سورج کا پیغام ۔ ڈاکٹر اسلم عزیز درانی ترجمہ: فرحت زبیر
صبح سویرے ابھی مرغوںنے بانگ بھی نہ دی تھی کہ مدھانی رڑکنے کی آواز آنے لگی ۔ دور افق پر پھو پھٹنے لگی اور ہلکی ہلکی روشنی چار سو پھیل گئی ۔ کوئوں کی کائیں کائیں اور چڑیوں کی چوں چوں کا شور مچ گیا ۔ لوگ باگ اپنے کام کاج کے لیے گھروں سے نکل آئے تھے ۔ شاد و مدھانی کو چاٹی میں چھوڑ کر اٹھی اورباہر صحن میں آکر افق کی سمت ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگی ۔ سورج آہستہ آہستہ طلوع ہو رہا تھا ۔
پہلے ذرا سا کنارا ظاہر ہؤا پھر ہولے ہولے پورا نکل کر سونے کی پتری کی طرح چمکنے لگا ۔ وہ سوچنے لگی چڑھتا سورج ہر روز ہمیں یہ پیغام دیتاہے کہ ہر فجر کی رات ہوتی ہے اور ہر اندھیرے کے بعد اُجالا ہے ۔ وہ نہ جانے دل ہی دل میں اور کیا کچھ سوچ رہی تھی کہ ماں کے پکارنے کی آواز کان میں پڑی۔
’’ شادو! او شادو! کدھر ہے ؟‘‘
’’اماں میں ادھر صحن میں ذرا سورج کو نکلتے دیکھ رہی تھی ‘‘۔ شادو نے جواب دیا۔
’’ اچھا اچھا، چپ کر کے اپنا کام کر ۔ میںروٹی ڈال رہی ہوں ، جا کرباپ کو دے آ۔ ہاں دیکھ ،…

