میرے دل میرے مسافر ۔ قانتہ رابعہ

کوئی تبصرہ نہیں

میرے لیے شاہدہ اکرام محض ایک شخصیت نہیں تھیں بلکہ بہت سی ان خوبیوں کاجو کئی لوگوں میں ہوتی ہیں، مجموعہ تھیں۔اور میرا ان سے تعلق بھی کبھی ماں بیٹی والا کبھی دو بہنوں والا اور کبھی دو پکی سہیلیوں والا تھا۔یہ تعلق کم وبیش چار عشرے پر محیط تھا۔
میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ۔ادب اور شخصیت کے حوالے سے وہ اپنے اندر ایک ادارہ تھیں۔یہ وہ شخصیت تھیں جن سے بندہ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھتا تھا لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ وہ ایسی منفرد اور مبہوت کر دینے والی شخصیت کی مالک تھیں کہ دوسری محترم ہستیوں کی طرح ہم ان سے مرعوب نہیں تھے۔ مطلب یہ کہ کچھ عظیم لوگوں سے ان کی شخصیت کے رعب دبدبہ کی وجہ سے آنکھیں نیچی رہتی ہیں ، کسی بات پر کھلکھلا کر ہنسنے کو جی چاہے تو ہنسی کو حلق میں ہی قید کرنا پڑتا ہے، کچھ موضوعات کو ان کی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چھیڑا بھی نہیں جا سکتا۔
شاہدہ باجی ایسی نہیں تھیں ۔ان سے ملنے اور انہیں جاننے والے جانتے ہیں وہ دوسروں کے لیے اتنی گرمجوشی رکھتی تھیں کہ ان کی صحبت میں بلا جھجھک ہر بات کہہ دی جاتی، ہر تجویز کو پیش یا رد کیا جاسکتا تھا۔وہ جہاں بہت تحمل اور ٹھہراو رکھتی تھیں وہیں بچوں کی سی معصومیت لیے شرارتی بھی ہوجاتی تھیں۔میں نے سترہ سال کی عمر سے اکسٹھ تک ان کے مختلف رنگ دیکھے، وہ ہر رنگ میں ہر روپ میں پیاری تھیں۔
مجھے ان کی بیماری کا علم تو تھا لیکن مئی 2026ء تک ان سے فون پر مسلسل رابطہ رہا اس لیے ذہن میں ان کی جدائی کا خیال تک نہیں آیا۔پھر اپنی بھتیجی ناعمہ کی تدفین کے بعد اسلام آباد سے واپسی پر ہی پتہ چلا کہ شاہدہ باجی کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔ان کے لیے شفایابی کی دعا جاری تھی کہ ان کی رخصتی کی خبر مل گئی۔
مضطر ب دل کیاکسی پہلو قرار آپا ئے گا
تیرے جانے کا نہ برسوں اعتبار آ پائے گا
شاہدہ باجی مجھ سے پہلے میری امی کی دوست تھیں۔میری امی کے پاس جہانیاں کی حلقہ خواتین کی نظامت تھیں بھی وہاڑی سے ملتان اچکی تھیں پھر یہ 1987ء میں انہوں نے حلف رکنیت لیا تو تربیت گاہوں کا انتظام پروگرام منعقد کروانا شرکاء سے تعارف ۔۔ ۔ کوئی ایک سلسلہ تھا جس میں شاہدہ باجی سے تعلق نہ ہوا ہو۔
ادب سے تعلق وہ بنیاد تھی جس نے ہمیں ایک دوسرے کے بہت قریب کیا۔میری شادی مئی 1985ء میں ہوئی تو مجھے گوجرہ منتقل ہونا پڑا وقتی طور پر سب رابطے دب دبا گئے۔ہاں خالہ ام زبیر اس وقت کی ادبی حلقہ کی نگران تھیں انہوں نے 1991ء میں کراچی میں خواتین کا ادبی کنونشن منعقد کیا۔مجھ سے شاہدہ باجی نے رابطہ کیا اور جانے پر آمادہ کیا۔میری بڑی بیٹی ایک سال ایک ماہ کی تھی مجھے اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ اتنے لمبے سفر اور کراچی میں قیام پر تحفظات تھے لیکن میری ہر دلیل رد کردی گئی۔
