آصف محمود

محمود غزنوی ، عافیہ صدیقی اور ہم ۔ آصف محمود

رانا ثناء اللہ صاحب نے ایک بیان دیا اور دفتر خارجہ نے اس کی تردید کر دی۔ سوال یہ ہے کہ رانا صاحب کی اس مشقت کا ملک کو ، عافیہ صدیقی کو یا ن لیگ کی سیاست کو کتنا فائدہ ہو&ٔا؟اسی طرح خواجہ آصف صاحب نے دریافت کیا کہ محمود غزنوی کا اصل مقام ہیرو کا نہیں ولن کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس موقع پر وہ وزیر دفاع جیسے اہم منصب پر فائز ہیں اس دریافت کا معاشرے کو اور ملک کو کتنا فائدہ ہو گا؟ خواجہ آصف صاحب کی رائے نئی نہیں ہے۔ اجنبی بھی نہیں ہے۔ خواجہ آصف مگر وزیر دفاع ہیں ، اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کچھ باتیں بعض مناصب پر بیٹھ کر نہ کرنا زیادہ بہترہوتا ہے۔ آج ہمارے افغانستان سے تعلقات کشیدہ ہیں ، کل کو اللہ کرے یہ بہتر ہو جائیں تو کیا ہم محمود غزنوی کو ایک بار پھر سے دریافت کرنے بیٹھ جائیں گے۔ نیز یہ کہ محمود غزنوی اگر ہیرو نہیں تھا تو احمد شاہ ابدالی اور شہاب الدین غوری کیسے ہیرو ہو گئے؟ مزید یہ کہ کیا اب ہر اس کردار کی نفی کی جائے گی جو کسی بھی درجے میں غیر مقامی تھا؟…

مزید پڑھیں