اسما حبیب

عجیب مانوس اجنبی تھا! ۔ اسما حبیب

کئی سال پہلے کی بات ہے ۔ رمضان المبارک اپنے اختتام کے قریب تھا ۔ مسجدوں میں رش بڑھ رہا تھا ۔ لوگ روزوں اور افطاریوںمیں مزید اہتمام کرنے لگے تھے ۔ بازاروں میں عید کی سیلیں جاری تھیں لوگ باگ کسی ایک طاق رات کو مسجد میں وقت گزارتے اور دوسرے دن بازاروں کے چکر کاٹتے۔
یہ بھی کسی طاق رات کا ذکر ہے کہ جب ہم عبادت کرنے کے لیے مسجد ابو ہریرہ کریم بلاک گئے ۔ مرد حضرات مسجد کے اوپری حصے میں معتکف تھے جبکہ خواتین کا انتظام تہہ خانے میں تھا۔
خواتین اپنے اپنےبچوں کے ہمراہ کھانے پینے کی ٹوکریاں اٹھائے مخصوص حصے کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ اوپر سیڑھیوں کے اختتام پر وہ کھڑی تھی ۔ ایک خیر مقدمی مسکراہٹ سجائے ۔ اُس کے گہرے آبنوسی رنگ میں کوئی خاص بات نہ تھی لیکن اس کے سفید ہموار موتیوں جیسے دانت اور نیچے سفید رنگ کے کپڑوں میں کوئی تعلق ضرور تھا کہ اسے ایک بار نہیں ، کئی بار مڑ کے دیکھنے کو جی چاہتا تھا ۔ سیاہ فام ہونے کے باوجود اُس کا چہرہ بہت پر کشش تھا ۔ اُس کی نظر میری باسکٹ پر پڑی تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا…

مزید پڑھیں

کرے نہ ختم کبھی روشنی سفر اپنا- بتول نومبر ۲۰۲۱

وہ تن دہی سے کام میں مصروف تھی۔ اس کا خاوندسلام بن مشکم صبح سے نکلا ہؤا تھا ۔ پر تکلف کھانے کے اہتمام کے لیے اسے کچھ خاص مصالحوں کی ضرورت تھی ۔ اُس نے اُسے یثرب کے آخری کونے میں ایک گمنام جڑی بوٹیوں والے سے زہریلی جڑی بوٹی بھی لانی تھی ۔ اس جڑی بوٹی کا ذکرکسی طبیب سے سنا تھا اس لیے ا س کے ذہن میں ایک شیطانی منصوبہ آیا ۔ اُس طبیب سے اُس کے گہرے مراسم تھے ۔
جب سے مدینے والا نبی یہاں آیا تھا ، ان کو یثرب کی زمین اپنی نہیں لگتی تھی ۔ جہاں دیکھو، چار آدمی موجود ہیں ، وہیں چہ میگوئیاں ہونے لگتیں ۔ کوئی محفل اللہ کے ذکر سے معمور ہوتی تو کوئی مجلس اس نبی کی مخالفت میں مشورے کرتی نظر آتی اور وہ بھی چپکے چپکے ۔ آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارے سے اطمینان کر لیا جاتا کہ اپنے ہی آدمی ہیں۔
یہودی مدینے میں صدیوں سے اپنا کاروبار جما کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ اُس کے پاس تو رات و انجیل تھیں جو الہامی کتب تھیں ۔ عرب بھر میں اُن کی بڑی عزت تھی۔ بڑے بڑے دیوی دیوتائوں کے استھان تھے جن پروہ بڑے…

مزید پڑھیں