میری بہن رشدیٰ میرے ساتھ تھی۔ملتان کی سخت تپتی جھلستی لو میں ہمارا سفر شروع ہوا اور کراچی تک کا ٹرین کا یہ سفر جس ماں کی بیٹی بھی ساتھ تھی کم از کم چودہ سے پندرہ گھنٹے کا تھا۔جس سفر کو میں انگریزی کا سفر سمجھ کر ڈر رہی تھی میرے لیے وہ سارا سفر وسیلہ ظفر بن گیا۔اس سفر کے دوران کسی ادیبہ یا شاعرہ ہونے کی بنا پر نہیں ہم نے سہیلی بن کر یہ سفر انجوائے کیا۔مومنہ اب ان کے حوالے تھی۔میرے لیے سارے ہی میم ان کی شخصیت کے ترجمان بن گئے۔محبتی ،مشفق،، مہربان اور مخلص ، سفر اتنا مزے سے گزرا کہ کراچی جاکر بھی اس کے اثرات نے قابو کیے رکھا۔
ہم نے تین دن میں ادبی پروگرام اٹینڈ کئے ، فاران کلب میں کنونشن، دعوتیں، ساحل سمندر پر سیر، سب میں وہ دل کے قریب ہوتی گئیں ہوتی گئیں اور اتنا قریب کہ جب بھی مجھے میسج کرتیں کراچی کے سفر وہاں کے خوشگوار قیام اور مومنہ کا تذکرہ ضرور کرتیں۔
شاہدہ باجی کی خدمات کے تین مراحل تھے
1۔جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی ملتان شہر کی نظامت سے پنجاب کی ناظمہ۔
2۔حریم ادب کی نگران اور مجلہ حریم ادب کی مدیرہ۔
3۔ادارہ بتول کی ذمہ دار۔
ان تینوں میں ان کا کردار ایک مشنری جذبہ سے کام کرنے والی ان تھک اور ڈیووٹڈ خاتون کا تھا۔جب ناظمہ تھیں تو بس ان کی گفتگو کا موضوع جو بھی ہوتا گھوم پھر کر بات دعوت کے پھیلاو پر ہوتی۔ پھر یہ کہ جو غیر فعال ہیں ان کو فعال کیسے کیا جائے؟نئے علاقوں اور حلقوں تک کیسے بات پہنچائی جائے۔ان کی نمایاں خوبی ان کے اندر کی قائدانہ صلاحیت تھی لیکن ان کی شخصیت بس مخلص کارکن جیسی۔سرکلر بنانا ، بھجوانا تجاویز دینا اور عمدہ پیرائے میں پیش کرنا ان کا ہی خاصہ تھا۔
جب حریم ادب کی ذمہ داری ملی تو انہوں نے گویامشن بنا لیا کہ اردو ادب سے تعلق رکھنے والی ہر ادیبہ جو ہمارے نظریہ کی مخالف نہ ہو ہمارے ادبی حلقہ میں شامل ہو۔ادبی نشستوں کا انعقاد اور ادیبوں سے تعلق میں بہت آگے تھیں۔مجھ سے اکثر یہی فرمائش کرتیں کہ تمہاری تجاویز بہت اچھی ہوتی ہیں تم ہم ذوق ادیبوں کو تلاش کرنے کے بارے میں بتاو۔اور جب میں نے تجویز دی کہ ہر اخبار کے سنڈے میگزین اور مختلف جرائد و رسائل میں حسن انتخاب کالم میں جو تحریریں بھیجتے ہیں ہر شہر کی ادبی کارکن اپنے شہر کے ناموں کو ہدف بنائیں،یہ تجویز انہیں بہت معقول لگی اور خود میں نے بہت سے نام انہیں نوٹ کروائے۔
