سالگرہ تو ایک چھوٹے سے بچہ کی تھی ، لیکن تفریح اور محفل بڑوں کی تھی ۔ بچے تو ایک بڑے سے بادبانی جہاز نما کیک پر جلتی ہوئی چار ننھی شمعوں کے گرد کھڑے ہو کر اپنی ننھی ننھی توتلی زبانوں اور چمچماتی ہوئی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے سالگرہ مبارک کا نغمہ گا کر اور اپنے حصہ کی مٹھائی اور پیسٹریاں وغیرہ اُڑا کر لان کے دوسرے سرے پر کھیلنے کودنے لگے تھے اور بالکل چھوٹے بچے اپنی آیائوں یا امائوں کے آنچل تھام کر کھڑے ہو گئے تھے ۔
اب محفل پر بڑے چھائے ہوئے تھے ۔ ہر طرف قہقہے اور ہنسیاں تھیں ۔ کوکا کولا کے کریٹ پر کریٹ کھل رہے تھے اور لڑکیاں اور بعض بیگمات ہنس ہنس کر لٹکے ہوئے غبارے اور کریکرز اُچھل اُچھل کر اُتارنے اور ان کو پھاڑنے میں مصروف تھیں اور پھر اس طوفان کے تھمنے کے بعد مختلف میزوں پر گانے اور پارٹی گیمز کے پروگرام بنتے اور بگڑتے رہے۔
لیکن میری میز سے کچھ فاصلے پر ایک نسبتاً الگ تھلگ بیٹھی ہوئی لڑکی ان میں سے کسی چیز میں بھی حصہ نہیں لے رہی تھی ۔ ایک خاموش تماشائی کی طرح اپنی ہتھیلی پر اپنا گال ٹکائے سب کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہوں میں بیزاری اور مظلومیت تھی جیسے اس کو جبراً یہاں اس طوفان میں پھنسا دیا گیا ہو۔
مہمانوں کی خاطر مدارت کرتی ہوئی عذرا جب میرے قریب آئی تو اس نے مجھے اس کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھ کر کہا ، ’’ وہی ہے جس سے میں تمہیں ملوانا چاہتی تھی ۔آئو میں تم کو اس سے ملوا دوں ‘‘۔
’’ اب کیا حال ہے اس کا ؟‘‘ میں نے عذرا سے پوچھا۔
’’ وہی بلکہ پہلے سے زیادہ کچھ ابتر ہے ۔ اب دیکھ لو نا ، اس وقت کی خاموشی اور بیزاری ‘‘۔
’’ تو مجھ سے ملوا کر تم کیا کر لو گی ۔ بعض آدمیوں کا مزاج ہی خاموشی ہوتا ہے ‘‘۔
’’ اب سے ایک سال پہلے بہت چنچل ،ہنس مکھ اور خوش گفتار تھی۔بڑا ہی پیارا گاتی تھی اور اب تو ہزار تقاضوں کے بعد بھی بس وہی ایک بندھا ٹکا جواب ، میرا گلا خراب ہے ۔ زیادہ اصرار کرو تو گاتےگاتے رونے لگتی ہے‘‘۔
’’ تو بھائی مجھ سے مل کر اس سب کا مداوا کیوں کر ہوگا ۔ میں ماہر نفسیات تو نہیں ہوں ‘‘۔
’’ ہوگا تو کیا ، مگر شاید کچھ ہو جائے ۔ تم ماہر نفسیات تو نہیں ہو مگر دوسروں کے دل میں گھر کرنا خوب آتا ہے ۔ ایسی بھولی بھولی شکل بنا کر بات کرو گی کہ بس انسان خود بخود تم کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھے گا اور جو دل میں ہوگا اُگل دے گا ۔ مجھی کو دیکھو بغیر تمہارے پوچھے ہر بات تم سے کہہ دوں گی اور دوسرا چاہے سرپٹخ کر مر جائے تو نہ بتائوں گی‘‘۔
میں ہنس پڑی تو بولی ،’’ اچھا اب چل کر مل لوناں ۔ ٹھہرو میں اس کو لاتی ہوں ‘‘۔
وہ اس طرف گئی اور میں نے دیکھا کہ وہ بڑی خوف زدہ اور بیزار نظروں سے اس کو دیکھنے لگی۔ مگر عذرا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اُٹھالیا اور میرے پاس لے آئی اور مجھ سے بولی ،’’ لو بھئی یہ ہیں مجیب ۔ تمہارا نام وغیرہ یہ خود پوچھیں گی ‘‘۔
’’ مجیب !‘‘ میں نے تعجب سے کہا۔
’’ہاں ! ان کا ایسا ہی نام ہے امتہ المجیب‘‘۔ وہ ہنسی اور اس کو زبردستی میرے قریب بٹھا گئی ۔
اس نے میرا نام پوچھا نہ میں نے بتایا۔ در اصل میں اس وقت خاصی تھک گئی تھی بلکہ مجھے نزلہ کی وجہ سے کچھ حرارت محسوس ہو رہی تھی ۔ میں گھر جانا چاہتی تھی لیکن ہر بار چھوٹا چنو جس کی آیا کے طور پر میں ساتھ آئی تھی ، بڑی خوشامد سے کہہ جاتا تھا ، بس خالہ تھوڑی دیر اور رک جائیے ، میں اپنی باری ختم کر لوں تو آتا ہوں ۔
