بتول اپریل ۲۰۲۵

اہمیت اور مقاصدِ لباس ۔ شگفتہ عمر ٳ؎۱

لباس ایک ایسی بنیادی انسانی ضرورت ہے جس سے کوئی ذی شعور غافل نہیں رہ سکتا۔ انسانی جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانپنے کے ساتھ لباس انسان کی معاشی اور سماجی حیثیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مزید براں کسی بھی انسان کا طرزِ لباس اس کے رویّوں اور طرز زندگی کا بھی غماز ہوتا ہے۔ لباسِ انسانی کی اسی اہمیت کے پیش نظر دینِ فطرت یعنی اسلام میں بھی اس حوالے سے واضح ہدایت و رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
مقاصد لباس:
قرآن کریم نے سورہ اعراف میں لباس کو اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قرار دیتے ہوئے لباس کے مقاصد واضح طورپر بیان کیے ہیں اور ایسے لباس کو پسندیدہ لباس قرار دیا جو اللہ کی خوشنودی کو مد نظر رکھتے ہوئے زیب تن کیا جائے۔
ترجمہ:’اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ شاید کے لوگ اس سے سبق لیں‘ (الاعراف7: 26) ۔
مندرجہ بالا آیت قرآنی کی رو سے لباس کے درج ذیل تین مقاصد واضح ہوتے ہیں۔
۱۔…

مزید پڑھیں

ہم نے پکایا قیمہ ۔ فرحت زبیر سپر

برکت ہو گی
شہناز یونس۔ لاہور
ہمارے ملک کے جو بھی حالات ہیں ہمارے گھروں میں جو حالات ہیں ان میں آپ کو کہیں برکت نظر آتی ہے ؟ برکت اٹھ گئی ہے کیونکہ دل تنگ ہو گئے ہیں ۔ زبانیں اچھی الفاظ سے عاری ہوگئی ہیں ۔ ہر لفظ کے ساتھ جھوٹ ٹپکتا ہے ۔
بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب غالباً پہلی یا دوسری کلاس کی اردو کی کتاب میں سبق تھا ’’ برکت ہو گی‘‘ سبق شروع ہوتا تھا بھوکے کو کھانا کھلائو برکت ہو گی ۔ اندھےکی لاٹھی بنو برکت ہو گی ۔ لنگڑے کا سہارا بنو برکت ہو گی ‘‘۔ اب اخلاقیات کے وہ اسباق کتابوں میں نظر نہیں آتے ۔
مجھے گلی محلوں کا نہیں پتہ لیکن بڑی بڑی سوسائٹیوں میں یا یوں کہہ لیں آسودہ حال گھروں سے جو ٹرے پوش سے ڈھک کر کم آمدن والے گھروںمیں چیزوں کو بھیجا جاتا تھا وہ اب کہیں نظر نہیں آتا یا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے بچپن اور جوانی میں ماڈل ٹائون میں گرمیوں میں کھیر ، کڑھی ، آم ، جامن اور سردیوں میں گجریلا ، گاجروں کا حلوہ ایک دوسرے کے گھروں میں بھیجنے کا رواج تھا ۔…

مزید پڑھیں

دل وہیں رہ گیا ۔ قانتہ رابعہ

وہ مسلمان ہی نہیں جو صاحب استطاعت ہو لیکن اس کے دل میں اللہ کے گھر جانے کی چاہت نہ ہو ۔قرآن مجید میں رب العزت نے اس شخص سےبے نیازی بلکہ بے رخی ظاہر کی ہے اور حدیث مبارکہ میں تو استطاعت کے، چاہت کے باوجود ٹال مٹول سے کام لینے والے کے لیے اپنے ایمان کا جائزہ لینے کے تنبیہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔
ہم نے 2011ء میں حج کی سعادت حاصل کی تھی ،11 اکتوبر کو فیصل آباد سے شاہین ائیر لائن کے ذریعے جدہ روانہ ہوئے تھے۔ حج نومبر کی گیارہ سے چودہ تک تھا اور بائیس نومبر کے دن واپسی تھی۔ تب بہت دنوں تک اپنی گلیوں اور سڑکوں سے اجنبیت رہی، جہاں چالیس دن قیام کیا وہ زندگی کے چالیس سالوں پر حاوی ہوگئے۔ حج کا سفرنامہ ’’زہے مقدر‘‘ انہی کیفیات میں ڈوب کر لکھا جو قسط وار ماہنامہ بتول میں شائع ہؤا اورکتابی شکل میں ادبیات نے شائع کیا ۔
یہ وہ سفر نامہ ہے کہ بہت معروف ہستیوں نے پڑھا تو اپنے جذبات مجھ سےشیئر کیے۔ میں اب بھی وہ سفرنامہ ہاتھ میں لوں تو آنسو دھند کی چادر بن جاتے ہیں۔کے پی کے سے میرا سفر نامہ حج پی ایچ ڈی…

