آغوش ۔ اوّاب شاکر
باورچی خانے میں چولہے پر ہانڈی چڑھاتے ہوئے کچھ خیال آنے پر ثمینہ نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔
ہائیں !مُنا کہاں گیا؟
دل میں یک دم کسی انجانے سے وسوسے نے سر اٹھایا۔ ابھی تو ادھر ہی تھا ، جو گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے باورچی خانے کے دروازے پر آکر کچھ دیر پہلے اماں ، اماں پکارنے لگا تھا ۔ محبت سے پسیجے دل کے ساتھ ثمینہ نے سب کام چھوڑ کر اسے سینے سے لگا کر بہت پیار کیا ، پھر اسی دم فون کی گھنٹی بجنے پر وہ منے کو گود میں لیے اپنی بہن رافعہ کی کال سننے لگی تھی ۔ وہاں سے فارغ ہو کر پھر نہ جانے منے کو اس نے کہاں بٹھایا تھا؟
اور اب ….دل سخت فکر مند ہو گیا ۔ چولہے کی آنچ ہلکی کر کے وہ باورچی خانے سے نکل کر برآمدے میں آئی کہ شاید وہیں منے میاں اپنے لاڈلے کھلونے لیے کھیلنے میں مگن ہوں ، مگر منایہاں بھی نہیں تھا ۔ سارے بدن میں پریشانی کی سرد سی لہر دوڑ گئی ۔ اس نے سر پہ دوپٹے کو سیدھا کیا اور تیز قدموں سے سونے والے کمرے میں آئی۔
’’ منا! میری جان منا !‘‘
ممتا کی محبت میں ڈوبی ہوئی آواز…