ادبی نشستوں کے انعقاد، ہم خیال ادیبوں سے ربط و تعلق اور اچھی تحریروں کو سراہنا ، یہ ان کے ادبی پروگراموں کا مرکزی نکتہ تھا۔ واقعی ان کے حریم ادب کے دور میں مجلہ حریم ادب کی اشاعت اور اس وقت کےمیڈیا یعنی ریڈیو اور ٹی وی پر ملتان سے تعلق رکھنے والی بہت سی مصنفات کو میں جانتی ہوں جو ان کے روابط سے حریم ادب کے پروگرام میں اکثر شامل ہوئیں۔
تیسرا مرحلہ ادارہ بتول میں شامل ہونے کا تھا ۔میرے پاس ان کے آخری طویل وائس نوٹ جو انہوں نے میری کتب کی گولڈن جوبلی منانے پر مبارکباد کے بھیجے اس میں انہوں نے متعدد مرتبہ ادارہ بتول سے جڑے رہنے کی تلقین کی ہے۔
’’تم تو بتول اور ادارہ بتول دونوں کو جانتی ہو اس لیے کبھی بھی ادارہ بتول سے تعلق نہ توڑنا‘‘۔
جب رمضان آتا ادارہ کی کتب پر سیل لگتی تو وہ رعائتی نرخ کے ہمراہ فہرست بھیجتی۔ان کا بارہا اصرار ہوتا
’’لوگوں کو کتب بینی پر آمادہ کرو ، یہ کام ہم نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا‘‘۔
شاہدہ باجی کی ایک بہت بڑی صفت یہ تھی کہ وہ ہر اچھی تحریر کی تعریف کرتیں خواہ وہ نو آموز ہی کیوں نہ ہو اور بے دریغ تعریف کرتیں۔حوصلہ افزائی ان کی سرشت میں تھی ۔میں نے بہت سی ایسی قائدین اور مصنفین کو دیکھا ہے جو اچھے سے اچھے کام میں اور اچھی سے اچھی تحریر میں کوئی کمی نکال ہی لیتے ہیں خواہ لکھنے والایا والی کتنا ہی دل برداشتہ کیوں نہ ہو۔وہ ایسی ہرگز نہیں تھیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے تئیں بزعم خود اپنے آپ کو دوسروں سے برتر تسلیم کرتے ہیں اور دوسروں کی اچھی سی اچھی تحریر یا تقریر (درس) کی تعریف کرنا آپکی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ کھل کر تعریف اور حوصلہ افزائی کرتیں۔میرے پاس بلامبالغہ ان کے درجنوں وائس نوٹس ہیں جن میں وہ یہ فقرہ ضرور کہتی ہیں۔
’’تمہاری تحریر دلوں کو چھولیتی ہے‘‘۔
اس سے ان کی شخصیت واضح ہوتی ہے کہ دلوں کو جوڑنے کے لیے اچھی چیز کو اچھا کہنا گناہ نہیں ہے۔تعریف کے ساتھ تنقید کا بھی انہیں بخوبی علم تھا۔اگر کوئی چیز ان کے ذوق کے مطابق نہ ہوتی یا مقصدیت سے ٹکراتی تو وہ بے دھڑک کہہ دیتی تھیں۔میں نے جنگ کے سنڈے میگزین میں دو تین سال تواتر سے افسانے لکھے۔ میں واٹس ایپ پر سٹیٹس میں لنک ڈال دیا کرتی تھی یا کبھی کبھار تحریر بھی بھیج دیتی۔اس پر ہمیشہ وہ مشکور رہتیں ایک مرتبہ میں نے حج کرنے کی تڑپ رکھنے والی خاتون کے بارے میں افسانہ لکھا اور عنوان تھا،حاضری۔
ان کا وہ افسانہ پڑھتے ہی وائس میسج آیا کہ افسانہ بہت ہی شاندار ہے لیکن عنوان درست نہیں، عنوان حضوری ہونا چاہئیے تھا۔میرا ان سے تعلق واٹس ایپ سٹیٹس کا بھی میرے خیال میں سب سے گہرا تھا۔آئے روز وہ کوئی وڈیو جو میں نے سٹیٹس پر ڈالی ہوتی طلب کرتیں، میرے سٹیٹس کے متعلق بھرپور اظہار خیال کرتیں اور پھر یہ بتانا کبھی نہ بھولتیں کہ میں یہ وڈیو اس لیے منگواتی ہوں کہ اپنے سٹیٹس پر ڈال سکوں۔
’’قانتہ بات یہ ہے اچھا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہئیے ضروری نہیں کہ میرے اور تمہارے رابطے میں ایک جیسے لوگ ہوں‘‘۔
جب انہوں نے اپنا شعری مجموعہ شائع کروایا تب بھی مجھ سے مسلسل رابطے میں رہیں، کتب مجھے بھیجیں،تبصرہ لکھوایا اور بےتحاشا پسند کیا۔اگلے ایڈیشن میں تبصرہ نگاروں کے شکریہ شائع کرنے کا ارادہ تھا تو میرا تعارف مانگا۔جب اسلام آباد منتقل ہوئیں تو ان کے چہرے کا حزن جو حفصہ کی وفات کے بعد مستقل طور پر ان کے چہرے کا حصہ بن گیا تھا ان کی تحریر میں منتقل ہوگیا۔اکرام صاحب کی بیماری کی وجہ سے اسلام آباد گئیں اور سارا تحریکی ریکارڈ ملتان میں تھا۔گاہے بگاہے پوچھتی رہتی تھیں۔
آپا جی نئیر بانو کب سے کب تک نظامت پہ رہیں؟
کراچی کنونشن کس سن میں ہوا؟وغیرہ وغیرہ۔
ان کی اکثر یہی فرمائش ہوتی تم اپنے متعلق کچھ بتاتی نہیں ہو ، تمہاری امی بہنیں خالائیں سب میری دوست ہیں تو تم کیوں اپنے متعلق تفصیلی نہیں بتاتیں۔میری کتب کا اکثر پوچھتی رہتیں اور جب آگے پیچھے دو تین کتب شائع ہوئیں تو ایک مرتبہ کہا
’’قانتہ حد نہیں کردی تم نے لکھنے کی۔۔۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ اتنا لکھتی ہو اتنا لکھتی ہو ، کیسے لکھ لیتی ہو؟‘‘۔
شاعرہ تھیں تو شعروشاعری سے شغف رکھتیں۔ جہاں میں نے سٹیٹس پر کوئی شعر لگایا فوری تعریف کرتیں۔20 دسمبر 2025ء کو اپنے ساڑھے تین منٹ کے وائس نوٹ میں انہوں نے برملا اعتراف کیا ہےکہ میرا آپ سے بہت پرانا تعلق ہے دوستی ہے آپ ملتان جارہی ہیں وہاں کی حریم ادب کو متحرک کریں۔پھر اکرام صاحب اور اپنی بیماری کی وجہ سے دوبارہ سعدیہ کے پاس اسلام آباد جانے کا تذکرہ ہے۔حفصہ کے بیٹے کے لیے بہت دعا کا کہا کرتیں۔
’’دیکھو تم نے اب اس کے میٹرک کے امتحان میں کامیابی کے لیے نہیں دعا کرنی بلکہ ہمیشہ اپنی دعاوں کا حصہ بنانا ہے‘‘۔
ان کی زیادہ تر گفتگو مجھ سے دعائیہ کلمات سے شروع ہوکر دعائیہ کلمات پر ختم ہوتی۔اللہ تمہیں صحت سے رکھے عافیت سے رکھے۔قلم کا لکھا قبول ہو۔بچے ہمیشہ فرمانبردار رہیں۔اور آخر میں ایک مخصوص دعا جو کبھی نہیں بھولی تھیں،اللہ تمہارا سہاگ سلامت رکھے۔
وہ سرتاپا مشرقی خاتون تھیں۔ ان کی دعائوں میں بھی عجب دل موہ لینے والا انداز تھا۔جب حفصہ کے بیٹے کا امتحان تھا مجھے دعا کے لیے جو فہرست دی اس میں ایک دعا جس پر کبھی ذہن نہیں گیا تھا۔
’’دعا کرنا اللہ اسے ہمیشہ اوپر والے ہاتھوں میں شامل رکھے‘‘اللہ اکبر!