مزید پڑھیں

روز مرہ کے عارضوں کا شہد اورپودینے سے علاج ۔ شائستہ علی

‘ پودینے کے متعلق چھان بین کرنے پر اس کے بہت سے فوائد کے بارے میں علم ہؤا موسم بدلتے ہی نزلہ زکام کی وبا سی پھیل جاتی ہے گھر میں پہلے ایک فرد بیمار ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر انا اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں پودینے کا قہوہ شہد کے ساتھ ملا کر پیا جائے تو بہت افاقہ ہوتا ہے۔
پودینہ کا قہوہ بند ناک اور جکڑے ہوئے سینے کو آرام پہنچاتا ہے شہد خراب گلے پر مرہم کا کام کرتا ہے اور دونوں مل کر نزلہ زکام اور کھانسی کو بھگا دیتے ہیں ۔
یہ دونوں بخار کی شدت کو بھی کم کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پیٹ کے مختلف عارضوں میں بھی پودینہ اور شہدبے مثال ہیں ۔ یہ انفیکشن کو ختم کرکے پیٹ کی صحت کو بحال کرتے ہیں ۔ پودینہ پیٹ میں زائد گیس کی صورت میں بھی مفید ہے ۔ ہمارے روز مرہ کے عارضوں میںمصروفیات اور ذہنی دبائو کی وجہ سے سرکادرد بھی ایک عام عارضہ بن گیا ہے اکثر بچے بھی اس کی شکایت کرتے ہیں ۔ پودینے کے پتے دھو کر لیپ بنا کر ماتھے اور کنپٹیوں پر لگانے سے سر درد میں افاقہ…

مزید پڑھیں

نئی دنیا کا دروازہ ۔ ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

دروازہ ہماری زندگی کا ایک اہم جز ہے۔ دروازہ کھلا ہو یا بند اس کے ساتھ ہماری بہت سی نفسیاتی جہتیں وابستہ ہیں۔
بند دروازے بھی نعمت ہیں۔ حفاظت اور رازداری اور ذاتی معاملات کی پردہ داری رکھتے ہیں۔ اگر دروازے بند نہ ہو سکتے کسی الماری کے گھر یا کمرے کے، تو کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔ اس موضوع پہ جتنا غور کریں تو بند کواڑ کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔
لیکن یہی بند دروازے جب کھل نہ سکیں یا کوئی ہمارے لیے کھولنا نہ چاہے تو کتنی کوفت ہوتی ہے۔ اور در کے نہ کھلنے یا نہ کھولنے کے ساتھ بھی کس قدر جذباتی اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، غرض ہر شے کے دو پہلو ہوتے ہیں اور دونوں اپنے مقام، موقع و محل کی نسبت سے اہم ہوتے ہیں۔
کسی زمانے میں شہروں کے بھی دروازے ہوتے تھے جو شہریوں کی حفاظت کے لیے بنائے جاتے تھے۔ اجنبی لوگوں کا داخلہ شہر میں آسان نہ ہوتا تھا۔ بڑے گھروں میں بیرونی اور داخلی دروازے ہوتے۔ مردان خانے اور زنان خانے کے درمیان بھی پردہ داری ہوتی تھی۔ ہر شہر، محل، حویلی اور گھر خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، یا جھونپڑی ہی ہو اندر داخل ہونے کا پہلا…

مزید پڑھیں

ہیںکواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ ۔ فرزانہ رشید

میں نے طالب علموں کے یہ ’’ علمی شہ پارے ‘‘ بڑی عرق ریزی سے ان کے پرچوں سے
اکٹھے کیے ہیں اوراس میں میرے بہت سے ساتھی اساتذہ کاتعاون بھی شامل رہا ہے

ابن آدم کی ملائکہ و جنات پر پہلی برتری علم کی بدولت ہوئی۔ انسان اپنے ارتقائی سفر سے آج تک مسلسل سیکھ رہا ہے اور سیکھنے کا باقاعدہ عمل مکتب سے شروع ہؤا اور یہ سفر سکول ، کالج ، یونیورسٹی اور تحقیق پر منتج ہؤا۔یقیناً اس سفر میں انقلاب کالج کے ظہور سے ہؤا۔ جو اب یونیورسٹیاں بن چکی ہیں ۔کالج کی سطح کے اکثر طالب علم حصول علم کے علاوہ دیگر سرگرمیوںمیں مصروف عمل نظر آتے ہیں ۔ خاص طور پر کالج کے لڑکوں کی کچھ تعداد ہلہ گلہ کرنے ، سڑک بند کروانے ، کسی کنڈیکٹر کی پٹائی کرنے اور کسی کو مل کر اٹھائے جانے کی سر گرمیوں میں رہتی ہے ۔
دس سال سکول کی گھٹن زدہ فضا میں پروان چڑھنے والا ڈر پوک بچہ کالج میں آکر یکدم ’’ سلطان راہی ‘‘ کیسے بن جاتا ہے ؟ مسلسل چھ ، سات کلاسیں پڑھنے والے طالب علم پر ایک پیریڈ پڑھنا ہی کیوں بارِ گراں ہو ؟ ان سوالات کا جواب آپ کو کالج…

مزید پڑھیں