رشیدہ صدف

خالہ جان زہرہ میری راہبر – رشیدہ صدف

وہ لوگ تو ایسا زیور تھے
جسے مٹی تلے چھپاتے ہیں
زندگی کے اس سفر میں جب بھی کوئی ہم سے جدا ہوتا ہے تو دل میں شدید ٹیس اٹھتی ہے،درد بھری آہ نکلتی ہے ، زبان پہ صرف اورصرف اِنَّاللہ وَاِنَّا الیہ راجعونْ ہوتا ہے کہ حکم یہی ہے ۔ کل خالہ جان کی وفات کی خبرملی دل سے ان کے لیے مغفرت کی دعائیں کیں بے اختیار زبان پر یہ جملے تھے کتنی عظیم تھیں وہ ! جب بھی ملاقات ہوئی کچھ نہ کچھ سیکھا ہی۔
جب بھی لاہور ارکان کے اجتماع میں جایا کرتے ملاقات ہوتی یا پھر آل پاکستان اجتماع عام میںملتے، لیکن حقیقت یہ ہے یہ بڑی ادھوری ملاقاتیں ہوتیں ، ہربارایک طویل ملاقات کی خواہش لے کرواپس آجا تے ۔ سال تو مجھے یاد نہیںاتنا یاد ہے بچے میرے چھوٹےہی تھے ، لاہور دورہ قرآن کے لیے جانا ہؤا ،وہاںجن دو بزرگ خواتین سے عملاً بہت کچھ سیکھا و ہ تھیں خالہ جان،بلقیس صوفی صاحبہ(مرحومہ ) جو کراچی سے آئی تھیں اوردوسری بزرگ نگران خالہ جان زہرہ وحید صاحبہ مرحومہ ، تب مجھے سمجھ آئی تھی ان تھک محنت کیاہوتی ہے جہد مسلسل کسے کہتے ہیں ۔
ان کی باتیں ، ان کی نصیحتیں ، ان کی بھاگ…

مزید پڑھیں