اسامہ ضیاء بسمل

غزل تری گلی سے جڑے راستے ہزاروں ہیں قدم قدم پہ مگر مسئلے ہزاروں ہیں بدل بدل کے مجھے عکس کیا دکھاتا ہے مرے ضمیر ترے آئینے ہزاروں ہیں نفیس کوچہ و بازار ہیں تو کیا حاصل سفر سے پاؤں میں جو آبلے ہزاروں ہیں یہ ایک دن تو مرے واسطے بہت کم ہے کہ […]

بڑی پرخار ہیں راہیں مگر دامن بچانا ہے کہ میر کارواں ہوں میںمجھے رستہ بنانا ہے نگاہوں کو جھکا رہنے دوں عصمت کا تقاضا ہے کہ ان کا کام تو ہر دن نئے سپنے سجانا ہے زمانے کی نگاہیں ہیں بہت بےباک اے ساتھی سنبھل کر چل اگر خود کو نگاہوں سے بچانا ہے کبھی […]

آسمان پر بادل چھائے اور خوب برسے، پسینہ میں شرابور نفوس نے جہاں سکھ کا سانس لیا وہاں ان کے چہروں پر تشویش کی لہر بھی تھی۔ پہاڑی راستے کی مسافر بارات کہیں تاخیر نہ کر دے۔ ظہر کی اذان سے قبل مسجد کے قرب میں دو ویگنیں آ کر رکیں اور جن سے تین […]