صارم کی کمر میں درد تھا شاید ہوا لگ گئی ہے اس نے سوچا اورکرسی سے کھڑے ہو کر کمر پر دونوں ہاتھ رکھ دیے۔ ایک دو قدم چل کر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا ۔
دوسرے کیبن میں بیٹھے لوگ اپنے کاموں میں منہمک تھے انہوں نے اس پر ایک اچٹتی نظر بھی نہ ڈالی ۔ حالانکہ شیشے کی دیواریں سب پر سب کی حرکتیں عیاں کرتی ہیں ۔
پردیس میں رہنا آسان نہیں…… سب سے زیادہ کمی تو لوگوں کی لگتی ہے کس سے بات کی جائے کس کو اپنا دکھ بتایا جائے …… کون آپ کی بات کو سمجھے گا ۔ویسے لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ پردیس میں غیر بھی اپنوں سے بڑھ کر قریب آجاتے ہیں اس نے سارے لوگوں کو ایک دفعہ دیکھا اور پھر اپنے کام پر جھک گیا ۔
گھر پہنچاتوروم میٹ نہیں تھا ۔ ورنہ وہ ہوتا تو کچھ دو چار باتیں کرلیتا…. صارم نے دل میں سوچا ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں یہ دوسرا مہینہ ہی تو ہے ۔ اللہ کرے کچھ اچھے دوست بن جائیں تو بن باس کاٹنا آسان ہو جائے ….
کچھ آرام کر کے شرمین سے بات کروں گا ابھی تو وہ شاید باورچی خانے میں ہو گی ۔ صارم نے گھڑی دیکھی۔
کھانے کے بعد چائے کادل چاہ رہا تھا اٹھ کر خود ہی بنانی پڑے گی کھانا تو کل کا بچ گیا تھا روٹیاں بھی فرج میں تھیں چل گیا تھا ۔ صارم ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ چولہا جلانے لگا ۔ کہاں گرم کھانا تازہ روٹی اور دودھ پتی گرم گرم چائے ….اُسے گھر کے سارے آرام یاد آنے لگے ….ساتھ شرمین کو ذرا ذرا بات پر دوڑانا بھی ….. اور اپنا غصہ ہونا۔
توے سے اتری روٹی گرم کھانے کے لیے کتنی ہی دفعہ وہ غصہ ہوتا تھا ۔ چائے کا بھی ایک خاص ذائقہ نہ تیر نہ ہلکی …اب تو شرمین اس کی ساری پسند نا پسند اور باتیں سمجھنے لگی تھی۔
شرمین کے ساتھ اسے ننھا بلال یاد آگیا ۔بھولتا بھی کب تھا ہر لمحہ ہی اس کی تصویریں اور وڈیو دیکھتا رہتا تھا ابھی نو ماہ کا ہی تو ہؤا تھا ۔گھر میں اماں زہرہ اور شہروز چھوٹے بہن بھائی تھے ۔شرمین کو تنہائی کا مسئلہ تھا سب ہی تو تھے اس کے پاس نہ ہی بلال کو سنبھالنے کا کہ وہ سب کا ہی کھلونا تھا….. وہ تو کبھی پردیس نہ آتا لیکن کیا کرتا مہنگائی اس قدر تھی۔ اس کی تنخواہ ادھر آتی اُدھر ختم …. مہینہ کیسے چلے …. شام میں دوسری جگہ کام شروع کیا لیکن پھر بھی گزارہ مشکل ہو گیا بلال کی پیدائش پر قرض لینا پڑا۔
آخر جیسے ہی ایک موقع ملا باہر نکلنے کی اس نے ٹھان لی…..فوراً ہی سعودی عرب آگیا اماں بھی تیار ہو گئیں کہ مقدس سر زمین کے دیدار کی آرزو کب سے دل میں مچل رہی تھی ابھی نہیں تو کچھ عرصے بعد سہی امکان تو ہے نا …..
