بنیان مرصوص ۔ اسماء صدیقہ
اندھیروں میں بزدل نے ڈھائی قیامت
جوشب خون مارا دکھائی شقاوت
وہ سوتے میں لوگوں کی جانوں سے کھیلا
تو جاں دیتے پھولوں نے کیا کیا نہ جھیلا
نشانے پہ رکھے تھے مسجد کے منبر
جو دنیا میں امن و اماں کا ہے محور
ستم حد سے گزرا تھا ایسا سراسر
کہ خاموش رہنا ہؤا بد سے بدتر
چلا پھر مقابل میں طوفانی لشکر
جو بپھرا ہؤا تھا مثالِ سمندر
اجالے میں گونجا تھا اللہ اکبر
کلام الٰہی سے لے کے صداقت
نبیِ مکرم کی سنت کے رستے
بصیرت ملی پھر اطاعت کے رستے
بھروسے پہ رب کے دکھائی مہارت
تو دنیا نے دیکھا فسوں کو حقیقت
وہ خالد کے جوہر وہ بازوئے حیدر
کہ فتحِ مبین ہوگئی تھی مقدر
جوانوں کی جرأت! جہاں محو ِحیرت
کرم ہے خدا کا اسی کی عنایت
یہ شاہیں صفت صف بہ صف با وفا ہیں
ہنر میں ہیں یکتا جری حوصلہ ہیں
فلک پہ درخشاں یہ جھِل مل ستارے
زمیں کے اندھیروں میں راہ ِمنور
کہیں یہ محافظ سمندر کے اندر
عدو کے لیے یہ سراپا سزا ہیں
غضب ہیں خدا کا قہر ہیں بلا ہیں
یہ غازی ہمارے انعام خدا ہیں
جو دشمن پہ ٹوٹے ہیں بن کے قیامت
ہراک سر تشکر سے جھکنے لگا ہے
جو فتح و ظفر کا یہ پرچم کھلا ہے
یہ عزم و یقیں کا فقط معجزہ ہے
یہ شوقِ شہادت کا اک سلسلہ ہے
یہ ربطِ خدا کا ہی…

