اس سفر میں انقلاب کالج کے ظہور سے ہؤا۔ جو اب یونیورسٹیاں بن چکی ہیں ۔کالج کی سطح کے اکثر طالب علم حصول علم کے علاوہ دیگر سرگرمیوںمیں مصروف عمل نظر آتے ہیں ۔ خاص طور پر کالج کے لڑکوں کی کچھ تعداد ہلہ گلہ کرنے ، سڑک بند کروانے ، کسی کنڈیکٹر کی پٹائی کرنے اور کسی کو مل کر اٹھائے جانے کی سر گرمیوں میں رہتی ہے ۔
دس سال سکول کی گھٹن زدہ فضا میں پروان چڑھنے والا ڈر پوک بچہ کالج میں آکر یکدم ’’ سلطان راہی ‘‘ کیسے بن جاتا ہے ؟ مسلسل چھ ، سات کلاسیں پڑھنے والے طالب علم پر ایک پیریڈ پڑھنا ہی کیوں بارِ گراں ہو ؟ ان سوالات کا جواب آپ کو کالج…

مزید پڑھیں

انوکھے حکمران سیّدناحضرت ابوبکرصدیقؓ ۔ مریم فاروقی

سیدنا ابو بکر ؓ ان خلفاء کے سرخیل ہیں جن کی پیروی کا رسول پاکؐ نے حکم دیا ہے ۔آپ ؐنے فرمایا ہے’’ میری سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے کو تھامے رکھو ‘‘۔
حضرت ابو بکر ؓ صدیقین کے سردار انبیاء کرام کے بعد افضل ترین فرد ہیں ۔ رسول پاک ؐ نے فرمایا’’ اگرمیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر ؓ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں۔ اور ایک جگہ یہ بھی فرمایامیرے بعد ان دو شخصیات کی پیروی کرنا عمر ؓ اور ابو بکر ؓ۔ حضرت عمر ؓ کہتے تھے آپؐ ہمارے سردار ، ہم میں سے بہتر اوررسول پاک ؐ کو سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ حضرت علی ؓ سے ان کے بیٹے محمد حنیفہ نے پوچھا ’’رسول اللہ ؐ کے بعد سب سے افضل کون ہے ؟‘‘
سیدناعلی ؓ نے جواب دیا ’’ ابو بکرؓ‘‘۔
کافروں کے سردار ابن الاغنہ کا بیان ہے کہ ’’ آپ محتاج لوگوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔ صلہ رحمی کرتے ہیں، درماندہ اور غریب لوگوں کے قرض اوردوسرے بوجھ اپنے سر لے لیتے ہیں اور حق کی راہ میں پیش آئے مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں‘‘۔
یہ تھے حضرت ابو بکرؓ جو ہمارے…

مزید پڑھیں

ڈرائیونگ کی تربیت اس بارے میں بھی سوچنا چاہیے ۔ شہناز یونس

شکر ہے اُس پروردگار کا جس نے بے بہانعمتوںسے نوازا ہے اور دنیا کو دیکھنے کا موقع بھی کئی بار دیا ہے ۔ آجکل ہم دونوں میاںبیوی بچوں کے پاس امریکہ میں ہیں۔ نواسے اورپوتے چونکہ تعلیم حاصل کر رہے ہیںتو ان کے سکولوںاو ر کالجوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا ہے اور دل چاہتا ہے کہ اگر بہت کچھ نہیں تو کچھ نہ کچھ تو کر سکتے ہیںاگر وہ دو جہاں کا مالک صاحبِ اقتدار لوگوں کے دلوںمیں کچھ کرنے کا جذبہ ڈال دے۔ میںنصاب تعلیم کے بارے میں کچھ نہیںلکھوںگی بلکہ ان چیزوں کے بارے میںجن کی ہمارے ہاںکوئی اہمیت ہی نہیں ۔
ہؤا یوں کہ ایک دن ہمارا نواسا جوکہ ساتویں کلاس میں ہے اس نے ماں سے کہا کہ مجھے سوئی ، دھاگہ ،بٹن ایک کپڑا کاٹنے والی قینچی ایک 6×6انچ کا ٹکڑا کپڑے کا کل سکول لے کر جانا ہے تاکہ جب آپ کہیںگھر سے باہر ہیں آپ کا کوئی کپڑا پھٹ جائے یا بٹن ٹوٹ جائے یا زِپ نکل جائے تو آپ ایمرجنسی میں اس قابل ہو سکیںکہ آپ کو باہر شرمندگی نہ اٹھاناپڑے ۔
مجھے بہت سال پہلے کی بات یاد آگئی ہم لوگ ماڈل ٹائون میںرہتے تھے وہاں ایک New Schoolہے انگلش…

مزید پڑھیں

مہندی کا رنگ ۔ عشرت لطافت

رضوان علی کے گھر ان کی سب سے لاڈلی اور چھوٹی بیٹی کرن کی شادی تھی۔ گہما گہمی اور رونق اپنے عروج پر تھی۔ عزیز رشتہ داروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا۔ باہر کے ملکوں سے قریبی عزیز اس خوشی میں شرکت کیلئے پہنچ رہے تھے۔ بڑے دونوں بچے سمیر اور عائزہ اپنے اپنے بچوں کے ساتھ پندرہ دن پہلے ہی آ چکے تھے۔ گھر میں ہر روز ہی ڈھولکی اور گیتوں کی چھوٹی چھوٹی محفلیں جم رہی تھیں۔ ہر فرد شادی کے کاموں میں مصروف نظر آتا تھا۔
رضوان علی تو بہت زیادہ خوش تھے اور یہ خوشی اسی وقت دوچند ہو گئی جب ان کو اپنے اکلوتے بھتیجے کی طرف سے اطلاع ملی کہ وہ بھی شادی سے ایک روز پہلے شرکت کےلیے پہنچ رہا ہے۔
جواد عرصہ پانچ سال بعد لندن میں بغرض تعلیم اور پھر ملازمت مقیم تھا۔ فون پر رابطہ ضرور رہا۔ اب اس کے آنے کی خبر سے رضوان علی بہت زیادہ خوش نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے فوراً عالیہ بیگم کو آواز دی۔
’’عالیہ بیگم ذرا اِدھر تو آئو بہت زبردست خبر ہے۔‘‘
’’ایسی کیا خبر ہے جلدی بتائیے۔‘‘ عالیہ بیگم سننے کے لیے بے چین نظر آ…

مزید پڑھیں

محشر خیال

پروفیسر خواجہ مسعود۔اسلام آباد
’’ چمن بتول‘‘ شمارہ مارچ2025ء
’’ ابتدا تیرے نام سے ‘‘ اداریہ کے آغاز میںمدیر محترمہ نے کتاب بینی کی اہمیت پر زور دیاہے آپ کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں ’’کتاب کا مادی وجود ، اسے چھونے کا احساس ، پاس موجود رہتے کسی اہتمام کے بغیر دستیاب رہنے کا خیال ، ورق گردانی کا شغل ، یہ وہ سب مزے ہیںجن سے گزرے بغیر بچپن اور نو عمری کا وقت گزر تو سکتاہے اس کی تکمیل نہیں ہو سکتی ‘‘۔
آپ نے اپنے اداریہ میں فلسطینی مجاہدین کے عزم و حوصلہ اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یو کرین کے مسئلہ پر بھی بھرپور روشنی ڈالی ہے ۔ آخر پر بلوچستان کی صورتحال کا صحیح تجزیہ پیش کیا ہے کہ وہاں آگ سلگ رہی ہے ۔ ہمیںہر وقت مناسب اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔
’’ قرآن شاہ کلید ‘‘( عالیہ شمیم) آپ نے اس مضمون میں واضع کیا ہے کہ قرآن کا موضوع انسان اور اس کی مکمل رہنمائی ہے ۔ شیطان انسان کو ورغلانے کی کوششوں میںمصروف رہتا ہے لیکن اللہ کے نیک بندے اُس کے وار سے محفوظ رہتے ہیں۔
’’رمضان المبارک ، قرآن مجید اور تقویٰ‘‘( فریدہ خالد) آپ نے بجا لکھا ہے کہ رمضان…

مزید پڑھیں

بلوچستان خود احتسابی! جناب! خود احتسابی! ۔ محمد اظہار الحق

’’فہمِ تناسب‘‘ کیا ہوتا ہے؟ فرنگی اسے sense of proportion کہتے ہیں! یعنی کسی معاملے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھنا! عمل اور سوچ میں کسی ایک طرف کو جھک نہ جانا! آپ کا بیٹا اگر راہِ راست سے ہٹ رہا ہے تو صرف زجر وتوبیخ سے‘ صرف سرزنش سے اور صرف ڈانٹ ڈپٹ سے کام اور بگڑ جائے گا۔ ساتھ ہی نرمی اور ملائمت کو بھی بروئے کار لانا ہو گا! یہ انیسویں صدی کے وسط کی بات ہے۔ کسی انگریزی اخبار میں ایک کارٹون چھپا۔ یہ گدھوں کی دوڑ کا مقابلہ تھا۔ گدھے پر جو سوار تھا اس نے خاردار چھڑی کے سرے پر گاجر لٹکائی ہوئی تھی۔ گدھے کو تیز دوڑانے کے لیے وہ اسے چھڑی سے مارتا تھا اور خوش رکھنے کے لیے گاجر دکھاتا تھا۔ یہیں سے محاورہ بناCarrot and stick
ایک روایت یہ ہے کہ اس محاورے کو سیاسی تلازمے کے طور پر سب سے پہلے چرچل نے 1938ء میں ایک خط میں استعمال کیا۔
ہماری بہادر مسلح افواج دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ جانوں کی قربانی دی جا رہی ہے۔ ہمارے بیٹے شہید ہو رہے ہیں۔ ماؤں کے حوصلے جوان ہیں مگر آنکھیں چھلک بھی رہی ہیں۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں لیکن…

مزید پڑھیں

پانیوں پہ دوسرا سفر ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

’’کوسٹا پیسیفیکا‘‘ کا اگلا پڑاؤ’’لزبن‘‘ Lisbon تھاجو یورپی ملک پرتگال کا دارالحکومت ہے۔ اسلامی دورِ حکومت میں اس کا نام ’’لشبونه‘‘ ہوا کرتا تھا۔
پرتگال تاریخی اعتبارسےمسلم اسپین کا حصہ رہا ہے، جس کی فتح کا سہرا مشہور مسلمان فاتح موسیٰ بن نصیر کے سر ہے۔ 711ء سے 1249ء تک پرتگال پر مسلمانوں نے بڑی شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی۔ مسلمان حکمرانوں نے رنگ ونسل و مذہب و زبان کے فرق کے بغیر سب انسانوں کی خدمت کی اور تعلیم و تہذیب سے پرتگال سمیت پورے یورپ کو آشنا کیا۔ اس زمانے کے تہذیبی اثرات آج بھی اس سرزمین پر موجود ہیں، پرتگالی زبان میں ابھی تک عربی کے کئی الفاظ کی آمیزش واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ اہل صلیب نے یہاں پر قبضہ کرتے ہی مسلمانوں اور ان کی باقیات کو بڑی بے دردی سے ختم کرنا شروع کر دیا۔
’’میرٹولا‘‘ شہر میں آج ایک مسجد موجود ہے لیکن اسے بھی گرجا گھر بنا لیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی حکومت ختم ہونے کے بعد وہاں پر رہ جانے والے مسلمان بڑی بےدردی سے قتل کیے گئے۔ جو بچ رہے ان پر مسلمان رہنے کے لیے اور عربی لباس وزبان پہ بھاری ٹیکس عائد…

مزید پڑھیں

پہلی ملاقات سے آخری ملاقات تک ۔ فردوس تبسم قریشی

تحریکی رابطوں کے ذریعے مجھے کچھ خواتین سے حریم ادب کا پتہ چلا جہاں لکھاریوں کی باقاعدہ محفل ہوتی ہے یہ سن کرمیں بہت خوش ہوئی چنانچہ اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ بیتِ احسن گئی ۔ اُس دن میں بالکل اُس چھوٹے طالب علم کی طرح گھبرائی ہوئی تھی جیسے اُس کا سکول میں پہلا دن ہو۔ گیارہ بجے حریمِ ادب کا آغاز فرات غضنفر صاحبہ کی زیر صدارت ہؤا۔تلاوت کلام پاک اورمختصر درسِ قرآن کے بعد سب سے پہلے مجھے ہی بولنے کاموقع دیا جسے سن کر میں گھبرا گئی لیکن ایک با وقار خاتون نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا گھبرائونہیں اعتماد کے ساتھ سنائو جو کچھ لکھ کر لائی ہو ۔مجھے اُن کا دوستانہ اور بے تکلفانہ انداز بہت اچھا لگا حالانکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ شخصیت کون ہے ۔
وہ فرزانہ چیمہ تھیں محفل کے بعد ایک دوسرے سے تعارف ہؤا تو پتہ چلا کہ اس محفل میں ام عبد منیب ، آسیہ راشد ، عفت قریشی، سامیہ احسن اور بہت سی نامور رائٹر ز موجود ہیں۔ میںاُس دن بہت پر جوش تھی ۔ جن کے نام میں نے رسالوں کے صفحات پر دیکھے تھے انہیں آج اپنی آنکھوں سے…

مزید پڑھیں

تعلیمی ہجرت ۔ عقیلہ اظہر

تم نے دیکھا ہے میرے بیٹے کو
یہ بتائو کہ کیسا لگتا ہے
دورکتنا ہے میری آنکھوں سے
میرے دل کے قریب رہتا ہے
وہ ہے میرے وجود کا حصہ
کیا وہ میرے بنا ادھورا ہے
یہ حرام وحلال کے چکر
جانے کیسے وہ بچتا رہتا ہے
سال بھر ہی ہو&ٔا ہے اس سے ملے
فاصلہ مدتوں کا لگتا ہے
مال و اولاد آزمائش ہیں
یہ بھی اک امتحان لگتا ہے
تم سے اک بات پوچھنی تھی مجھے
کیا اسی طرح بات کرتا ہے
ڈگریوں کے حصول کی خاطر
اپنے کھو کر پرائے پاتا ہے
یہ بتائو لباس ہے کیسا
جینز اورشرٹ ہی پہنتا ہے
ایک کرتا سفید اک شلوار
دیس میں منتظر سا رہتا ہے
کتنا معصوم کتنا کمسن تھا
اب وہ کتنے برس کا لگتا ہے
ذہن جب بھی پکارتا ہے اسے
دل دھڑک کر فراز؎۱کہتا ہے
میری آنکھوں سے دیکھ کرکہنا
کتنا پیارا ہے کیسا لگتا ہے
جب پکاتی ہوں کوئی ایسی چیز
جس کو وہ بھی پسند کرتا ہے
لقمہ لقمہ اتارنا مشکل
لمحہ لمحہ عجیب کٹتا ہے
پھول اب بھی لبوں سے جھڑتے ہیں
کھلکھلا کر وہ اب بھی ہنستا ہے
دل لگائے یہ اس سے کہہ دینا
جو رگِ جاں کےپاس رہتا ہے
یہ نہ کرنا خیال ریحانہ ؎۲
خط یہ خالہ نے کیسا لکھا ہے

میری بھانجی میرے بیٹے سے ملنے امریکہ گئیں ، اس موقع پر ایک خط
؎۱ : بیٹے کا نام
؎۲ : بھانجی کا نام
٭٭٭

مزید پڑھیں

آپ بیتی اور سوانح عمری ان کاآپس میں کیا فرق ہے؟ ۔ احمد جمال

آپ بیتی اور سوانح نگاری کا صنف ادب میں ایک مقام ہے۔ ان دونوں اصناف میں آپس میں مماثلت ہونے کے باعث ان دونوں کو اکثر ایک ہی معنی میں لے لیا جاتا ہے۔ اس لیے ان اصناف کا موازنہ یا تقابل کرنے سے قبل یہ بات جاننا ضروری ہے کہ آپ بیتی اور سوانح عمری کسے کہتے ہیں؟ بہت سے مشاہیر اور فن کاروں نے دوسروں کی اور اپنی سوانح عمریاں لکھ کر اس فن کو وقار بخشا ہے۔ زمانہ قدیم سے سوانح لکھنے کا فن چلا آرہا ہے۔ مغرب میں قدما اور عظام کے حالات زندگی جمع کرنے کا آغاز سب سے پہلے یہودیوں کے ہاں ملتا ہے۔ یہودیوں کے بعد اہل یونان نے اس فن پر توجہ دی اور سب سے پہلے سوانح نگار جوزف فلیوس نے یہودیوں کی تاریخ قلم بند کی۔ انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لے حالات زندگی لکھ کر اس فن کی داغ بیل ڈالی، لیکن مشرق میں اس فن کی روایت کا آغاز اس سے بہت پہلے ہو گیا تھا۔ فلیوس سے قریب ایک ہزار سال قبل بالمیک نے رام چندر جی کے سوانحی حالات’’رامائن ‘‘میں بیان کیے۔ اس طرح ’’ رامائن‘‘ کو دنیا کی…

مزید پڑھیں

تجسس نہ کرو ۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اسلامی معاشرہ میں صرف بندوں کے انفرادی تعامل ہی کی اصلاح نہیں کی جاتی، بلکہ اجتماعی معاملات کو بھی جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ انسانی آزادیوں کا پورا خیال رکھا جاتا ہے، اور اصلاح کے نام پر لوگوں کی زندگیوں میں مداخلت کے دروازے نہیں کھولے جاتے، نہ شبہات کی بنیاد پر مقدمے بنائے جاتے ہیں اور نہ شک کی بنا پر لوگوں کو قید خانوں میں ٹھونسا جاتا ہے۔نہ ملکی امن کے نام پر ان کی آوازوں اور نجی زندگی کو خفیہ کیمروں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے کہ انہیں بلیک میل کیا جا سکے، بلکہ محض شک کی بنا پر کسی کو دائرۂ تفتیش میں لانا بھی جرم ہے۔
قرآن کریم میں اس سلسلے میں واضح ہدایات دی گئیں ہیں، ارشادِ باری ہے:
’’ولا تجسسوا‘‘۔ (الحجرات،۱۲) اور تجسس نہ کرو۔
یعنی لوگوں کے راز نہ ٹٹولو۔ ایک دوسرے کے عیب نہ تلاش کرو۔ دوسروں کے حالات اور معاملات کی ٹوہ نہ لگاتے پھرو۔ یہ حرکت خواہ بدگمانی کی بنیاد پر کی جائے، یا بد نیتی سے کسی کو نقصان پہنچانے کی خاطر کی جائے، ہر حال میں شرعاً ممنوع ہے۔ ایک مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسروں کے جن حالات پر پردہ پایا ہؤا ہے ان کی کھوج…

مزید پڑھیں

وزیر ۔ آمنہ آفاق

دور کہیں سے مؤذن کی پکار بلند ہوئی۔ اس نے کسل مندی سے مسلسل غلبہ پاتی نیند کو بھگانے کی ناکام کوشش کی مگر شیطان بازی چل گیا۔سیاہ دھاری سفید دھاری میں بدلتی چلی گئی اور وہ خواب خرگوش کے مزے لوٹتی چلی گئی۔ ان قیمتی گھڑیوں کی عنایتوں سے بے خبر، حالانکہ ایسا نہ تھا کہ وہ نماز کی ادائیگی میں کاہلی برتتی ہو، بس فجر میں اس کی آنکھ کوشش کے باوجود نہیں کھل پاتی ۔سسرال کے لمبے چوڑے طعام اور رات دیر سے باورچی خانے سے فارغ ہونے کے ساتھ معصوم و مجبور سونیا کی ضروریات پوری کرکے جو بے سدھ سوتی تو سات بجے ہی آنکھ کھلتی۔ وہ بھی سونیا کے زور زور سے رونے کی وجہ سے ۔
سونیا کا شمار خاص بچوں میں ہوتا تھا۔ وہ دس سال کی بچی صحت میں قدرے بہتر تھی مگر دماغی طور پر ایک چار سالہ بچے جیسی۔ صاف بول بھی نہ سکتی تھی بس اپنی بات سمجھانے کے چکر میں چیخ چیخ کر پورا گھر سر پر اٹھا لیتی ۔ منھ سے مسلسل رال بہتی جسے زینب اور گھر والے اس کی فراک کے ساتھ لگے رومال سے صاف کرتے رہتے۔ کنبہ بڑا تھا مگر دادی سمیت گھر…

