غزل – بتول جنوری ۲۰۲۳

کوئی تبصرہ نہیں

اپنے اپنے عکس کی گرویدہ ہے
بھیڑ میں تنہائی اک پوشیدہ ہے

باخبر دنیا میں خود سے بے خبر
دانا و بینا نہیں ،خوابیدہ ہے

رہنماؤں کی نگاہیں تخت پر
اور مخلوقِ خدا نم دیدہ ہے

محرمِ اسرار بھی کوئی نہیں
یہ معمہ ہے ، بہت پیچیدہ ہے

یہ گھروندہ ریت پر ہے ، راہبر
کیا نظر سے بات یہ پوشیدہ ہے

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp