شاہدہ وسیم

تین دن کا بچہ ۔ شاہدہ وسیم

باہر میدان میں سارے محلے کے بچے مل جل کر کھیل رہے تھے۔ ان میں رمونا بھی شامل تھی۔ بچے کبھی اس کے ساتھ گھل مل جاتے اور اسے اپنا پارٹنر بنا لیتے، کبھی جھڑک کر دھکا دے دیتے۔ان کا یہ کھیل،چیخ پکار اوربیچ میں رمونا کا واویلا جاری تھا کہ فٹ بال تیزی سے آ کر بلڈنگ کی دیوار سے ٹکرایا۔ ساتھ ہی رمونا کے رونے اور دوسرے بچوں کی ملی جلی ہنسی کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ روتی ہوئی اپنے گھر میں داخل ہو رہی تھی کہ باہر سے کسی بچے کی آواز آئی ’’دوغلی‘‘ اس پر دوسرے بچوں کا زوردار قہقہہ فضا میں گونج اٹھا۔
رمونا حسب دستور اپنی ماں کی گود میں منہ چھپا کر رو رہی تھی، سسک رہی تھی اورماں اس کی پیٹھ آہستہ آہستہ سہلاتی ہوئی اسے دلاسہ دے رہی تھی۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا اور باتیں سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی، وہ ساتھیوں کے مذاق اور شرارتوں کا نشانہ بنتی آ رہی تھی۔ کبھی کوئی پرخلوص ہم جولی ملتا تو وہ محبت کا عنصر پا کر ایک دم اس کی طرف لپکتی اور اسے گھل مل کر کھیلنے کی کوشش کرتی، لیکن پھر اسے جلدہی احساس ہونے لگتا کہ…

مزید پڑھیں