مزید پڑھیں

وہ ایک دن کیٹ چوپنز کی کہانی ’’ سلک سٹاکنگز ‘‘ کا رواں ترجمہ ۔ امِ احمد

مسز سومرز کی زندگی بہت ہی مصروف تھی ۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔سب ہی سکول جانے والے تھے ۔ ان بچوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور گھر کے نا ختم ہونے والے کام …..زندگی ایک لگے بندھے معمول میں دنا دھن بھاگی چلی جا رہی تھی۔
اس تھکا دینے والی مصروف زندگی میں ماہانہ لگی بندھی آمدن سے ہٹ کر غیر متوقع طور پر ملنے والی پندرہ ڈالر کی رقم نے گویا ایک ہلچل مچا دی۔اپنے خستہ حال بٹوے میں پندرہ ڈالر کے نوٹ دیکھ دیکھ کر وہ پھولے نہیں سما رہی تھی ۔ نہ جانے کتنے عرصے بعد اسے اپنا آپ بڑا اہم محسوس ہؤا۔
کئی روز تک تو وہ اسی ادھیڑ بن میں رہی کہ اس رقم کو کہاں اور کیسے خرچ کرے ۔ وہ کسی جلد بازی میں اس کو ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی جس کا اسے بعد میں پچھتاوا رہتا بھلا اضافی رقم کون سا روز روز مل جاتی ہے دن بھر وہ اسی سوچ بچار میں رہتی اور رات کو بستر پر لیٹتی تو بھی جمع تفریق کرتی رہتی ۔ کبھی سوچتی کہ بچوں کے ذرا مہنگے جوتے خرید لیتی ہوں کچھ دیر تو چلیں گے ۔ کبھی خیال آتا…

مزید پڑھیں

زندگی اک سفر ۔ رخسانہ اقبال راؤ

شرجیل لائبہ کی شادی کو 2 ماہ ہو چکے ہیں ۔کچھ دعوتیں ہو چکیں کچھ ہونی ہیں۔ کراچی میں لائبہ کے ماموں مامی نے شازیہ کو لاہورفون کر کے ہم سب کو مدعو کیا۔ہم 1983میں کراچی کو خیرباد کہہ چکے تھے،یعنی43 سال پہلے FSc-کے بعد سے لاہور میں ڈیرے ڈال لیے پھر 89 میں شادی کے بعدجب بڑا بیٹا صرف چار ماہ کا تھاتو ایک چھوٹا سا ٹرپ بنا۔اس کے بعد سے اکثروہاں کی سکول کالج کی خوشگواریادیں ذہن کےپردے پر چلتی رہتیں ۔اب جو کان میں بھنک پڑی کہ دولہا دلہن کے ساتھ دعوت کے لیے ہمیں بھی کہا گیا ہے چاہے رسمی ہی……تو جھٹ سے ایگریڈ کا سگنل دے دیا۔ بچوں کی سخت پڑھائی کے ساتھ ماؤں کی کھپت اور زندگی کےجھمیلوں کی ٹینشن سے تھکے پڑے تھے۔ تین بچوں کو ڈاکٹر بنانے اور ایک کوانجینئربنا کر سب کی شادیاں کردینےکی توفیق اللہ نے دی اس کا بڑا کرم ہے،اس کے بعداب فراغت محسوس ہورہی تھی اور اپنا آپ ہلکا پھلکا لگ رہا تھا۔ چنانچہ موقع غنیمت جانا اور جانے کا پروگرام فائنل ہو گیا۔
جانے اورآنے کے دن ملا کر پورا ایک ہفتہ بن رہا تھا-ٹرین کا سفر بہت عرصہ سے نہیں کیا تھا لہٰذا متفقہ فیصلہ کے…

مزید پڑھیں

نفسیاتی دباؤ سے کیسے نجات پائیں؟ ۔ منیبہ عثمان

آج کا دور جتنا جدت پسندی اپنا رہا ہے، اتنا ہی انسان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ اس تیز رفتار طرزِ زندگی نے سب کو مستقل نفسیاتی دباؤ کے پہیے کے نیچے رکھا ہؤاہے۔ یہ نفسیاتی دباؤ جسے ہم عام زبان میں اینگزائٹی کے نام سے جانتے ہیں وقت کے ساتھ اس کے مختلف نتائج اور اثرات ہمارے جسم اور نفسیات پر ظاہر ہوتے ہیں۔
انسانی جسم کی بہت سی بیماریاں اجسام میں مادی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں بیشتر امراض نہ صرف خارجی مادوں یا جراثیم نما بیکٹیریا اور وائرس سے ہوتے ہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ بھی انسان کے جسم میں اس قدر تبدیلیاں کر دیتا ہے کہ جسم کے بہت سے فنکشن اور خواص بدل جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسم مختلف بیماریوں اور اوہام سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ذہنی دباؤ انسان کے جسم میں موجود ہارمونز اور کیمیائی عمل کو اس قدر تبدیل کر دیتا ہے کہ انسان ہر وقت کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہتا ہے۔ ذیابیطس، خون کے دباؤ میں اتار چڑھاؤ، پٹھوں کی کمزوری اور اعصاب میں تناؤ وغیرہ۔ اس کے علاوہ انسان کی ذہنی صلاحیتوں پر بھی انتہائی خطرناک اثرات…

مزید پڑھیں