وہ دن انصاف کا ہوگا ۔ ڈاکٹر بلقیس عومرانی بلوچ
سنا ہے ایک دن لوگو! قیامت کا بھی آئے گا
زمیں پھٹ جائے گی اور آسماں کھل جائے گا سارا
پہاڑ اور پیڑ پودے اڑ چلیں گے روئی کی مانند
وہ دن ہوگا کہ جب مردے زمیں سے اٹھ کھڑے ہوں گے
وہ دن ہوگا کہ جب سورج زمیں کے پاس آئے گا
ازل سے منظرِ عالم جو دیکھا وہ سنائے گا
کوئی دے گا نہ ساتھ اپنا،کوئی ہوگا نہ واں اپنا
زباں ہوگی نہ اپنی اور نہ آنکھیں دست و پا ہوں گے
گواہی جرم کی دیں گے جو تم نے سب کیے ہوں گے
وہ دن انصاف کا ہوگا،کیے کا سامنا ہوگا
ڈرو اس دن سے جب اعمال نامہ تھامنا ہوگا
برائی ہوگی ان کی جن کا بائیں ہاتھ میں ہوگا
سفارش کام آئے گی،نہ دولت کام آئے گی
نہ کام آئے گا پچھتاوا نہ صحبت فائدہ دےگی
جو ہستی کے تکبر میں ہمیشہ چُور رہتے ہیں
جھکیں گے سر وہی سب جو بڑے مغرور رہتے ہیں
اگل دے گی زمیں جب سچ تو افشا راز سب ہوں گے
ملاتے تھے جو سچ کو جھوٹ سے وہ فاش سب ہوں گے
ڈرو اس آگ سے کہ جس کا ایندھن آدمی،پتھر
بھسم اس آگ میں مکر و فریب انسان کے ہوں گے
ہراک بیٹی سے پوچھیں گے وہ ظالم کون ہے تیرا؟
ہوئی کس جرم میں درگور،مجرم کون ہے تیرا؟
کہاں…

