بیرون ملک روانگی
اقصیٰ خان۔ملتان
ائیر پورٹ پر مختلف جذباتی مناظر نظر آتے ہیں۔
کہیں والدین اپنے نوجوان بیٹے کو رخصت کررہے ہیں اور کوشش کے باوجود جذبات پر قابو نہیں رکھ پارہے تو بیٹا بھی جاتے جاتے انکا سراپا اپنی بھیگی آنکھوں میں سموتا جارہا ہے ۔
تو کہیں بہنیں آنکھوں میں آنسو لیے اپنے بھائیوں کی بلائیں لیتی ان پر حفاظت کی دعائیں دم کرتی نظر آتی ہیں۔
کہیں بیوی اپنے محبوب، سر کے سائیں سے ان آخری لمحات میں وعدے وعید کرتی نظر آتی ہے تو کہیں چھوٹے بچے اپنے والد سے لپٹے کھڑے ہیں ۔
اپنے نوجوان بچوں ، بھائیوں اور سر کے سائیوں کو رخصت کرتے ہوئے یہ آنسو خوشی کے ہیں یا غم کے……. ؟
کبھی ہم اچھے مستقبل کی آس میں اپنے بھائیوں کو باہر بھیجتے ہیں ، کبھی شوہروں کو اور پھر کبھی بیٹوں کو ، تو کبھی دامادوں کے ساتھ بیٹیاں بہنیں بھی باہر سدھارتی ہیں تو کبھی بھابیاں ،بہویں۔ لیکن فیملی کے ساتھ جانے کی شرح بہت کم ہے ، ورنہ عام طور پر تو اکیلے مرد ہی کمائیوں کے لیے یہ تنہائیاں اور مشقتیں کاٹتے ہیں اور ان کے گھر والے ان کی جدائیاں …….یہ سلسلہ وقت کے ساتھ تیزی سے رواں دواں ہے ،کیا یہ…

