صائمہ اکرم چوہدری

بیٹیوں کی تربیت ۔ صائمہ اکرم چوہدری

وہ اٹھائیس سالہ لڑکی PHD کا انٹری ٹیسٹ دینے کراچی آئی تھی اور کچھ وجوہات کی بنا پر اسے دو دن کی بجائے، میرے گھر میں پورا ہفتہ رہنا پڑا اور یہ پورا ہفتہ میری قوت برداشت پر ایک عظیم امتحان تھا، اور میرا ارادہ تھا کہ اس کی والدہ جہاں کہیں مجھے ملیں گی میں اسے اونچی ٹانگ والا سیلوٹ ضرور ماروں گی جو ہمارے فوجی واہگہ بارڈر پر پڑوسیوں کے سامنے مارتے ہیں۔
اس لڑکی کے قیام کے دوران میری ہیلپر سوشیلہ نے کوئی چھتیس بار مجھے کہا کہ باجی اگر اس لڑکی کی ماں نے اسے کچھ نہیں سکھایا لیکن تعلیم نے اسے اتنا تو شعور دیا ہوگا کہ وہ کم ازکم اپنی ذاتی صفائی اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رہنا سیکھ لیتی، اور صفائی تو آپ لوگوں کے مذہب میں نصف ایمان ہے۔ سوشیلہ کا کہنا بھی ٹھیک تھا۔
پانچ دن میں اس کی نئی بیڈ شیٹ انتہائی غلیظ ہوچکی تھی، اسے اپنے بیڈ پر ٹرے رکھ کر کھانا کھانے کی بُری عادت تھی جس کے نتیجے میں نئی بیڈ شیٹ پر کئی داغ لگ چکے تھے۔ ڈریسنگ پر رکھا اس کا ہئیر برش بالوں سے بھرا ہؤا تھا۔ سائیڈ ٹیبل پر چائے کے گندے…

مزید پڑھیں