صبح سویرے ابھی مرغوںنے بانگ بھی نہ دی تھی کہ مدھانی رڑکنے کی آواز آنے لگی ۔ دور افق پر پھو پھٹنے لگی اور ہلکی ہلکی روشنی چار سو پھیل گئی ۔ کوئوں کی کائیں کائیں اور چڑیوں کی چوں چوں کا شور مچ گیا ۔ لوگ باگ اپنے کام کاج کے لیے گھروں سے نکل آئے تھے ۔ شاد و مدھانی کو چاٹی میں چھوڑ کر اٹھی اورباہر صحن میں آکر افق کی سمت ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگی ۔ سورج آہستہ آہستہ طلوع ہو رہا تھا ۔
پہلے ذرا سا کنارا ظاہر ہؤا پھر ہولے ہولے پورا نکل کر سونے کی پتری کی طرح چمکنے لگا ۔ وہ سوچنے لگی چڑھتا سورج ہر روز ہمیں یہ پیغام دیتاہے کہ ہر فجر کی رات ہوتی ہے اور ہر اندھیرے کے بعد اُجالا ہے ۔ وہ نہ جانے دل ہی دل میں اور کیا کچھ سوچ رہی تھی کہ ماں کے پکارنے کی آواز کان میں پڑی۔
’’ شادو! او شادو! کدھر ہے ؟‘‘
’’اماں میں ادھر صحن میں ذرا سورج کو نکلتے دیکھ رہی تھی ‘‘۔ شادو نے جواب دیا۔
’’ اچھا اچھا، چپ کر کے اپنا کام کر ۔ میںروٹی ڈال رہی ہوں ، جا کرباپ کو دے آ۔ ہاں دیکھ ، گائے کا دودھ دوہا رکھا ہوگا ، لیتی آئیں ‘‘۔
شادو خاموشی سے مکھن نکالنے لگی اور سوچنے لگی کہ اماں دلاور کے ساتھ کتنا برا سلوک کرتی ہے ۔ دلاور چھوٹا سا تھا تو اس کی ماں نمونیا سے مر گئی اور باپ کو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ناگ نے ڈس لیا ۔ پھر اسے شادو کے باپ کریم بخش نے پالا جواس کا سگا چچا تھا لیکن شادو کی ماں زینب مائی اس سے بہت بری طرح پیش آتی ۔ بات بات پر اسے طعنے دیتی ۔ شادو سوچ رہی تھی کہ ماں اسے منحوس سمجھتی ہے جو اپنے ماں باپ کو کھا گیا ۔ کون اسے سمجھائے کہ یہ سب رب کے کام ہیں ، انسان تو منحوس نہیں ہوتے ۔
شادو اور دلاور اکٹھے کھیلتے کودتے بڑے ہوئے تھے۔ بچپن کا یہ ساتھ رفتہ رفتہ پسندیدگی میں ڈھل گیا اور اب تو وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے ۔شادو کی ماں کویہ بات ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ۔ شوہر سے دبتی تھی اس لیے کھل کر تو کچھ نہ کہتی مگر جب بھی اس کا بس چلتا تو اپنی سی کر کے رہتی تھی۔شادو ان ہی خیالوں میں غرق بیٹھی تھی کہ ماں کی آواز آئی۔
شادو !لسی کا ڈول لے آ۔ روٹی پک گئی ہے ، جا باپ کے لیے لے جا‘‘۔
شادو اُٹھی لسی کا ڈول پکڑا جس میں مکھن کا پیڑا تیر رہا تھا ۔ روٹیوں کو دستر خوان میں لپیٹ کر چنگیر میں رکھا اور کھیتوں کی طرف چل پڑی کنویں پر پہنچی تو کریم بخش بیل کی کھرلی کے پاس کھڑا تھا ۔
’’ روٹی لے آئی ؟‘‘ اس نے شفقت سے پوچھا۔
’’ ہاں ابا ‘‘ ۔ اس نے مختصر سا جواب دیا ۔
’’ اچھادا دلاور کو بلا لا ۔ وہ آم کے پیڑ کے پاس مٹی درست کر رہا ہے ‘‘۔ شادو خوشی خوشی اس طرف چل پڑی ۔ دلاور نے جوشادوکوآتے دیکھا تواس کی آنکھیں کسی ان جانی خوشی سے چمکنے لگیں ۔ اس نے کسّی نیچے رکھی اور کہا:
’’ شادو ! تم آگئی‘‘۔