اپنی سوچوں کے درمیان اس نے گھڑی پر نظر ڈالی ۔ ہاں اب شرمین کچھ فارغ ہو ….. اس نے فون ملایا۔
وقت دو گھنٹے تھا وہ لوگ رات کا کھانا کھا رہے تھے ۔
کیا پکا ہے ؟
مرغی کا سالن ہے تافتان ہیں۔
شرمین نے بتایا ….. باتیں تو ہوتی رہیں لیکن صارم کے دل میں ایک عجیب سی خوشی کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی ۔ باتیں کر کے بھی وہ اتنا خوش نہ تھا ۔
واہ مرغن کھانے….. کہاں ترستے رہ جاتے تھے …. چلو کچھ تو اچھا ہؤا ہے…. انشا ء اللہ آگے اور اچھا ہوگا ۔ بات صحیح تھی ۔ اس کا دل لگ ہی گیا ۔ ہرماہ ایک بڑی رقم گھر بھیجنے لگا۔ کچھ اپنے اخراجات کے لیے بچا لیتا تھا روم میٹ منظور سے بھی اچھی بات چیت ہو گئی تھی اس کو یہاں کئی سال ہوگئے تھے۔
مل بیٹھ کر کھاتے تو اپنی اپنی باتیں کرتے وہ گائوں کا تھا ۔ اس کا خواب گائوں میں زمینیں خریدنا اورچوہدری صاحب بننا تھا ۔صارم سے پوچھنے لگا تم شہر میں کیا کر رہے ہو….؟
صارم نے خالی نظروں سے اُسے دیکھا بھئی میرا مطلب ہے کہ تم اپنی بچت شہر میں کہاں لگا رہے ہو ؟
بچت کہاں ہوتی ہے میں تو سب ہی تقریباً بھیج دیتا ہوں۔ ارے….کیا غلطی کر رہے ہو ۔سمجھ لو کہ تم جتنا بھیجو گے اُن کے اخراجات اتنے ہی بڑھیں گے ۔ سب اپنے اپنے ارمان نکالیں گے اور تم وہ ہی خالی ہاتھ کے خالی ہاتھ رہ جائو گے۔
صارم خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا ۔دیکھو یار تجربے کی بات بتا رہا ہوں ۔ میں جب گائوں میں تھا تو جتنے میں گھر چلتا تھا اس سے تین گنا بھیجنے لگا تھا ۔ رونا پھر بھی ….. دو سال بعد جب گائوں گیا تو گھر میں ماحول ہی بدلا ہؤا تھا ۔ ڈرائنگ روم سجا ہؤا ہر ایک کے کمرے میں پردے قالین پھول پھولدان باورچی خانے میں نیا کیک بنانے والا چولہا طرح طرح کی مشینیں۔ الماری میں کپڑے ٹھسا ٹھس….. بس اس وقت تو چپ رہا لیکن واپس آکر آہستہ آہستہ کر کے بھیجنے والی رقم آدھی کردی۔
اماں اوربیوی نے پوچھا تو مہنگائی اور اپنی مشکلات بتائیں …. ساتھ کہا کہ دونوں بھائیوں کو کام پر لگائیں ۔ تھوڑی زمین پر بوائی کرائیں۔ کیامیں اکیلا یہاں محنت کرتا رہوں….. کچھ تو گھر چلانے میں ساتھ دیں ۔
اماں نے ان کا پڑھائی کا کہا تو میں نے کہا صبح اٹھیں اوراسکول سے آکر زمین کھیت دیکھیں کچھ نہ کچھ کریں …… بس اب جو رقم بھیجنا ہو اس سے کچھ زیادہ نہیں بھیجا خواہ کتنی ہی اپنی کہیں ….
پھر تم نے کیا کیا اپنی بچت کا ….
کچھ زمین پہلے خریدی تھی اور اب اچھی رقم جمع کرلی ہے ۔ تین سال سے گائوں نہیں گیا اب جائوں گا تو کچھ اور زمین خرید کر ڈالوں گا ۔ بھائیوں کو اس پر فصل لگانے کا مشورہ دوں گا ….
