محمداظہارالحق؎۱

بتول…..چند یادیں – محمداظہارالحق؎۱

ایک قریبی عزیزہ نے فرمائش کی ہے کہ’’ بتول ‘‘ کے لیے کچھ لکھوں ! سوچا تویادوں کی ایک لہر اٹھی جوسیلاب میں تبدیل ہو گئی ۔بہت کچھ یاد آگیا۔کیوں نہ قارئین کے ساتھ یادیں ہی بانٹی جائیں ۔ شعر تو کثرت استعمال سے پامال ہوچکا ہے مگرصورت حال پرمنطبق خوب ہورہا ہے ۔
تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائی سینہ را
گاہی گاہی باز خواں این قصہ پارینہ را
یعنی سینے کے داغوں کو تازہ رکھنا ہے توپرانی حکایتیںدہراتےرہا کرو!
’’بتول‘‘سےتعلق برسوں پر نہیں ،دہائیوںپرپھیلا ہؤا ہے ۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں اورمیری بڑی بہن سکول میں پڑھتے تھے ۔ والد گرامی مرحوم چونکہ شاعر اورنثر نگار تھے اورچونکہ فارسی اورعربی ادب سے ان کا تعلق آبائی ، بلکہ ،خاندانی تھا اس لیے ملک کے تمام معروف رسالے اور جریدے ہمارے گھر آتے تھے ۔ماہِ نو اورچٹان کی تو مجلد فائلیں اب بھی شاید موجود ہوں ! ماہر القادری کا ’’ فاران‘‘ بھی آتا تھا۔ بھارت سے ماہنامہ’’ تجلی‘‘ باقاعدگی سے آتا تھا ۔
والد گرامی مرحوم دیو بندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے مگروسیع المشرب تھے ۔ کمال کی برداشت رکھتے تھے ۔ہمیشہ اپنی اولاد اور اپنے شاگردوں کو بھی برداشت اوروسیع المشربی کا درس دیا ۔ مولانا مودودی سے ان…

مزید پڑھیں