قولِ برحق – قانتہ رابعہ

کوئی تبصرہ نہیں

راضیہ تبسم ،شریف صاحب کی پانچویں اور آخری اولاد تھی لیکن انداز و اطوار میں سب سے جدا!
دین دنیا دونوں میں پوری لیکن والدین کے لیے بہت بڑا انعام ، خدمت گزار تابعدار اور ہونہار ،آج کے نفسا نفسی اور فتنوں کے دور میں جب سارے ماں باپ اولاد کی نافرمانیوں اور من مانیوں کے گلے شکووں کی پٹاری کھولتے تو راضیہ تبسم بغیر پلکیں جھپکائے ان کے منہ کی طرف دیکھتی راضیہ کے لیے یہ سب سے زیادہ اذیت ناک چیز تھی کہ ماں کی کوکھ سے پیدا ہوئے بچے بھی ماں با پ کے نافرمان ہو سکتے ہیں ؟
کیا چھے سات پونڈ کے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو ماں باپ کا رتبہ بھول جاتے ہیں یا اپنی اوقات؟
شریف صاحب کی خوش قسمتی تھی کہ بڑا بیٹا میٹرک کے بعد سعودیہ چلا گیا اور غم روزگار نے اسے اتنا مصروف کیے رکھا کہ شادی سے پہلے ایک مرتبہ ہی پاکستان آنے کا اتفاق ہؤا مہینہ بھر کے قیام میں اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی رشتے داروں میں سے ہی اس کے لیے رشتہ ڈھونڈ لیا گیا اور اس کی فرمانبرداری یا نافرمانی کا لیول چیک کرنے کی نوبت ہی نہ آسکی ۔
شادی کے لیے آیا تو شادی اور بعد میں میکہ اور سسرال میں دعوتوں کے لا متناہی سلسلے بھگتتا بھگتاتا واپس چلاگیا چھے ماہ کے اندر اندر بیوی کو بھی دمام میں بلالیا۔اس کے بعد کے دس سالہ دور میں جب بھی آیا یہی شادی غمی کے سلسلے میں ہی آیا کبھی بیوی بچوں کے ساتھ اور کبھی ان کو پردیس میں چھوڑ کر!
جواز معقول تھا ٹیکسوں کی ادائیگی کرنے کے بعد بچتا بچاتا کچھ بھی نہیں ،کرائے کی مد میں بھلے دو چار لاکھ ہی نکلیں گے لیکن بہن بھائیوں اور ان کی اولادوں کے ساتھ سسرال والوں کو دینے کے لیے تحفے تحائف کی خریداری کے لیے رقم کرائے سے چار گنا زیادہ بن جاتی ہے ،اس لیے کم آنا اور اکیلے آنا زیادہ بہتر ہے ۔
اس کے بعد دو بیٹیاں تھیں جو گیارھویں بارھویں کلاس میں زیر تعلیم تھیں اور اچھے رشتے ملنے پر اوائل عمری میں میکہ سے رخصت ہوگئیں۔ جب شادی ہو جائے تو ہمارے معاشرے میں جو لڑکیوں کے مسائل ہوتے ہیں وہی ان کی دونوں بیٹیوں کےتھے۔ چوتھے نمبر پر بیٹا وقاص شریف بس نام کا ہی شریف تھا، زمانے بھر کا شرارتی اور نچنا ،گول گول گھومتے ہوئے گھر سے نکلتا اور گلی کے آخری سرے پر پہنچ جاتا ،ٹک کر ایک جگہ بیٹھنا اس کی سرشت میں ہی نہ تھا ۔
ایسے میں راضیہ واقعی انعام تھی….منہ مانگا قیمتی انعام! جس کی ہر ادا پیاری اور وہ خود ہر دل کی دھڑکن تھی چھٹی ساتویں آٹھویں کلاس میں بھی اس نے امتیازی نمبروں سے امتحان پاس کیا ساتھ میں جامعہ سے بھی دینی تعلیم بہت جوش جذبے سے حاصل کر رہی تھی۔
ماں باپ بہن بھائی اسے دیکھ دیکھ کر جیتے ،ہر نماز سے پہلے اس کے ہونے پر شکرانے کے دو نفل ادا کیے جاتے تو بھی کم تھے ۔
کھانے پینے ،بولنے ،سونے جاگنے میں ماں کی فرمانبردار!
