تین نصیحتیں ۔ امام نوویؒ

کوئی تبصرہ نہیں

’’ حضرت ابو ذر جندب بن جنادہؓ اور ابوعبد الرحمٰن معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے رسول اکرم ؐ نے فرمایا : تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو اور خطا ہو جانے کے بعد نیکی کرو کہ وہ برائی کو مٹا دیتی ہے اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئو ‘‘۔(ترمذی مسند احمد )
تَمحُھا کا مطلب ہے مٹانا ، ختم کرنا ۔ مراد ہے کہ جب بھی کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً نیکی کرے تاکہ غلطی کا ازالہ ہو جائے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ان الحسنات یذھبن المسیات
اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریمؐ نے حضرت معاذبن جبلؓ کو تین نصیحتیں فرمائیں ۔
(۱) تقویٰ
تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ اس میں لفظ ’’تقویٰ‘‘ استعمال ہؤا ہے ۔ جو اپنے مفہوم کے اعتبار سے بہت وسیع ہے ۔ قرآن مجید میں اس سے زیادہ اور کوئی لفظ اتنی مرتبہ استعمال نہیں ہؤا ہے ۔تقویٰ کی حیثیت یہ ہے کہ بندہ اپنے اور اس سے جس سے ڈرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک دیوار حائل کر لے اور بندے کا اپنے رب سے ڈرنا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے غضب اور ناراضگی اور اس کی سزا سے بچے اور اس ناطے سے اللہ کی اطاعات کرے اور اس کی نا فرمانی سے بچے۔
تقویٰ کی ایک تشریح وہ ہے جو حضرت معاذ بن جبلؓ نے حضرت عمر بن الخطابؓ کو بتائی تھی ۔ وہ یہ کہ اگر تمہیں کسی خار دار راستے سے گزرنا ہو تو کیسے گزرو گے ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ خار دار راستے سے اپنے دامن کو بچا کر اس انداز سے گزر جائوں گا کہ کہیں کانٹوں میں دامن نہ الجھ جائے ۔ حضرت معاذؓ نے فرمایا : یہی تقویٰ ہے ۔ دُنیا ایک خار دار وادی ہے ۔ یہاں ہر قدم پر لوگوں کے حقوق کے کانٹے بکھرےپڑے ہیں اور یہاں سے دامن اس طرح بچا کر گزر جانا کہ لوگوں کے حقوق کے کانٹوں میں دامن نہ اُلجھ جائے ۔
تقویٰ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا نام بھی ہے اور قرآن مجید میں کئی جگہ اللہ کے نام کے ساتھ آیا ہے ۔
’’ اور تم اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف میدان حشر میں اٹھائے جائو ‘‘۔(المائدہ)
’’ اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر ذی روح کو اپنے ان اعمال پر نظر رکھنی چاہیے جو اس نے اپنے آنے والے کل کے لیے بھیجے ہیں‘‘۔( الحشر)
جب اللہ کے نام کے ساتھ ’’ اتقوا‘‘ آئے تو معنی یہ ہو گا کہ اللہ کی ناراضگی اور غضب سے بچو اور وہ اس اعتبار سے اعظم و اکرم ہے جس سے ڈرنا چاہیے ۔ کیوں کہ دنیا و آخرت کا عذاب اس کی ناراضگی کے سبب ہوتا ہے ۔
قرآن حکیم میں آتا ہے ۔
اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے ( آل عمران (۳۰)
وہی ہے تقویٰ والا اور مغفرت کے قابل (المدثر:۵۶)
جس کا مطلب یہ ہے اللہ و تبارک تعالیٰ اس بات کا زیادہ اہل ہے کہ انسان اس سے ڈرے اور خوف کھائے اور وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے بندوں کے دلوں میں اس کی عظمت و کبریائی قائم رہے اور وہ اس کے تحت اس کی عبادت کریں ۔
لفظ تقویٰ قرآن مجید میں اللہ کے عذاب اور دوزخ کے عذاب اور یوم قیامت کے لیے بھی استعمال ہؤا ہے ۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
ڈرو اس آگ سے جو انکار کرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے (آل عمران :۱۳۱)
ڈرو اس آگ سے جن کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے (البقرہ:۲۴)
ڈرواس دن سے جب کوئی کسی کا بدلہ نہ دے سکے گا ( البقرہ:۴۸)
تقویٰ فرائض کی ادائیگی اور شبہات کے چھوڑنے کے لیے بھی استعمال ہؤا ہے اور اکثر مقامات پر تقویٰ نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں کے چھوڑنے پر بھی دلالت کرتا ہے ۔ اور یہ سب تقویٰ کے بلند ترین درجات ہیں ۔
حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں ’’ قیامت کے دن پکارا جائے گا کہ متقی کہاں ہیں ؟ پس وہ رحمان کے احاطے میں ایسی جگہ کھڑے ہوں گے جہاں کوئی شے ان سے پوشیدہ نہیں ہوگی۔ وہ پکارنے والے سے کہیں گے کہ متقی لوگ کون ہیں ؟ وہ کہے گا کہ وہ لوگ جنہوں نے شرک اور بتوں کی پوجا سے اپنا دامن بچائے رکھا اور خالصتاً اللہ کی عبادت کی ‘‘۔
حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کہتے ہیں :
’’ تقویٰ دن کے روزوں ، رات کی عبادت اور لوگوں میں خلط ملط ہونے کا نام نہیں ہے۔ تقویٰ در اصل جسے اللہ نے حرام کیا اسے چھوڑنے کا اور جسے اللہ نے فرض کیا اسے ادا کرنے کا نام ہے ‘‘۔
طلق بن حبیب ؓ فرماتے ہیں :
’’ تقویٰ در اصل اس شے کا نام ہے کہ اللہ کے نور کی ر وشنی میں تُو اللہ کی اطاعت کرے اور ثواب کا امید وار رہے اور اللہ کے نور کی روشنی میں اللہ کی نا فرمانی کو ترک کردے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتا رہے ‘‘۔
حضر ت ابو دائود ؒ فرماتے ہیں :
’’ مکمل تقویٰ تو یہ ہے کہ بندہ ایک ذرے کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرتا رہے اور حرام سے ڈرے ، بعض ایسی چیزوں کو بھی چھوڑ دے جو اس کے خیال میں حلال ہوں ‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ’’اتقوا اللہ حق تقاتہ‘‘ کی تشریح فرماتے ہیں :
’’ اللہ سے ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نا فرمانی نہ کی جائے اور اس کی ہر دم یاد رکھا جائے اور بھلایا نہ جائے اور اس کی نعمتوں کا ہر دم شکر ادا کیا جائے اور کفران نعمت ہو‘‘۔
ابن معتمرؒ نے خوبصورت تشریح یوں بیان کی ہے ۔
’’ ہر چھوٹے بڑے گناہ کو چھوڑ دو ۔ یہی تقویٰ کی حقیقت ہے اور زمین پر اس آدمی کی مانند چلو جو کانٹے کو دیکھ کر اپنے دامن کو بچاتا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی برائی کو حقیر جانو کہ بے شک پہاڑ چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے وجود پاتے ہیں ‘‘۔
قطرہ قطرہ می شود دریا کا یہی مفہوم ہے ۔
حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ذرؓ نے حضور نبی کریم ؐ سے گزارش کی کہ اللہ کے نبیؐ! مجھے نصیحت کیجیے ۔ آپ ؐ نے فرمایا :
’’ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ اس لیے کہ بے شک تقویٰ ہی در اصل سارے دین کی بنیاد ہے ‘‘۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب حضرت محمد ؐ نے حضرت معاذؓ کو قاضی بنا کر یمن بھیجا تو اس وقت انہیں وصیت کی کہ علانیہ اور خفیہ طور پر اللہ سے ڈرتے رہنا اور اس طرح ڈرنا جس طرح کوئی آدمی اپنی قوم کی ذی ہیبت شخص سے ڈرتا ہے یعنی ہر دم تمہارا دل اللہ کے قرب سے آباد رہے اور محسوس کرے کہ اللہ کی نظر تمہار اعمال پر ہے اور تنہائی میں ڈرنا کمال ایمان کی علامت ہے ۔ اسی لیے رسول ؐ اللہ نے اکثر یہ دعا فرمائی:
(٢) خطا کے بعد نیکی
اللھم انی اسلک الھدیٰ والتقیٰ و العفاف والغنیٰ
اس حدیث میں دوسری بات جو آپؐ نے فرمائی وہ یہ ہے کہ جب تم سے کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو اس کے فوراً بعد نیکی کرو۔ تو یہ نیکی اس گناہ کو مٹاد ے گی ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں واضح الفاظ میں ہے ۔
’’اور دن کے دونوں اطراف میں اور رات کے ایک حصے میں نماز قائم کرو۔ بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں اور یہ نصیحت حاصل کرنے والو ں کے لیے نصیحت ہے ‘‘۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک شخص رسولؐ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! میں نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا ہے مجھے اس کی سزا دیجیے ۔ رسول اکرم ؐ یہ سن کر خاموش رہے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔ آپؐ نے اس شخص کو بلا کر اسے یہ آیت سنائی تو اس نے عرض کی کہ یا حضرت یہ آیت خالصتاً میرے لیے ہے ۔ رسول کریم ؐ نے فرمایا ، یہ سب لوگوں کے لیے ہے ۔
قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے ۔۔
دوڑ کر چلو اپنے رب کی مغفرت اور اس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کے برابر ہے ، متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے (آل عمران۱۳۳)
اسی آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب اللہ کے بندے کسی برائی کے مرتکب ہوتے ہیں تو فوراً ہی اپنے رب کی یاد کرتے ہیں اپنے گناہ کی معافی مانگتے ہیں اور اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتے ۔ اس طرح اللہ ان کے گناہ کو معاف کر دیتا ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے ۔ حضورؐ نے فرمایا ہے کہ:
’’ جب اللہ کا بندہ گناہ کا مرتکب ہونے کے بعد یہ کہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھ سے گناہ سر زد ہؤا ہے پس مجھے معاف کردے ۔ تو اللہ فرماتے ہیں میرے بندے کو اس بات کا علم ہؤا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف کرتا ہے اور گناہ پر سزا بھی دیتا ہے ۔ پس میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ‘‘۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے حضورؐ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے دن میں ستر مرتبہ گناہ کیا اور پھر بخشش کاطلب گار ہو ٔا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا ‘‘۔( ترمذی شریف)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ’’ ایک شخص آنحضرت ؐ کی خدمت میں حاضر ہؤا اور کہا کہ مجھ سے گناہ سر زد ہؤا ہے مجھے سزا دیجیے آپؐ نے اسے کوئی جواب نہ دیا حتیٰ کہ جماعت کھڑی ہو گئی ۔ اس شخص نے نماز سے فارغ ہو کر پھر گزارش کی کہ حضرت ؐ مجھے گناہ کی سزا دیجیے ۔ آپ نے فرمایا کہ تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے عرض کیا پڑھی ہے ۔ آپ ؐ نے فرمایا : ’’ پس اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا ہے ‘‘۔
ایک اورحدیث میں ہے ، آپ ؐ نے فرمایا جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور خلوص اور خشوع وخضو ع کے ساتھ دو رکعت نفل ادا کرے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
پانچ نمازیں درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان اور ایک سرے سے دوسرا عمر ہ اور ایک حج سے دوسرا حج۔
جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
ایک اور جگہ رمضان میں قیام کے بارے میں بھی یہی فرمایا :
آپؐ نے فرمایا یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے سے ایک سال کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، اور نوذی الحج کا روزہ رکھنے سے پچھلے ایک سال کے اور آئندہ ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
اس مضمون کی احادیث کی تعداد اس قدر ہے کہ احاطہ مشکل ہے۔ ان سب کا مقصود یہی ہے کہ اگر انسان سے کسی وقت گناہ سر زد ہو جائے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرے۔ اپنے گناہ پر نادم ہو ۔ اللہ کے دربار میں لوٹ آئے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ محدثین نے یہ بھی کہا ہے کہ گناہ کے بعد فوراً نیکی کرنے سے مراد توبہ کی تلقین ہے اور در اصل توبہ ہی گناہوں کے کفارے کا نام ہے ۔
رسول اللہ ؐ نے فرمایا :التوبۃ الندم
’’ توبہ در اصل اپنے گناہوں پر نادم ہونے کا نام ہے ‘‘۔
یہ گارنٹی دی کہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس طرح ہے جیسے اس نے سرے سے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ہے ۔ ایک جگہ ہے گویا اس نے آج ہی جنم لیا ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ نو مولود معصوم بچہ ۔ قرآن مجید میں اس طرح ہے ۔
’’ ہاں مگر جس نے توبہ کی ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا ایسے لوگوں کی برائیاں بھی اللہ نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے ‘‘۔( سورۃ الفرقان:۷۰)
دوسری جگہ اس طرح فرمایا ہے :
’’ جو برائی کا مرتکب ہؤٔا ہے یا جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے پھر اس کے بعد اللہ سے گناہوں کی معافی مانگی وہ اللہ کو بخشنے والا پائے گا ‘‘۔(النساء۱۱۰) ان حادیث و آیات کی بنیاد پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر گناہ سر زد ہو جائے تو انسان کو گناہ پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے کیے پر نادم ہو کر اللہ سے معافی مانگنی چاہیے اور نیک اعمال کثرت سے کرنے چاہئیں جس سے گناہ معاف ہو تے ہیں بلکہ گزشتہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ انسان توبہ سے ایک معصوم بچے کی طرح پاک صاف ہو جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے توبہ اللہ کی طرف لوٹ آنے والے بندوں کے لیے بڑا انعام ہے ۔
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے ، وہ یہ کہ نیکی کرنے سے خطائیں اور گناہ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ مگر گناہ کبیرہ ، توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
’’ اگر تم کبیرہ گناہوں سے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے دامن کشاں رہو تو ہم تمہاری برائیاں معاف کر دیں گے اور تمہیں عزت و احترام کے مقامات میں جگہ دیں گے ‘‘۔(النساء۳۱)
رسول اللہ ؐ نے بھی احادیث میں اس بات کی وضاحت فرمائی :
پانچوں نمازیں ایک جمعہ سےدوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے دوران کیے گئے تمام صغیرہ گناہوں کے لیے یہ عبادات کفارہ بن جاتی ہیں ۔ جب تک انسان کبیرہ گناہوں سے محفوظ رہے ۔
رسول اکرم ؐ نے فرمایا :
’’ کیا میں تمہیں اس عمل کی طرف راہنمائی نہ کروں جس سے اللہ خطائوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے ، ہر صورت میں ( سردی و گرمی) مکمل وضو ، مساجد کی جانب زیادہ جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار ‘‘۔
ایک اور جگہ فرمایا:
’’ جس نے دن میں سو دفعہ لا الہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا وظیفہ کیا ، اللہ اس کے نامہ اعمال میں سو نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کی سو برائیوں کو مٹا دیتا ہے اور اس کو دس غلام آزاد کرنے کے مصداق ثواب عطا کرتا ہے ‘‘۔
(٣)حسنِ خلق
رسول اللہ ؐ نے تیسری وصیت یہ فرمائی کہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا کرو ۔ حسن خلق کو مفصل بیان کرنے کے لیے بہت جگہ درکار ہے ۔ مگر مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا :
بعثت لا تمم مکارم الا خلاق
’’ مجھے بہتر اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے ‘‘۔
گویا سارے اسلام یا دین کی اساس حسن خلق ہے ۔
حسن خلق تقویٰ ہی کی ایک صورت ہے مگر آنحضرت ؐنے اسے الگ بیان کر کے اس کی حیثیت کو اور نمایاں کر دیا ہے ۔ ایک مرتبہ آپؐ سے پوچھا گیا کہ سب سے بہترین مومن کون ہے ؟ آپؐ نے فرمایا :
’’ مومنین میں سے سب سے زیادہ کامل ترین ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے ‘‘۔( ابو دائو د)
ایک مرتبہ آپؐ سے پوچھا گیا کہ ’’ ایک مسلمان شخص کے لیے افضل ترین شے کون سی ہے جو اسے دی گئی ہے ؟‘‘
آپؐ نے فرمایا ’’ حسن خلق‘‘( ابو دائود ، مسند احمد ، نسائی ، ابن ماجہ ) خود حضرت عائشہؓ رسول اکرم ؐ سے روایت کرتی ہیں ۔
’’ بے شک ایک مومن اپنے حسن خلق کی وجہ سے روزے دار اور شب زندہ دار کے درجات حاصل کر لیتا ہے ‘‘۔(ابو دائود)
ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا :
’’ ترجمہ’’ بے شک حسن خلق میزان میں سب سے زیادہ وزن دار ہے اور حسن خلق کا مالک اللہ کو تمام لوگوں سے زیادہ محبوب اور انبیاء کے سب سے زیادہ نزدیک بیٹھنے والوں میں سے ہوگا ‘‘۔
رسول اکرم ؐ فرماتے ہیں :
’’ ایک بندےکی میزان پر حسن خلق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہ ہو گی اور بے شک حسن خلق کا مالک روز ے دار اور نمازی کے درجات کو پا لیتا ہے ‘‘۔
صحیح ابن حبان میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اکرم ؐ نے فرمایا :
’’ کیا میں تمہیں اللہ کے لیے سب سے محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے قریب بیٹھنے والے کی خبر نہ دوں۔ ہم نے عرض کیا ضرور ، فرمایا : جو خلق کے اعتبار سے سب سے بہتر ہو ‘‘۔
اس حدیث میں حضرت محمد ؐ نےحضرت ابو ذر ؓ کو تین نہایت جامع قسم کی نصیحتیں فرمائیں ۔ ان پر دل و جان سے عمل کرنے والا معاشرے میں امن و سکون سے زندگی بسر کر سکتا ہے ۔
حوالہ :
شرح اربعین نووی۔ ترجمہ و تشریح : پروفیسر چوہدری عبد الحفیظ ، پروفیسر ملک ظفر اقبال
٭ ٭ ٭

 

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp