آصف محمود

کشمیر کی اسرائیلائزیشن ۔ آصف محمود

اسرائیل اور بھارت کے طریقہ واردات میں گہری مماثلت ہے، جو کچھ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا وہی کچھ بھارت کشمیریوں کے ساتھ کر رہا ہے ۔ ماحول اور حالت کے مطابق طریق واردات کا جزوی فرق ضرور ہو سکتا ہے لیکن واردات یکساں ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہندو شائونزم کا ہندتوا ہو یا صہیونیت کا ’’ چنیدہ لوگوں ‘‘ کا تصور، یہ جڑواں طریقہ واردات ہے۔
صہیونی ریاست کے فکری خدوخال دو خود ساختہ تصورات پر استوار ہیں۔ پہلا یہ کہ یہودی اللہ کے چنے ہوئے لوگ ہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ نے اپنے ان چنے ہوئے لوگوں کو نیل سے فرات تک کا سارا علاقہ ودیعت کر رکھا ہے۔ چنانچہ اسرائیل میں یہ بات عقیدے کی حد تک راسخ ہے کہ اگر آپ یہودی ہیں تو تورات میں جن جن زمینوں کا ذکر ہے ان زمینوں پر آپ کا اور صرف آپ کا حق ہے۔ فرانس کے سابق ڈپٹی سپیکر راجر گراڈی اپنی کتاب فائونڈنگ متھس آف اسرائیلی فارن پالیسی میں لکھتے ہیں کہ صرف مذہبی یہودیوں یا صہیونیوں کا یہ عقیدہ نہیں، اسرائیل کے اندر ملحد قسم کے یہودی بھی اس تصور پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اس کو biblical lands کا تصور کہا جاتا ہے۔اس…

مزید پڑھیں

محمود غزنوی ، عافیہ صدیقی اور ہم ۔ آصف محمود

رانا ثناء اللہ صاحب نے ایک بیان دیا اور دفتر خارجہ نے اس کی تردید کر دی۔ سوال یہ ہے کہ رانا صاحب کی اس مشقت کا ملک کو ، عافیہ صدیقی کو یا ن لیگ کی سیاست کو کتنا فائدہ ہو&ٔا؟اسی طرح خواجہ آصف صاحب نے دریافت کیا کہ محمود غزنوی کا اصل مقام ہیرو کا نہیں ولن کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس موقع پر وہ وزیر دفاع جیسے اہم منصب پر فائز ہیں اس دریافت کا معاشرے کو اور ملک کو کتنا فائدہ ہو گا؟ خواجہ آصف صاحب کی رائے نئی نہیں ہے۔ اجنبی بھی نہیں ہے۔ خواجہ آصف مگر وزیر دفاع ہیں ، اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کچھ باتیں بعض مناصب پر بیٹھ کر نہ کرنا زیادہ بہترہوتا ہے۔ آج ہمارے افغانستان سے تعلقات کشیدہ ہیں ، کل کو اللہ کرے یہ بہتر ہو جائیں تو کیا ہم محمود غزنوی کو ایک بار پھر سے دریافت کرنے بیٹھ جائیں گے۔ نیز یہ کہ محمود غزنوی اگر ہیرو نہیں تھا تو احمد شاہ ابدالی اور شہاب الدین غوری کیسے ہیرو ہو گئے؟ مزید یہ کہ کیا اب ہر اس کردار کی نفی کی جائے گی جو کسی بھی درجے میں غیر مقامی تھا؟…

مزید پڑھیں