بہر حال میں خود ہی بیزار سی بیٹھی تھی ۔ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ۔ وہ میانہ قد کی دبلی پتلی اور زرد رُولڑ کی تھی ۔ اس کی آنکھیں موٹی موٹی اور بیمار سی تھیں ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عرصے دُکھتی رہی ہوں اور ان میں رو ہے پڑ گئے ہوں ، مگر ایسا کچھ نہ تھا ، صرف اس کی آنکھوں کی بناوٹ کا قصور تھا ۔ اس کے بال بڑے پیارے طرز پر کٹے ہوئے تھے ۔ اپنی زرد رنگت کے باوجود وہ دھیمے اور بڑی حد تک سوئے ہوئے رنگوں کے لباس میں تھی ۔اس کے انداز سلجھے ہوئے اور افسردہ تھے ۔ اس کے پورے وجود پر ایک خاموش سو گواری طاری تھی ۔ اس نے بھی بغور مجھے دیکھا اورشاید مجھے بھی یوں خاموش اور بیزار سے دیکھ کر اس کو دلچسپی ہوئی اور وہ میری طرف اب بڑی مانوس نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
اسی دم ایک لمبی تڑنگی اور موٹی سی لڑکی نے ایک اونچے سے بیلون کے لیے اچھلنا شروع کیا ۔ اس کا تیز بیگنی لباس، اس کے بڑے بڑے چھپکے سے پھولوں والی قمیص اور گھوڑے کی دُم کی طرح اٹھی ہوئی پونی ٹیل ہر بار فضا میں اچھلتی اوردھم سے زمین پر آ رہتی تھی ، اور پھر وہ پھٹے ہوئے بانس کی سی آواز میں قہقہے لگانے لگتی ۔ اس کا تیز سرخ لپ سٹک اور چیختا ہؤا میک اپ مجیب کو تو خیر بیزار کر ہی رہا تھا مگر مجھے بھی اس کو دیکھ کر کوفت سی ہونے لگی ۔ آخر وہ دھب دھب کرتی اس غبارے سے مایوس ہو کر اپنی کرسی پر جا بیٹھی ۔ میری نظروں میں اس کے لیے اعتراض دیکھ کر مجیب مسکرائی اور بولی ،’’ انگور کھٹے ہیں ‘‘۔
اس کی نقرئی آواز میں سوز و نغمہ کی گونج تھی ۔ جواب میں مَیںبھی ہنس پڑی۔
’’ کہیں پڑھتی ہو ؟‘‘ میں نے سر سری طور پر پوچھا۔
’ ’ جی ہاں ، سکینڈ ایئر میں ۔ لیکن میں اس سال امتحان میں نہیں بیٹھی‘‘۔ اس کی نگاہوں میں تاسف اور شرمندگی تھی۔
’’ اچھا‘‘۔ میں نے بغیر کسی تعجب کے کہا اور خاموش ہو گئی لیکن میرے سوال کیے بغیر ہی وہ کہنے لگی ،’’ پتا نہیں کیوں میرا دل اُچاٹ ہو جاتا ہے ‘‘۔
سامنے سے چنو گزرا اور میں نے آواز دی ،’’ اب چل بھی چکو مسٹر‘‘۔ اور پھر اس سے کہا ، ’’ یہ ہیں چنوں صاحب جنہوں نے مجھے باندھ رکھا ہے اس وقت ‘‘۔
’’ اچھا !‘‘اس نے بے تعلقی سے کہا ۔
اس مرتبہ چنوں چلنے کے لیے ہی آیا تھا ۔ میں چل پڑی۔
’’ اچھا مجیب بی بی ، تم سے مل کر فی الحال تو کوئی مسرت ہوئی نہیں، آئندہ دیکھا جائے گا ‘‘۔ اس کی افسردہ سی آنکھوں میں ایک لمحہ کو مسکراہٹ سی جاگ اٹھی ۔
اور جب میں عذرا سے رخصت ہونے گئی تو اس نے مجھ سے کئی سوال کر ڈالے ۔’’ ملیں، دیکھا؟ کچھ اندازہ کیا ؟‘‘
’’ پاگل ہوئی ہو! اتنی دیر میں کوئی کیا اندازہ کر سکتا ہے ۔ مجھ سے تو اس نے خاصی بات کی ہے ۔ کچھ رنجیدہ رہتی ہے ۔ یہ بتائو کہیں دل ول تو نہیں کھو گیا ان کا ‘‘۔
’’ لو ساری زلیخا سن لی اور اب پوچھتی ہوزلیخا عورت تھی یا مرد ۔ یہ تو تم کو پہلے ہی بتایا تھا کہ اس نگوڑے لڑکے سے جسے کزن کہہ لو یا بوائے فرینڈ پہلے ہی دل اچاٹ کیے بیٹھی ہیں صاحبزادی۔ وہ غریب ہزار جتن کرتا ہے کہ اس کی خطا تو معلوم ہو۔ اور کسی دوسرے پر بھی نظر نہیں ‘‘۔
’’ اچھا ہوگا تم جانواور تمہاری خبطن ۔ ہمیں تو بخار چڑھ رہا ہے ‘‘۔ میں نے دو تین چھینکیں لے کر کہا ۔
’’ واہ ہم اور ہماری خبطن کیسے جائیں ۔ تم کہتی ہو تم سے باتیں کی ہیں یہ بالکل نئی بات ہے ۔ وہ کسی نئے آدمی سے بات کرنے کی قائل ہی نہیں ۔ یہ سمجھ لو کہ تم نے اس قلعہ کا سب سے سنگین دروازہ تو کھول ہی لیا ہے‘‘۔
پھر عذرا نے چلتے چلتے روک کر ہاتھ پکڑ لیا ۔’’ دیکھو ، اگر تم اس کے دل میں گھر کر سکو تو تمہارا بڑا احسان ہو گا ۔ تم اس معاملہ میں بڑی ہوشیار ہو ۔ میری خالہ اس کی حالت سے بڑی پریشان رہتی ہیں ۔ اتنے بچوں میں یہ ہمیشہ ان کی لاڈلی تھی اور اب جو ایک سال سے یوں الجھی ہوئی خاموش اور جھنجھلائی رہتی ہے تو ان کی صحت پر بھی بڑا بُرا اثر پڑ رہا ہے ‘‘۔