’’ آئو روٹی کھا لو ‘‘۔ یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں دلاور کی پُر شوق نگاہوں سے ٹکرائیں تو اس کا منہ شرم سے سرخ ہو گیا ۔ پلکیں آپوں آپ جھک گئیں اور وہ قمیص کے دامن کو انگلی کے گرد لپیٹنے لگی ۔
’’شادو ! مجھے بھوک نہیں ہے ‘‘۔ دلاور نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا ۔
’’ کیوں؟‘‘ وہ گھبرا گئی ۔’’ رات بھی تم نے کچھ نہیں کھایا‘‘۔
’’ تجھے دیکھ کرمیری ساری بھوک اڑ گئی ہے ‘‘۔ دلاور نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا ۔
’’ چل، جھوٹا نہ ہو تو ‘‘۔ شادو نے ناز سے کہا ۔
’’ ہاں سائیں ، میں جھوٹا ہوںاور تو تو ہمیشہ کی سچی ہے‘‘۔
’’اچھا بابا چلو ، ابا تمھارے انتظار میں کھانا رکھے بیٹھا ہے ‘‘۔
’’ سچی شادو مجھے بالکل بھوک نہیں ‘‘۔
’’دلاور تجھے میری قسم چل‘‘ شادو نے غصے اور پیار کے ملے جلے لہجے میں اسے قسم دی ۔
’’ اچھا سائیں ۔ جو حکم سرکار کا‘‘۔ دونوں چل پڑے۔دلاور چاچے کے پاس بیٹھ گیا ۔ دونوں نے مکھن اور لسی کے ساتھ روٹی کھائی پھر شادو برتن سمیٹ کر اور دودھ لے کر چلی گئی۔
دلاور سوچنے لگا ۔’’ شادواور چاچا کتنے اچھے ہیں اور چاچی اتنی ہی کڑوی ہے ۔ بات بات پر طعنے دیتی ہے کیوں نہ میں یہاں سے چلا جائوں ؟ مگر کہاں جائوں ؟‘‘ بس یہ سوچ کر وہ چپ ہو جاتا ۔
دن رات یونہی گزرتے چلے جا رہے تھے ۔شادو اسی طرح فجر کے ساتھ سورج کو دیکھ کر سوچوں میں گم ہو جاتی ۔ زینب روز کسی نہ کسی بہانے دلاور کو دو چار سنادیتی لیکن دلاور اور شادو کی محبت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
ایک دن شہر سے دلاور کا دوست رحیم آیا ۔ دلاور اس سے بہت خوش ہو کر ملا اور پوچھنے لگا :
’’ سنا بھئی رحیم ، شہر کی کوئی نئی تازہ خبر ‘‘۔
’’ نئی تازہ تو کوئی نہیں سوائے اس کے کہ آج کل فوجی بھرتی والے آئے ہوئے ہیں ‘‘۔ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کر کے رحیم تو چلا گیا مگردلاور کے ذہن میں سوچ کی ایک چنگاری پھینک گیا ۔ کافی دیر وہ اس نئے خیال کے متعلق سوچتا رہا ۔ اگلے دن وہ شادو کو بتائے بغیر چاچے سے ذرا گھومنے پھرنے کی اجازت لے کر شہر چلا گیا ۔
شہر پہنچ کر وہ سیدھا بھرتی دفتر گیا ۔ گائوں کا گبھرو جوان تھا ۔ قد بہت ٹھیک تھا ۔ تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا بھی آتا تھا اسے فوراً ہی منتخب کرلیا گیا اور پیر والے دن رپورٹ کرنے کو کہا گیا تاکہ ٹریننگ پر بھیجا جا سکے ۔
گھر واپسی پر اس کا گزر پرانے کنویں سے ہؤا ۔ نیم کے درخت کے نیچے شادو کو بیٹھا دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔
’’ شادو تم یہاں کہاں ؟‘‘
’’ یہ آپ سرکار آج یوں چوری چوری کدھر تشریف لے گئے تھے؟‘‘ شادو نے کڑے تیوروں سے پوچھا۔
’’ شادو! میں شہر گیا تھا ‘‘۔ اس نے آہستہ سے کہا ۔
’’ کیا کرنے گئے تھے ؟‘‘ شادو غصے سے تنی کھڑی تھی۔
’’ کام تھا ‘‘۔