بس ایک بات جو جتنی خوشی کا باعث تھی اس سے کہیں زیادہ تشویش کا باعث بھی وہ تھی ،ماں باپ کے ساتھ چمٹے رہنے کی! باپ کی تو ملازمت کے لیے گھر سے صبح سویرے نکلنا مجبوری تھی اس لیے وہ چپ رہتی لیکن ماں اور اس سے دور کہیں چلی جائے ؟ توبہ توبہ ستر ہزار مرتبہ توبہ۔
بس اس بات پر وہ روتی کرلاتی ،احتجاج کرتی ،سمجھانا ڈرانا دبکانا سب بے اثر ،اس کی ایک ہی بات طوطے کی طرح ایک ہی رٹ ،ایک ہی گردان امی کے بغیر کیسے رہ لوں؟ گھر کے درو دیوار کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔جب بھی وہ ایسا کرتی گھر میں ضرور چھوٹا موٹا طوفان آتا ۔ بھلا جوان جہان لڑکی کو کہاں ساتھ ساتھ لے کر پھریں۔
امی اسے سمجھاتیں، پیار کرتیں ۔
’’دیکھ راضی پتر، ایسے نہیں کرتے ،دنیا مذاق اڑایا کرتی ہے ‘‘۔
وہ بس یہی کہتی’’ میں آپ کے بغیر سانس مشکل سے لیتی ہوں ‘‘۔
امی مسکراتیں’’ جھلیے ابھی تیری شادی جو نہیں ہوئی ،اس لیے ایسا کہتی ہے۔خونی رشتوں میں اولاد کی محبت سے بڑی محبت کوئی نہیں ہو سکتی‘‘۔
وہ آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہتی’’وہ بھی ہوتی ہوگی ‘‘۔
امی تصحیح کرتیں۔
’’ہوتی ہوگی نہیں ….ہوتی ہے۔ ماں باپ سے محبت کی ان سے حسن سلوک کی تو سوہنا رب بھی قرآن مجید میں تلقین کرتا ہےاور بار بار کرتا ہے۔ بتاؤ اس نے کہیں اپنی کتاب میں اولاد سے محبت اور نیکی کی تلقین کی ہے ؟‘‘
پھر خود ہی بات جاری رکھتیں ۔
’’جو چیز موجود ہےاپنے وجود کا حصہ ہے اس کی محبت تو پیدائش سے پہلے ہی دل میں سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہے…. تبھی تو اس کے لیے راتوں کو جاگتی ہے اس کی دکھ تکلیف اپنی جان پر لے لیتی ہے ….بچے کے دل کی دھڑکن کے ساتھ اس کا دل دھڑکتا ہے، اس کا سانس بند ہو تو ماں کا پہلے بند ہوتا ہے…. رہے ماں باپ! توسچ پوچھو باوا آدم اور اماں حوا کے والدین نہیں تھے….جو چیز موجود ہی نہ ہو اس کو تسلیم کرنے کے لیے بہت کوشش کرنا پڑتی ہے، اپنے آپ کو سمجھانا پڑتا ہے ،ابھی تم ناسمجھ ہو یہ وقت آئے گا تو خود ہی سمجھ جاؤ گی دونوں محبتوں کا انداز فرق ہوتا ہے‘‘۔
راضیہ پتر بس چپ ہوجاتی ،ماننے نہ ماننے کی بیچ کی کیفیت میں ڈانواڈول!