’’ اچھا تو ایک کام کرنا ، وہ یہ کہ اس سے کسی طرح باتوں باتوں یہ معلوم کر لینا کہ مجیب نے میرے اندر کون سی ایسی بات دیکھی جو میری کوشش کے بغیر ہی مجھ سے بات چیت کرنے لگی ‘‘۔ عذرا کے دل میں خواہ مخواہ وہم ہو گیا تھا کہ مجیب کے مزاج کی اصلاح میں مَیں ان لوگوں کی مدد کر سکوں گی۔
اتوار کی صبح تھی اور میں انگنائی کے ایک کونے میں ٹب رکھے ہوئے کپڑے دھونے میں مشغول تھی کہ سامنے کا دروازہ کھلا اور عذرا مجیب کے ساتھ داخل ہوئی ۔ میں ان دنوں کو دیکھ کر کھڑی ہو گئی ۔
’’ تم لوگ کہاں !‘‘
میرے دونوں ہاتھوں میں صابن کے جھاگ تھے ۔ میں نے مجیب کے سلام کا جواب سر کے اشارے سے دیا اور عذرا سے کہا ،’’ تم لوگ چل کر اماں جان کے پاس بیٹھو ، میں آتی ہوں‘‘۔
’’ بھئی ہم تو تمہارے پاس آئے ہیں ۔ اپنے کمرے میں لے چلو‘‘۔عذرا نے معنی خیز انداز میں کہا اور میں فلٹر سے جلدی جلدی ہاتھ دھو کر ان کو اپنے کمرے میں لے آئی ۔ میں نے مجیب سے بہت رسمی سی مزاج پرسی کے علاوہ کوئی بات نہ کی اور عذرا سے اِدھر اُدھر کی دو چار باتیں کرنے کے بعد کہا کہ ’’ میں تمہارے لیے کچھ پینے کے لیے تو لے آئوں ‘‘۔
’’ بھئی ہمارے لیے تکلفات مت کرنا ‘‘۔عذرا نے تکلف سے کہا۔
’’ توبہ کرو، میں کیا تکلفات کروں گی ۔ تم مجھ سے ملنے آئی ہو ، تکلفات کے لیے تو نہیں آئیں ‘‘۔ چلتے چلتے میں نے عذرا کو اشارے سے بلا لیا اور اس سے پوچھا ، ’’ کچھ پتا چلا مجیب نے مجھ سے بات چیت میں سبقت کیوں کی تھی ‘‘۔
’’ کچھ زیادہ تو نہیں پتا چل سکا۔ وہ کوئی بات کھل کر تو کرتی ہی نہیں۔ کہتی تھی پتا نہیں بس معلوم نہیں کیا بات تھی ، شاید ان کی سفید ساڑھی اور بھورا بلائوز مجھے اچھا لگتا تھا یا معلوم نہیں کیا چیز ‘‘۔
’’ بھئی اصل میں اس کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کرتا ۔ مگر اب تم اس کو یہاں کیوں لے آئیں ۔ اتنے بڑے آدمی کی لڑکی اور ہمارے اس گھر میں آئے ‘‘۔
’’ میں خود تو نہیں لائی ۔ مجھے آتا دیکھ کر اپنی مرضی سے تیار ہو کر آئی ہے ۔ بڑے تعجب کی بات ہے‘‘۔ میں جب شربت لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو میں نے دیکھا ، وہ میری میز کے قریب کتابیں الٹ پلٹ کر دیکھ رہی ہے ۔ مجھے دیکھ کر وہ اپنی جگہ واپس آگئی ۔میں نے اسے شربت کا گلاس دیتے ہوئےکہا ،’’ عذرا میری والدہ سے باتیں کرنے لگی ہے ، ابھی آتی ہو گی ‘‘۔
’’کوئی بات نہیں ۔ یہ کتابیں آپ کی ہیں ؟‘‘
’’ ہاں ‘‘۔
’’ آپ نے سب پڑھ ڈالیں ۔ اور …‘‘ یہ کہہ کر وہ رک گئی ۔
’’ اور کیا … کیا کہہ رہی تھیں ؟ رک کیوں گئیں ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ کچھ نہیں ‘‘۔ وہ بات کاٹ گئی ۔
میں نے اصرار نہیں کیا ۔ عذرا بھی واپس آگئی ۔ ہم لوگ مختلف باتیں کرتے رہے جن میں مَیں زیادہ تر عذرا سے مخاطب رہی ۔ وہ دونوں چلنے لگیں تو عذرا دروازے سے واپس آئی اور کہنے لگی ،’’ مجیب کہتی ہے ، کسی دن آپ ہمارے یہاں آئیں ‘‘۔
میں اس کو دوبارہ موٹر تک پہنچانے گئی اور کہا ، ’’ اچھی بات ہے ، دیکھو فرصت ملی تو آئوں گی ‘‘۔
ایک ہفتہ گزر گیا ۔ میں وہاں نہ گئی ، آخر عذرا مجھے لینے آگئی۔
’’ تم نے وعدہ خلافی کی ہے ۔ خدا کے لیے ، کچھ امید بندھی ہے تو تم نخرے کر رہی ہو ‘‘۔
اس کے لہجہ میں التجا اور مجھے پر اعتماد تھا ، اس لیے میں نے نخرے کی بات کا بُرا نہ مانا اور بہت سمجھا کر کہا ، ’’ تم لوگوں کو وہم ہو گیا ہے ۔ وہ اچھی خاصی ہے ۔ ذرا کم گو ہے اور اگر کچھ ہے بھی تو میں کیا کرلوں گی‘‘۔
