کہیں بدن ، کہیں محفوظ پر نہیں ہوتے ہر اک شجر پر پرندوں کے گھر نہیں ہوتے سفر کے بعد ذرا سا سنبھلنا پڑتا ہے ر کے بغیر مکمل سفر نہیں ہوتے ہم اپنا نام نہیں بیچتے کسی بھاؤ! امیر ہم سے ، بھی اہلِ زر نہیں ہوتے کسی چراغ تلے کچھ نظر نہیں آتا […]