صارم اس کی بات سنتا رہا ۔ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ۔
اگلے ماہ سے بچت کر کے کچھ بچانے لگا ۔ اپنے اخراجات میں بھی کمی کا سوچا باہر کا کھانا مہنگا ہوتا ہے ۔ منظور سے مل کر گھر پر ہی کچھ نہ کچھ بنانے کا سوچا ۔ منظور تو پہلے بھی ایسا ہی کرتا تھا کچی مرغی گوشت سستا پڑتا تھا ۔ دونوں ہی کی بچت اسکیم کے لیے اچھا تھا ۔
صارم نے گھر بھیجنے والی رقم بھی ہر ماہ تھوڑی تھوڑی کر کے کم کرنا شروع کردی ۔ ایک دم سے کم کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا ….ساتھ ہی اماں کو بھی خرچے میں سے بچا کر زہرہ کی شادی کے لیے پس انداز کرنے کے لیے کہا ۔
کیا شرمین کو بھی کچھ بھیج رہے ہو ؟
اماں تجربے کار تھیں رقم کم کر نے کی وجہ یہ ہی سمجھ رہی تھیں۔
نہیں اماں یہاں بھی مہنگائی ہو گئی ہے ۔ شرمین کو آپ ہی جیب خرچ دے دیا کریں ۔ وہ بھی مانگتی تو رہتی ہے ۔
صارم نے اماں پر ہی ڈال دیا ۔ ساتھ ہی منظور کی ترکیب پر عمل کرتے ہوئے شہروز کو کچھ نہ کچھ کرنے کا مشورہ دیا۔
کیا کرے تم ہی بتائو تعلیم تو ابھی کچھ بھی نہیں میٹرک کا امتحان دے گا ۔
اماں ٹیوشن توپڑھا سکتا ہے نا ! آپ اس کو سمجھائیں ۔ شرمین اور زہرہ کے لیے بھی کچھ سوچیں اچھی پڑھی لکھی ہیں ۔ گھر میں سینٹر کھول سکتی ہیں ۔آج کے دور میں ایک کی کمائی سے گھر نہیں چلتا ۔ میں یہاں محنت تو کر رہا ہوں ۔ دل چاہتا ہے کہ آپ کو عمرے کے لیے بلائوں۔
صارم نے ان کے دل کی بات کی …. فوراً پگھل گئیں ۔
ہاں کہتے تو تم بھی ٹھیک ہو ….شہروز کو سمجھاتی ہوں۔
چھ ماہ گزر گئے تھے ۔ اب صارم واپس جانے اور چھٹیوں کے لیے دن گننے لگا تھا ۔ ادھر منظوربھی اس خیال میں رہتا تھا ۔ دونوں چھٹیوں کے لیے پر جوش تھے حالانکہ ابھی کافی ماہ تھے لیکن خواب دیکھنے کے لیے بھلا وقت کا انتظار تھوڑی کیا جاتا ہے ۔
اماں نے بتایا تھا کہ انہوں نے شہروز کوکہہ کر گھر میں ٹیوشن شروع کروا دی ہے ۔ شرمین اورزہرہ چھوٹےبچوں کو پڑھاتی ہیں ۔ شہروز گھر میں ایک گھنٹہ لڑکوں کو پڑھا کر باہر بھی ایک دو ٹیوشن کرتا ہے مغرب میں واپس آکے اپنی پڑھائی کرتا ہے۔
صارم نے یہ سن کر خود شہروز سے بات کی اور اس کو خوب شاباش دی ساتھ ہی پوچھا کہ وہ ٹیوشن کے پیسوں کا کیا کرتےہو ۔ شہروز نے بتایا ابھی توجمع کر رہا ہوں۔
صارم نے کہا ٹھیک ہے لیکن اس کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنا بلکہ یوں کر اس کے تین حصے کر کے ایک حصہ اماں کو دو وہ خوش ہو جائیں گی ایک حصہ بچت کے طور پر جمع کرو اور ایک حصہ اپنے لیے رکھو اوراسے اپنی مرضی اور شوق کے مطابق خرچ کرو۔