’’ ذرا کم گو نہیں ہے ۔ اس کا تقریباً وہی حال ہے جو یاد ہوگا ایک کہانی ہم نے تم نے پڑھی تھی ، امیر آدمی کی لڑکی کی کہ ہنسنا بولنا بھول گئی تھی اور اس کے ہنسانے بولانے پر انعام مقرر ہوئے تھے ۔ بس وہی سٹیج آنے والی ہے ‘‘۔
’’ اس کی عمر کیا ہے ؟ ابھی تو بالکل بچی سی ہے ‘‘۔
’’ سولہ سال کی ہے اور پچھلے سال سے ایسی ہو گئی ہے‘‘۔
مجیب کے ہاں میرا آنا جانا ہو گیا ۔ وہ ہر بار میرے اور بھی قریب آتی گئی ۔ اس کی پرورش شہزادیوں کی طرح ہو رہی تھی ۔ مگر وہ خاموش اور بے اندازہ افسردہ رہتی تھی ۔ میں نے اس کے کزن انور کو بھی دیکھا ، بے حد الٹرا ماڈرن اور سجا سجایالڑکا تھا ۔بڑا پر تکلف اور ایٹی کیٹ میں ماہر ۔ مجیب کے اتنے موڈرن اور مکلف گھر میں اُپرایا ہوا رہتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی غیر ملکی بلکہ غیر ایشیائی کو پکڑ کر یہاں بند کر دیا ہے ۔ مجیب گھر بھر میں اسی سے زیادہ بیزار تھی۔
بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی میری کوشش کے وہ مجھ سے خاصی بے تکلف ہو گئی تھی ۔ مجھے بھی اس نازک سی غمگین لڑکی سے انسیت ہو چکی تھی ۔ پڑھائی تو اس نے چھوڑ دی تھی مگر اس کا مطالعہ گہرا اور ستھرا تھا ۔ گورکی اور موپاساں اس کے پسندیدہ لکھنے والے تھے اور عجیب بات یہ تھی کہ بڑے گھرانوں کی لڑکیوں اور لڑکوں کے برعکس وہ اپنی زبان اور ادب سے بڑی دلچسپی رکھتی تھی ۔ مگر اس سب کے متعلق ایک لفظ اس کی زبان سے نہ نکلا تھا۔ یہ میں نے اس کے مطالعہ اور کمرے کے جائزہ سے اندازہ لگایا تھا ۔ رفتہ رفتہ مجھے یہ محسوس ضرور ہؤا کہ اس کی اور میری طبیعت اور مذاق میں بڑی مناسبت تھی ۔ ہم لوگ صرف کھانوں اور رنگوں کے ہی معاملہ میں ہم مذاق ثابت نہ ہو رہے تھے بلکہ بعض چھوٹی موٹی بیماریوں اور سوچنے کے انداز بھی ہم مذاق تھے ۔ صرف ایک بین فرق یہ تھا کہ وہ زندگی کے سٹیج کا ایک المیہ کردار نظر آتی تھی اور مجھے ہنسنے بولنے کا موقع شاید پھانسی کے تختہ پر بھی مل جاتا تو تعجب خیز نہ تھا۔
ایک شام مجھے اس کے یہاں پہنچنے پر معلوم ہؤا کہ وہ ان دنوں بہت رنجیدہ ہے اور کل سے شدت سے خاموش ہے ۔میں بہت دن سے ملی نہ تھی ۔ جب میں اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ اندھیرے میں ایک خاموش اور دکھیاری روح کی طرح سرنگوں بیٹھی تھی ۔ اس کی کہنی کے نیچے ایک موٹی سی سیاہ کتاب تھی ۔ اس نے میری چاپ سن کر آہستہ سے لیمپ روشن کر دیا ۔ لیمپ کی دھیمی اور سبز روشنی میں اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور انداز تھکے ہوئے ۔ مجھے دیکھ کر وہ یوں مسکرائی جیسے شدید تنہائی اور مصیبت میں کوئی سہارا نظر آگیا۔
’’ ارے آج تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ پھر میں چلتی ہوں‘‘۔وہ جیسے اس قدر روئی تھی کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولی ، ’’ بیٹھ جائیے ‘‘۔
اس کے قریب پڑی ہوئی سیاہ کتاب پر نقرئی حروف میں لکھا تھا :
’’ میرے شب و روز ‘‘۔
’’ یہ کون سی ناول ہے ۔ میں نے کبھی نہیں دیکھی؟‘‘ میں نے اس کے رونے اور افسردگی کی وجہ پوچھنے کی بجائے اس سے سوال کیا۔
’’ یہ میری ڈائری ہے ‘‘۔ اس نے اپنی آواز پر قابو پاتے ہوئے کہا ، ’’ آپ نے نہیں پڑھی؟‘‘
’’ لو میں کیسے پڑھتی ؟ ڈائری عام طور پر اسی لیے لکھی جاتی ہے کہ دوسروں کی نظر نہ پڑے اور دوسرے مجھے یہ خبر بھی نہ تھی کہ تم اپنی ڈائری لکھتی ہو ۔ یہ تو بڑی پیاری ہے ۔ کس نے دی ہے ؟‘‘
’’ نہیں میںنے خود بنوائی ہے ۔ آج آپ میری ڈائری پڑھ لیجیے‘‘۔
’’ ابھی ؟ میں نے گھبرا کر کہا ،’’ پھر مجھے بہت دیر ہو جائے گی ‘‘۔
’’ اتنی زیادہ نہیں ہے ۔ میں نے کچھ مہینوں سے لکھنی شروع کی ہے۔ پڑھ لیجیے ‘‘۔اس نے التجا سے کہا ، ’’ لوگوں کا خیال ہے ، میں پگلی ہوں اور مجھے نیو راسس ہو گیا ہے ۔ میرے اندر وحشت کا مادہ پرورش پا رہا ہے ۔ بعض وقت کیا اکثر مجھے بھی اس کا یقین رہتا ہے لیکن کبھی کبھی رات کو تنہائیوں میں جب میں اپنی ڈائری لکھتی ہوں تو مجھے یقین ہونے لگتا ہے کہ میں نہ تو وحشت زدہ ہوں اور نہ نیو راٹک ہوں ۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ میں اچھی خاصی ہوں مگر میں بہت دکھی ہوں ، اس لیے کہ شاید میری طرح کوئی نہیں سوچتا ۔ یا شاید یہ بھی کوئی پاگل پن کی سٹیج ہو ‘‘۔
میں اس نازک اندام لڑکی کو بغور دیکھ رہی تھی جو بلا وجہ جذباتی ہو رہی تھی ۔ مغربی دریچہ میں سے چاند کی کرنیں دبے دبے داخل ہو ہو کر اس پھیکے اور غمگین چہرے پر پڑ رہی تھیں ۔ افسوس ، اچھی خاصی لڑکی نہ جانے کیوں سنکی سنکی سی ہوتی جا رہی ہے ۔ میں نے بڑے تاسف سے سوچا۔
وہ میرے قریب آگئی ۔ میرے دنوں شانوں پر ہاتھ رکھ کر بولی ، ’’ آپ میری ڈائری پڑھ لیجیے ۔ شاید آپ مجھے بتا سکیں کہ کیا واقعی میں کچھ ابنارمل اور غیر متوازن ہوں ۔ آج کے بعد پھر کبھی ڈائری نہیں لکھوں گی ۔ یہ میرا آخری اندراج ہے ‘‘۔
میں نے اس کی بہکی بہکی باتوں کو ٹالتے ہوئے بات بدلنے کو پوچھا ، ’’ تم اپنی ڈائری اردو میں لکھتی ہو یا انگریزی میں ؟‘‘
’’ اردو میں ۔ انگریزی میں کیوں لکھتی ؟‘‘ اس کی آنکھوں میں شدید احتجاج کی کیفیت تھی ۔
بادل ناخواستہ میں نے ڈائری ہاتھ میں اٹھا لی ۔یہ ڈائری اس نے گزشتہ چند ماہ سے لکھنا شروع کی تھی ۔ ڈائری مسلسل نہیں لکھی گئی تھی ۔ کئی کئی ہفتوں کے اندر اجات غائب تھے ۔ میں نے آہستہ سے ڈائری کھولی اور پہلےہی ورق پر رک گئی ۔ دائیں طرف اس کی ایک پاسپورٹ سائز تصویر چپکی ہوئی تھی جس کے نیچے موٹی سی خوب صورت لکھائی میں تحریر تھا:
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
لیکن فوراً ہی نیچے یہ دو سطریں لکھی تھیں ۔ ’’یہ میں نے کسی جُنگ میں لکھ دیا ۔ خوب اپنے متعلق بڑا بھاری مغالطہ ہے‘‘۔
بائیں ہاتھ والے صفحہ پر لکھا تھا :
’’ لوگ کہتے ہیں ، میں شاخِ نو بہار کی طرح نزم و نازک ہوں ۔ میرا رنگ ڈوبتے سورج کی طرح زرد ہے اور میری بیمار آنکھوں میں بڑی دلکش افسردگی ہے ۔ ان کا کہنا ہے ، میری نشست برخاست میں متانت اور دھیما پن ہے ۔ میرا امزاج ٹھنڈا اور نازک ہے ۔ گھر والوں کو فکر ہے کہ میری صحت کمزور ہے اور میں نحیف الجثہ ہوں ۔ مگر مجھے معلوم ہے کہ میں کیا ہوں ۔بعض وقت مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ میں ایک بھبکتا ہوا آتش فشاں ہوں ۔میرے اندر لاوا اُبل رہا ہے ۔ نہیں معلوم وہ کب پھٹ پڑے گا ۔ میرے چہرے پر یہ زردی اسی گھٹتے ہوئے مسموم دھوئیں کے اثر کا نتیجہ ہے ‘‘۔
اس کے بعد کئی کئی تاریخوں کے صفحات اندر اجات سے خالی تھے۔ میں نے ان صفحوں کو یکے بعد دیگرے پلٹا اور ایک اور صفحہ پر رک گئی۔
’’ میں آخر کیا چاہتی ہوں۔مجھے اب کیا چاہیے۔ اب اس سے زیادہ کی تمنا بھی ممکن ہے کیا ۔ پھر میں کیوں رنجیدہ اور مضمحل رہتی ہوں ۔ یہ میں کس سے پوچھوں ۔ میرے اس سوال کا جواب پہلے سے موجود ہوگا۔ اس عمر میں لڑکیاں ایسی ہی باتیں سوچا کرتی ہیں ۔ مگر مجھے معلوم ہے کہ سب لڑکیاں یہ باتیں نہیں سوچا کرتیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو میں خود کو اتنا اکیلا نہ پاتی لیکن مجھے معلوم ہے کہ میں کیا چاہتی ہوں اگر میرے گھر میں کوئی بھی سن لے تو مجھے واقعی پاگل خانے کی سیر کرنی پڑے ۔ میرا نام گستاخوں اور بد نصیبوں میں لکھ لیا جائے ۔ میں چاہتی ہوں ، پاپا سے صاف صاف کہہ دوں کہ مجھے بھی کوئی تمنا کرنے دیں ۔ مجھے بھی کسی چیز کی آرزو میں ترسنے دو ۔