قرآنی معاہدات اللہ اور انسانوں کے درمیان تعلق کے قانونی زاویے ۔ احمر بلال صوفی؎۱
اجتماعی زندگی کا معاہدہ
قرآن جہاں ہر شخص کے ساتھ اللہ کا براہ راست معاہدہ ہے وہاں یہ ہر نوعیت کے اجتماع کے نظم کا ایک آئین بھی ہے۔
یہ اجتماعی زندگی گزارنے کی ایک دستاویز ہے اور ایک ساتھ رہنے کے عمرانی معاہدے کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اس کا مقصد تمام گروہوں کے لیے ایک سٹینڈرڈ آئین ، ایک سماجی چارٹر ، ایک معاشرتی قانون یادین کے طور پر کام کرنا ہے ۔چاہے وہ گروہ چھوٹا ہو، ایک خاندان ہو یا قبیلہ ہو ، شہری علاقہ ہو ، یا کسی ملک یا بہت سے ممالک کے رہائشی ہوں ۔ قرآن پڑھتے ہوئے ، ہر شخص محسوس کر سکتا ہے کہ یہ بیک وقت افراد اور گروہوںسے مخاطب ہوتا ہے ۔ قرآن بنیادی طور پر لوگوں کو ’گروہوں‘ کی شکل میں بھی نصیحت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، اس کی ہدایات، اگرچہ فرد واحد کے لیے نظر آتی ہیں ، مگر قرآن اجتماعی انسانی زندگی کے لیے ایک لائحہ عمل رکھتا ہے ، چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔
اسی تناظر میں قرآن نے ذاتی معاملات،(الحجرات ،12، البقرہ ،60 ،النسا،36)باہمی احترام،(لقمان ،18) دوسروں کا استحصال نہ کرنے اور ان کے احترام کو برقرار رکھنے ، (الحجرات، 11) منصفانہ…