’’ ایسا کیا کام ہے جو مجھے نہیں بتایا جا سکتا ‘‘۔ شادو کے لہجے میں گلہ تھا۔
’’ شادو ! میں بھرتی ہونے گیا تھا ‘‘دلاور نے ذرا مضبوط لہجے میں کہا۔
’’کیا؟بھرتی ہونے؟کس میں؟ ‘‘شادو کی آوازگھٹ گئی۔
’’ میں فوج میں بھرتی ہونے گیا تھا ‘‘۔ دلاور کے لہجے میں غم جھلک آیا۔
شادو کے کان سُن ہو گئے ۔ اس کے وجود پر جیسے بجلی آگری جیسے کسی نے پائوں تلے کی زمین کھینچ لی ہو۔
’’ یہ کیا کیا دلاور ؟‘‘ اس کی آواز کنویں سے آتی محسوس ہوئی۔
’’ ہاں شادو ۔ میں تمھاری ماں کے طعنے سن سن کر تنگ آگیا تھا ۔ اب میں یہاں سے جا رہا ہوں ‘‘۔
شادو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کا منہ دیکھتی رہ گئی۔
’’ دلاور ‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ’’ تجھے اپنی شادو کا خیال بھی نہیں آیا ؟‘‘
’’ شادو !‘‘ دلاور نے بھرائی ہوئی آواز میں بمشکل کہا۔
شادوکی آنکھیں ساون کے بادلوں کی طرح چھم چھم بہنے لگیں۔
’’ پاگل ‘‘ دلاور نے اس کا منہ اونچا کیا ’’ یہ میں سب تیرے لیے ہی تو کر رہا ہوں ‘‘۔اس نے اس کے آنسو پونچھے۔
’’ بڑا اچھا کر رہا ہے میرے ساتھ ‘‘۔ شادو سسکی۔
’’ میری پوری بات تو سن ‘‘۔
’’ میں کچھ نہیں سنتی ۔ تو مجھے اکیلا چھوڑ کر نہ جا ‘‘۔
’’ شادو میری زندگی ! دیکھ میں اس لیے بھرتی ہؤا ہوں کہ چاچی کا یہ گلہ دور ہو جائے کہ میں نکما ہوں اور وہ تیرا ہاتھ خوشی خوشی میرے ہاتھ میں دے دے۔ یہ جدائی عارضی ہے چل گھر چل ‘‘۔
چاچے کو جب پتا چلا تواس نے دلاو کو روکنے کی کوشش کی مگر دلاور بھی اڑ گیا ۔ چاچی نے ایک دو مرتبہ اوپرے دل سے روکا مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا :’’ چل اچھاہے ۔ فوجی بن گیا ہے نقد پیسے تو ہر مہینے ملیں گے‘‘۔
شادو نے کئی دفعہ رو رو کر منع کیا تو کئی بار آنکھوں آنکھوں میں التجا کی مگر دلاور نے جو ٹھان لیا تھا اسے پورا کر کے چھوڑا اور پیر والے دن شادو کو روتا ، چاچے کو غمگین اور گھر کو اداس کر کے چلا گیا ۔ اس کے جانے کے بعد چاچی کو بھی اس کی کمی محسوس ہونے لگی اب نہ وہ کسی کو طعنے دے پاتی تھی اور نہ کسی سے ناراضی دکھا سکتی تھی ۔ وہ سچ مچ دلاور کے لیے اداس ہو گئی ۔ شادو نے نہ جانے کتنی دعائیں مانگیں کہ دلاور جلد واپس آجائے مگر جانے والے کب جلد واپس آتے ہیں ۔
دلاور کے خط آتے رہتے تھے ۔ شادو روز صبح سویرے اٹھ کر سورج کو دیکھتی ۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ اسے یہ پیغام دے رہا ہو کہ آج دلاور آئے گا۔ سال گزر گیا ۔ ایک دن اچانک دلاور واپس آگیا۔
شادو صحن میں بیٹھی گندم صاف کر رہی تھی ۔ فوجی وردی میں جو دلاور کو اپنے سامنے دیکھا تو اس کا چھاج والا ہاتھ اٹھاکا اٹھا رہ گیا ۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسوآگئے۔
’’ شادو ! میں آگیا ہوں ‘‘۔ دلاور نے اپنی بھاری مردانہ آواز میں کہا ۔
شادو جواب دیے بغیر اندر دوڑ گئی ۔’’ اماں ! اماں ! دلاور آگئے ہیں ‘‘۔زینب مائی اندر سے ہی صدقے واری ہوتی باہر نکلی ۔’’ میرابیٹا آگیا ۔ میرا دلاور آگیا اس نے روتے روتے دلاور کو گلے لگا لیا۔ اس کی مامتا اس جدائی میں جاگ گئی تھی ۔
’’ ہاں چاچی ، میں آگیا ہوں ‘‘۔دلاور نے چاچی کے پائو ں چھوئے۔
’’ ماشاء اللہ کیسا سوہنا لگ رہا ہے ۔ کچھ کمزور ہو گیا ہے پر قد خوب نکال لیا ہے ۔ اری شادو ! بھاگ کے جا اور باپ کو بلا لا‘‘۔
شادوجیسے ہوا میں اڑتی ہوئی گھر کی دہلیز پار کر گئی ۔ دلاور چاچی کے پاس بیٹھ کر حال احوال کہنے سننے لگ گیا ۔ ذرا سی دیر میں کریم بخش آگیا اور آتے ساتھ ہی دلاور کو سینے سے لگا لیا۔
’’ماشاء اللہ میرا بیٹا تو خوب گبھرو جوان بن کر لوٹا ہے ‘‘۔ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا ۔
’’ شادو کے ابا ، میرے بیٹے کو کہیں نظر نہ لگا دینا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے زینب مائی نے دلاور کا ماتھا چوما۔
دلاور چاچی کے رویہ سے بہت خوش تھا۔آج چاجی صحیح معنوںمیں اس کی ماں لگ رہی تھی۔
شام کو آم کے پیڑ تلے شادو ملی ۔ دلاور سے مل کر وہ بے اختیار رو پڑی۔
’’ شادو، تجھے میرے آنے کی خوشی نہیں ‘‘۔
’’ دلاور ‘‘ وہ سسکی۔’’ اتنے دن لگا دیے۔ میں تو مر چلی تھی ‘‘۔
’’ پاگل، ٹریننگ ختم ہوتی توچھٹی ملتی ناں ! بس اب میں جلد جلد آیا کروں گا ۔ میرا تبادلہ یہاں سے قریب ہی ہؤا ہے ‘‘۔ دلاور نے اسے تسلی دی ۔’’ یہ دیکھ میں تیرے لیے کیا لایا ہوں ‘‘۔ اس نے جیب سے رنگ برنگی چوڑیاں نکالیں اور اسے پہنا دیں۔
’’دلاور !‘‘ شادو اس سے زیادہ کچھ کہہ سکی۔
دلاور پورے پندرہ دن گھر رہا ۔ وہ بہت خوش تھا ۔ چاچی بات بات پر اس کے صدقے قربان ہوتی رہتی ۔ چھٹی ختم ہوئی تو وہ اگلے ہفتے آنے کا کہہ کر چلا گیا ۔ شادو افسردہ تھی لیکن اب چونکہ دلاور قریب تھا تو ہر چھٹی والے دن گھر آجاتا تھا ۔ ہر بار وہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لاتا ۔ شادو اس کے دیے ہوئے تحفے سنبھال سنبھال کر رکھتی۔
وقت کا رہوار زندگی کی شاہراہ پر سبک خرامی سے رواں دواں تھا ۔ کچھ عرصہ بعد کریم بخش اور زینب مائی نے ان کی منگنی کردی اورشادی کا دن طے کر دیا ۔شادی کے دن قریب آگئے تو دلاور چھٹی لے کر آگیا ۔ شادو مایوںبیٹھ گئی تھی لہٰذا وہ اس کی ایک جھلک بھی نہ دیکھ پایا۔ شادی سے ایک دن پہلے دلاور گھر کے دروازے پر نائی سے شادی کے کھانے کے متعلق بات چیت کر رہا تھا کہ سائیکل پر سوار ڈاکیا آپہنچا ۔
’’ دلاور صاحب کون ہیں ؟‘‘ اس نے دریافت کیا۔
’’ میں ہوں سائیں ۔ حکم کریں ‘‘۔ دلاور نے آگے بڑھ کر کہا۔
’’ یہ آپ کی تار آئی ہے ۔ دستخط کر کے لے لیں ‘‘۔
دلاور نے جلدی جلدی تار پر نظر دوڑائی ۔ فوج میں رہ کر اسے انگریزی میں کچھ شدید ہو گئی تھی ۔ تار کا مضمون پڑھتے ہی اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔ اسی وقت کریم بخش بھی وہاں آگیا ۔’’ کیا ہؤا بیٹا ۔ یہ کیسا تار ہے ؟‘‘