مجھے اتنا کچھ مت دو کہ میں لینے سے انکار پر مجبور ہو جائوں ۔ تم جو دوسروں کی آرزوئوں کو پامال کر کے اور ان کی جیبوں پر ڈاکے ڈال کر میری تمنائوں کو سر شار کرتے ہو تو یہ مجھے خوش بھی نہیں ہونے دیتیں ۔ پاپا ، خدارا اتنی رشوت نہ لو ۔ مجھے تمہاری کمائی کے شربت کا ہر گھونٹ دوسروں کا لہو معلوم ہوتا ہے ۔ ہر لقمہ مجھے ان بد نصیبوں کا خیال دلاتا ہے جن کی زندگیوںکو ویران کر کے تم اپنا گھر بھرتے ہو۔ مجھے اپنے سمیت اپنے گھر کے ہر فرد کا چہرہ مسخ نظر آتا ہے جیسے وہ گویا (Goya) کی مصوری کے کردار ہوں ۔ جیسے ہم لوگ عفریتیں ہوں جو دوسروں کی تباہی اور خانہ ویرانی پر مامور کی گئی ہوں ۔ مجھے بعض اوقات اس گھر کے درودیوار سے وحشت ہوتی ہے ۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے اس کی بنیادوں کو انسانوں کی سسکتی ہوئی آرزوئوں اور ارمانوں کی لاشوں پر اٹھایا گیا ہو ۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں پاپا کو بتائوں کہ جب لوگ رشوت اور چور بازاری کا رونا روتے ہیںتو میری گردن شرم سے جھک جاتی ہے ۔ میرا سکون قلب چھن جاتا ہے ‘‘۔
اتنا پڑھ کر ڈائری میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی ۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہ کھڑکی کے قریب مغموم کھڑی ہوئی باہر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ میں تو سمجھتی تھی ، ایسے ماحول میں پلے ہوئے انسانوں کوایسے خیالوں سے کوئی سرو کار ہی نہیں ہوتا ۔ میں نے ڈائری پھر اٹھا کر صفحہ پلٹا ۔ یہ دو صفحے بغیر اندراجات کے تھے ۔ پھر ایک صفحہ پر لکھا تھا :
’’ میں اپنی ڈائری لکھتے وقت تاریخ کیوں نہیں ڈالتی ۔ تاریخ ڈالنا اور اس کا حساب رکھنا کس درجہ اذیت ناک خیال ہے ۔ ایک تاریخ چپ چپاتی کھسک جاتی ہے اور دوسری دبے قدموں سر پر آکھڑی ہوتی ہے اور میں کچھ بھی نہیں کر پاتی ۔ کاش یہ کچھ نہیں مجھی تک محدود ہوتا مگر یہ کچھ نہیں تو میری پوری قوم کا نوشتہ ٔ تقدیر ہے ۔ اس کی جبیں پرصاف یہ دو حروف لکھے ہیں :’’ کچھ نہیں ‘‘۔
نہیں ، میں ہر گز تاریخوں کے چکر میں نہیں پڑوں گی ‘‘۔
دوسرے دن لکھا تھا :
’’ آج میں خود سے خوف زدہ ہوں ۔ آخر میں ہی یہ سب باتیں کیوں سوچتی ہوں ۔ میرے اور بھی تو بہن بھائی ہیں اور ایک دنیا پڑی ہے۔ کہیں واقعی میںنیوراٹک تو نہیں ہو گئی۔
ہاں ضرور یہی بات ہے ۔ پھر کیا ہوگا ؟ کیا میں سوچنا چھوڑ دوں؟ یہ ہرگز نہیں ہوگا ۔ میں یہ سب ضرور سوچوں گی ، اس لیے کہ میرے اندر احساس کی جو الا جنم لے رہی ہے ‘‘۔
اس تمام ہفتہ ڈائری بڑی باقاعدگی سے لکھی گئی تھی ۔ ایک جگہ چار سطروں میں لکھا تھا:
’’ انور سے مجھے ہمدردی ہے اور شدید نفرت ۔ وہ مجھ سے بڑی محبت کرتا ہے لیکن مجھے بیزار کرتا ہے ۔ نہ جانے کیوں مجھے وہ ایک بے حس مجسمہ نظر آتا ہے ۔ وہ اپنے دیس کے ننگے بھوکوں سے نفرت کرتا ہے اور بدیسی سنگیت پر گیت گاتا ہے ۔ خدا کے لیے انور ، دُور ہو جائو ۔ مجھے تم جیسوں سے خوف آتا ہے ‘‘۔
ایک جگہ لکھا تھا :
’’ ہم ہمیشہ بڑی دکان اور بازار کے بارونق گوشوں ہی میں جاتے ہیں ۔ آج ڈرائیور نے موٹر بازار کے سب سے زیادہ اداس اور فلاکت زدہ گوشے کی طرف کھڑی کردی اور چھوٹی بہنیں سامنے ہی چوڑی والی دکان دیکھ کر مچل گئیں ۔ اماں جان لاکھ ڈانٹتی رہیں ، آخر اتر کر جانا ہی پڑا ۔ اس حصہ میں ایسی ویرانی اور خاموشی تھی، جیسے کرفیو لگا ہو ، جیسے وہاں کوئی موت ہو گئی ہو۔ بے صبر اور بھٹکتی ہوئی شکلوں والے دکان دار بہت سی بنددکانوں کے درمیان بیٹھے ہوئے یوں نظر آ رہے تھے جیسے شہر خموشاں میں ٹمٹماتے ہوئے چند دیے ۔ بھولے بھٹکے گاہکوں کی شکل دیکھ کر وہ بھوکے کتوں کی طرح دوڑ پڑے ۔ آپا جی ! آپا جی! کر کے ان کی آوازیں اس طرح گھیر لیتی ہیں جیسے چاروں طرف سے فقیر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ ان کے اس طرح بلبلانے پر اماں جان اور آپا نے پیر پٹخے اور چوڑیاں بیچنے والوں کو چلاتا چھوڑ کر نکل آئیں اور وہ حیرت سے ان زرق برق کپڑوں قیمتی بٹووں والے گاہکوں کو بغیر لیے دیے جاتا دیکھتے رہے ۔ اور میرا دل چاہا کہ ان سے لپٹ لپٹ کر روئوں کہ یہ تمہاری چیخ و پکار صرف تمہارے پیٹ ہی کی نہیں ،ملکی صنعت کا جنازہ ہے ۔ تم اپنے مقابل میں اس بدیسی مال سے اس بھرے بازار کو دیکھو، یہ زبردست کے آگے کمزور کی شکست ہے ‘‘۔
آگے لکھا تھا:
’’ آج انور نے یوم الجزائر منانے والوں کا خوب مذاق اڑایا ہے۔ کہتا ہے ، کیا حماقت ہے ، اپنے مسئلے تو حل ہوتے نہیں دوسروں کے مسئلے کیا حل کریں گے ۔ ایسوں سے کوئی انسانی ہمدردی نہیں کی جاتی گدھوں سے ہمدردی کرنا خود گدھا پن ہے۔
مجھے اس کی ان باتوں پر سخت غصہ آیا ۔ نہ جانے کس پر ۔ خدا یا ، یہ انور کب تک بور کرتا رہے گا ‘‘۔
اس کے بعد مختلف صفحوں پر مختلف الجھے ہوئے خیالات تھے اور پھر کئی خالی صفحوں کے بعد اُس کا آخری اندراج تھا جو اس نے آج ہی ابھی ابھی کیا تھا ۔ میں نے ایک نظر پھر اس پر ڈالی ۔ وہ ابھی تک اسی طرح کھڑی تھی ۔ اس کا چہرہ کاغذ کی طرح سفید ہو رہا تھا اورآنکھیں پہلے سے زیادہ دکھی نظر آ رہی تھیں۔ میں نے بہت سنبھل کر یہ آخری اندراج بڑے غور سے پڑھا ، جس پر آنسوئوں نے دھبے ڈال دیے تھے۔
’’ کل میں سنیما گئی تھی اور ہمیشہ کی طرح اس کے اختتام پر سبز پرچم نمودار ہؤا۔ ہم اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوئے تو مجھے اس ہلالی پرچم کے عقب میں ایک عجیب و غریب منظر نظر آیا ۔ بخدامجھے اس کے عقب میں مر جھائے ہوئے کھیتوں کی زردی کے ساتھ ساتھ ہزاروں میل زمین نظر آئی جس کے شاداب لب پیاس کی خشکی سے پھٹ پھٹ کر تڑخ رہے تھے ۔ مجھے بالکل ایسا نظر آ رہا تھا جیسے کسی نے روتے اور پھڑکتے ہوئے بچے کی ماں کے سینے سے بہتی ہوئی دودھ کی دھاروں کو روک لیا ہے اور دھرتی ماتا کا سینہ خشک ہو گیا ہے ۔ مجھے اس بد نصیب اور ترسی ہوئی ماں کے لال قافلہ در قافلہ رواں نظر آئے ، جیسے کوئی اپنی ماں کی لاش کو مٹی دیے بغیر ہی چل پڑا ہو۔ میرا دل چاہا کہ ہر ایک سے پکا ر پکار کے پوچھوں ، کبھی یوں بھی ہؤا ہے ، کبھی کسان بھی زمین چھوڑ کر بھاگا ہے !
اسی ایشیا کا ایک ملک جاپان زمین کی سر سبزی اور شادابی کو قائم رکھنے کے لیے ایٹمی ٹیسٹوں کے خلاف مظاہرے کرتا ہے اور اسی ایشیا کے کچھ لوگ ہمالیہ کے سینے سے ابلتی ہوئی دھاروں کے رُخ اس لیے موڑدیتے ہیں کہ کچھ لوگ فاقہ اور پیاس سے سسکتے ہوئے اُن کے آگے جھک جائیں ۔ ہاں میں نے اس سبز پرچم کے عقب میں تباہی کے شعلوں کے درمیان نیرو کو ساز بجاتے بھی دیکھا تھا ۔ کاش میرا وجود اس میلوں پیاسی زمین کے بیچ میں ایک فائونٹین ہینڈ بن جاتا اور میری دونوں آنکھوں سے ابلتے ہوئے آنسو اس کو سیراب کر سکتے اور اُس کو دلاسا دے سکتے ۔ اگر ہمالیہ کے دامن میں بہتے ہوئے دریائوں میں اتنی قدرت نہیں ہے کہ تجھے سیراب کر سکیں تو کیا، میں اتنے آنسو بہائوں گی کہ تیری اُجڑی ہوئی کھیتیاں لہلہا اٹھیں گی اور تیسرے سہمے ہوئے آزردہ کسانوں کے چہروں پر مسکرا ہٹیں جاگ جائیں گی۔
مگر نہیں ، افسوس میں یہ کچھ بھی نہیں کر سکوں گی ۔ افسوس ، اس زمین کے اندر قوتِ نمو تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہی ہے ، اس کا جذبہ پیدائی نیست و نابود ہو رہا ہے ۔ کاش میرے احساس کے سوتے بھی خشک ہو جائیں ۔ میں آج کے بعد ڈائری کبھی نہیں لکھوں گی ‘‘۔
