اسماء صدیقہ

بنیان مرصوص ۔ اسماء صدیقہ

اندھیروں میں بزدل نے ڈھائی قیامت
جوشب خون مارا دکھائی شقاوت

وہ سوتے میں لوگوں کی جانوں سے کھیلا
تو جاں دیتے پھولوں نے کیا کیا نہ جھیلا

نشانے پہ رکھے تھے مسجد کے منبر
جو دنیا میں امن و اماں کا ہے محور

ستم حد سے گزرا تھا ایسا سراسر
کہ خاموش رہنا ہؤا بد سے بدتر

چلا پھر مقابل میں طوفانی لشکر
جو بپھرا ہؤا تھا مثالِ سمندر

اجالے میں گونجا تھا اللہ اکبر
کلام الٰہی سے لے کے صداقت

نبیِ مکرم کی سنت کے رستے
بصیرت ملی پھر اطاعت کے رستے

بھروسے پہ رب کے دکھائی مہارت
تو دنیا نے دیکھا فسوں کو حقیقت

وہ خالد کے جوہر وہ بازوئے حیدر
کہ فتحِ مبین ہوگئی تھی مقدر

جوانوں کی جرأت! جہاں محو ِحیرت
کرم ہے خدا کا اسی کی عنایت
یہ شاہیں صفت صف بہ صف با وفا ہیں
ہنر میں ہیں یکتا جری حوصلہ ہیں

فلک پہ درخشاں یہ جھِل مل ستارے
زمیں کے اندھیروں میں راہ ِمنور

کہیں یہ محافظ سمندر کے اندر
عدو کے لیے یہ سراپا سزا ہیں

غضب ہیں خدا کا قہر ہیں بلا ہیں
یہ غازی ہمارے انعام خدا ہیں

جو دشمن پہ ٹوٹے ہیں بن کے قیامت
ہراک سر تشکر سے جھکنے لگا ہے

جو فتح و ظفر کا یہ پرچم کھلا ہے
یہ عزم و یقیں کا فقط معجزہ ہے

یہ شوقِ شہادت کا اک سلسلہ ہے
یہ ربطِ خدا کا ہی…

مزید پڑھیں

جنگل – اسماء صدیقہ

یسریٰ اور سویرا دونوں سکول کے زمانے سے گہری دوست تھیں۔ اب کالج میں آنے کے بعد ہونے والے پہلے فنکشن کے لیے ان کی بے چینی دیدنی تھی خاص طور پر سویرا بہت بےتاب تھی ۔
’’اللہ بہت مزہ آئے گا بالکل مہندی کے فنکشن جیسا انجوائے کریں گے ۔ہر لڑکی نئے رنگ کے ڈریس میں لڈی ڈالے گی کھل کے پرفارم کریں گے موجیں ہی موجیں ….‘‘
سویرا چہک کر یسریٰ کو بتا رہی تھی ۔سجنے سنورنے کے سارے ہنر آزمائے جانے تھے۔’’میں تونا اپنے ماموں کی مہندی پہ بنایا ہؤا گولڈن کلر کا کامدار شرارہ سوٹ پہنوں گی اور تم دیکھنا کیسے سٹیپ لیتی ہوں ‘‘ سویرا نے ایکشن دکھاتے ہوئے یسریٰ سے پوچھا ۔
’’چھوڑو امی پتہ نہیں اجازت بھی دیں یا نہیں کالج میں آنے کے بعد سے تو بہت نظر میں رکھتی ہیں‘‘یسری جز بز ہوئی ۔
’’اس میں حرج ہی کیا ہے ۔گھر سے چادر لے کر ا ٓجانا ،یہاں کلاس روم میں گیٹ اپ میں آئیں گے۔ ساری لڑکیاں ہی تو ہیں کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا‘‘ سویرا نےترکیب بتائی۔
’’نہیں بھئی اگلی گلی کی دو تین لڑکیاں کالج میں پڑھتی ہیں نا وہ بتا دیں گی امی کو پتہ چل گیا ناتو قیامت آ…

مزید پڑھیں