’’ چاچا جی ! پیغام آیا ہے کہ فوراً پہنچو ، مشرقی پاکستان پر ہندوستان نے حملہ کر دیا ہے ‘‘۔ دلاور نے گھٹی ہوئی آواز میں کہا ۔
’’ اب کیا ہوگا ؟ میرا دل پہلے ہی پریشان تھا ۔ جب سے مشرقی پاکستان کی بری بری خبریں سن رہا تھا ، دل ڈر رہا تھا ‘‘۔
’’جانا تو ہوگا ‘‘۔
’’ دلاور نے آہستہ آواز میں کہا گھڑی پل میں ساری برادری اور بستی میں یہ خبر پھیل گئی کہ دلاور جا رہا ہے ۔ جہاں ذرا دیر پہلے خوشی کا راج تھا ، وہاں اب غم کی گھٹا چھا گئی تھی ۔ زینب مائی روئے چلی جا رہی تھی ۔ شادو کو خبر ملی تو وہ وہیں بے ہوش ہو گئی ۔ سب گائوںوالوں نے کوشش کی کہ دلاور ایک دن کو رک جائے پر وہ ایک ہی جواب دیتا :
’’ میرا فرض مجھے بلا رہا ہے ۔ میرے وطن کو میری ضرورت ہے ۔ میں کیسے ایک منٹ کی بھی دیر کروں !‘‘
شام سے پہلے پہلے وہ خوشی کے گھر کو ماتم کدہ بنا کر چلا گیا ۔ شادو کا کھانا پینا چھٹ گیا ۔ وہ ہنسنا بولنا بھول گئی ۔ بس سارا دن چپ چاپ بیٹھی ان جانی سوچوں میں ڈوبی رہتی زینب مائی بیٹی کی حالت دیکھ دیکھ کر کڑھتی ۔ بے چارا کریم بخش وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگ گیا ۔جوان بیٹی کی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر سلگتا پر کیا کر سکتا تھا ۔
مشرقی پاکستان پہنچنے کے بعد دلاور کا صرف ایک خط آیا جس میں اس نے اپنے خیریت سے پہنچنے کی اطلاع دی تھی ۔ اس کے بعد جنگ کی بری بری خبریں آنے لگیں۔کریم بخش شہر سے ڈھائی سو کا دوبینڈ والا ریڈیو لے آیا ۔ شادو اسی طرح صبح سویرے درخت کے ساتھ ٹیک لگائے سورج کو تکتی رہتی یہاں تک کہ ماں یا باپ میں سے کوئی اسے زبردستی اٹھا کر اندر لے آتا ۔ آخر ایک دن یہ اندوہ ناک خبر بھی آگئی کہ مشرقی پاکستان ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔90 ہزار پاکستانی جنگی قیدی بن گئے ہیںاس سانحے پر ہر کوئی آنسو بہا رہا تھا۔
شادو کا اب ایک ہی کام تھا ۔ وہ روز صبح فجر کے ساتھ اٹھتی اورپیڑ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتی ۔ جب سورج طلوع ہوتا تو اس سے بس یہی سوال کرتی:’’ میرا دلاور کب واپس آئے گا ؟‘‘
ہرنیا سورج اس کو یہ پیغام دیتا کہ تیرا دلاور جلد آئے گا ۔
دن اس امید پر گزرنے لگے کہ آج جنگی قیدی لوٹتے ہیں، کل جنگی قیدی لوٹتے ہیں ۔ ایک دن ریڈیو پر دلاور نے اپنی خیریت کی خبر دی اور سارے گھر والوں کو سلام کہا ۔ اس دن کچھ حوصلہ ہؤا۔ مگر شادو کے معمول میں کوئی فرق نہ آیا ۔ وہ اسی طرح ہر روز درخت کے نیچے بیٹھی دلاور کو یاد کرتی رہتی اور جب سورج نکلتا تواس سے پوچھتی ’’ میرا دلاور آئےگا ناں ؟‘‘ ہر نیا سورج اس کی آس بندھاتا۔
اس دن اس کا دل بہت اداس تھا اور طبیعت گری گری ۔ کوئی چیز اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ سورج کوجب دیکھا تو وہ بھی اسے رویا رویا سا لگا۔ روز تو یہ سورج خوب صورت گلابی گلابی سا ہوتا تھا پر آج اس پر کچھ غبار ساچھایا ہؤا تھا ۔ چمک بھی کم تھی جیسے اداس ہو ۔ شادو اندر ہی اندر سہم گئی۔ سارا دن یونہی اداس ، غمگین اور گھٹا گھٹا سا گزرا۔ شام پڑی تو شادو کا دل اور زیادہ گھبرانے لگا ۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آج کیا ہوا ہے؟آپ ہی آپ رونے کو کیوں دل چاہ رہا ہے ۔ کئی دفعہ وہ اندر جا کر چوری چوری رو بھی آئی تھی۔
شام کو سب چولہے کے پاس بیٹھے ریڈیو سن رہے تھے ۔ آٹھ بجے کی خبریں شروع ہو ئیں ۔ نیوز کاسٹر کہہ رہا تھا ’’ بھارت نے آج ہمارے قیدیوں پر گولی چلائی ہے ۔ تین پاکستانی قیدی شہید اور بہت سے زخمی ہو گئے ہیں ابھی ناموںکااعلان نہیں ہؤا ‘‘۔
شادو کا دل جیسے مٹھی میں آگیا ۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور کمرے میں چلی گئی ۔ ساری رات اس کی آنکھیں برستی رہیں اور تکیہ بھیگتا رہا ۔ اگلی صبح وہ پھر درخت سے ٹیک لگائے ، افق پر نظریں جمائے سورج کی منتظر تھی سورج نکلا ۔ دھیرے دھیرےبلند ہؤا۔ آج بھی اس کا چہرہ غبار آلودہ تھا جیسے وہ شرم سے منہ چھپا رہا ہو ۔ شادو چپ چاپ اسے دیکھے گئی۔ آج اُسے یوں لگا جیسے سورج اس سے اپنا پیغام چھپا رہا ہے ۔ اسے بتانا نہیں چاہتا ۔ اچانک دروازہ بجا ۔ کریم بخش جوتی گھسیٹتا آیا۔’’ کون ہے بھئی؟‘‘
’’ آپ کی تار آئی ہے ‘‘۔ باہر سے آواز آئی۔
’’ اللہ خیر ‘‘۔ کریم بخش نے جلدی سے کنڈی کھولی ۔ ڈاکیا ہاتھ میں تار لیے کھڑا تھا ۔’’ آپ کی تار۔‘‘
’’ یار پڑھ کر تو سنا دے ‘‘۔
ڈاکیے نے گھٹی گھٹی آواز میںپڑھا ’’ سپاہی دلاور حسین جو ہندوستان میں جنگی قیدی تھا ۔ بھارت کی وحشیانہ فائرنگ میں شہید ہوگیا ہے ‘‘۔
کریم بخش کو یوںلگا جیسے زمین و آسمان گھوم گئے ہوں۔
’’ شادو کی ماں !‘‘ اس کے منہ سے چیخ نکلی۔
’’ خیر تو ہے شادو کے باپ؟‘‘ زینب مائی بھاگی آئی
’’ دلاور شہید ہو گیا ہے ‘‘۔ اس نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔
زینب مائی کاسر چکرا گیا
’’ شادو کہاں ہے ؟‘‘
’’ بد نصیب درخت کے نیچے بیٹھی ہوگی ‘‘۔ زینب مائی نے گلو گیر آواز میں کہا ۔
کریم بخش کے آنسو تسبیح کے دانوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر داڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔
’’ شادو میری بیٹی‘‘۔ وہ اس کے قریب گیا ۔ شادو نے کوئی جواب نہ دیا ۔ چپ چاپ بیٹھی رہی۔
’’ شادو !‘‘ کریم بخش نے زور سے کہا ۔ وہ اب بھی چپ تھی ۔
’’شادو !‘‘ کریم بخش نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا تو وہ مٹی کی دیوار کی طرح ڈھے گئی ۔ اس کی سانس کی ڈور ٹوٹ چکی تھی ۔
آہ! جو پیغام اس کو سورج نہ دے سکا ، وہ اس نے ڈاکیے کی زبان سے سن لیا۔
٭ ٭ ٭
عورتوں کا جنت میں جانے کا نہایت آسان طریقہ
جنتی عور
وہ کون سے اعمال ہیں جن پرعمل کرکے دنیا کی کوئی بھی عورت جنت میں جا سکتی۔
وہ کون سے عوامل ہیں جو کہ عورتوں کے جنت میں جانےمیں رکاوٹ ہیں۔
قیمت:800 روپے
رابطہ:03335242146