حرا تیزی سے بستر سے اتری اور ٹیبل سے گرتی چائے کو روکنے کے لیے اس نے دراز کھول کے ٹشو پیپر نکالا، تیزی سے پلٹ کر ٹیبل تک آنے کی جلدی میں زور سے پیر ٹیبل کے سائیڈ پر دے مارا۔
’’ آآآآ…‘‘
حرا کے منہ سے گھٹی گھٹی سے چیخ نکلی جس میں غصہ تکلیف اور برداشت سب کچھ شامل تھا۔ غصہ اپنی جلد بازی پر، تکلیف تو شدید تھی لیکن برداشت بھی تو کرنا تھا۔
وہ تھوڑی دیر اپنا پاؤں پکڑ کر بستر کی سائیڈ لکڑی پر بیٹھ گئی اور ٹیبل سے ٹپ ٹپ گرتی چائے کو بے خیالی میں دیکھنے لگی۔ اس کی سوچیں اسے اس وقت میں لے گئیں جب اس کی شادی میں چھ مہینے رہ گئے تھے اور وہ اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ فرنیچر کی دکانوں میں اپنا فرنیچر پسند کرنے کے لیے پھر رہی تھی۔
حرا گھر کی لاڈلی تھی، بڑی بہن کی شادی کے بعد چار سال اس نے لاڈ پیار میں گزارے، آرام سے اپنی تعلیم حاصل کی اور اب آخر ایک اچھا رشتہ آنے پر اس کی والدہ اس کی شادی کرنے جا رہی تھیں۔
چونکہ وہ لاڈلی تھی اس لیے ہر چیز اس کی پسند کے مطابق خریدی جاتی چاہے وہ جوتے ہوں، کپڑے ہوں، زیور ہو یا پھر فرنیچر۔
حرا کی امی ہر طرح سے بیٹی کے شوق پورے کرنا چاہتی تھیں۔ ابھی بھی فرنیچر پسند کرنے کے لیے وہ چاہتی تو بھائی کے ساتھ جا کر پسند کر آتیں مگر وہ حرا کو لے کر گئیں۔
لکڑی کا فرنیچر بنانے والا پرانا جاننے والا تھا جس نے ان کی بہن کا فرنیچر بھی بنایا تھا اس لیے فرنیچر اچھا بنائے گا اس میں کوئی شک نہیں تھا۔ حرا نے دکان میں داخل ہوتے ہی ایک عالیشان سا لکڑی کا بیڈ دیکھا جو ڈسپلے کے لیے رکھا گیا تھا، ہلکے براؤن کلر کا کنگ سائیڈ بستر جس کے پیچھے لیدر کا ہیڈ سیٹ لگا ہؤا تھا۔ حرا کو فرنیچر اتنا پسند آیا کہ حد نہیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ شیشم کی لکڑی کا ہے اور ایک مشہور کمپنی کا ڈیزائن ہے، اور ان کی رینج سے بہت اوپر ہے۔ مگر حرا نے پوری دکان دیکھ لی جہاں سات آٹھ قسم کے فرنیچر اور بھی رکھے تھے مگر حرا کو تو وہی پسند آگیا تھا۔ آخر کار اس کی والدہ نے اپنا بجٹ بڑھا کر اس کی خواہش کو پورا کیا اور یہ اتنا مہنگا فرنیچر آج حرا کی ہڈی توڑتے توڑتے رہ گیا تھا۔
حرا نے غصے سے ایک نظر سامنے پڑی سائیڈ ٹیبل کو دیکھا جس میں گری چائے اب شیشے کے اندر اتر کر لکڑی خراب کر رہی تھی۔
حرا نے آخر کار اپنا پیر نیچے رکھا اور گری ہوئی چائے صاف کرنے لگی۔
’’اتنا مہنگا فرنیچر، اتنی صفائی کرو، اتنا خیال رکھو، ہر وقت دھیان دو کہ کہیں دھول مٹی نہ لگ جائے، لکڑی خراب نہ ہو جائے اور اتنی زور سے چوٹ لگا دی‘‘۔
حرا بڑ بڑاتی جا رہی تھی اور صفائی کرتی جا رہی تھی۔ اس کو رہ رہ کر فرنیچر پر غصہ آئے جا رہا تھا، جیسے فرنیچر نے جان بوجھ کر چوٹ لگائی ہو۔