اتنا پڑھ کر میں نے اس کی ڈائری میز پر ڈال دی اور اس کو آواز دی ۔ ’’ مجیب!‘‘ اُس نے مجھے پلٹ کر دیکھا اور میرے پاس آ بیٹھی ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس سے کیا کہوں ۔ اس کی خاموشی اور سنجیدگی کا میں ہمیشہ سے ہی احترام کرتی تھی ۔ مگر آج کی ڈائری پڑھنے کے بعد وہ مجھے اور بھی قابل احترام اور پیاری نظر آ رہی تھی ۔ اس کا یہ چھوٹا سا خاموش و جود اور کم سن دماغ کتنا حساس اورگہرا ہے ۔
’’ تم توخوب لکھتی ہو ‘‘۔
میں نے بے تکی سی بات بولی اور وہ جو پلٹ کر کہہ دے کر تم کو صرف میری تحریر پسندآئی اور میرا وہ احساس جو ہر لحظہ میرے دل و دماغ پر ضر بیں لگا رہا ہے ، اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ مگر وہ پلٹ کر کہنے والوں میں سے نہ تھی ۔ صرف میری طرف دیکھ کر خاموش ہو گئی ۔
میں نے پھر کہنا شرو ع کیا ۔’’ اچھا کیا مجیب جو تم نے مجھے اپنی ڈائری پڑھا دی ۔ یہ ایک بڑا اعتماد اوراعزاز تھا جس کا اظہار تم نے کیا۔ مگر مجھے آج تمہاری افسردگی اور تنہائی کا سبب معلوم ہو گیا ۔ تم فضول ہی خود کو تنہا سمجھتی ہو ۔ تم کیوں اپنے اس انمول جذبہ اور احساس کو ذہنی الجھنوں اور پیچیدگیوں سے تعبیر کرتی ہو ۔ قلب کا یہ سوز اور احساس کا ابنارمل اس لیے سمجھتی ہو کہ تمہارا ماحول دوسرا ہے اور تمہارے جیسوں کے درمیان طبقوں اور سیم وزر کی دیواریں حائل ہیں ۔ تم اپنی سوچوں سے کیوں ڈرتی ہو ۔ انسان ہمیشہ سے سوچتا آیا ہے ۔ بے وقوف لڑکی ، کیا تم کو کپل وستو کے شہزادے گوتم کی کہانی یاد نہیں ہے ۔ وہ بھی تو راج بھون کی دیواروں اور شہ نشینوں میں ایک بھٹکی ہوئی غم زدہ روح کی طرح اپنے خوابوں اور اپنی سوچوں سے پریشان تھا ۔ بات صرف اتنی ہے کہ ابھی تم بہت چھوٹی ہو ۔ اتنی بڑی بڑی باتوں کے سوچنے کے لیے عمر اور تجربہ چاہیے ۔ مگر تم اس سے گھبراتی کیوں ہو تمہارے دل میں یہ وہم کیوں ہے کہ تم کچھ بھی نہیں کر سکتی ہو۔ اگر تم سوچ سکتی ہو اور محسوس کر سکتی ہو تو سب کچھ کر سکتی ہو ‘‘۔
میں نے دیکھا مجیب کی آنکھوں میں عجیب سا اطمینان اور نرمی سی آگئی ۔ اس کے چہرے پر جو ویرانی اور تنہائی ہمیشہ نظر آتی تھی ، وہ رفتہ رفتہ غائب ہو رہی تھی ۔ اس نے سر گوشی میں مجھ سے پوچھا ، ’’ تو کیا آپ کا خیال ہے کہ میں قطعی متوازن ہوں ؟ میں نیوراٹک نہیں ہوں؟ میرے اندر وحشت و دیوانگی جنم نہیں لے رہی ہے ؟‘‘
’’ کون کہتا ہے ؟‘‘ میں نے اس کی کشادہ پیشانی پر مچلتی ہوئی لٹیں سنواردیں ۔’’ اچھا مجیب ، اب اجازت دو ۔ تمہیں معلوم ہے آج میں تم سے آخری بار ملنے آئی تھی ۔ میں یہاں سے بہت دور جا رہی ہو ں ۔ اب تم مجھ سے ایک وعدہ کرو ۔ تم ہنسا کرو گی ۔ تم خود کو اس قدر مظلوم اور بد نصیب نہیں سمجھو گی ۔ تم اپنے آپ پر اعتما د کر لو اور ہنسنا سیکھ لو ۔ پھر تم کو اپنے راستے خود بخود مل جائیں گے۔ ٹھیک ہے نا ، خدا حافظ ‘‘۔
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور وہ ایک دم مسکرانے لگی ۔ مگر اس نے مجھ سے یہ نہ پوچھا کہ تم کہاں جا رہی ہو بلکہ وہ میرے بالکل قریب آکر بولی ، ’’ معلوم ہے، میں پہلے ہی دن آپ کی طرف متوجہ کیوں ہو گئی تھی؟‘‘
’’ بتائو‘‘۔ میں نے رک کر پوچھا۔
’’ اس لیے کہ مجھے آپ کی مسکراتی ہوئی آنکھوں کے پیچھے پریشانی اور بے اطمینانی نظر آئی ۔ آپ کی پیشانی اور آنکھوں کے انداز سے محسوس ہؤا کہ یہ دماغ بہت کچھ سوچتا رہتا ہے ۔ آپ کے ہنستے ہوئے وجود کے پیچھے غم کے گہرے بادل چھپے ہوئے نظر آئے ۔ آپ مجھے خط تو لکھیں گی نا ؟‘‘
’’ وعدہ نہیں کرتی مجیب ‘‘۔
’’ پھر مجھے یاد تو رکھیں گی نا ؟‘‘
’’ ہمیشہ ۔ مجیب ، میں تم کو ہمیشہ یاد رکھوں گی ‘‘۔
میں باہر نکل آئی۔ کھڑکی میں اُس کا چہرہ مجھے مسکراتا نظر آ رہا تھا۔
٭٭٭