شہروز بھائی سے بات کر کے بہت خوش تھا ۔ صارم کی حوصلہ افزائی اور محبت کے ساتھ دیے گئے مشورے اسے اچھے لگ رہے تھے اس نے بھائی کے مشورے پر عمل کر نے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ اصل میں جب خود پیسے کمائے جائیں تو ان کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے ۔یوں بھی تو لڑکے باہر نکل کر دوستوں میں وقت ضائع کرتے ہیں ساتھ غلط عادتوں اور شوق میں پڑ جاتے ہیں جوانہیں کسی بھی راہ کا مسافر بنا دیتی ہے ۔
صارم اور منظور چھٹی کے دن آپس میں خوب گپ شپ کرتے تھے ۔
اس دن صارم نے منظور کا بہت شکریہ ادا کیا ۔ سچ بات ہے تمہارے مشورے میرے لیے بہت اچھے رہے ۔ اب بچت ہو جاتی ہے بلکہ میں نے تو اپنے بھائی کو بھی خوب کام پرلگایا۔
اچھا منظور اس کی بات پر مسکرانے لگا ۔
کیا کر رہا ہے تمہارا بھائی؟
ٹیوشن پڑھا رہا ہے ۔ کہہ رہا تھا ایک اچھا موبائل خرید کر آن لائن بھی کام شروع کر وں گا ۔
اچھاکتنا بڑا ہے ؟
ابھی میٹرک کا امتحان دے گا ۔ تعلیم بہت ضروری ہے۔
صارم نے اُسے غور سے دیکھا ۔
کیا بتائو ںیار میرے دونوں بھائی بھی موبائل پر کمانے کی بات کر رہے ہیں۔
اچھا۔
صارم حیران ہؤا گائوں کے لوگ زیادہ آگے ہیں۔
یہ دیکھو….. منظورنے موبائل آگے کیا۔
ٹک ٹاک پر دولڑکے گانے گاتے اور کھیتوں میں ناچتے ہوئے دکھائی دیے ۔ منظورنے دوسری ویڈیو دکھائی جس میں اماں جی گائوں کےپکوان بنانا سکھا رہی تھیں تیسری دکھائی جس میں ایک نوجوان لڑکی گائوں کے بارے میں کچھ بتا رہی تھی۔
صارم نے نظریں اسکرین سے ہٹائیں منظور کو دیکھا ۔ جس کا چہرہ سُتاہؤا تھا ۔
کیا تم خوش ہو اس سے …. تمہیں یہ سب ٹھیک لگ رہا ہے ؟
صارم نے سوالیہ نظروں سے منظور کو دیکھا نہیں یار مجھے یہ سب منظور نہیں ….
تو منع کرو …. ورنہ سر پکڑ کر رہ جائو گے۔یہ تو کوئی ڈھنگ کاکام نہیں ہے۔
صارم نے جان بوجھ کر سر پکڑ کر روئو گے نہیں کہا۔
یار منع کیا تھا ۔ سب کے سب کہہ رہے ہیں اس میں بہت کمائی ہے ….. اماں جی نے تو صاف کہا کہ اب تم بھی واپس ہی آجائو یہ ایک اچھا کاروبار ہے گھر بیٹھ کر کرنے کے لیے ۔
صارم منظور کو دیکھ کر رہ گیا ….. یاراس میں بہت کچھ ایسا ہے جو درست نہیں ہے اس نے کہا ۔
منظور نے سر ہلایا …. کوئی سمجھے تو ….اگلے ہی ماہ منظور کے پاس تازہ خبر تھی …
وہ ایک ماہ کی چھٹی پر واپس جا رہا ہے ۔ سمجھانے کے لیے اللہ کرےسمجھ آجائے ۔ صارم نے کہا ۔ یہ بھی سمجھاناکہ آن لائن کام کرنے کے ٹھیک طریقے بھی ہیں جو سیکھنے چاہئیں۔
٭٭٭