ڈاکٹرسلیس سلطانہ چغتائی

یوم الفرقان ،غزوہ بدر ۔ ڈاکٹرسلیس سلطانہ چغتائی

غزوہ بدر تاریخ اسلام کی وہ فیصلہ کن جنگ ہے جس میں امت اسلامیہ کی تقدیراوردعوت حق کے مستقبل کافیصلہ ہؤا جس پرپوری نسل انسانی کی قسمت کاانحصار تھا ۔ غزوہ بدرکے بعد سے آج تک مسلمانوں کی جتنی فتوحات اورکامیابیاں حاصل ہوئیں اوران کی جتنی حکومتیں اورسلطنتیں قائم ہوئیں وہ سب اسی فتح مبین کی رہین منت ہیں ۔جوبدرکے میدان میں مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کوحاصل ہوئی ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ انفال کی آیت ۴۱ میں اس جنگ کو ’’ یوم الفرقان‘‘کہا ارشاد باری تعالیٰ ہےاگر تم خدا پر اوراس کی نصرت پرایمان رکھتے ہو جوحق و باطل میں فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں ) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہو گئی اپنے بندے (محمد ﷺ) پرنازل فرمائی‘‘(سورہ انفال۴۱)
غزوہ بدر کاپس منظریہ ہے کہ رسول اکرمؐ کوجب یہ اطلاع ملی کہ ابو سفیان شام سے قریش کے ایک بڑے تجارتی کارواں لے کرمکہ جا رہا ہے جس میں بڑا مال و اسباب ہے یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں اورمشرکوں میں معرکہ آرائی کا سلسلہ جاری تھا اور قریش نے اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت کوہر طرح روکنے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے اپنے سارے مالی وسائل، سامانِ جنگ اورجنگی دستے…

مزید پڑھیں