چار چھ سال آگے گزرے تو اس کی شادی ہو گئی ۔وہ اپنے ماضی کے کہے فقروں کی لاج رکھنے کی پوری کوشش کرتی ۔اماں کو روازنہ فون کرتی ۔دس بارہ دن کے وقفے سے خبر گیری کے لیے آتی۔ جب بھی آتی ماں کی ضرورتیں اور کام ان کے کہے بغیر پورے کرتی۔جب بچے کی آمد کا سلسلہ شروع ہؤا ،جنت اس کے پاوں تلے آنے کے اہتمام میں مصروف تھی تو اس بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اماں دنیا سے کنارہ کرگئیں۔دو تین دن کی بیماری ملک الموت کی قاصد بن کر آئی اور جان لے کر ہی ٹلی۔
اماں کی بیماری کی خبر سن کر وہ فوراً اماں کے پاس پہنچ گئی۔ تمام عرصے میں اس نے ماں کی تیمار داری کا حق ادا کیا۔دل کا پہلا دورہ ہی جان لیوا ثابت ہؤا۔
اپنی آنکھوں کے سامنے جان نکلتے دیکھ کر بھی اسے ماں کی وفات کا یقین نہیں تھا۔ ماں کی گھر سے رخصتی تک کے گیارہ گھنٹوں میں اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بھری رہیں ۔اماں کی انگوٹھے سے آنکھیں بند کرتے ہوئے ان کی پاؤں کی انگلیوں کو باندھتے ہوئے ان کی میت کو غسل دینے کے دوران ایک لمحہ کے لیے بھی وہ چپ نہیں ہوئی ۔گیارہ گھنٹوں میں اس کے آنسو بجائے کم ہونے کے زیادہ روانی سے بہتے رہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی خالہ کے ساتھ ان کو کفن پہنا رہی تھی ان کے سر کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر رہی تھی، ان کے وضو کے اعضاپر ہتھیلی سے مسل کر کافور لگا رہی تھی، تب اس کے بہتے ہوئے آنسو کفن کو گیلا کر چکے تھے۔سب اسے چپ کرواتے ہوئے تھک چکے تھے سب کاموں کی تکمیل میں آنسو،اس کے ہمدم دمساز رہے جب ماں کو لینے کے لیے اس کے بھائی بہنوئی اندر آئے تو وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوگئی ۔
اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے اس کی ناک کو دبایا گیا اس کو ابتدائی طبی امداد دی گئی تب کہیں جا کر اس کی آنکھیں کھلیں ۔
اس وقت اس کی ماں کی چارپائی لے کر جانے والے کم از کم تیس بتیس قدم دور جاچکے تھے۔ اس نے ہوش کی دنیا میں واپس آتے ہی پہلا کام ننگے پاؤں ماں کی میت کے پیچھے بھاگنے کا کیا لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ مکمل طور پر بے ہوش ہو چکی تھی۔
ماں کے جانے کے بعد ماں جی تصویر اس کی آنکھوں کی پسلیوں میں ساکت ہوگئی تھی اسے اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ہر شخص میں اور ہر جگہ پر بس ماں دکھائی دیتی ماں کی آواز سنائی دیتی ،وہ چونکتی ،دائیں بائیں دیکھتی لیکن جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔
اس بات کا یقین کرنے میں مدتیں بیت گئیں۔ اب وہ خود جیتے جاگتے تین شرارتی بچوں کی ماں بن چکی تھی بچوں کے پیمپر بدلتے ہوئےجب وہ پہلے بچوں کے ماتھے پر بوسہ دیتی انہیں پیار کرتی تو اسے اکثر مرحومہ ماں یاد آتی وہ کہا کرتی تھیں۔
’’ماں اپنے بچوں کی نیپی بدلتے ہوئے انہیں پیار بھری نظروں سے دیکھتی ہے لیکن اپنی لاچارمعذور ماں کا پمپر بدلنا پڑے اس کے بستر سے گندگی صاف کرنا پڑے تو ناگواری نہ بھی لائے ماتھے پر، محبت اور خوشدلی نہیں کرسکتی !‘‘
وہ ٹھنڈی آہ بھرتی، دل ہی دل میں ان کے لیے دعائے مغفرت کرتی کہ یہ بھی ماں نے ہی بتایا تھا جب بھی جانے والے یاد آیا کریں تو سمجھ جایا کرو انہیں دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہوگی۔
اس کے اندر ممتا والی بہت سی خوبیاں ماں والی خود بخود آگئی تھیں لیکن اس کے بچے اس جیسے ہرگز نہیں تھے حددرجہ شرارتی لاپروا اور ضدی….ماں کو زچ کردینے والے! اسے نند کی بیماری کی وجہ سے روز ہسپتال جانا پڑتا ۔بچے اسے ہنسی خوشی جاتے ہوئے دیکھتے، کبھی کسی نے نہیں کہا،،مما آپ کیوں جاتی ہیں ہم اداس ہوتے ہیں یا کب آئیں گی۔
وہ ان سے اپنا موازنہ کرتی اور حیرت سے دیکھتی۔ کبھی تو کوئی اس کے پلو کھینچے،مما مت جائیں!
