کوئی توروک لے دریا کواب روانی سے نکال دے مرا کردار بھی کہانی سے تمہارے حق میں ہی بہتر ہے عشق سے توبہ تو بچ گیا ہے کسی مرگِ نا گہانی سے چمکتے نیلگوں موتی ہیں ریگِ دریا پر تری تلاش میں نکلے ہیں گہرے پانی سے مجھے تو شہر میں اتنا بھی گمشدہ نہ […]