تو غنی از ہر دو عالم من فقیر روزِ محشر عذر ہائے من پذیر گر حسابم را تو بینی نا گزیر از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ بڑے دنوں کے بعد دادی جان کی آواز سنائی دی۔ مختصر سے باغیچے میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ ترین […]
ہواؤ! جب تمہیں اذنِ سفر ہوگا سدا کی بے زمانی سے زماں تک لامکانی سے مکاں کے حدِّ امکاں تک تمہارا ہر قدم ہی معتبر ہوگا کہیں پران چھوئے برفاب میداں اور تپیدہ بےکراں صحرا بہت سے ساحلوں سے، پربتوں سے، مرغزاروں سے گزر ہوگا امیدوں کے سمندر سے اگر گزرو! اچھلتا کودتا،شوریدہ موجوں پر […]
کیا تم درد خریدو گی تپتا دن سنسان گلی تھی دیر سے کوئل کوک رہی تھی سبز کریلے، تازہ بھنڈی سوندھے بھٹے ، ٹھنڈی قلفی گول گپے اور میٹھی چٹنی گزر چکے سب پھیری والے اپنا اپنا رزق سنبھالے بستر پر میں یونہی لیٹی کب سے کروٹ بدل رہی تھی دل سے سکوں.،نیند آنکھ سے […]