اس کی بیٹی ٹانگوں سے لپٹ کر کہے ،مما مجھے بھی ساتھ لے کر جائیں ،نہ جی نہ !
ایسے ہی دنوں میں ایک دن گلی میں کھیلتے ہوئے اس کی تین سالہ بیٹی رمانہ سڑک تک جا پہنچی۔چلتی ہوئی شہر کی سب سے مصروف سڑک ، ملک الموت کے کارندوں کا کام دیتی ہے اس کا بھی وقت اجل آگیا تھا۔تیز رفتار گاڑی اس معصوم روح کو کچلتے ہوئے اسی تیزی سے آگے گزر گئی۔
منٹوں سیکنڈوں میں چاروں طرف خبر پھیل گئی ۔راضیہ کو بس یہی بتایا گیا کہ بچی کی حالت ٹھیک نہیں۔راضیہ کی آنکھوں کے آگے وہی اندھیرا نو سال کے بعد یکدم پھیل گیا جو ماں کی بیماری کی خبر سنتے ہی آیا تھا۔
اس کے لیے اگلے تمام لمحات زندگی کے سب سے اذیت ناک لمحات تھے اس نے خبر سنتے ہی ننگے پاؤں دروازے کی طرف دوڑ لگائی جیسے ماں کی میت کے پیچھے بھاگی تھی۔ اس نے ویسے ہی ہاتھ کی انگوٹھی اتار کر صدقے کی نیت سے رکھی لیکن صدقہ موت سے نہیں بچایا کرتا کیونکہ موت کا وقت تو پیدا ہونے سے پہلے لکھ دیا جاتا ہے
وہ وقت بھی جلد ہی آگیا جب اس کی بچی کو غسل دینے کے لیے اٹھا کر اس کے لیے مخصوص جگہ پر لے گئے۔ ماں کو بھی تختے پر لیٹے دیکھا تھا اس نے….مگر اس لمحے کا سامنا کیسے کرتی!
ہوش اور بے ہوشی کے درمیان غوطے لگاتی راضیہ بدقت اٹھی کہ ایک نظر دیکھ لے۔اس کی نند ٹھٹک گئی۔
’’بھابھی آپ…. غسل دیں گی روما کو؟‘‘وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
اس کے وجود کا ٹکڑا اس کی جان اس کی لاڈلی شہزادی سامنے تھی لیکن ہمیشہ کے لیے جدا ہونے کے پیغام کے ساتھ۔وہ بے جان نظروں سے بیٹی کو تکے جارہی تھی۔غسل دینے کا سب اجروثواب جانتی تھی۔ آخر ماں کو کس محبت سے غسل دیا تھا۔
اس کے ہاتھ بچی کی طرف بڑھے ،مگراس کے وجود پراس شدت سے لرزہ طاری ہؤا کہ اس کے ہونٹ نیلے ہوگئے اور دل کے سینکڑوں ہزاروں نہیں لاکھوں ٹکڑے ہو گئے۔اس کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں۔ اب وہ ہوش و حواس کی دنیا سے غافل ہوچکی تھی۔
سب بچی کو چھوڑ کر اس کی طرف لپکے۔کوئی اسے ناک سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا تھا کوئی پانی کے چھینٹےمار رہا تھا۔اس کی حالت وہی تھی جیسے ماں کا جنازہ اٹھنے کے بعد۔
بس فرق یہ تھا کہ بیٹی کے جنازہ اٹھنے کے سارے مراحل باقی تھے۔٭

 

Facebook
Twitter
Pinterest
WhatsApp