حرا نے آدھی ٹھنڈی چائے کا کپ پکڑا اور صوفے پر بیٹھ کر سوچنے لگی میری شادی بھی تو کچھ اسی طرح کی ہے، اتنے ارمانوں سے مما نے اتنا پیسہ لگایا، کیا کچھ نہیں دلایا، برتن، کپڑے، جوتے، فرنیچر، فریج، ٹی وی، زیور۔ کتنے حسین ارمان تھے شادی کے بعد یہاں گھومنے جاؤں گی، شوہر کے ساتھ اچھے اچھے کپڑے پہن کے روز گھومنے نکل جایا کروں گی لیکن شادی کے بعد ذمہ داریاں اتنی ہوتی ہیں۔ کسی نے اس بات کے لیے حرا کو ذہنی طور پر تیار نہیں کیا تھا۔
سسرال میں تین وقت کا کھانا بنانے میں ہی سارا دن نکل جاتا اور نئے کپڑے پہننے کا شوشہ تو وہیں ختم ہو جاتا۔ میکے میں تو اسے کبھی احساس ہی نہیں ہؤا کہ کھانا تین بار بنتا ہے کیسے بنتا ہے، کون بناتا ہے۔ اب تو بس یہی سوچتے رہو کہ شام میں کیا بناؤں، صبح میں کیا بناؤں، پھر سسرال کےمعاملات….چھوٹی چھوٹی باتوں پہ غلط فہمیاں، پھر وضاحتیں اور صفائیاں…. ذہن کو کہیں کا نہیں چھوڑتے، اوپر سے شوہر کے مزاج کو سمجھنا پڑتا ہے۔ اس سب میں کافی وقت لگتا ہے۔ کاش یہ سب مجھے پہلے معلوم ہوتا ،حرا نے سوچا۔
اسی وقت حرا کے شوہر کمرے میں داخل ہوئے۔
’’اکیلے اکیلے چائے پی رہی ہو؟‘‘
عادل نے خوشگوار موڈ میں کہا۔
حرا نے چونک کر عادل کی طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔
’’ہاں آپ کے لیے بھی بنائی ہے، ابھی لاتی ہوں‘‘۔
حرا کھڑی ہوئی اور پاؤں کی چوٹ کی وجہ سے اس کے منہ سے ایک آہ نکل گئی۔
’’ کیا ہؤا؟‘‘ عادل نے چونک کے کہا
’’کچھ نہیں، میرا پاؤں بہت زور سے ٹیبل کے کنارے سے ٹکرا گیا تھا، نیل بھی پڑ گیا ہے‘‘۔
حرا تھوڑی سی توجہ سے ہی روہانسی ہو گئی۔
’’ اچھا تم بیٹھو میں چائے گرم کر کے لے آتا ہوں‘‘۔
عادل نے نرمی سے کہا۔
’’ اتنا مہنگا فرنیچر لیا تھا اور دیکھیں ذرا میرا پاؤں ٹوٹتے ٹوٹتے بچا ہے‘‘۔
حرا کا شکوہ منہ پہ آ ہی گیا۔ کہنے کا دل تو چاہ رہا تھا کہ’’ اتنے شوق سے شادی کی تھی میرا دل ٹوٹتے ٹوٹتا بچا ہے‘‘۔
عادل چائے کا کپ پکڑ کر کچن سے واپس آیا تسلی سے اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولنے لگا۔
’’ہاں فرنیچر تو بہت اچھا اور مہنگا لیا ہے، کتنا اچھا بھی لگتا ہے کمرے میں سجا ہؤا ….پھر ہمارے کام بھی تو کتنا آتا ہے، ہم اس پر سوتے ہیں، الماری میں کپڑے رکھتے ہیں، ٹیبل پہ چیزیں سجاتے ہیں۔ اس لیے ایک چوٹ لگنے پر ناشکری نہ کرو‘‘ عادل نے کہا ۔
’’ہاں کام تو آتا ہے‘‘۔ حرا نے جیسے ایک ہی بات سنی۔
‘‘اور چوٹ بھی مجھے یقین ہے تمہاری جلدبازی کی وجہ سے لگی ہے تم جلدی جلدی ہر کام جو کرنا چاہتی ہو، سب عادتوں کا معلوم ہے مجھے‘‘۔
عادل نے پیار سے سمجھایا۔
’’ہاں آپ صحیح کہہ رہے ہیں‘‘۔
حرا نے اپنی غلطی مان لی۔
’’تھوڑا تحمل سے کام کیا کرو، جگہ بناؤ کمرے میں چلنے پھرنے کی، یہ ٹیبل باہر کے کمرے میں کر دو تاکہ چوٹ نہ لگے‘‘ عادل نے مزید کہا۔
حرا نے دل میں سوچا شادی کو بھی تو تحمل اور برداشت چاہیے، رشتوں کو دلوں میں جگہ بنانے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے، ہر چیز جلد بازی میں نہیں ہوتی۔
٭٭٭

