امام نوویؒ

ذکر اور تلاوت قرآن کی فضیلت ۔ امام نوویؒ

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا : جس آدمی نے کسی مومن کی دنیا کی تکلیف میں سے ایک تکلیف کو دور کردیا اللہ تعالیٰ اُس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کو دور کردے گا اور جس آدمی نے کسی مصیبت میں گرفتار آدمی کے ساتھ آسانی کا معاملہ کیا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمائیں گے اور جس آدمی نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ۔ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا ۔ جب تک کوئی آدمی بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے اللہ بھی اس کا مدد گار رہتا ہے اور جو آدمی حصول علم کے لیے سفر اختیارکرتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور جب بھی کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کے درس و تدریس کا اہتمام کرتے ہیں ، تو لازماً ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ…

مزید پڑھیں

تین نصیحتیں ۔ امام نوویؒ

’’ حضرت ابو ذر جندب بن جنادہؓ اور ابوعبد الرحمٰن معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے رسول اکرم ؐ نے فرمایا : تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو اور خطا ہو جانے کے بعد نیکی کرو کہ وہ برائی کو مٹا دیتی ہے اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئو ‘‘۔(ترمذی مسند احمد )
تَمحُھا کا مطلب ہے مٹانا ، ختم کرنا ۔ مراد ہے کہ جب بھی کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً نیکی کرے تاکہ غلطی کا ازالہ ہو جائے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ان الحسنات یذھبن المسیات
اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریمؐ نے حضرت معاذبن جبلؓ کو تین نصیحتیں فرمائیں ۔
(۱) تقویٰ
تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ اس میں لفظ ’’تقویٰ‘‘ استعمال ہؤا ہے ۔ جو اپنے مفہوم کے اعتبار سے بہت وسیع ہے ۔ قرآن مجید میں اس سے زیادہ اور کوئی لفظ اتنی مرتبہ استعمال نہیں ہؤا ہے ۔تقویٰ کی حیثیت یہ ہے کہ بندہ اپنے اور اس سے جس سے ڈرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک دیوار حائل کر لے اور بندے کا اپنے رب سے ڈرنا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے غضب اور ناراضگی اور اس کی سزا سے بچے…

مزید پڑھیں