بے پناہ صبر اور تحمل والی، جب 1980ء کی دہائی میں ان کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا تو دل لرز کر رہ گیا تھا۔ انہوں نے تربیتی ، تنظیمی نوعیت کی طویل طویل گفتگو میں کبھی ایک لمحہ کے لیے اپنی بیماری کا تذکرہ نہیں کیا۔مجھے ایک مرتبہ سننے کو ملا کہ مجھے اب آرام کی ضرورت ہے تو بے اختیار شاہدہ باجی کی یاد اآئی۔ ان سے زیادہ آرام کی کس کو ضرورت ہوگی لیکن جس بیماری کا نام روح فنا کردینے والا ہو وہ اس بیماری میں پنجاب کی نظامت بطریق احسن سنبھال رہی تھیں۔
ان کی بات خواہ ایک منٹ کی ہو یا دس منٹ کی بس تان ادارہ بتول کے لیے کچھ کرنے پر ہی ٹوٹتی تھی۔
بہت سی یادیں ہیں بہت سی باتیں ہیں لیکن بقول شاعر۔
تمہارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے تمہارا جواب لائے گا!
شرعی عذر میں بھی وہ موبائل کے ذریعے اپنے دعوت اور ادبی کاموں کے لیے متحرک رہیں۔مینار پاکستان پر 2025ء نومبر میں حریم ادب کا ادبی کنونشن ہو یا آسیہ راشد کے ہاں میری پچاسویں کتب کی اشاعت پر ادارہ بتول اور دیگر افراد کی بھرپور ادبی نشست، وہ سب سے جڑی رہیں اپنے پیغام بھیجے اور مجھے یہ کہہ لینے دیجیے کہ وہ رب کے ہاں آن ڈیوٹی ہی گئیں۔
میرے ایک مرتبہ جنوری فروری میں جدا ہونے والوں کے بارے میں دکھی پوسٹ پرھ کر مجھ سے بہت لمبی بات کی۔میری دلجوئی کی پھر بتایا کہ حفصہ سمیت سب ان کے پیارے بھی انہی مہینوں میں رخصت ہوئے اس کے بعد آہ بھر کر کہا،دل کی لگی کو کوئی نہ جانے!
اللہ نے ان کو اولاد صالحہ سے نوازا اس سے بڑی کیا سعادت ہوگی۔ ان کی بیٹیاں سعدیہ جویریہ اور بیٹا صہیب ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے رہے یہ خدا نے ان کی وفاوں کا صلہ دیا۔بہترین زندگی گزار کر جب وہ چلی گئیں تو محسوس ہوتا ہے ہم تو تہی دامن ہیں جبکہ وہ رب کی توفیق سے بھر بھر کر خزانے سمیٹ گئیں۔ اللہ قبول فرمائے، ان کی اولاد کو بہترین صدقہ جاریہ بنائے۔ماوں کے جانے دکھ بھی کبھی کم ہوتے ہیں؟
ایک اور بات یاد آگئی۔میں نے ایک مرتبہ اس عرب بچے کی ہینڈ رائٹنگ میں عبارت سٹیٹس پر ڈالی جو کلاس پنجم کا امتحان دے رہا تھااور اسے ماں پر مضمون لکھنا تھا۔اس نے بس ایک جملہ لکھا۔
’’امی ماتت و ماتت معھا کل شئی‘‘(امی مرگئیں تو ان کے ساتھ ہر چیز ہی مرگئی)
اس پر بھی انہوں نے فون کیا اور مجھ سے بہت دیر جانے والوں کو یاد کر کے کہا،تمہارا انتخاب بہت اچھا ہوتا ہے اسی لیے دل چاہتا ہے آگے بھی لوگوں کو بھیجوں۔
اے دوست داراں ، الوداع
صحبت یاراں الوداع
ہجرتوں کے دکھ الوداع
شہر نگاراں الوداع
جا تجھے لے کے شام جدائی جائے!
اللهم اغفر لها وارفع درجتها في المهديين واخلفها في عقبها في الغابرين واغفر لنا ولها يا رب العالمين وافسح لها في قبرها ونور لها فيه۔۔
آمين یا رب العالمین ۔
Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp